انڈو پیسیفک علاقہ میں بھارت-امریکہ شراکت داری

ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں ۲۰۱۸ کی امریکی پالیسی سے متعلق دو اہم دستاویزات نیشنل سکیورٹی سٹریٹجی (این-ایس-ایس) اور نیشنل ڈیفنس سٹریٹجی (این-ڈی-ایس) جاری کی ہیں۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی علاقائی ترجیحات  کے لحاظ سے این-ایس-ایس اور این-ڈی-ایس میں توجہ ”انڈو-پیسیفک“ پر مرکوز ہے۔ یہ جغرافیائی بیانیہ صدر ٹرمپ کا علاقے کےلئے ترجیحاتی نام ہے جس میں انڈین اور پیسیفک سمندر (بحرالکاہل) شامل ہیں (جسے سابقہ اوبامہ انتظامیہ نے ایشیا پیسیفک یا انڈو ایشیا پیسیفک کا نام دیا تھا)، اور ایشیا میں امریکی خارجہ پالیسی کے بدلتے رویے کا عکاس ہے۔ صدر ٹرمپ کے علاوہ امریکی سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری ڈیفنس نے بھی اس علاقے کی اہمیت کو سرِعام تسلیم کیا ہے۔

کچھ بھارتی تجزیہ کاروں نے امریکہ کی  سابقہ ‘ایشیا  پیسیفک’ پالیسی کا مطلب یہ لیا کہ شائد امریکہ  بھارت کے سٹیٹس کو عالمی جغرافیائی سیاست میں شامل نہیں کر رہا ہے۔ تاہم این-ایس-ایس اور این-ڈی-ایس کے جاری ہونے سے امریکہ کے اندر اور باہر کے تجزیہ کاروں نے ٹرمپ انتظامیہ کی انڈو-پیسیفک پالیسی میں تبدیلی کو  داراصل  بحر ہند ریجن (بحیرہ عرب سے متصل سمندری علاقہ) اور اقوامِ عالم میں بھارتی کردار کو تسلیم  کرنا ہے۔ جہاں اس تبدیلی نے امریکہ و بھارت کے بیچ شراکت داری  کی نئی راہیں کھولی ہیں وہیں  نئی دہلی کےلئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اس بدلتی صورتحال سے اپنے تزویراتی مقاصد دیکھے  لیکن اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ وہ چین اور امریکہ کے باہمی مقابلے   میں بھی سامنے نہ آئے۔

چینی خطرے کا سدِباب:

این-ڈی-ایس میں اس بات کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ اب دہشت گردی کی جگہ ریاستوں کے بیچ تزویراتی مقابلہ امریکہ کےلئے حقیقی اور بنیادی  خطرہ ہے۔ اس تناظر میں چین  ایک  نمایاں  ‘تزویراتی  مدِ مقابل’ ہے جو معاشی  طریقے استعمال کرتے ہوتے ہوئے اپنے ہمسایوں اور  ساؤتھ چائنہ سمندر میں ہتھیاروں کی تعیناتی کر کے دھمکا رہا ہے۔اگر  این-ڈی-ایس کا این-ایس-ایس سے موازنہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ این-ایس-ایس کا بیانیہ زیادہ  گرجدار ہے چونکہ اس میں ‘سب سے پہلےامریکہ’ جیسا  نقطہ  سامنے رکھا گیا ہے۔ تاہم  دونوں دستاویزات میں  انڈو پیسیفک میں چینی خطرے کے حوالے سے یکسانیت پائی جاتی ہے۔ دونوں میں یہ نقطہ اٹھایا گیا ہے کہ چین  نے عسکری صلاحیتوں کی تجدید اس طرح سے کی ہے کہ جس کی بدولت وہ دو طرح کے نتائج حاصل کر سکے۔اولین مقصدجلد نتائج کا حصول ہے جیسا کہ انڈو پیسیفک علاقے میں اپنی اجارہ داری بنانا اور پھر دوم  دیرپا مقاصد کا حصول کہ امریکہ کو عالمی  برتری سے محروم کر دیا  جائے۔

این-ڈی-ایس کے مطابق امریکہ کو چینی خطرے کا جواب اسطرح سے دینا ہو گا کہ جس سے ‘باہم مربوط سکیورٹی نظام  جو جارحیت کو ڈیٹر  کر سکے، استحکام قائم رکھ سکے اور مشترکہ  دائرہ اختیار میں رسائی ممکن بناسکے’  وہ بھی تمام ‘اہم علاقائی ملکوں ‘ کے ساتھ۔ این-ایس-ایس جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کو انڈو-پیسیفک میں اہم اتحادی سمجھتی ہے اور یہ بھی کہ امریکہ ان کے ساتھ ‘چار ملکی شراکت داری’  بڑھانے کا خواہش مند ہے۔ این-ایس-ایس میں اس جملے کا مطلب شائد  امریکہ-بھارت-جاپان  کا تین رکنی  مالابار بحری مشقوں میں آسٹریلیا کی شمولیت ہے اور آسٹریلیا نے  شمولیت کےلئے گزشتہ بہار میں درخواست بھی کی تھی۔ این-ایس-ایس کے الفاظ اور این-ڈی-ایس میں انڈو-پیسیفک میں ‘سکیورٹی نظام’ کا ذکر ہو نا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امریکہ خود بھی چار ملکی  (امریکہ ،جاپان-بھارت ۔آسٹریلیا) گروپ کی بحالی چاہتا ہے جس کے بارے میں ۲۰۰۷ میں سوچا گیا تھا لیکن اس پر کام نہ ہو سکا تھا۔ اسی منصوبے پرنومبر ۲۰۱۷ میں دوبارہ غور شروع ہوا جب چاروں ملکوں کے نمائندے  ایسٹ ایشیا سُمٹ   کے موقع پر ‘ورکنگ لیول’ میٹنگ کےلئے ملے ۔رواں ماہ بھی چاروں ملکوں کے بحری سربراہان نئی دہلی میں رائےسینا ڈائیلاگ  کے موقع پر اکٹھے ہوئے اور انڈو-پیسیفک میں امن و امان کے حوالے سے بات چیت کی۔ اگرچہ چاروں ملکوں کے بیچ وزیروں کی سطح پر بات چیت کا ابھی کوئی امکان نہیں تاہم  نئی دہلی کی ملاقات کا بیجنگ کےلئے ایک واضح پیغام تھا کہ وہ انڈو-پیسیفک میں  یک طرفہ  بڑھتے چینی اثرو رسوخ  کے خلاف صف آراء ہیں۔

این-ایس-ایس آسیان تنظیم کا بھی انڈو-پیسیفک علاقائی صورتحال میں ‘مرکزی’ کردار دیکھتی ہے۔اس معاملے پر واشنگٹن اور نئی دہلی ایک ہی صفحے پر دکھائی دیتے ہیں چونکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی حال ہی میں آسیان کے دس سربراہان سے ۶۹ویں بھارتی  یوم جمہوریہ پر ملے ہیں اور خطے میں بحری سکیورٹی کا اعادہ کیا ہے۔

بھارت-امریکہ شراکت داری کی تزویراتی اہمیت:

چین کے ساتھ بڑھتے تزویراتی مقابلے  کی فضاء میں  بھارت-امریکہ تعلقات  نے امریکی خارجہ پالیسی میں اہمیت اختیار کر لی ہے۔ این-ایس-ایس واضح طور پر ‘بھارت  کے عالمی طاقت کے طور پرظہور  اور ایک مظبوط دفاعی و تزویراتی  ساتھی’  گردانتی ہے۔ اس کے بدلے میں بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا اور این-ایس-ایس میں ‘بھارت-امریکہ تعلقات میں بھارت کو تزویراتی اہمیت ‘ دینے کے عمل کو سراہا۔

عملی طور پر این-ایس-ایس اور این-ڈی-ایس میں دکھایا گیا ہے کہ  بھارت اور امریکہ  مضبوط تزویراتی  شراکت داری کی طرف ٹھوس قدم اٹھا سکتے ہیں۔ دفاعی تجارت کا حجم ۱۵ بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو آئندہ بھی بھارت-امریکہ   ڈیفنس ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی انیشیٹو (ڈی-ٹی-ٹی-آئی)  کی وجہ سے جاری رہے گا۔ بھارت میں امریکی سفیر کینیتھ جسٹر نے حالیہ خطاب میں کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ  ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے تا کہ ۲۰۱۸ میں دونوں ملک مشترکہ طور پر فیوچر وَرٹیکل ِلفٹ پلیٹ فارم اینڈ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی  گراؤنڈ کَمباٹ وہیکلز تیار کر سکیں۔

انڈو-پیسیفک کی بڑھتی اہمیت کے پیشِ نظر  بھارت اور امریکہ  دو طرفہ تعاون کو  بحری سکیورٹی میں بھی بڑھا سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں نے پہلے ہی انڈو-پیسیفک علاقہ میں  نیوی گیشن (سمت شناسی) اور اَوَور فلائٹ (فضائی حدود سے گزرنے) جیسے معاملات میں  تزویراتی   یگانگت حاصل کر لی ہے۔ امریکہ کی  مغربی پیسیفک میں  فاروَرڈ بیسڈ ڈیپلائمنٹ اور بھارتی بحریہ کی  نئی  مشن بیسڈ ڈیپلائمنٹ حکمتِ عملی اس بات کا اظہارہے کہ دونوں ملک چین کے انڈو-پیسیفک میں اثرورسوخ بڑھانے کے ارادوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں امریکہ اور بھارت کو مل کر بھارتی بحریہ کے میری ٹائم ڈومین اَوئیرنیس (ایم-ڈی-اے) کو مزید بہتر کرنا چاہیئے بالخصوص انڈین اوشن (بحر ہند) میں۔

بھارت-امریکہ-چین تین رُخے  محرکات:

این-ایس-ایس اور این-ڈی-ایس میں  خام اور بعض دفعہ مبالغہ آرائی پر مشتمل شناخت کہ ‘آزاد اور جابرانہ ورلڈ آرڈر ایک جغرافیائی مقابلہ’ آگے چل کر بھارتی خارجہ پالیسی کےلئے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ جہاں بھارت  انڈو-پیسیفک میں چینی کردار کو روکنے کےلئے امریکہ کے ساتھ مشترکہ مفادات رکھتا ہے وہیں بھارت چین کے ساتھ کئی عالمی فورمز جیسا کہ برکس (برازیل، روس، بھارت،  چین، جنوبی افریقہ) اورشنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن پر بھی سانجھے دار ہے۔ اس لئے بھارت کو عظیم طاقتوں کے باہمی روابط کی بنتی بگڑتی صورتحال میں سمجھداری سے کام لینا ہو گا۔

نئی دہلی کو امریکہ-چین تعلقات کے بدلتے رجحانات سے بھی باخبر رہنا ہو گا۔ ۱۹۴۹میں جب امریکہ چین کو کمیونسٹ (اشتراکیت) بننے سے روکنے میں ناکام رہا تھا تو اس نے چین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ واشنگٹن نے چین کے ساتھ تزویراتی ہم آہنگی ۱۹۷۲ کے بعد سے دیکھی جب ایشیا میں  چین اور روس کے تعلقات میں دراڑیں پڑیں۔ اب جبکہ چین امریکہ کا متوازی تزویراتی مدِمقابل کے طور پر ابھر رہا ہے تو  امریکہ انڈو-پیسیفک میں چینی اثرورسوخ کو قابو کرنے کےلئے نئے اتحادی اور شراکت داریوں کی تلاش میں ہے۔جہاں بھارت کو امریکہ کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری کو  بڑھانے کے ضرورت ہے، وہیں اس کو یاد رکھنا ہو گا کہ چین کو روکنے کے دوران  امریکہ دوست اور اتحادی اپنی  ترجیحات  کی بنا پر بنائے گا، نا کہ بھارت کے خدشات پر۔ اس لئے بھارت کو ‘ سب سے پہلے امریکہ’ والے نقطے کو سامنے رکھ کر انڈاو-پیسیفک میں  ‘سب سے پہلے بھارت’  کی پالیسی اپنانی چاہیئے کہ جس میں امریکہ کے ساتھ جہاں ضروری ہو وہاں سکیورٹی شراکت داری کی جائے مگر ساتھ ہی چین کے ساتھ تعاون کے راستے بھی کھلے رہنے چاہیئں۔

ایڈیٹر نوٹ: وائٹ ہاؤس کی طرف سے حال ہی میں نیشنل سکیورٹی سٹریٹیجی اور  پنٹا گون کی طرف سےنیشنل دیفنس سٹریٹجی جاری کی گئی ہے۔ ان دونوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی تزویراتی پالیسیوں  اور ترجیحات کا اندونی و بیرونی طور پر احاطہ کیا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائسز کی اس چار  حصوں پر مشتمل سیریز میں مونیش تورنگبام، حمزہ رفعت، آمنہ افضال اور پوجا بھٹ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ پالیسیاں جنوبی ایشیا کےلئے کیا اثرات ڈال سکتی ہیں۔سیریز کو مکمل پرھنے کےلئے  یہاں کلک کریں۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: MEAphotogallery via Flickr 

Image 2: Prakash Singh via Getty 

Posted in , China, China in South Asia, Defence, India, Indo-Pacific, NSS & NDS Review 2018, Policy, Security, United States

Monish Tourangbam

Monish Tourangbam

Monish Tourangbam is an Assistant Professor in the Department of Geopolitics and International Relations at the Manipal Academy of Higher Education, Karnataka, India and was an SAV Visiting Fellow in July 2017. He is the Coordinator of the North East Studies Centre of the Academy and is the Executive Editor of The North East Diary--a newsletter on the affairs of India's northeast. He is Features Editor (Foreign Policy) for the Science, Technology, and Security Forum (stsfor.org). In addition to teaching, he conducts policy and academic research on strategic and international security issues. His research interests include U.S. foreign policy and grand strategy, U.S. domestic politics, the United States in the emerging geopolitics of the Indo-Pacific region, U.S. policy towards South Asia, strategy and negotiations in international relations and India’s foreign policy orientation. Formerly, he was Associate Fellow at the Centre for International Relations, Observer Research Foundation, New Delhi. He was also visiting faculty at the Department of Political Science, University of Cincinnati, Ohio. He has delivered a number of lectures in India and abroad, including at the University of Louisville, the University of Dayton, the Wright State University, and the Open University of Sri Lanka. He has been involved in a number of projects, including one for Net Assessment funded by the Integrated Defence Staff (IDS). He has participated in a number of conferences including the Asia Foundation’s 2016 South Asia workshop on Asian Views of America’s Role in Asia. He has a number of publications to his credit, including chapters in books, articles in journals such as India Quarterly, the Indian Foreign Affairs Journal and commentaries/opinion pieces in newspapers such as The Tribune, The Pioneer, The New Indian Express and strategic affairs platforms such as Foreign Policy (South Asia Channel), South Asia Democratic Forum (Germany), The Asia & The Pacific Policy Society at the Australian National University and The Diplomat. He holds an M.Phil and a Ph.D. from the School of International Studies, Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

Read more


Continue Reading

कश्मीर पर बातचीत: केवल वार्ताकार अप्रभावी

कश्मीर मुद्दे का समाधान एक कठिन काम है और अगर बातचीत का एक स्थायी और संतोषजनक परिणाम चाहिए तो इसके लिए संयुक्त रूप से राज्य, […]

November 22, 2017 - Views 0



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *