سی پیک فوائد کا حصول ؛بلوچستان میں اثر پذیرپالیسی کا متقاضی

پاکستان کا سب سے بڑا مگر کم آباد صوبہ پچھلے ۱۵ سال سے نسلی و قومیت پرستی شورش  کا شکار ہے ۔ ۷۵۰ کلو میٹر طویل ساحلی پٹی رکھنے   اور تیل کے ذخائر سے مالا مال خطوں ( مشرقی وسطی اور وسطی ایشیا ) کے قریب ہونے کے باعث بلوچستان پاکستان کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل ہے ۔ سی پیک میں مرکزی حیثیت ہونے کے باعث بلوچستان کی اہمیت اور بھی دو چند ہو گئی ہے کیونکہ پاکستان سی پیک کو اپنے معاشی حالات بدلنے کا نسخہ سمجھتا ہے ۔ سی پیک چین کے لینڈ لاکڈ صوبے ژن ژیانگ کو گوادر سے جوڑے گا اور ساتھ میں سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے نیٹ ورک سے بلوچستان علاقائی طور پر تجارتی دروازے کا کام کرے گا ۔

بلوچستان میں شورش کو کنٹرول کرنا  نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے بھی ضروری ہے ۔ پاکستان کو سخت ہاتھوں سے بغاوت کچلنے کی پرانی حکمتِ عملی کو بدلنا ہو گا اور سی پیک کو کامیاب بنانے کے لیے اندرونی اور بیرونی عناصر،  جو کہ کشیدگی کا باعث بنتے ہیں ، پر بھی توجہ دینی ہو گی ۔

بلوچستان میں بغاوت تاریخی اور موجودہ عوامل:

آج تک   ۱۹۴۷میں آزادی سے لے کر بلوچستان نے پانچ بغاوتوں کا سامنا کیا جس میں سے تازہ ترین ۲۰۰۲ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اکبر بگٹی کے مارے جانے پر شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے ۔ حکومتِ پاکستان بلوچستان میں ترقی کے چیلنجز ، کم شرح خواندگی ، اور بیروزگاری جیسے مسائل کو عدم مساوات کا شکار قبائلی نظام میں حل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ اس پہلو تہی نے کشیدگی کے مختلف عوامل کو جنم دیا ہے جو کہ نیچے تصویر میں بیان کئے گئے ہیں۔

دیرپا اندرونی شکایات بشمول معاشی دباؤ، نسلی امتیاز، تیل و  گیس کی آمدن کی عدم تقسیم اور سیاسی اور وفاقی( اور بعض دفعہ صوبائی) حکومتوں کی طرف سے امتیازی سلوک  جیسےمسائل بلوچستان میں بد امنی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

بیرونی طور پر امریکہ کی افغانستان میں جنگ کے نتیجے میں پشتون افغان مہاجرین اور انتہا پسند دہشت گردوں کی بلوچستان میں آمد سے بلوچی قوم محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

بھارت نے بھی بلوچ باغیوں کی مدد کی ہے۔ مثال کے طور پر بھارتی حکومت نے ۲۰۰۹ سے اب تک بلوچ لبریشن آرمی کے سرکرردہ رہنما بالاچ  پرادلی کی میزبانی کی ہے۔ پاکستانی حکومت اور فوج نے بارہا اس بات کو دہرایا ہے کہ  بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان اور افغانستان میں پاکستان مخالف بلوچوں  کو تربیت دی ہے۔ ۲۰۱۶ میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ڈوزیئر جمع کرایا جس میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت دیے گئے ۔ حال ہی میں مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستانی موقف میں وزن ڈالتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کرسچیئن فئیر کے بقول “پاکستان کی علاقائی سوچ کو رد کرنا غلطی ہو گی چونکہ بھارتی عہدےداروں نے مجھے بتایا ہے کہ ہم بلوچستان میں (بد امنی کےلئے)پیسہ پھینک رہے ہیں۔”

بلوچستان کےلئےایران کی ہمسائیگی بھی چیلنجز سے بھرپور ہے۔ بلوچی سنی مسلمان ، ایران پاکستان سرحد کے آر پار آباد ہیں ۔اسی وجہ سے بڑھتی ہوئی بغاوت سے ایران بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان اور ایران دونوں نے بلوچ قومیت پسند تحریکوں کے سد باب کےلئے مشترکہ اقدامات کئے تاہم اب وہ  اندرونی معاملات میں مداخلت کے باعث  ایک دوسرے کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ مزید برآں ایران بلوچستان میں بد امنی کی بھارتی کوششوں کی حمائت نہیں کرے گا ، اس وجہ سے  ممکنہ طور پرایران پاکستان کے قریب آسکتا ہے۔

گزشتہ اقدامات؛

بلوچستان میں مسلسل بغاوتوں کے باوجود موثر حکمتِ عملی کا فقدان قابلِ غور ہے۔ حکومتوں نے شکایات کو دور کرنے کی بجائے سرد مہری اور سخت رویے پر اکتفا کیا ہے۔جبکہ ماضی کی حکومتوں کی طرف سے سیاسی اقدامات نے قلیل مثبت نتائج دیے۔

پاکستان نے  ۲۰۱۶میں ایک پارلیمنٹری کمیٹی قائم کی جس کے ذمے تھا کہ وہ بلوچستان میں  بہتری کے لئے سفارشات مرتب کرے تاہم ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ آغاز حقوقِ بلوچستان پیکج، قومی مالیاتی ایوارڈ(جو صوبوں کے بیچ قومی آمدن کی تقسیم کرتا ہے) اور آئین کی اٹھارویں ترمیم جیسے اقدامات بلوچوں کی شکایات کو ختم کرنے کےلئے اٹھائے گئے تاہم ان اقدامات  پر عدم دلچسپی سے خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ مزید برآں بدعنوانی ، کمزور گورننس اور صوبائی حکومت کا ناکافی و نااہل نظام بلوچستان کے قدرتی و معدنی وسائل کو بلوچوں تک منتقل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت  میں بھی بلوچ بغاوت کو قابو کرنے کےلئے کوئی موثر حکمت عملی موجود نہیں ہے اور اس بارے میں ابہام ہے کہ آیا تمام باغی گروہوں کو ٹارگٹ کیا جائے یا محض چند عناصر کو نشانہ بنایا جائے یا پھر ان سب سے مذاکرات کیے جائیں۔

چند تجاویز؛

سی پیک نے مرکزی حکومت کو بلوچستان کے حالات کو سرمایہ کاری اور نئی ملازمتوں سے سدھارنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ سماجی و معاشی اقدامات اٹھا کر ایک فعال حکمت عملی بنانا ناگزیر ہے۔ ایک ایسے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس میں تمام گروہوں کی نمائندگی کرنے والے بلوچ شامل ہوں اور جو اپنے مفادات کو ایک طاقتور کمیشن بنا کر  اعلیٰ عہدیداران  کے سامنے پیش کر سکیں۔

بلوچستان بالخصوص بلوچ نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ انکو پاکستانی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ انکی یہ شمولیت باغی گروہوں کی عام معافی، معاشی و تعلیمی شعبے میں کوٹا رکھ کر اور صوبائی  پولیس اور فوج میں بھرتیاں کر کے کی جا سکتی ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کےلئے قبائلی رہنماؤں اور لوکل آبادی کے بیچ فاصلہ کم کرنا ہو گا تا کہ اسکی وجہ سے تمام نسلی بلوچوں کو صوبائی اور قومی سطح پر نمائندگی دی جا سکے، اور اسی طرح سرحد پر غیر قانونی آمدورفت روکنے کےلئے بھی اقدامات کرنے ہوں گے تا کہ مسائل کا بر وقت تدارک کیا جا سکے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Robin Jakobsson via Flickr.

Image 2: Created with Piktochart.

 

Posted in , Border, Culture, Development, Economics, Human Rights, Pakistan, Policy

Kishwar Munir

Kishwar Munir

Kishwar Munir is SAV Visiting Fellow July 2017. She is an Assistant Professor at Hajvery University, Lahore. She is also a doctoral candidate in the Department of Political Science, University of Punjab, Pakistan. She has taught a course titled Political System: Turkey, China, and India at the University of Punjab. Her research interests include terrorism, regional and global security issues, and domestic politics and foreign policy of India and Pakistan. She is an Urdu columnist at Jehan-e-Pakistan. Kishwar can be contacted at kishwarmunir786@gmail.com

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *