افغانستان کے لئے چین کی حکمت عملی: پاکستان پر انحصار سے نکلنے کی کوشش؟


 چونکہ امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال بحالئ امن اور مفاہمتی عمل پر خطرے کی مانند چھائی ہوئی ہے اس لئے مبصرین ان مذاکرات میں دوسرے اہم علاقائی  قوتوں کے کردار کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ابھی تک چین کے سفارتی اثرورسوخ کا طالبان کو مذاکرات کی میز  پر لانے میں مرکزی کردار رہا ہے۔ تاہم چین کی یہ کامیابی ابھی تک پاکستان کے طالبان اور دوسرے دہشتگرد گروپس کے ساتھ اچھے تعلقات کی مرہونِ منت ہے۔  جوں جوں سرحد پار دہشتگردی کی وجہ سے چین کے اپنے سیکورٹی خطرات بڑھ رہے ہیں، افغانستان میں پائدار امن قائم رکھنے کے حوالے  سے چین کی مجبوریوں  کو سمجھنا سودمند ہو گا اور اس بارے میں توقعات درست رکھنے میں بھی۔

افغانستان میں چین کی آنکھ جزوی بند رکھنے کی حکمت عمل

 چین کے اپنے سیکورٹی مفادات افغانستان کے استحکام سے وابستہ ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ترکستان اسلامی پارٹی (ٹی آئی پی) سے وابستہ ایغور جنگجو  یا مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی آئی ایم)، اور دوسرے دہشتگرد گروہ جن کا مقصد سنکیانک میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنا ہے، افغانستان کی سرزمین کونقل وعملاور چین کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال نہ کریں۔ ماضی میں بھی چین نے اپنے مفادات کو محفوظ رکھنے کے لئے افغانستان سے سویت یونین کی شکست کے بعد افغانستان میں دو سب سے زیادہ رسوخ رکھنے والے کردار، طالبان اور پاکستان سے روابط قائم رکھے تھے۔ سال ۲۰۰۰ میں جب پاکستان میں تعینات چینی سفیر لوشولن  ملا عمر سے ملے تب سے چین ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کے پاکستان میں موجود طالبان یعنی کوئٹہ شوریٰ (طالبان قائدین کی پاکستان میں کونسل) سے تعلقات برقرار رہے ہیں۔ اور یہ بات مولانا سمیع الحق، جو ”بابائے طالبان“ کے طور پر جانے جاتے ہیں اور جو مبینہ طور پر طالبان کے موجودہ امیر ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں، کہہ چکے ہیں کہ افغان بحالی امن اور مفاہمتی عمل میں چین کو وسیع تر کردار ادا کرنا چاہئے۔

عسکریت پسندوں کےجنگی سرگرمیوں کے مرکز کو نشانہ بنانے کے بجائے جنگجوؤں کے ایک دستے کو ٹارگٹ کرنے کی تنگ  اپروچ کے ذریعے بیجنگ نے کچھ حد تک کامیابی حاصل تو کی ہے لیکن چین کا یہ قدم بقول انڈریو سمال پاک۔افغان خطے میں چین مخالف دہشتگردوں سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے ناکافی ثابت ہوا ہے۔ مثلا اگر چہ طالبان کی قیادت کی طرف سے بیجنگ کو یقین دہائی کرائی گئی کہ ان کا علاقہ عسکریت پسندوں کے چین مخالف کسی بھی آپریشن میں استعمال نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی ایغور عسکریت پسندوں کو چین مخالف دیگر مرکزی ایشیائی گروپس جیسے کہ ازبکستان کی اسلامی تحریک کے ساتھ نہائت گہرےتعلقات قائم کرنے سے طالبان نے نہیں روکا۔ چیننےپاکستان اورامریکہ کو آئی ایم یو اور ای ٹی آئی ایم کے خلاف کاروائی کرنے پر قائل تو کیا لیکن افغانستان جیسے تویل تنازعات میں یہ تنظیمیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں اور منتشر اپوزیشن کی صورت میں  ظاہر ہوتی ہیں۔ ان دھڑون کی اپروچ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اور یہ دھڑے اپنے اصل مقاصد کو پانے کی خاطر دوسری تنظیموں سے مل کر کاروائیاں کرتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال خطے میں تنازعہ کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے اور پھر چین کے حلیف پاکستان کی کسی مخصوص جنگجو تنظیم کے تمام دھڑوں کے خلاف کاروائی کرنے کی صلاحیت کو نحدود کر دیتی ہے۔

چین مخالف عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی: پاکستان مخمصے میں

 پاک۔افغان خطے میں ازبک گروہوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے خطے میں پائدار امن لانے کے لئے پاکستان پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے پر چین کے لئے موجود خطرات ظاہر ہوتے ہیں اور شائد اس تاریخ کی وجہ سے افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر چین  مزید دوستوں کی تلاش میں ہے۔ امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد آئی ایم یو نے طالبان  اور القاعدہ سمیت اپنے اڈے پاکستان منتقل کئے۔ ۲۰۰۷ میں مولوی نذیر، ایک جنگجو لیڈر نے، جسکے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، ازبک انتہاپسندوں کو پاکستان کے جنوبی وزیرستان سے نکالنے کے لئے آپریشن کیا جسے پاکستانی ریاست کے کچھ عناصر کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے  نتیجے میں آئی ایم یو شمالی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کی پارٹی تحریک طالبان پاکستان کے قریب آگئی جو افواج پاکستان اور پاکستانی ریاست کو ٹارگٹ کرتی ہے۔ اسی دوران حقانی نیٹ ورک نے آئی ایم یو کے ساتھ شمالی وزیرستان سے شمالی افغانستان میں مخصوص حملوں کے لئے ایک  محدود اتحاد برقرار رکھا لیکن افغانستان میں اس نےاسلامی جہاد یونین، جو آئی ایم یو کی شاخ ہے، کے انتہاپسندوں کے ساتھ صف بندی شروع کی اور مشترکہ آپریشن شروع کئے۔ 

ازبک انتہا پسندوں نے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ جو گہرے تعلقات بنائے اس وجہ سے پاک افغان  خطے میں چین مخالف ایغور عسکریت پسندوں کی حمایت کرنے والے حقانی نیٹ ورک کے گروپس کو نشانہ بنانا پاکستان کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔ آئی ایم یو کی اس حکمت عملی  کی وجہ سے  ایغور انتہاپسندوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان کے مشرقی اور جنوبی صوبوں میں تیزی سے پھیلنےاوربڑھنے کا موقع ملا  اور اسی علاقے سے وہ چین کے لئے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح طالبان نے القاعدہ کو ایغور کی حمایت کرنے اور چین مخالف جہاد کی تشہیر سے روکنے کے لئے بہت کم تگ ودو کی ہے۔  اور اس پر طُرّہ یہ کہ افغانستان میں داعش کے ابھرنے سے پوری دنیا سے چین مخالف انتہا پسند چین کی سرحد کے قریب آنے لگے ہیں۔ افغانستان، شام اور عراق میں جنگ لڑنے کے بعد حالیہ برسوں میں دہشتگردوں کا چین میں واپسی کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور چین کو پاک۔افغان خطے میں عسکریت پسندوں  کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کو مزید نظر انداز  کرنا چین کے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ 

پاک۔افغان حوالے سے چین کی بدلتی سوچ

اوپر بیان کئے گئے تبدیل شدہ حالات کے پیش نظر، صرف کابل کے ساتھ تعلقات محدود رکھنے کے بجائے چین نے افغانستان بھر میں روابط قائم کرنے کے لئے ایک مؤثر اور جدید تر طریقہ کار تیار کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ سال ۲۰۱۴ میں چینی سفیر سن یوسکی کی تعیناتی بطور خصوصی نمائندہ برائے افغان معاملات اسی طریقہ کار کا ایک پہلو ہے۔ بیجنگ اور طالبان کے نمائندوں  کے میل جول میں اضافے سے بھی اس طریقہ کار کو محسوس کیا جا سکتا ہے  اور یہاں تک کہ کثیرالجہتی تعاون عمل میں چین کی شرکت جیسا کہ استنبول عمل میں ہوا، جس کے وزارتی اجلاس کی میزبانی چین نے ۲۰۱۴میں کی۔ چین ”چار ملکی تعاون گروپ“ کے مرکزی ممبر ہوتے ہوئے افغانستان میں امن بات چیت کو کامیاب کرنے کے لئے فعال کردار ادا کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے ۲۰۱۶ میں چار ملکی ہم آہنگی اور تعاون کے طریقہ کار کا آغاز کیا اور اس میں چین سمیت پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے فوجی سربراہان نے شرکت کی جس کا مقصد واخان راہداری کو دہشگرد تنظیموں سے محفوظ رکھنے پر غور و خوض کرنا تھا۔

جیسے ہی افغان امن و مفاہمت کاعمل آگے بڑھے گا، پاک افغان خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کے لئے چین کو اپنے طویل مدت دوست  پاکستان کے ساتھ مجبوراً سخت رویہ اپنانا ہو گا۔ عسکریت پسندوں پر اثر رکھنے اور چونکہ کچھ انتہاپسند تنظیمیں اس کی سرزمین سے کاروائی کرتی ہیں، اس لئے  چین مخالف عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف لڑنے میں نہ صرف پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے بلکہ امن عمل کی کامیای کو یقینی بنانے میں بھی پاکستان اہم کردار کا حامل ہے۔ عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات کو پاکستان فوج سٹریٹیجک اہمیت دیتی ہے اور پاکستان فوج کے رویے میں تبدیلی کی توقع رکھنا  خواہش لاحاصل کے مترادف ہے۔  اگر پاکستان سرحد کے اندر اور باہر عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کے لئے تیار بھی ہو، تب بھی عسکریت پسندوں  کے  ہجوم سے بھرا علاقائی منظرنامہ ظاہر ہو جانے کے بعد  طالبان اور ان کے اتحادیوں کے لئے اپنی تنظیموں کی بقا کو یقینی بنانا بہت ضروری ہو گیا ہے اور وہ اپنی بقا کو چین کی سیکورٹی پر ترجیح دیتے ہیں۔ 

 افغان میں امن و استحکام کو یقینی بنانا: پاکستان کے ساتھ یا پاکستان کے بغیر

اگر چہ اسلام آباد کو شامل کئے بغیر  چین اپنے جغرافیائی حجم و قوت کی بدولت عسکریت پسند تنظیموں کو کچھ لالچ دے کر امن کی جانب مائل کر سکتا ہے لیکن امن کے اس پورے عمل سے پاکستان کو مکمل طور پر باہر رکھنا چین کے لئے بہت مشکل ہو گا۔ چین کسی فرد کواقوام متحدہ کی دہشتگردی فہرست سے باہر تو رکھ سکتا ہے یا  ایک اہم ملک ہونے کے ناتے کسے فرد یا مزاکراتی عمل کو مشروعیت بھی دے سکتا ہے۔ لیکن انڈریو سمال کے مطابقافغان طالبان کی قیادت پاکستان میں مقیم ہے اور اسے پاکستان کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس لئے مصالحتی عمل “افغان ملکیت اور افغان قیادت” کی بنیاد پر ہوسکتا ہے لیکن یہ “جزوی طور پر پاکستان کی ملکیت بھی ہے”۔ دوسرے لفظوں میں طالبان شاید ہمیشہ پاکستان کی تعمیل نہ کریں لیکن پاکستان کا جغرافیہ اور دوسرے عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ اسکے تعلقات اسے یہ موقع دیتے ہیں کہ اگرپاکستان کے اپنے مفادات پورے نہ ہو رہے ہوں تو یہ امن عمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

مزید براں، آنے والے وقت میں افغانستان میں پاکستان کے اہم تعمیری کردار ادا کرنے سے چین اپنے مفادات کی حفاظت کر سکتا ہے۔  ابھی تک تعمیرِ نو کے عمل کو امریکہ جیسے ملک کا اپنی عسکری قوت کے بخوبی استعمال اور اسکے ساتھ چین کی بھرپور شرکت سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔ اور چین کی سیاسی اور معاشی معاونت نے اسے ”موزوں ثالثی ملک“ بنا دیا ہے۔ امریکی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں بین الاقوامی ذمہ داریوں کا ازسرِنو تعین کرنے کی ضرورت محسوس ہو گی۔ عالمی اور مقامی سطح پر سخت ردعمل کا خوف اسلامی دہشت گردی کے خلاف چین کو افغانستان میں اپنی فوجیں اتارنے سے باز رکھے گا۔ ایسے وقت پر چین کا پاکستان کو ”اچھا ساتھی/برا ساتھی“ کا کھیل برقرار رکھنے پر قائل کرنا افغانستان میں امن عمل کو کامیاب کرنے میں کلیدی حیثیت رکھے گا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: The British Foreign and Commonwealth Office via Flickr

Image 2: Andy Wong-Pool/Getty Images

Posted in , Afghanistan, China, Foreign Policy, Geopolitics, Internal Security, Militancy, Pakistan, Security

Pawan Amin

Pawan Amin

Pawan Amin is a research scholar at the Chinese Studies Program, Centre for East Asian Studies at the School of International Studies, Jawaharlal Nehru University in New Delhi, India. He completed his Masters in Geopolitics and International Relations from Manipal Academy of Higher Education (MAHE). His research interests include China's approach to the Middle East and its implications for foreign policy dynamics. He has contributed to platforms such as The Diplomat and the Policy Forum.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *