,

رعد دوئم اورپاکستان کی فل سپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی

پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ کے عین درمیان اور پلوامہ بالا کوٹ بحران کو ایک برس مکمل ہونے سے چند ہی روز قبل، پاکستان کے ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اعلان کیا کہ پاکستان نے فضا سے مار کرنے والے رعد دوئم کروز میزائل کی ایک قسم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ ۶۰۰ کلومیٹرز کی دوری تک نشانہ بنانے اور روایتی و جوہری دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے رعد دوئم میزائل کو ”پاکستان کی ڈیٹرنس صلاحیتوں میں اضافے کی جانب اہم قدم“ قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان کی فل سپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی (ایف ایس ڈی) کو مضبوطی فراہم کرنے کے ضمن میں، رعد دوئم کے اس کامیاب تجربے کے اثرات کا  جائزہ لیا جانا ابھی باقی ہے۔ رعد دوئم کی شمولیت نہ صرف ایف ایس ڈی کے جوہری پہلوؤں کو طاقتور کرتی ہے بلکہ اس سے  روایتی فضائی ہتھیاروں کے شعبے میں بھی پاکستان کی صلاحیتوں میں اضافے کا امکان ہے، یہ عنصر پاکستان کے روایتی ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے میں معاون ہوسکتا ہے ۔

ڈینائل صلاحیتوں میں موجود خلاء کا پر ہونا

گزشتہ ماہ تجربہ کئے گئے رعد دوئم میزائل کی نشانہ بنانے کی صلاحیت ابتدائی طور پر ۲۰۱۷ میں متعارف کروائے گئے میزائل کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ کمپیکٹ میزائل محفوظ مقام سے، فضا سے زمین و سمندر کو نشانہ بنانے کی پاکستانی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے اور بھارت کے اہم دفاعی اہداف کو پاکستانی نشانہ پر لاکھڑا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دشمن کی نقل و حرکت محدود کرنے کی صلاحیت (ڈینائل صلاحیت) نمایاں طورپر بہتر ہو گی، جس پر پاکستان گزشتہ کچھ برس سے کام کررہا ہے۔  پاکستان کے اعلیٰ تزویراتی ماہر لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے ۲۰۱۵ میں کہا تھا کہ ”اگر (جزائر نکوبار اور اینڈامان میں موجود) بیسز نشانے پر نہیں آتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان نادانستہ طور پر بھارت کو اپنی سرحدی حدود کے اندر جوابی جوہری کارروائی کیلئے موقع فراہم کررہا ہے۔“ لیفٹیننٹ جنرل قدوائی نے اگرچہ یہ تبصرہ شاہین سوئم کی رینج کی وضاحت دیتے ہوئے کیا تھا تاہم  اس گفتگو کے پانچ برس بعد رعد دوئم کا اضافہ یہ تجویز کرتا ہے کہ پاکستان بہتر ڈینائل صلاحیتوں کے حصول کیلئے بھرپور طریقے سے کوشاں ہے۔

رعد دوئم پاکستان کو ہدف اور کارروائی کے لئے حسب منشاء تبدیلیوں کی سہولت مہیا کرتا ہے، یوں یہ ایف ایس ڈی کے حصول اور اس میں بہتری کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایف سی ڈی کے نکات میں سے ایک کے مطابق پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ اسے ”بھارت کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کے باوجود، اہداف کے وسیع تر منظرنامے سے اپنے لئے یکساں اہمیت و طاقت کے  حامل اہداف اور لڑائی کے میدان چننے کی آزادی“ حاصل ہو۔ رعد دوئم کی خصوصیات اور رینج جس کی وجہ سے  یہ انتہائی مہارت کے ساتھ عین ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، ایف ایس ڈی سے مطابقت رکھتی ہے اور پاکستان کو آپریشنل سطح پر انتہائی ضروری ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ یہ کامیاب تجربہ، ڈیٹرنس کے ان جملہ پہلوؤں کی تکمیل کی جانب ایک اور اہم سنگ میل ہے کہ جن کا حصول پاکستان کی خواہش ہے ۔ 

چونکہ رعددوئم طیارے کے ذریعے سے ہدف کی جانب روانہ کیا جاسکتا ہے، لہذا یہ اسلام آباد کی تزویراتی قوتوں میں شامل ہوائی شاخ کو توانا کرتا ہے۔ رعد دوئم کے ڈیزائن میں تبدیلی یہ اشارہ دیتی ہے کہ پاکستان اس میزائل کو اپنے جے ایف -17 تھنڈر ایئرکرافٹ کے ساتھ جوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان کے چوٹی کے فضائی تجزیہ کاروں میں سے ایک قیصر طفیل محسوس کرتے ہیں کہ ریڈار پر دکھائی دینے والے حصوں کے چھوٹے ہونے کے سبب رعد دوئم کے دشمن کے فضائی دفاعی نظام پر شناخت کئے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ دشمن کی جانب سے شناخت کے عمل میں سستی بمعہ  محفوظ مقام سے روانہ کرنے کی صلاحیت، رعد دوئم کو پاکستانی اسلحے کے ذخیرے میں  ایک مہلک اضافہ بناتی  ہے۔  امید ہے کہ یہ میزائل پاکستان کی ڈیٹرنس صلاحیت، خاص کر جوابی کارروائی کی صلاحیت میں اضافے کا موجب ہوگا نیز اس دوری تک رسائی فراہم کرے گا جو ۲۰۱۵ میں لیفٹیننٹ جنرل قدوائی نے تجویز کی تھی۔

اس تجربے کیلئے اس سے موزوں وقت کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔ پاکستان نے یہ تجربہ امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کو آپریشن ایجنسی کی جانب سے بھارت کو انٹی گریٹڈ ایئر ڈیفنس سسٹم (آئی اے ڈی ڈبلیو ایس) کی ممکنہ فروخت کی منظوری کے اعلان کے چند ہی دن بعد کیا۔ پاکستان عرصے سے یہ دلیل دے رہا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے تزویراتی توازن کو بگاڑنے پر ردعمل دیتا ہے۔  بھارتی فضائی دفاعی نظام میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے اے ایل سی ایم کو متحرک کرنا بروقت اور اہم ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح پاکستان بھارت میں ہونے والی تزویراتی جدت اور ٹیکنالوجی کےمیدان میں پیش رفت پر نگاہ رکھتا ہے۔ تجربے سے چند روز قبل، ایک موقع پر لیفٹیننٹ جنرل قدوائی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ  خطے کو تزویراتی عدم توازن کی دلدل میں دھنسنے سے بچانے کیلئے پاکستان کسی صورت عدم توازن کی اجازت نہیں دے گا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان رعددوئم کی صورت میں نشانے بازی میں آنے والی اس بہتری کو خطے میں تزویراتی توازن کو درست کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

روایتی حربی صلاحیتوں میں بڑھاوا

رعد دوئم انتہائی درستگی کے ساتھ جوہری اور روایتی دونوں طرح کے ہتھیار نشانے کی جانب لے جاسکتا ہے۔ رعد دوئم کی صورت میں پاک فضائیہ کو ملنے والی روایتی طاقت انتہائی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ بھارت اپنے اسلحے کے ذخیروں کو  رافیل لڑاکا جیٹ اور ایس۔400 ٹرائمف میزائل شکن سسٹم سے بھرنے کیلئے تیار ہے، مستقبل کے بحران میں پی اے ایف کو بھارت کیخلاف ردعمل کیلئے زیادہ شدید آزمائش کا سامنا ہوگا۔ رعددوئم جیسے اے ایل سی ایمز، پی اے ایف کو روایتی میدان میں زیادہ امکان فراہم کرتے ہیں نیز لڑاکا طیاروں کے ساتھ انضمام کی صورت میں یہ بھارت کو کسی حد تک اس برتری سے محروم کردے گا جو اسے ایس-400 اور رافیل کے ذریعے پہل کرنے کی صورت میں مل سکتی ہے۔ مزید براں، پاکستان دشمن کو باز رکھنے کیلئے، رعد دوئم کو خبردار کرنے کیلئے بھی استعمال کرسکتا ہے۔ فضائی طاقت کے ذریعے ملنے والے فوری اور شاندار نتائج کے سبب جنوبی ایشیا میں فضائی قوت کو ملنے والی ممکنہ توجہ کے پیش نظر ایئرکرافٹس کے ذریعے قائم کی گئی ڈیٹرنس پاکستان کیلئے موثر ثابت ہوگی۔ یہ کامیاب تجربہ پاکستان کو بھارت کے حوالے سے روایتی میدان میں زیادہ امکانات مہیا کرتا ہے، جو کہ اس کی کوئڈ پرو کو پلس پالیسی سے بھی مطابقت رکھتا ہے اور جس کا گزشتہ ماہ اظہار بھی کیا گیا تھا۔

رعد دوئم، نہ صرف پی اے ایف کو بھارتی حدود کے اندر حملے کیلئے درکار روایتی طاقت فراہم کرتا ہے بلکہ یہ بھارت کی جانب سے تنازعے کو دیگر محاذوں تک پھیلانے کی خواہش کے جواب میں پاکستان کو یہ برتری دیتا ہے کہ وہ  ایک محاذ پر ہی لڑائی کی شدت کو بڑھا دے۔ روایتی میدان میں جوابی کارروائی کیلئے پاکستان کو مناسب صلاحیتوں کی فراہمی کے ذریعے سے یہ اضافی روایتی ہتھیارلڑائی کو جوہری جھڑپ میں تبدیل ہونے کے خطرات میں کمی کرتا ہے۔  کیونکہ اس کی موجودگی سے  تزویراتی توازن کو قائم رکھنے کیلئے پاکستان پر اپنے جوہری ہتھیار استعمال میں لانے کے دباؤ میں کمی ہوتی ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ رعددوئم کی شکل میں یہ اضافی روایتی ہتھیار، ڈیٹرنس اور تزویراتی توازن کو اتنا کمزور نہیں رہنے دے گا۔ مگر پھر بھی یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہ یقین و عزم کہ روایتی میدان میں اشتعال انگیزی سے کامیابی سے نمٹا جاسکتا ہے، لاپرواہی پر مبنی رویے اور غیرارادی طور پر پیدا ہونے والی اشتعال انگیزی کا سبب بن سکتا ہے۔

اگرچہ رعد دوئم دوہرے طریقے سے قابل استعمال ہتھیار ہونے کے سبب دوران جنگ، روایتی و جوہری ہتھیاروں میں تفریق کے حوالے سے تشویش پیدا کرسکتا ہے تاہم اس میزائل سے جڑا یہ ایک معمولی سا مسئلہ ہے۔ چونکہ بھارت اور پاکستان دونوں پہلے ہی دوہرے طریقوں سے قابل استعمال دیگر ہتھیار رکھتے ہیں ایسے میں پاکستانی اسلحہ خانے میں دوہرے استعمال والے ایک اور ہتھیار کے اضافے سے حالات میں مزید عدم تحفظ پیدا ہونے کا امکان نہیں۔ اس کے برعکس، بھارت اور  پاکستان میں مسلسل بڑھتے رہنے والی اعتماد کی کمی زیادہ پریشانی کا باعث ہے۔ اپنے حالیہ مضمون میں پروفیسر کیٹلین ٹالمیج دلیل دیتی ہیں کہ اشتعال انگیزی کا سبب بننے والے محرکات سیاست اور حکمت عملی کے دائرہ عمل میں آتے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی جیسا کہ رعددوئم وغیرہ محض اس راہ میں ایک کردار اداکرتے ہیں۔ یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے کہ دوہرے طریقوں سے قابل استعمال ہتھیاروں سے جڑا ابہام چوکس کرنے کا سبب بنتا ہے، یوں یہ ڈیٹرنس کو بڑھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یوں دوہرے استعمال کے قابل ہتھیار سے جڑے خدشات، روایتی ہتھیاروں کے ذریعے سے بھارت کے انتہائی اندر واقع اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت سے حاصل شدہ ڈیٹرنس نیز پاکستان کی کوئڈ پرو کو پلس پالیسی کے مطابق رعد دوئم کے اہم کردار کے باعث ختم ہوجاتے ہیں۔

یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان، پاک بھارت بحران میں فضائی قوت کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے باخبر ہے، جو کہ پلوامہ بالاکوٹ بحران سے بھی واضح ہوئی ہے۔ یوں روایتی و جوہری دونوں میدانوں میں فضائی شعبے کی جانب توجہ کرنا ہی عین منطقی ہے۔ پاکستان بحران کے دوران بھارتی جارحیت کا ردعمل دیتے ہوئے چاہتا ہے کہ وہ یہ ردعمل ایسے دے کہ تزویراتی توازن برقرار رہے۔  رعد دوئم میزائل، بھارت کے انتہائی اندر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل وسائل میں بہتری کے ذریعے سے ملکی جوہری ڈیٹرنس کو ٹھوس بنانے کا ذریعہ بنا ہے۔ مزید براں، یہ پی اے ایف کو روایتی میدان میں نشانہ بنانے کے لئے زیادہ مواقع دیتا ہے، اور یہ وہ چیز ہے جو کہ اشتعال انگیزی کی سیڑھی پر ابتدائی قدم دھرنے کی بھارتی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ اس کے باوجود، ڈیٹرنس اور بحران میں توازن کے ضمن میں رعد دوئم کے کردار کا دارومدار اس امر پر ہوگا کہ مستقبل میں دونوں جنوبی ایشیائی حریفوں کے مابین بحران کس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Robert Sullivan via Flickr

Image 2: Mikesonline2011 via Wikimedia Commons

Posted in , , Air Power, Conventional Forces, Defence, Deterrence, Escalation Control, India, Missiles, Nuclear, Nuclear Security, Nuclear Weapons, Pakistan, Policy, Security, Strategic Culture

Syed Ali Zia Jaffery

Syed Ali Zia Jaffery is a South Asian Voices Visiting Fellow 2019-2020. He is a Research Associate at the Center for Security, Strategy and Policy Research at the University of Lahore. He is also the Associate Editor of Pakistan Politico, the country's first strategic and foreign affairs magazine. He is also teaching undergraduate courses on Foreign Policy and National Security. He has been working in the think tank circuit since the past 4 years. His research interest lie in nuclear deterrence, military strategy and the geopolitics of South Asia. He regularly contributes to premier dailies.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *