آب و ہوا، پانی اور پاکستان میں تنازعہ

پانی کو دنیا کے کئی علاقوں میں ایک اہم اثاثے کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ یہ بذاتِ خود ایک مسئلہ ہے،کیونکہ پانی تمام جانداروں کے لیۓ ناگزیر ہے ۔ بجاۓ اس کے کہ اس اثاثے سے تمام لوگ  یکساں اور منصفانہ طور پر بہرہ یاب ہوتے ، گزشتہ ایک دہائی سے پوری دنیا میں ابھرنے والے   پانی مافیا نے اس قیمتی سرماۓ کو اپنی گرفت میں لے  رکھا ہے ۔ پاکستان میں شہری علاقے پانی  مافیا سے شدید متاثر ہیں ، جبکہ دیہی علاقوں میں بھی کسی حد تک اس کے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔ شہری علاقے ہوں یا دیہی، پانی کی اس سرمایہ داری میں بہرحال سب سے زیادہ متاثر معاشرے کا غریب طبقہ ہی ہوتا ہے ۔

یہ صورتحال ان علاقوں میں تنازعات کا سبب بن سکتی ہے جہاں حکومتی نااہلی اور لاقانونیت کا دور دورہ ہو ۔ پاکستان میں آنے والے کچھ سالوں میں آب و ہوا کے تغیر اور پانی کے انتظام و تقسیم کے آبی وسائل کی دستيابی پر اثرات مرتب ہوں گے ۔ پانی کی قلت اور آبی ذخائر پر اجارہ داری، دونوں اسباب ہی تنازعہ کا ممکنہ پیش خیمہ بن سکتے ہیں اور اس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ مناسب حکمتِ عملی کو نافذ کیا جائے ۔ اس مسئلے پر کیا جانے والا حالیہ عوامی واویلا حکومت کو حرکت میں لانے کا محرک بنا ۔ یہ ایک نادر موقع ہے : اگر محتاط اور قابل ِعمل منصوبوں میں ، جو اس کا مناسب حل فراہم کر سکیں ، مالی سرمایہ کاری کی جاۓ تو  پاکستان کے عوام کو مساوی طور پر پانی کی فراہمی اور آبی بحران سے بچاؤ ممکن ہے ۔

آبی ذرائع کے لئے موجودہ قانونی ڈھانچہ

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل ۹ پاکستانی باشندوں کی زندگی اور ان کی آزادی کے بنیادی حقوق کو محفوظ کرتا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان کی عدالتِ عالیہ نے ان حقوق کی افزونی کر کے ان میں پانی کی فراہمی کو بھی شامل کر دیا۔۱۹۹۴ میں سپریم کورٹ نے شہلا ضیاء بمقابلہ واپڈا کے مقدمہ میں یہ منعقد کیا کہ آرٹیکل ۹ صاف ماحول کی فراہمی کے حق کو بھی محفوظ کرتا ہے۔ ایک اور مقدمے میں سپریم کورٹ نے اس رائے کا اظہار کیا کہ صاف پانی تک رسائی کا حق ہر شخص کو حاصل ہے خواہ وہ جہاں بھی رہتا ہو۔ ۲۰۰۵ میں عدالت نے پانی سے متعلق ایک عوامی اعتماد کا نظریہ متعارف کیا جو یہ قائم کرتا ہے کہ زمینی پانی ایک قومی اثاثہ ہے جو کہ پورے معاشرے کی ملکیت ہے اور حکومت کو عوامی استعمال کے لئے اس کی حفاظت کرنی چاہیئے۔

وفاقی سطح پر اس سے متعلق تین نمایاں قانون سازی کے ٹکڑے موجود ہیں: ”واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) ایکٹ (۱۹۵۸)، انڈس رور سسٹم اتھارٹی (ارسا) ایکٹ (۱۹۹۲)، اور ایزمنٹس ایکٹ (۱۸۸۲)۔

واپڈا ایکٹ کے مطابق واپڈا مندرجہ ذیل اشیا کی فراہمی اور دیگر معاملات کے لئے صوبائی منصوبہ بندی کر سکتا ہے:

۱) آب پاشی، آبی فراہمی اور نکاسی آب،

۲) بجلی کی پیداوار، اس کی ترسیل و تقسیم اور بجلی گھروں کی تعمیر اور ان کی کارروائی

۳) سیلابی تباہی کو کم کرنے کے لئے اقدامات لینا۔

اس کے علاوہ ملک کے کسی بھی خطے کا زمینی پانی بھی واپڈا ہی کے تحت آتا ہے۔

جبکہ ارسا صوبوں کے درمیان پانی بانٹنے کے نظام و تراکیب کی نگرانی کرتا ہے اور خاص طور پر تنازعات کے حل کے لئے کام کرتا ہے۔ نوآبادیاتی عہد کا ایزمنٹس ایکٹ زمینی پانی کے حقوق پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس ایکٹ کا سیکشن ۷ یہ کہتا ہے کہ:

”زمین کے ہر مالک کو اپنی زمین کے نیچے موجود پانی کو اپنی حدود میں جمع اور صرف کرنے کا حق ہے۔“

اس قانون کے تحت زمین کے مالک کا بغیر کسی حکومتی عمل دخل کے زمینی پانی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ پنجاب میں حالیہ پیشرفت سے اس قانون میں بڑی تبدیلی آئی ہے جو کہ ذیل میں زیرِ بحث آئے گا۔

پانی سے متعلق قوانین اور اس کی حکمتِ عملی (پالیسی) میں پیشرفت

۲۰۱۸ میں حکومتِ پاکستان نے ملک کی سب سے پہلی آبی حکمتِ عملی، نیشنل واٹر پالیسی، کا خاکہ تیار کیا۔ اس سے پہلے پانی سے متعلق ہونے والی قانون سازی زیادہ تر مخصوص مسائل جیسے بین الصوبائی تنازعات کے حل اور بجلی کی پیداوار کے مسائل پر مبنی ہوتی تھی جبکہ اس کے برعکس قومی آبی حکمتِ عملی ۲۰۱۸ ایک ایسا وسیع قانون سازی کا نمونہ ہے جس میں ان تمام مسائل کو مخاطب کیا گیا ہے جو پاکستان میں آبی بہران کا سبب بن رہے ہیں۔ نیشنل واٹر پالیسی نے ریاست کی آبی حکمتِ عملی کی ترجیحات کو ترتیب دی اور ماحولیاتی تبدیلی، پینے کے پانی، علاقے کی صفائی ستھرائی، شہری پانی اور سیلاب کو قابو کرنے کے اقدامات، پانی کے حقوق/ذمہ داریوں، پائیدار پانی کے اساس، اور پانی کے تحفظ جیسے دیگر امور کو مخاطب کیا ہے۔ نقاد اس حکمتِ عملی کے تحت بڑے منصوبوں (جیسے ڈیم وغیرہ کی تعمیر) پر زیادہ توجہ دینے جبکہ ایک مربوط پانی کی ترتیب کو بہت کم توجہ دینے پر افسوس کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس حکمتِ عملی کی کچھ شقوں کے مقاصد میں بھی تضاد پایا جاتا ہے اور ان مقاصد کے حصول کے لئے مالی ذرائع اور آلات کی فراہمی کا ذکر بھی موجود نہیں۔

۲۰۱۹ میں پنجاب آبی قانون سازی کرنے والا پہلا صوبہ بنا۔ پنجاب کے موجودہ نافذ العمل  پنجاب واٹر ایکٹ ۲۰۱۹  نے پرانے نوآبادیاتی دور کے ایزمنٹس ایکٹ ۱۸۸۲کو تبدیل کر دیا ہے۔

جہاں تمام زمیندار اس سے قبل اپنی جائیداد پر آزادانہ طور پر اور کسی بھی سرکاری نگرانی کے بغیر زمینی پانی نکال سکتے تھے، نیا قانون اس کے برعکس ایک لائیسنس دینے والا نظام قائم کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت پنجاب واٹر ریسورسز لمیشن کا قیام ہوا جس کا کام پانی کا تحفظ کرنا اور پنجاب کے تمام علاقوں میں آبی ذرائع کی فراہمی اور ان کا منصفانہ استعمال ممکن بنانا ہے۔۲۰۲۰  میں خیبرپختونخوا نے اس سے مشابہ بِل بنایا جبکہ صوبۂ سندھ نے بھی اس معاملے میں اپنی قانون سازی کو ایک حتمی شکل دے دی۔اگرچہ ابھی تک یہ تمام قوانین عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں، مگر قانونی کارروائی میں حالیہ پیشرفت بہت سے ممکنہ تنازعات کو حل کر سکتی ہے۔ تاہم، قوانین کے مناسب نفاذ میں ممکنہ طور پر ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

پانی پر اندرونی تنازعات؟ 

جب پاکستان میں پانی کی حفاظت اور پانی سے متعلق تنازعات کی روک تھام کی بات آتی ہے تو قانونی کارروائی، چاہے وہ کاغذ پر ہوں یا عملی طور پر، ان مسائل کا ایک ادھوری حصہ ہے۔ پاکستان میں بہت سے تنازعات اور اختیاراتی مسائل موجود ہیں جن کو آبی ذرائع کی مساوی رسائی اور تقسیم کو ممکن بنانے کے لئے مخاطب کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر لاہور میں زمینی پانی کی سخت قلت کی وجہ سے راتب باندھا گیا- وہاں آخری ۱۵ برسوں میں زمینی پانی میں ۸۰۰ فٹ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

راتب باندھنے سے معاشرے کے امیر اور غریب دونوں طبقات کو نقصان ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ معاشرے کے امراء اپنے عہدے اور مال کا استعمال کر کے غیر اہم امور (جیسے باغات کو شاداب رکھنے کے لئے) محدود پانی صرف کر دیتے ہیں۔

کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں بھی واٹر ٹینکر مافیا معاشی عدم مساوات کا فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پوشیدہ نظام ہے کہ جس میں یہ غیر قانونی تو ہے مگر جائز ہے کہ شہر کے آبی نظام میں سرکاری پائپ لائنز پر پانی کی رسائی کی جگہ بنا دی جائے جو کہ اکثر نجی زمین پر بنائی جاتی ہے اور جہاں سے پانی نکالا جاتا ہے۔ دراصل اس نظام سے مقامی حکومتیں کنارہ کش ہوجاتی ہیں، جن کی درحقیقت یہ ذمہ داری ہے کہ وہ زیر زمین پانی کی لائنوں کے ذریعے نہ صرف پینے کے لئے، بلکہ گھریلو استعمال کے لئے بھی پانی کی فراہمی کو ممکن کریں۔

پنجاب واٹر ایکٹ کے تحت واٹر انڈر ٹیکرز اور سیویج انڈرٹیکرز جو کہ ایک ادارہ یا قانونی اختیارات کی حامل ایک مقامی حکومت کہلائی جا سکتی ہے اور جس کا کام پانی کی فراہمی کا ایک موثر اور سستا نظام تیار کرنا اور اس کو برقرار رکھنا ہے۔اس میں گھریلو کے ساتھ ساتھ صنعتی مقاصد کے لئے پانی کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ان کے قیام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قانون کے تحت پانی مافیا کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کلیدی طور پر دفعہ ۳۸ کے تحت انڈرٹیکرز اپنی خدمات کے سلسلے میں اپنی اجرت طےکرنے کے حقدار ہیں۔

ابھی اس بات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ یہ انڈرٹیکرز کا قیام حکومت کا پانی مافیہ کو قانونی حیثیت دینے کا طریقہ ہے یا پھر ان کی جانچ پڑتال کر کے ان کو ختم کرنے کا طریقہ ہے۔ جو بھی ہو، ترقی پانی تک مساوی رسائی کے سلسلے میں گھمبیر مسائل اٹھاتی ہے۔ زمینی پانی استعمال کرنے والے جو کہ فی الحال واٹر مافیاز پر انحصار نہیں کر رہے، ان کے لئے پانی کی فیس کا نظام معاشی دشواری کی صورت میں آئے گا، خاص کر کم آمدنی والے گھرانے اور کسان اس سے شدید متاثر ہوں گے۔ مزید یہ کہ ابھی حکمتِ عملی کے اطلاق اور زمینی پانی کے اخراج کی نگرانی کے متعلق بہت سے مسائل کا سامنا کرنا ہو گا۔

ملک کے آبی نظام میں مسائل کا سبب صرف بد عنوانی ہی نہیں ہے۔ گھروں میں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے خواتین اور لڑکیوں پر سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے کیونکہ ان کو پانی لانے کا کام سونپا جاتا ہے، خواہ انہیں کنواں، واٹر پمپ یا پڑوس کی دکانوں سے لانا پڑے۔ ان میں سے بہت سی خواتین پانی تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں میں ہراساں ہوتی ہیں۔ یہ امر اور بھی پریشان کن ہے کیوں کہ اپنے ہی محلوں میں نوجوان لڑکیوں کے اغوا ہونے، ان پر حملہ ہونے اور ان کے قتل کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان میں ۲۰۲۰ کی گرمیوں میں آنے والے سیلاب نے امیر اور غریب محلوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا۔ سیلاب کے بعد لاہور میں ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر ہی پانی کی کمی واقع ہو گئی جبکہ کراچی کا پورا شہر ہفتوں پانی میں ڈوبا رہا۔ حالیہ دور میں پہلی بار شہر کے امراء سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے ساون سے متعلق سیلاب سے نہ نمٹ سکنے پر احتجاج کیا۔ کراچی میں سیلاب کے خلاف ہونے والے مظاہروں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں کس حد تک پانی کا ناقص نظام عوام میں عدم اطمینان کا باعث بن رہا ہے۔ تاہم، صرف غریب ترین طبقہ ہی غیر متناسب طور پر پانی کی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

پانی تک رسائی میں بدعنوانی ہو یا سیلاب کے اثرات، پانی کی دستیابی میں سخت عدم مساوات واضح ہے۔ گو کہ حال میں ملکی سطح پر پاکستان میں پانی سے متعلق جلد تنازعہ پھوٹنے کا امکان نہیں ہے، مگر جیسے جیسے یہ صاف پانی کو پانے کی جدو جہد جاری رہے گی ویسے ویسے حکومت کو بھی اس قیمتی اور ضروری شے کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لئے اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا پانی تک رسائی کی وجہ سے صوبائی یا وفاقی حکومتیں گرا دی جائیں گی؟ نہیں، ضروری نہیں، لیکن لوگوں کا حکومت پر بنیادی ضروریات کی فراہمی سے متعلق اعتماد، جو کہ پہلے ہی بہت کم ہے، مزید کم ہوجائے گا۔ کسی بھی حکومت کا اپنے اور اپنے شہریوں کے مابین معاشرتی معاہدے کو یقینی بنانا ہی جمہوریت کی بنیاد ہے، اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان میں حالیہ جمہوری حکومت میں دوبارہ کمی واقع ہوئی ہے۔ کسی بھی پاکستانی سیاسی جماعت نے مجموعی طور پر آبی مسائل اور ان کے حل کی طرف زیادہ توجہ نہ دی بلکہ وسیع ماحولیاتی تبدیلی کی حکمتِ عملی پر زیادہ توجہ دی ہے۔ ان میں سب سے اہم حکمتِ عملی یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف نے ۱۰ ارب درخت لگانے اور کوئلے پر انحصار کو کم کرنے کے وعدہ کیا ہے۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ صاف پانی کی فراہمی کو کب اور کیسے اس حکمتِ عملی کا حصہ بنا کر لوگوں تک رسائی ممکن بنائی جائے گی۔

مستقبل کا لائحہ عمل

اگرچہ ایسے امید افزا قوانین اور زمینی حقائق کے درمیان بہت فرق ہے مگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ ایسے ٹھوس اقدامات کر سکتی ہیں جن سے پاکستان میں بڑھتی آبی قلت کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ کچھ مسائل پر فوری اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جبکہ باقی مسائل کو حل کرنے کے لئے مزید سیاسی رغبت و تدبر درکار ہے۔

اس میں مندرجہ ذیل تجاویز شامل ہیں:

۱) بیرونی آبی وسائل پر انحصار کو کم کرنے کے لئے صاف پانی کے منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ گھروں تک پانی کی براہِ راست دستیابی، چاہے وہ پانی پینے کے قابل ہو یا نہ ہو، ایک بہت اہم ضرورت ہے کیونکہ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ پانی تک رسائی کی جدوجہد میں معاشرے کا کمزور طبقہ خطرے میں نہ پڑے۔ پی ٹی آئی نے کچھ صاف پانی کے منصوبوں کا افتتاح کیا ہے مگر یہ منصوبے پورے ملک کی صاف پانی تک رسائی کو یقینی بنانے کے لئے نصبتاً ایک بہت چھوٹے پیمانے پر موجود ہیں۔ یہاں پر پھر بین الاقوامی سرمایا کاری اور شراکت داری سے فائدہ اٹھا کر قومی اور صوبائی سطح پر شہری صفائی اور دیہی و شہری پانی کے بنیادی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

۲) ٹھوس کوڑا کرکٹ کے انتظام اور صوبائی حکومتوں کی شہری منصوبہ بندی میں بہتری درکار ہے تاکہ حالیہ سیلاب کے بعد آنے والا بحران دوبارا پیش نہ آئے۔ آبی گزرگاہوں کے قریب غیر قانونی تجاوزات اورنکاسی آب کا نظام ٹھوس کوڑا کرکٹ کی وجہ سے مسدود ہونے کی وجہ سے ہی زیادہ مسائل پیدا ہوئے۔

۳) نام نہاد ”واٹر ٹینکر مافیہ“ کو قابو کرنے اور ان کا سدِّ باب کرنے کے لئے مزید کوششیں درکار ہیں۔ یہ کوئی نئی تجویز نہیں ہے مگر مقامی حکومتوں اور پولیس کو مل کر آبی نظام سے متعلق ایک مقامی حکمتِ عملی تیار کرنی چاہیئے اور اس کو لاگو کرنا چاہیئے۔ پانی کی چوری اور اس کی انتہائی مہنگے داموں میں فروخت کی روک تھام کے لئے بھی ایک مقامی کاوش کی ضرورت ہے جس سے مقامی حکومتوں پر عوام کا اور ان کے حلقوں کا اعتماد بحال ہو گا۔

۴) سستے اور کم لاگت کے منصوبوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے جبکہ مہنگے اور نصبتاً بڑے منصوبوں (جیسے ڈیم وغیرہ کی تعمیر) کو کم ترجیح دینی چاہیئے۔ ایک تجویز کے مطابق زمینداروں کو ان کی جائیداد کے تناسب کے حساب سے بارش کا پانی جمع کرنے کی اجازت ہو۔ ہمسایہ ملک بھارت نے کئی برسوں سے ایسی ہی حکمتِ عملی کو مؤثر انداز سے نافذ کیا ہوا ہے اور وہ اس معاملے میں رہنمائی ایک خاکہ فراہم کرسکتا ہے۔

پاکستان کی حالیہ آبی صورتِ حال ناقابلِ تلافی ہے۔ تاہم، گزشتہ دو سالوں میں اس مسئلے کو قومی سطح پر اہمیت و فوقیت ملی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس گھمبیر مسئلے کو حل کرنے کے لئے نئے قوانین اور منفرد حکمتِ عملی متعارف کرانے میں رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ ٹھوس اور اچھی حکمتِ عملی کی تجاویز میں مالی سرمایہ کاری کرنے سے اس حالیہ پیشرفت کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور پانی کی دستیابی، اس کے منصفانہ استعمال اور آبی بحران سے بچاؤ کے لئے حکومتِ پاکستان کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Wikimedia Commons

Image 2: Asif Hassan via Getty Images

Posted in , Climate Change, Environment, Human Rights, Pakistan, Policy, Water

Faiqa Mahmood

Jumaina Siddiqui

Jumaina Siddiqui is the Senior Program Officer for South Asia at the U.S. Institute of Peace where she provides technical guidance to USIP’s work in Pakistan and South Asia. She is an international development practitioner with over 15 years of experience working on and in Pakistan across a variety of sectors and themes including democracy, governance, elections, conflict, environment, and rule of law. She joined USIP in 2014 after working with the National Democratic Institute as the Program Manager for Pakistan, focusing on political party development, elections, and political participation of women and youth. Prior to joining NDI, she worked at Global Communities overseeing a project to increase stability in the now former Federally Administered Tribal Areas of Pakistan. Jumaina has also held positions at the American Bar Association’s Rule of Law Initiative and at the Stimson Center. She received her MA from New York University and BA from American University.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *