پاکستانی انتخابات: ایک نیا پاکستان؟

جولائی ۲۰۱۸ کے پاکستانی انتخابات کو  عمران خان کےلئے راستہ صاف کر دینے، چین  کے سائے تلے ہونے اور ملکی سیاست میں مذہب کو لے کر آنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی قوم نے سخت گرمی اور کوئٹہ میں دہشت گردی کے باوجود ووٹ دینے کا  حق استعمال کرتے ہوئے نئی حکومت کا انتخاب کیا۔ پہلی دفعہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے بعض علاقوں میں خواتین نے ووٹ ڈالا۔ اور پہلی دفعہ ہی چترال سے کالاش کمیونٹی   کا ایک شخص  اقلیتی نشست پر منتخب ہوا ہے۔ خیبر پختونخواہ نے بھی پہلی دفعہ ہی ایک حکومت کو مسلسل دوسری بار منتخب کیا ہے۔ 

بھارتی اور مغربی میڈیا نے اس انتخاب  کو انعقاد سے پہلے ہی    ایک بھونڈی مشق قرار دیا۔ کچھ پاکستانیوں نے بھی اسی موقف سے اتفاق کیا۔ فارن پالیسی کےلئے لکھے گئے ایک مضمون میں پاکستان کے امریکہ میں سابقہ سفیر حسین حقانی نے  کہا کہ جو بھی الیکشن جیتا شکست پاکستانی قوم کی ہو گی۔ انکا کہنا تھا “پاکستانی فوج  سویلین کی شکل میں ایک حکومت چاہتی ہے جو محض  فوج کی پالیسی کو مانے”۔ وضاحت میں پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ اسکا کردار الیکشن کمیشن کو  سہولت دینا اور اپنے فرائض کو ایک “غیر سیاسی و غیر جانبدار” انداز میں نبھانا تھا۔ فوج کے خلاف الیکشن سے قبل ایک الزام یہ بھی تھا کہ فوج نے مسلم لیگ نواز سے سابق وزیرِ داخلہ  چوہدری نثار کی صورت میں ایک فارورڈ بلاک بنوایا۔ چوہدری نثار  کا گروپ اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے مسلم لیگ سے راستہ الگ کیا  اور آزادانہ انتخاب لڑنے کا راستہ چنا۔ نثار کو دیکھتے ہوئے کئی اور  مسلم لیگیوں نے نواز شریف سے راستہ الگ کیا اور آزادانہ الیکشن لڑا۔ فوج پر ایک اور الزام  خادم حسین  کی تحریکِ لبیک  کو سپورٹ کرنا بھی ہے۔ لیکن اس خیال کو ایسے جھٹکا جا سکتا ہے کہ چوہدری نثار اور خادم رضوی دونوں ہی الیکشن ہار گئے۔ 

فوج پر اس تنقید اور الیکشن میں دھاندلی کرنے کے الزامات کے باوجود یورپئن یونین مبصر مشن کے چیف مائیکل گاہلر نے کہا کہ ” فوج کو ایک کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت تعینات کیا گیا اور فوج نے اسکی پابندی کی”۔ مائیکل نے انتخابی عمل کو تسلی بخش قرار دیا  اور اگرچہ تفصیلی رپورٹ معلومات کی مزید فراہمی کے بعد جاری ہو گی لیکن ۲۰۱۳ کے انتخابات ۲۰۱۸ کے انتخابات  سےبہتر تھے۔ 

اسٹیبلشمنٹ کی تحریک انصاف کو سپورٹ کے معاملے پر کچھ لوگوں نے  جوابی  بیانیہ جاری کیا ہے۔ کچھ مبصرین جیسا کہ اعجاز حیدر اور نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ  تحریک انصاف داراصل خیبر پختونخواہ میں  پولیس، صحت اور تعلیم کے شعبے میں تبدیلیاں لانے کی وجہ سے جیتی ہے۔ جبکہ اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ غلام بلور کا کہنا تھا کہ “ایسا لگتا ہے عمران لوگوں کا پسندیدہ لیڈر ہے”۔ 

وزیراعظم کاا میدوار بننے کے بعد میڈیا سے پہلی گفتگو میں ایسا دکھائی دیا کہ جیسے عمران  متنازعہ الیکشن کے بعد  اچھائی کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی کے الزامات پر تحقیقات کےلئے تیار ہیں اور اداروں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ احتساب کا عمل بھی بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ 

عمران اور فوج کے خلاف ایک اور مشترکہ تنقید یہ کی جاتی ہے کہ دونوں بھارت کے مخالف ہیں۔ تاہم اس نقطے پر بات کرتے ہوئے خان نے کہا کہ “اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے”۔ عمران نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات  کی خرابی داراصل دونوں اطراف سے الزامات کہ وجہ سے ہے۔ “اگر بھارت کی لیڈرشپ تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے تو ہم بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔خطے میں امن  کی خواہش کرتے ہوئے عمران نے کہا ” جو کچھ پاکستان میں ہوتا ہے وہ بھارت کراتا ہے اور جو بھارت میں ہوتا ہے وہ پاکستان کراتا ہے جیسے الزامات ہمیں صفر پر لاکھڑا کرتے ہیں”۔ 

ان گنت مسائل اور دھاندلی کے الزامات کے باوجود  ۲۰۱۸ کے انتخابات  نے سول سوسائٹی کی شرکت اور لوگوں میں انتخابی دلچسپی بڑھائی ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں  ووٹرز کے انداج میں اضافہ ہوا اور ابھی سرکاری اعدادو شمار جاری تو نہیں ہوئے تاہم لگتا یہ ہے کہ ٹرن آؤٹ ۲۰۱۳ کی نسبت زیادہ رہا ہو گا۔ شائد ان انتخابات نے  ملک، بالخصوص تحریک انصاف کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ وہ آئندہ کے  چیلنجز کے بارے میں سوچے۔ عمران کی تقریر تبدیلی کا شاخسانہ ہے لیکن  ایک مستند حکمتِ عملی اور اسکی عملیت کے بغیر کیا “نئے پاکستان”  کا تصور پنپ سکے گا؟ 

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Muhhamad Reza/Anadolu Agency via Getty Images

Image 2: Aamir Qureshi/AFP via Getty Images

Posted in , China, Civil-Military Relations, Elections, India-Pakistan Relations, Internal Security, Military, Pakistan, Pakistan Elections 2018, Policy, Politics

Amina Afzal

Amina Afzal

Amina Afzal is an Islamabad-based researcher with an MSc in Defence and Strategic Studies from Quaid-i-Azam University. She recently graduated from the Monterey Institute of International Studies with a certificate in Non-Proliferation Studies. She worked as a GRA for the CNS James Martin Center for Non Proliferation Studies.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *