,

بالاکوٹ بحران کے ایک برس بعد: بھارتی ردعمل اوراسباق کا تجزیہ

بھارت اور پاکستان کے مابین گزشتہ فروری میں پیدا ہوئے بحران کے ایک برس بعد بھی دونوں ریاستیں اس تنازعے کے بیانیئے کو طے کرنے کیلئے برسرپیکار ہیں اور بہت سے ایسے اسباق جو ہمسایہ ممالک نے حاصل کئے تاحال غیر واضح ہیں۔ اس کے باوجود اس بحران نے عسکری اشتعال انگیزی پرنئی دہلی کے ردعمل میں ایک تبدیلی کو طے کیا ہے، وہ تبدیلی جس کا آغاز ۲۰۱۶ کے اڑی حملے کے بعد ہوا اور جس کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے مزید تحقیقات کے لئے روایتی فضاء کو استعمال میں لاتے ہوئے دیکھا گیا۔

۲۰۱۴ میں اپنے انتخاب کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان سے تعاون کی خاطر کوششیں کیں- انہوں نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا، لاہور کا اچانک دورہ کیا اور حتیٰ کہ ۲۰۱۶ کے پٹھان کوٹ واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔ تاہم ۲۰۱۶ کے اڑی حملے نے نرمی پر مبنی اس سوچ کے تابوت میں آخری کیل کا کام کیا۔ یوں ماضی کے برعکس مودی حکومت نے اڑی واقعے کا ردعمل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ ساتھ ایک ٹیکٹیکل آپریشن کے ذریعے دیا اور ”سرجیکل سٹرائیکس“ کے نام سے انہیں اعلانیہ قبول بھی کیا۔ یہ ردعمل ایک مستقل سخت گیر پالیسی کی جانب رخ موڑنے کا اعلان تھا جس کے تحت پاکستان کے حوالے سے جوابی کاروائی کیلئے پالیسی میں فوجی انضمام شامل تھا۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی ردعمل، اڑی حملے کے بعد سامنے آنے والے ردعمل کا تسلسل تھا اور ان دونوں نے سنگین اشتعال انگیزی کے جواب میں بھارتی ردعمل کے لئے ایک نمونہ ترتیب دیا ہے۔ بالاکوٹ حملے کے بعد سے پاکستانی ایئر فورس (پی اے ایف) اور بھارتی ایئرفورس (آئی اے ایف) دونوں ہی بحران کے دوران سامنے آنے والی اپنی اپنی کمزوریوں کو پرکرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ پلوامہ/ بالاکوٹ بحران مزید براں یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ مستقبل میں کسی بحران کی صورت میں اشتعال انگیزی کی شدت میں اضافے کے زیادہ امکانات ہیں نیز یہ کہ دونوں فریق روایتی ڈیٹرنس کو بحران کو متوازن رکھنے کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل گردانتے ہیں۔

بالاکوٹ اور اڑی میں فرق

اڑی حملے کے بعد کی گئی سرجیکل سٹرائیکس سے لے کے بالاکوٹ میں فضائی حملے تک، بھارت اور پاکستان کے مابین نمو پانے والے اس بحران کے خدوخال آئندہ کے کسی بحران کی جانب لے جانے والے راستے کیلئے بصیرت فراہم کرتے ہیں۔ ۲۰۱۶ میں فوج کی جانب سے کی گئی ”سرجیکل سٹرائیکس“ کے بعد بھارت نے بیانئے کو قابو کرنے کیلئے بریفنگ دی جس میں اس آپریشن کے محدود مقاصد اور اس کے حفاظتی نقطہ نگاہ سے پیشگی نوعیت کا ہونے پر زور دیا گیا تھا۔ جواباً پاکستان کی جانب سے ایسے کسی بھی آپریشن کے رونما ہونے سے انکار کے بعد بحران ختم ہوگیا تھا۔ بالاکوٹ بحران میں بھارت نے حفاظتی نقطہ نگاہ سے پیشگی حملے کی دلیل کو ایک بار پھر استعمال کیا تاہم پاکستان نے عین پہلے جیسے انداز میں ردعمل نہیں دیا۔ پاکستان نے اگرچہ بھارتی حملوں کی کامیابی پر سوالات اٹھائے تاہم  پاکستان نےعوام کو معلومات، جو کہ ہمیشہ مکمل درست نہیں بھی ہوتی، فراہم کر کے بیانیہ تخلیق کرنے کی دوڑ میں بھارت سے سبقت حاصل کر لی۔

اڑی اور بالاکوٹ کے بعد حملوں نیز پاکستان کی جوابی اشتعال انگیزی میں ایک مشترکہ خاصیت جسے یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ یہ تمام مداخلتیں عالمی سرحد کے بجائے لائن آف کنٹرول کے پار کی گئی تھیں جو کہ کشیدگی کے پھیلاؤ کے امکانات کو محدود کرتی ہیں۔

 بالاکوٹ میں جبہ ٹاپ پر بھارتی حملے کے بعد، پاکستان نے اڑی حملے کی مانند ابتدائی ردعمل دیتے ہوئے کسی بھی اہم نوعیت کے مقام کو نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد کردیا۔ تاہم، آئی اے ایف کے حملے کو مسترد کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر پاکستانی آرمی اور وزیراعظم عمران نے جوابی کارروائی کو یقینی قرار دے دیا۔ مزید براں  ۲۶ فروری کو نیشنل کمانڈ  اتھارٹی کا اجلاس طلب کرنے کے ذریعے سے پاکستان جوہری حملے کا اشارہ دینے میں بھی مصروف ہوگیا۔ ایک دن بعد، پی اے ایف نے اپنی طرز کے روایتی فضائی حملے کے ذریعے ردعمل دیا۔ امکان یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے تجزیئے میں آئی اے ایف کے اس علاقے پر حملے کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی تصور کیا  کیونکہ بالاکوٹ ایل او سی سے فاصلے پرواقع ہے) اور یوں آئی اے ایف کی جانب سے فضائی طاقت کا استعمال خطے میں اشتعال انگیزی میں اضافے کے طور پر دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں پی اے ایف اپنے ردعمل پر دوبارہ غورپرمجبور ہوا۔

آئی اے ایف، اگرچہ بالاکوٹ پر حملے کے بعد سے مکمل طور پر چوکنا تھا تاہم عین ممکن ہے کہ اسلام آباد کے ابتدائی تردیدی موقف کے سبب وہ اس نوعیت کی جوابی کارروائی کی توقع نہیں کررہے تھے اور اسی لئے اس پیمانے کی پاکستانی جوابی کاروائی کیلئے پوری طرح تیار نہ تھے۔ اس امکان کی توضیح اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ جب پی اے ایف نے جوابی حملے کا فیصلہ کیا تو وہ ۲۴ لڑاکا طیاروں کی عددی برتری قائم کرنے میں کامیاب رہا جبکہ آئی اے ایف کا کامبیٹ ایئر پٹرول محض ۸ طیاروں پر مشتمل تھا اور یہی وجہ تھی کہ بھارت کی جانب سے باہمی تعاون کی کمی کا نتیجہ اس کے اپنے ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کی صورت میں سامنے آیا۔ اندازے کی یہ غلطی حالات کا نتیجہ تھی یا پھر پاکستان کی جانب سے اس کے ابتدائی انکار کے ذریعے پیدا کی گئی، یہ تاحال واضح نہیں۔ آج تک زیادہ تر تجزیہ کاروں کی رائے رہی ہے کہ اشتعال انگیزی کے واقعات میں نشانہ بنائے گئے اہداف، نشانہ لینے کے طریقوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ سوچ بالاکوٹ کے واقعے میں غلط ثابت ہوئی کیونکہ پاکستان نے باوجود اس دعوے کے کہ آئی اے ایف کے حملے سے کوئی نقصان نہیں ہوا، اپنے کھوئے ہوئے فضائی ڈیٹرنس کی بحالی کیلئے فضائی حملے کا سہارا لیا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو باوجود اس امر کے کہ بالاکوٹ حملے کا باقاعدہ نشانہ پاکستان تھا، ایل او سی کے پار فضائی برتری ثابت کرنے کی غرض سے کئے گئے بھارتی اور پاکستانی فضائی حملے یہ واضح کرتے ہیں کہ کشیدگی میں اضافہ حملوں کی نوعیت میں اضافے کی شکل میں تھا نا کہ حملوں کے پھیلاؤ کی صورت میں۔ یہ واقعہ تجویز کرتا ہے کہ مستقبل میں بحران کی صورت میں اس کی نوعیت کے شدید تر ہونے کے امکانات اس کے پھیلاؤ سے کہیں زیادہ ہیں۔

صلاحیت اور ڈیٹرنس: سبق جو بھارت اور پاکستان نے سیکھا

بحران کے بعد آپریشنز کیلئے دکھائی گئی مہارت نیز دعووں اور جوابی دعووں نے دونوں فریقوں کو لڑائی کے حوالے سے سبق دیئے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان نے ایک ”ایس یو۔۳۰ ایم کے آئی“ مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ بھارت نے ایک ایف ۱۶ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تاہم دونوں ممالک ان اہداف کو نشانہ بنانے کے ٹھوس شواہد پیش نہ کرسکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی حملے کے عین نشانے پر ہونے، نیز فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بارے میں بعد ازاں اٹھائے گئے سوالات نے بھارت کو ان خامیوں کو پر کرنے کیلئے نئے سسٹمز کے حصول کی جانب راغب کیا ہے۔ مثال کے طور پر ”آئی اے ایف بیانڈ وژوئل رینج“ ( بی وی آر) میزائل، سیکیور ڈیٹا لنکس اور بی وی آر مقابلوں کیلئے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے مجموعے کے علاوہ جس علاقے میں لڑائی ہو، وہاں سگنل منجمد کرنے کی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کیلئے ”سافٹ ویئر ڈیفائنڈ ریڈیوز“ کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔ آئی اے ایف فضائی حدود کی مشترکہ نگرانی کیلئے تینوں سپاہ پر مشتمل ایئر ڈیفنس کمانڈ تخلیق کرنے، پی اے ایف کے ایئربورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول پلیٹ فارمز جنہوں نے حالیہ بحران میں اسے فضا میں زیادہ بہتر تصویر دیکھنے کا موقع دیا، اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اسی ٹیکنالوجی کے حامل طیارے نیز فضائی دفاع کیلئے جدید ترین سسٹمز کے حصول کے مراحل میں بھی ہے۔ دوسری جانب، پی اے ایف بھی یہ سبق سیکھتا دکھائی دیتا ہے کہ اسکے فضائی دفاعی نظام میں کچھ درز باقی ہیں کیونکہ آئی اے ایف پاکستان کی فضائی حدود میں نہایت آسانی سے داخل ہوگیا تھا۔ اس کی جانب سے حال ہی میں طویل فاصلے سے مار کرنے والے میزائل کا تجربہ اور طویل فاصلے کے حامل ایئر ڈیفنس سسٹمز کے حصول میں دلچسپی اسی سوچ کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ تاہم بھارت اور پاکستان کے مابین صلاحیتوں کی اس دوڑ میں، درمیانے سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے اعتبار سے یہ دوڑ بھارت کے حق میں جانے کا امکان ہے کیونکہ بھارت وسائل کیلئے وسیع تر اساس رکھتا ہے۔

موجودہ بحران کے بعد ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ روایتی دو طرفہ ڈیٹرنس ہی مستقبل کے کسی بحران میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ دونوں طرف کے تجزیہ کاروں نے بالاکوٹ کی بطور ڈیٹرنس حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں کیونکہ بھارتی حملوں کے موثر ہونے اور فضائی قوت کے ضمن میں صلاحیتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔ تاہم یہ ایک ادھورا تجزیہ ہے کیونکہ اس حملے نے آئی اے ایف کی نیت ظاہر کی اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، سنگین اشتعال انگیزی کی صورت میں بھارت کیلئے ردعمل کیلئے ایک نمونہ تیار کیا ہے۔ ایسی جھڑپیں بھارت کی مجموعی صلاحیتوں یا دیرپا تنازعے سے نمٹنے کی صلاحیت کی عکاس نہیں۔آنے والے وقت میں، اس امر کا قوی امکان ہے کہ بھارت ہر بڑے حملے کے بعد ایل او سی کے پار فوج کے ذریعے جواب دے گا اور جوابی کشیدگی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دے گا۔ بعض نے یہ تجویز کیا ہے کہ پی اے ایف کی جانب سے بھارتی حملے کے مماثل ردعمل سے پاکستان کے روایتی ڈیٹرنس میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ دلیل پاکستان کے مبہم فرسٹ یوز نیوکلیئر ڈاکٹرائن جس کے تحت جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات بہت زیادہ ہیں، اسکے باوجود بھارت کو روایتی متنازعہ کی حدود میں مزید قدم بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

علاوہ ازیں، بعض بھارتی حلقوں میں اخذ کیا گیا یہ نتیجہ قبل از وقت ہے کہ اب محدود نوعیت کے تاہم بڑے پیمانے پر کئے گئے روایتی آپریشن جن کی پیشگوئی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کی روشنی میں کی جاتی ہے، اب قابل قبول ہیں اور محض اس لئے کہ پاکستان نے بالاکوٹ فضائی حملے کا جواب روایتی طریقے سے دیا، یہ آپریشن جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی نوبت نہیں آنے دیں گے۔ درحقیقت کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کی طرز کے فوجی آپریشنز کی صورت میں سنگینی میں اضافے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ یہ لامحالہ جوہری ڈٹرنس سے جڑا ہوتا ہے، بہ نسبت بالاکوٹ طرز کے چھوٹے محدود پیمانے کے آپریشنزکے کیونکہ ان میں مخصوص وقت اور حصے میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاہم بالاکوٹ فضائی حملے پر پاکستانی ردعمل نے ظاہر کیا ہے کہ اشتعال انگیزی کے امکانات میں کمی کیلئے پاکستانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بجائے پراکسی اہداف جیسا کہ جنگجوئوں کو ہدف بنانے کی بھارتی منطق نے  بھی کام نہیں کیا- بھارت کی جانب سے جنگجو کیمپ پر حملے کا پاکستان نے ایسے ردعمل دیا کہ گویا یہ پاکستان کی اپنی فوج پر کیا گیا تھا اور اس نے روایتی اسلحے کے ذریعے براہ راست بھارتی فوج کو نشانہ بنایا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے اور یہ خیال ذہن میں رکھا جائے کہ ایل او سی کے ساتھ ساتھ براہ راست فوجی اہداف کو نشانہ بنانے سے عمومی طور پر کشیدگی اسی مقام تک محدود رہتی ہے اور اس میں اضافہ نہیں ہوتا تو بھارت مستقبل میں کسی چھیڑ خانی کے جواب میں انہیں جنگجو کیمپ قرار دیتے ہوئے پاکستان میں ایسے کم حساس نوعیت کے فوجی اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے۔ یوں، آئندہ بحران میں فوجی اورغیر فوجی اہداف کے مابین تفریق کا معاملہ زیر دباؤ آسکتا ہے۔

آخر میں یہ کہ تربیتی مراحل، جدید نظام اور بہترضابطوں کے باوجود بھی اس قسم کے انتہائی تناؤ والے ماحول میں فضائی طاقت کے استعمال میں غلطی کا بہت زیادہ امکان باقی رہتا ہے۔ بھارت کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (ایس اے ایم) کی جانب سے آئی اے ایف کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانا، رواں برس کے آغاز میں ایرانی ایس اے ایم کی جانب سے یوکرائنی مسافر طیارے کو مار گرانے اور ۲۰۱۶ میں امریکی ایئرفورس کا افغان ہسپتال کو جنگجو کیمپ تصور کرتے ہوئے فضائی حملہ اس قسم کے واقعات کا ثبوت ہے۔ غیر متوقع یا حادثاتی طور پر حالات کے سنگین ہوجانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ لہذا، یہ انتہائی اہم ہے کہ عالمی برادری ان بنیاد پرست جنگجو کیمپوں کیخلاف کارروائی کیلئے کردار ادا کرے جو ایسے بحرانوں کی بنیادی وجہ ہیں۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Government of India

Image 2: Venkat Mangudi via Flickr

Posted in , , Air Power, Conventional Forces, Crisis, Deterrence, Doctrine, Escalation Control, India-Pakistan Relations, Kashmir, LoC, Looking Back at Balakot, Nuclear Security, Policy, Security, Strategic Culture, Territorial Dispute

Joy Mitra

Joy Mitra

Joy Mitra is a Nonresident Fellow at the East West Center, New York and a consultant with ACLED. Previously, he was a researcher with the South Asia Terrorism Portal at the Institute of Conflict Management in New Delhi, India. He writes on foreign policy, deterrence stability, and security issues related to South Asia. He was a 2015-16 Foreign Policy Fellow with the Jindal School of International Affairs, OP Jindal Global University, Sonipat. He was also an SAV Visiting Fellow, July 2018.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *