فاٹا انضمام پاکستان کےلئے کیا معنی رکھتا ہے؟

حال ہی میں پاکستان نے اپنے علاقے فاٹا، جو کہ سات ایجنسیوں اور چھ فرنٹئیر ریجنز پر مشتمل ہے، کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کر دیا ہے۔ فاٹا انضمام، جو سیاسی ریشہ دوانیوں اور کم ترقی یافتہ علاقہ تھا ، کا مطلب یہ ہوگا  کہ  پاکستان میں کوئی علاقہ نہ تو  حکومتی انتظام کے بغیر ہو گا اور نہ ہی کوئی نو گو ایریا‘ ہو گا یعنی ایسا علاقہ جہاں پر قانون کا عمل درآمد نہ ہو۔ اگر  فاٹا  کا آئینی انضمام خیبر پختونخواہ کے ساتھ ہو جاتا ہے تو اس سے علاقے میں موثر سکیورٹی نظام فعال ہو سکتا ہے اور سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات قابو کیے جا سکیں گے۔ مزید برآں علاقے کی ترقی اور وہاں جمہوری روایات پروان چڑھنے سے  انتہا پسند  قوتیں کمزور ہوں گی۔ 

قبائلی علاقوں کی تاریخ:

گزشتہ ۷۰ برسوں میں اسلام آباد نے فاٹا کو  استعماریت یا نوآبادیاتی نظام کے کالے قانون ‘فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن‘ (ایف-سی-آر) سے چلایا ہے  جو کہ علاقائی سرداروں کو ملکی آئین سے زیادہ اختیارات دیتا ہے۔ ۱۹۹۷ میں جا کر فاٹا کی آبادی کو ملکی عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا اختیار دیا گیا۔ فاٹا پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ آف پاکستان کا حصہ بھی نہیں رہا ہے جس سے علاقے کے لوگ اپنی مرضی کی سیاسی جماعت بنا کر انتخابات میں حصہ لینے سے قاصر تھے۔ اس عمل سے فاٹا کی آبادی ملک کے سیاسی منظر نامے سے کہیں دُور اور محروم نظر آئی۔ فاٹا پاکستان کے غریب ترین علاقوں میں سے ایک ہے جہاں کی ۳۰ لاکھ آبادی میں سے ۶۰ فیصد  غربت کی لائن سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور حکومتی سطح کے تعلیمی اور صحت کے منصوبوں سے بھی محروم ہے۔ 

حکومت کی طرف سے غربت میں کمی نہ کر سکنے، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی اور آبادی کو آئینی و معاشی مواقع   نہ دینے کی وجہ سے اس علاقے میں انتہا پسندی اور شدت پسندی نے پنجے گاڑے۔ ایک عشرے سے بھی زائد عرصہ کےلئے فوج اس علاقے میں شدت پسندی کے خلاف بر سرِ پیکار رہی جو فاٹا میں  پنپ چکی تھی۔ فاٹا انضمام کا مجوزہ منصوبہ اسلام آباد کے پالیسی سازوں کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ موثر حکمرانی کرتے ہوئے سکیورٹی خدشات کا سدِ باب کر سکیں ۔ 

انضمام کے پیچھے کارفرما عوامل:

یہ بات اکثر دہرائی جاتی ہے کہ پاکستان کے مختلف ادارے بالخصوص فوج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے میں عدم دلچسپی دکھاتی رہی ہے۔ یہ شائد اس لئے ہے کہ اس سے فوج کی علاقے کو چلانے کی پالیسیاں منطر عام پر آ سکتی ہیں۔اس طرح ملک کی علاقائی سیکیورٹی پالیسیوں میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں، بلخصوص دیگر شدت پسند گروہوں کی حمایت کرنے کی پالیسی جنہیں پاکستان میں پناہ گاہیں میسر ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فوج کےلئے اس بات میں آسانی ہے کہ علاقے کی نگرانی کےلئے کم سے کم انتظامی،  قانونی اور  افسر شاہی (بیوروکریٹک) نظام کا وجود رہے۔ 

تاہم موجودہ  عسکری قیادت نے اس بار خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں کہ فاٹا بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح سیاسی، معاشی اور انتظامی مواقع سے فائدہ اٹھا سکے۔ فوج کی پالیسی میں یہ تبدیلی شائد دو عوامل کی وجہ سے ہے۔ ایک طرف فوج کا خیال ہے کہ برسوں کی محنت کے بعد دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں سمیٹی ہیں انکو مضبوط بنانے کےلے فاٹا کا استحکام اور سیاسی  حالات کو معمول میں لانا ضروری ہے۔ تاہم اس مقصد میں کامیابی تب ہی ملے گی جب  فاٹا کو مکمل  ادارہ جاتی، انتظامی اور سیاسی موقع فراہم کئے جائیں۔ دوسرا امر یہ ہو سکتا ہے کہ  فوج چونکہ ملکی سکیورٹی سے متعلق اہم فیصلے کرتی ہے اور اب وہ ملک کے اندرونی سکیورٹی چیلنجز کو بیرونی  سکیورٹی خطرات سے زیادہ اہم سمجھنے  لگی ہے ۔ فاٹا میں آئینی اصلاحات نافذ کر کےاور افغان سرحد کے ساتھ جامع سرحدی مینجمنٹ سٹرکچر  بنا کر  فوج  ملک کے اندرونی سکیورٹی  ڈھانچے کو مضبوط کر رہی ہے۔ 

اور کیا کئے جانے کی ضرورت ہے؟

فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم کئے جانے سے متعلق قانون سازی کا اہم مرحلہ عبور کرنے کے بعد  اب سیاسی و معاشی اصلاحات لانا ترجیح ہونا چاہئیے۔ قائم مقام حکومت کو چاہئیے کہ وہ فاٹا کی عوام کو انتخابات میں  حصہ اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل  دینے کےلئے آسانیاں پیدا کرے۔ مزید برآں ریاست کو عدلیہ کے نظام کو بھی فاٹا تک وسعت دینے اور فعال کرنے کی ضرورت ہے چونکہ ابھی تک وہاں پر جرگہ نظام نافذ ہے جسے ختم کرکے عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) کی رٹ پر عمل درآمد کرانا چاہیئے۔ علاقائی ترقی کےلئے ایک جامع معاشی نظام بھی  قائم کرنا چاہیئے اور لوگوں کو یکساں معاشی مواقع بھی مہیا کئے جائیں۔ ان اقدامات سے پاکستان اُن علاقوں سے شدت پسند گروہوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے۔ 

سکیورٹی کے نقطہ نظر سے  اگر حکومت واقعی دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں  اور اصلاحاتی عمل کو فائدہ مند بنانا چاہتی ہے تو اسے افغانستان کے ساتھ سرحدی معاملات طےکرنا ہوں گے اور سرحد پر دہشت گردی و مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنا ہو گا۔ مزید برآں پاکستان کے باقی علاقوں کی طرح فاٹا میں لوکل قانون نافذ کرنے والا ادارہ جاتی نظام نہیں ہے ۔ اس لئے ادارہ جاتی قانونی و انتظامی شاخوں، جیسا کہ باقاعدہ (ریگولر) پولیس فورس، کا قیام وسیع تر سکیورٹی مفادات کے تحفظ اور فاٹا کی عمومی سکیورٹی صورتحال کےلئے سُودمند رہے گا ۔اس سے انتظامیہ کے معاملات میں فوج کابراہِ راست  کردار بھی محدود ہو جائے گا۔ 

جب تک فاٹا قومی دھارے سے دور رہتا ہے اور آئینی اصلاحات کو صحیح معنوں میں نافذ نہیں کیا جاتا، پاکستان اور فاٹا کے عوام علاقائی عدم استحکام کا شکار رہیں گے۔ اس مقصد کےلئے پاکستان کو فاٹا کی عوام میں  ذمہ داری  کا احساس جگانا ہو گا اور انکو سیاست کے مرکزی دھارے میں لانا ہو گا تاکہ  فاٹا میں سکیورٹی اور امن برقرار رہ سکے۔ فوج لوکل  قوتوں کی تربیت کر سکتی ہے اور ان پر مشتمل ایک سکیورٹی فورس بنا سکتی ہے  اور یہ فورس وہاں ترقی اور امن لانے کے ساتھ ساتھ فاٹا کا مثبت تشخص سامنے لا سکتی ہے۔

ابھی تک یہ دیکھنا باقی ہے کہ فاٹا میں حالات کو نارمل کرنے کے سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات کیا اس بات کوبھی یقینی بنا ئیں گے کہ پاکستانی فوج وہاں پر موجود عسکریت پسندوں کو اپنی علاقائی سکیورٹی کےلئے استعمال کی پالیسی ترک کرتی ہے یا نہیں۔ کچھ دن پہلے پاکستانی طالبان سے ملحق ایک گروہ، جسے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمائت حاصل ہے، نے  پشتون تحفظ موومنٹ کے اجتماع  پر جنوبی وزیرستان میں حملہ کیا ۔ یہ اطلاعات دکھاتی ہیں کہ اگرچہ فوج فاٹا میں حالات نارمل کرنا چاہتی ہی لیکن وہ عسکریت پسند گروہوں (جو پاکستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں رہتے ہیں) سے قطع تعلقی پر بھی تیار نہیں۔ جو بھی صورتحال ہو فاٹا میں عسکریت پسندوں کی موجودگی پر ملکی پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیئے کیونکہ جب تک ان علاقوں سے عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کا صفایا نہیں ہو گا، امن اور ترقی کی بحالی ناممکن ہو گی۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: FATA Committee via Flickr

Image 2: AamerJaved via Flickr

Posted in , Border, Economy, Education, Elections, History, Human Rights, Internal Security, Militancy, Military, Pakistan, Peace, Policy, Politics, Security, Terrorism

Umair Jamal

Umair Jamal

Umair Jamal is an SAV Visiting Fellow, July 2018. He teaches History and South Asian security at the Forman Christian College University. He is a correspondent for The Diplomat magazine, based in Lahore, Pakistan. His research focuses primarily on the analysis of South Asian security and politics. His work has been featured in a number of renowned media outlets including Foreign Policy, Al-Jazeera, The National Interest, The Huffington Post, The Diplomat, Asia Times, The News on Sunday, Pakistan Today and others. He can be reached at umair.jamal@outlook.com.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *