7005039853_d53db0e5d3_o-1600×900

دہائیوں کے سیاسی عدم استحکام کے بعد آخرکار نیپال ۲۰۱۵ کے آئین کے تحت حال ہی میں اپنائے گئے وفاقی ڈھانچے کے ذریعے ایک مستحکم مستقبل کے لیے تیار ہے۔ دہائیوں تک ماؤ بغاوت کا سامنا کرنے، بادشاہت کے خاتمے اور نتیجتاً سیاسی منتقلی  کے عمل سے گزرنے والی ہمالیائی ریاست میں اقتصادی ترقی کی خواہش قدرتی ہے۔ نیپال کو اس کی خوشحالی کے راہ پہچاننے میں مدد کے لیے چین نے تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں قدرے نئے مگر دیوہیکل اتحادی کے طور پر قدم رکھا ہے اور یوں ان شعبوں میں بھارت کی پہلے سے موجود بالادستی کو للکارا ہے۔

نیپال اور چین کے مابین سفارتی تعلقات ۱۹۹۵ میں قائم ہوئے اور ۲۰۱۵ کے گورکھا زلزلے کے بعد دونوں کے مابین دوستی گہری ہوگئی۔ اسی برس، نیپال کے جنوبی پڑوسی بھارت نے تجارتی پابندی عائد کردی جس کے نتیجے میں زمین بند اور آفت زدہ نیپال ایندھن اور دیگر بنیادی اشیاء کی فراہمی کیلئے بھی خاک چھاننے پر مجبور ہوگیا۔ اس صورتحال نے چین کیلئے ایک موقع فراہم کیا کہ وہ خود کو ایک بے لوث اور مددگار پڑوسی کے طور پر پیش کر سکے۔ دونوں ممالک کے درمیان موجود راستوں کی ابتر حالت کے سبب یہ کردار اگرچہ علامتی حد تک ہی رہا تاہم چین نے ایک درجن ایندھن کے ٹینکروں کے ذریعے اس کا آغاز کیا۔ اس پیشقدمی سے چین کو جغرافیائی سیاسی فائدے حاصل ہوئے اور پن بجلی اور ہوائی اڈوں کی تعمیر، سڑکوں کی تعمیر اور سیمنٹ کے کارخانوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے مزید چینی کمپنیوں کو نیپال بھیجنے کی راہ ہموار ہوئی۔

انفراسٹرکچر کے اس بام عروج سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ نیپال کو اس صورتحال سے  یہ ظاہر کرنے کا موقع ملا  کہ  بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے کسی ایک ملک پر اس کا انحصار ختم ہوچکا ہے۔ اب بیجنگ، نیپال کی سیاست اور معیشت میں ایک اہم کھلاڑی ہے اور امید ہے کہ  نیپال میں چینی سرمایہ کاری نیپال کی تجارت اور معیشت میں اضافے کے نئے دور میں داخلے کی راہ ہموار کرے گی۔  اس کیلئے خود نیپال کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ خود کو داخلی سیاسی بحث میں الجھنے سے بچاتے ہوئے ان دو شعبوں میں بڑھوتری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرے۔

نیپال میں چینی سرمایہ کاری کا جائزہ

حالیہ ماضی میں نیپال میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)، انسانی امداد اور ترقیاتی امداد کے ذریعے سے چین نے کھٹمنڈو اور بیجنگ کے مابین جغرافیائی سیاسی تعلقات کی تشکیل نو کی ہے۔ زلزلے کے بعد ہنگامی امداد اور تعمیر نو کے مراحل میں بھی چینی امداد اہم رہی اور اس نے ۴۸۳ ملین ڈالر نیز تاریخی نوعیت کی عمارتوں سمیت تعمیر نو کے منصوبوں میں معاونت کا وعدہ کیا۔ 

۲۰۱۵ کے بعد بھی روابط کا ایک سلسلہ اس دو طرفہ تعلق کی نظیر پیش کرتا ہے۔ ۲۰۱۶ میں نیپال اور چین نے ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ ایگریمنٹ (ٹی ٹی اے) پر دستخط کیے۔ اس کے نتیجے میں نیپال، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آرآئی) میں شامل ہونے والا پہلا ملک بن گیا- یہ وہ منصوبہ ہے جوعالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی آرزو میں بعدالاذکر کی ایک کھرب ڈالر سے زائد کی ایک پیش رفت ہے۔ مزید براں  دونوں پڑوسی ۲۰۱۸ سے ریلوے اور مواصلاتی رابطوں کے کئی منصوبوں پر مذاکرات کررہے ہیں۔ یہ صورتحال وقت کے ساتھ ساتھ نیپال میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کا مظہر ہے، ۲۰۱۵ سے قبل نیپال میں چینی سرمایہ کاری بہت کم تھی۔

نیپالی قیادت چینی سرمایہ کاری کی صورت میں بے مثال معاشی مواقع دیکھتی ہے۔  نیپال جو کہ بھارت پر تقریباً کلی انحصارمیں کمی کی خواہش رکھتا ہے، اس کے لیے ۲۰۱۶ میں ٹی ٹی اے پر دستخط  اہم جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی معاشی مضمرات رکھتا ہے۔ ٹی ٹی اے نیپال کو کسی تیسرے ملک سے درآمد و برآمد کی اجازت دیتا ہے نیز یہ اسے چین کے سات بری و بحری بندرگاہوں تک رسائی بھی دیتا ہے۔ اسی طرح بی آر آئی کے تحت مجوزہ کیےرونگ کھٹمنڈو ریل روڈ جو کہ ۲.۱۵ بلین ڈالر مالیت منصوبہ ہے،  چین کی نیپال میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مرکزی حوالہ ہے۔ اسے خطے میں روابط میں اضافے اور تجارت میں سہولت فراہم کرنے کیلئے بھی ایک پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ تحقیقاتی ادارے ایڈ ڈیٹا کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۷ کے بیچ چین کی نیپال میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں بشمول سڑکیں اور پن بجلی کے منصوبے، ”معاشی سفارت کاری“  ۱ بلین ڈالر سے بھی کم تھی۔

عمومی طور پر، نیپال میں چینی سرمایہ کاری کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ دو میں سے ایک – سرکاری یا نجی – شعبے میں آتی ہے-  دونوں طرح کی سرمایہ کاری کے کردار میں نمایاں فرق ہے۔ سرکار کے زیر تحت ادارے بڑی حد تک انتہائی اہم انفراسٹرکچر جیسا کہ پن بجلی اور سڑکوں کی تعمیر وغیرہ کے منصوبوں میں شراکت دار ہیں۔ یہی وہ سرمایہ کاری ہے جس کے ذریعے سے چین خود کو خطے میں معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی پر کاربند اتحادی کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

اس کے برعکس نجی چینی کمپنیاں زیادہ تر چھوٹے کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کررہی ہیں مثلا اہم سیاحتی مراکز جیسا کہ کھٹمنڈو میں تھمل  اور پوکھرا کی چھوٹی دکانیں۔ چینی سیاحوں کی بڑے پیمانے پر آمد سے نیپال کے سیاحتی شعبے میں بھی فروغ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مزید براں ۲۰۱۹ میں، ۱۷۰۰۰۰ چینی سیاحوں نے نیپال کی سیر کی۔ تاہم نجی شعبے میں تاحال فقط دو اداروں کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری دیکھنے کو ملی ہے۔ ان میں ہونگ شی سیمنٹ اور ہواژن سیمنٹ شامل ہیں۔ ۲۰۱۷ میں چین کے ہونگ شی گروپ نے حکومت کے ہمراہ ۳۵۹ ملین ڈالر مالیت کے معاہدے پر دستخط کیے اور نوالپراسی میں ایک  اپنی مثال آپ سیمنٹ کے کارخانے کی تعمیر کے لیے نیپال کی شیوم سیمنٹ کے ساتھ جڑ گئی۔ چینی کمپنی یہاں ۷۰ فیصد اثاثوں کی ملکیت رکھتی ہے۔ 

چین اور نیپال کی سرمایہ کاری کے اہداف

جیسا کہ اوپر ظاہر کیا گیا چین نیپال میں سرمایہ کاری کے سفر پر نکلا ہوا ہے اور مزید یہ کہ اس سرمایہ کے اہداف کا تجزیہ کیئے جانے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ معاشی پیداوار کو سہارا دیتے ہیں یا فقط انحصار کی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ ایک طرف تو چین پن بجلی، سڑکیں، ہسپتال اور اسکولوں کی تعمیر سے متعلقہ متعدد منصوبوں میں معاونت کے ذریعے زوروشور سے عوامی سفارت کاری پر عمل پیرا ہے۔ وہ  نیپال میں پن بجلی کے منصوبوں کی تیاری کا اس لیے خواہاں ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکے اور انحصار پر مبنی ایک ایسا تعلق قائم کرسکے کہ جس میں نیپال جیسے غریب ملک سے چین جیسی امیر ریاست کی جانب وسائل کا بہاؤ ہوسکے۔

دوسری جانب ایسے مواقع بھی آتے رہے ہیں جب چینی کمپنیوں نے معاشی لحاظ سے منافع بخش نہ ہونے کے سبب منصوبوں سے ہاتھ کھڑے کیے ہیں۔ ویسٹ سیٹی ہائیڈروالیکٹرک منصوبہ اسی کی ایک مثال ہے۔ یہ منصوبہ جسے چین کی سرکاری کمپنی تھری گورجز انٹرنینشل کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچنا تھا، معاشی ڈھانچے پر کام نہ ہوپانے کے بعد ۲۰۱۸ میں باقاعدہ منسوخی پر منتج ہوا۔ اسی طرح ۲۰۱۷ میں حکومت نے بڈیگنداکی ہائیڈروپاور پروجیکٹ (۴۴.۶ ملین ڈالر) کیلیے گیزوبا گروپ کے ہمراہ معاہدہ کو منسوخ کیا جو کہ ابتدائی طور پر بی آرآئی کاحصہ تھا۔

نیپال کی جانب سے دیکھا جائے تو بجلی کی پیداوار ہمالیائی ریاست کے لئے دیرپا، منافع بخش برآمدی منڈی پیدا کرسکتی ہے۔ اگر تمام معاملات درست سمت میں آگے بڑھے تو یہ قومی آمدنی میں اضافے اور سستی گھریلو بجلی کے ذریعے حکومت کی معاشی صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہے۔ نیپال کی داخلی سیاست نے بھی منصوبوں کی سست روی یا منسوخی میں کردار ادا کیا ہے کیونکہ متعدد سیاسی جماعتیں محض اس بنیاد پرایک دوسرے کی پالیسیوں کی مزمت کرتی رہتی ہیں کہ کون اقتدار میں ہے اور کون حزب اختلاف میں ہے۔ مثال کے طور پر بڈیگنداکی ہائیڈروپاور پروجیکٹ اقتدار میں موجود حکومتوں کی خواہشات اور ان کی متعلقہ پالیسیوں کی بھینٹ چڑھا۔

اقتصادی ترقی کیلئے باعث نقصان ثابت ہونے والے مسائل میں سے ایک نیپال میں پایا جانے والا یہ رجحان ہے کہ وہ کسی بھی منصوبے کی لاگت اور اس کے دیرپا نتائج کے بارے میں مناسب ابتدائی تحقیقات کیے بغیر ان کا اعلان کردیتا ہے۔ تاحال، چین نیپال میں سرمایہ کاری پر تیار دکھائی دیتا ہے تاہم نیپال کی جانب سے اس حوالے سے ابہام کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کار سے کیا چاہتا ہے، چین کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ جب نیپالی قیادت چین نیپال ریل کمیونٹی کا تذکرہ کرتی ہے تو بھی وہ  کسی بڑے منصوبے کے بجائے بڑی حد تک زبانی کلامی بات چیت کے ساتھ  ہی سامنے آتی ہے۔ قیادت اس امر سے بے خبر دکھائی دیتی ہے کہ وہ سرحد پار تجارت میں اضافے  کے لیے ریل سے کس طور پر فائدہ اٹھا سکتی ہے- وہ مصنوعات جنہیں نیپال کو درآمد کرنے کی ضرورت ہے ان کی تو ایک طویل فہرست تیار ہے تاہم وہ کیا کچھ برآمد کرسکتا ہے، اسے غیر اہم گردانا جاتا رہا ہے۔ نیپال ریل کے ذریعے روابط کوجتنا جغرافیائی سیاسی وجوہات کی وجہ سے اہم سمجھتا ہے، اسی قدر معاشی لحاظ سے اہم سمجھتا ہے- نیپالی قیادت نے ۲۰۱۷ کے انتخابات میں چین کے ہمراہ ریلوے کو ایسے خواب کے طور پر بیچا تھا جو تجارت کے لئے اس کے بھارت پر انحصار میں کمی کا باعث ہوگا۔ تاہم دوسری جانب چینی مفادات زیادہ تر معاشی ہیں۔ یہی عدم مطابقت، روابط میں اضافے کے نیپال کے خواب کی تکمیل میں رکاوٹ ہے۔

نیپال میں چینی سرمایہ کاری کا مستقبل 

نیپال کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے اہداف میں چینی سرمایہ کاری اور مالی معاونت اہم کردار رکھتی ہے تاہم اب یہ نیپال پر منحصر ہے کہ وہ کامیابی کے لئے سازگار ماحول تخلیق کرے۔ سیاسی قیادت کو حزب اختلاف کے ہمراہ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ترقی بذریہ انفراسٹرکچر کے نئے دور میں داخلے کے لئے اس کے ہمراہ مل کے کام کرنا ہوگا۔ چینی کمپنیوں نے ابتدائی طور پر دلچسپی ظاہر کرنے کے باوجود بعض اوقات منصوبوں سے اس وقت ہاتھ کھڑے کیئے ہیں جب انہیں وہ معاشی لحاظ سے منافع بخش محسوس نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس سرکاری ادارے انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور وظیفوں کی فراہمی کے ذریعے سے شاندار عوامی سفارت کاری کرچکے ہیں۔ چین اگرچہ خود کو انحصار کیے جانے کے قابل تجارتی اور ترقیاتی شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے تاہم اسی کے ساتھ ساتھ نیپال پر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس کی ترقی میں چین کی حال ہی میں پیدا شدہ  دلچسپی اور عزائم کے ذریعے سے خود  وہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Keso S via Flickr

Image 2: Pool via Getty Images

Share this:  

Related articles

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث Hindi & Urdu

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث

پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربوں کے بعد…

ہاٹ ٹیک: فلسطین میں بحران کے بارے میں ہم ہندوستان اور پاکستان کی عوامی ردعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ Hindi & Urdu
پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور Hindi & Urdu

پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور

فروری میں جب کے-ٹو پہاڑ کو موسم سرما میں سر…