2203889429_e821e34f1b_o-1095×616

پاکستان میں سیاسی تبدیلی پاک بھارت تعلقات کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

گیارہ اپریل کو، شہباز شریف نے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عمران خان کی برطرفی کے بعد پاکستان کے ۲۳ ویں وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ وزیراعظم نواز شریف کو مبارکباد دینے والے پہلے بین الاقوامی رہنماؤں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل تھے۔ وزیر اعظم شریف نے مبارکبادی کا گرمجوشی سے جواب دیا اور “بامعنی روابط” اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی خواہش کا اظہار کیا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سفارتی ذرائع سے خطوط کا تبادلہ بھی کیا ہے۔

یہ ایک قائم شدہ سفارتی عمل ہونے کے باوجود دو طرفہ تعلقات میں خاص طور پر اس ہنگامہ خیز مرحلے کے بعد آیا جو ۵ اگست ۲۰۱۹ کے بعد سے دو طرفہ تعلقات میں مسسلسل گراوٹ کا سبب بنا جب نئی دہلی نے کشمیر کے متنازعہ علاقے کو ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا۔  تاہم ۲۵ فروری ۲۰۲۱ کو مشترکہ جنگ بندی کے اعلان کا تسلسل اور پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی میں بھارت کے ساتھ کشمیر کو دوطرفہ تعلقات کے مرکز میں رکھتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کا واضح تذکرہ بہتر سفارتی تعلقات کی بحالی کے امکانات کو ابھارتا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دونوں حکومتیں تعلقات میں خرابی کو بحال کرنے کے لیے سیاسی عزم رکھتی ہیں یا نہیں- پاکستان میں حکومت کی تبدیلی دونوں اطراف کو درپیش مشکلات کے باوجود تعلقات کو بحال کرنے کے لیے مثبت رفتار سے فائدہ اٹھانے کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہے۔

پاکستان سے ایک جائزہ: مسلم لیگ ن کا نقطہ نظر

شہباز شریف کی ممکنہ بھارت پالیسی کو تنہائی میں دیکھنے کے بجائے ان کے بڑے بھائی اور اسی سیاسی جماعت کے رکن نواز شریف کے تین ادوار کے تناظر میں دیکھنا چاہیئے۔ متعدد واقعات نے نواز شریف کے بھارت کے بارے میں “نرم نقطہ نظر” کی طرف اشارہ کیا ہے، جس میں ۱۹۹۹ میں امن مذاکرات کے لیے سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کے ساتھ ساتھ مودی کے ساتھ اچھے تعلقات کا اشتراک بھی شامل ہے۔ نواز شریف کشمیر پر پاکستان کے مؤقف سے علیحدگی کا اظہار ۲۰۱۴ میں اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری دور میں حریت قیادت سے ملاقات نہ کرنے سے کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۵ میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور مودی کی طرف سے دستخط کیے گئے ایک اہم اوفا اعلامیے کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں نواز شریف کو خاصی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

شہباز شریف کو اکثر اپنے پیشرو کے برعکس بھارت کے حوالے سے کم مخالف رویہ رکھنے والا  کہا جاتا رہا ہے۔ خود ایک تاجر کے طور پر انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی حمایت کی ہے۔ ۲۰۱۳ میں وزیر اعلى شہباز نے ہندوستان کا دورہ کیا اور اس وقت کے ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور ریاستی وزیر پرکاش سنگھ بادل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پرامن مذاکرات پر زور دیا تھا۔

شہباز شریف کا بھارت کے تئیں رویہ ان کے بھائی کی پالیسی کی توسیع ہوگی یا نہیں یہ مستقبل کا سوال ہے۔ تاہم یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کا تعین خالصتاً ملک کی سویلین قیادت نہیں کرتی بلکہ فوجی قیادت بھی اس معاملے میں رسوخ رکھتی ہے۔ شاید عمران خان کی حکومت کے مقابل بھارت کی طرف اس حکومت کا لہجہ نرم ہو- تاہم دو وجوہات کی بنا پر پالیسی میں بڑی تبدیلی کا امکان بہت کم ہے۔ پہلی وجہ پاکستان میں حالیہ ملکی انتشار ہے۔ پاکستانی عوام میں عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد کافی پولرائزیشن ہوئی ہے جس میں موجودہ حکومت کے خلاف مظاہرے بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال میں مصالحت کی کوششوں میں بھارت کی طرف کوئی بھی قدم عوام کی طرف سے شدید ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ دوسرے، حالیہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت تیز ہوئی ہے، جس سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعلقات خوشگوار اور مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی تاریخ سے بھرے پڑے  ہیں، جب کہ حالیہ برسوں میں بھارت اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ خاص طور پر سال ۲۰۲۰ کے 2+2 ڈائیلاگ کے دوران بنیادی تبادلے اور تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے اور چار فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ میں شراکت داری قائم کرنے کے بعد ہوا ہے۔

مختلف مواقع پر امریکہ اور چین نے بھارت اور پاکستان سے دو طرفہ تعلقات کی بہتری کے لئے کام کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بحرانوں کو روکنے میں ان ممالک کے مشترکہ مفادات وابستہ ہیں۔ تاہم، چین کے مدمقابل کے طور پر بھارت کے ساتھ امریکی شراکت داری پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ثالث کے طور پر امریکہ اور چین کے ممکنہ کردار کو کمزور کرتی ہے۔ فی الحال دونوں پڑوسیوں کے تیسرے فریق کی ثالثی کے بغیر دوطرفہ طور پر کام کرنے کے امکانات بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے طاقت کے توازن اور ماضی قریب میں مذاکرات کی ناکام کوششوں کے پیش نظر غیر ممکن نظر آتے ہیں۔ تاہم اگر دونوں طرف کی قیادت غیر علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات سے ہٹ کر دیکھ پائے تو وہ شاید جنوبی ایشیا کے علاقائی استحکام کے مفاد میں اپنے دوطرفہ معاملات کو حل کر سکتی ہیں۔

بھارت سے ایک جائزہ: کیا ایک مرتبہ پھر ”اندھا انتقاد” ممکن ہے؟

ہندوستان کے کافی مستحکم سیاسی فریم ورک اور مستقل سیاسی جماعتوں کے برعکس، پاکستان کی ہنگامہ خیز سیاسی تاریخ، بار بار قیادت کی تبدیلیاں، اور ملک کے خارجہ تعلقات کے تعین میں فوج کی فعال شمولیت نے پائیدار امن پر دو طرفہ مذاکرات میں ہمیشہ اتار چڑھاؤ کو بڑھاوا ہی دیا ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اندھے انتقاد کے سبب اپنے پاکستانی ہم منصب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے لاہور میں دورہ کرنے اور ۱۹۹۹ میں نئی دہلی اور لاہور کے درمیان بس روٹ کو دوبارہ کھولنے کے صرف چند ہی ماہ بعد بس روٹ بند کرنے اور  کارگل کی خونریز جنگ چھیڑ دینے کی یادداشت ابھی بھی بھارت میں تازہ دم ہے۔ اور مزید اُس سال ۱۹۹۹ میں ایک فوجی بغاوت میں نواز شریف کی برطرفی کے بعد سے، کسی بھی ہندوستانی رہنما نے باہمی عدم اعتماد خوف اور شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے کوئی یکطرفہ اقدام نہیں کیا اور یہی بات اب دو طرفہ تعلقات پر حاوی ہے۔

اندرونی طور پر، بھارت میں پاکستان مخالف بیان بازی میں نمایاں اضافہ مستقبل میں مضبوط دو طرفہ تعلقات کے امکانات کم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات کے بارے میں ہندوستان میں ایک مثبت مگر محتاط امید ہے۔ بی جے پی کی قیادت کے ساتھ مسلم لیگ ن کی حکومتوں کی ماضی کی نسبتاً بہتر کارکردگی کی وجہ سے یہ امید مثبت ہے جبکہ یہی امید محتاط اسلیئے ہے کہ آج کی مودی کی بی جے پی واجپائی کی بی جے پی سے یکسر مختلف ہے جس نے موجودہ حکومت کے بیانات یا اقدامات کے بغیر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو یکسر تبدیل کرنے کی سیاسی خواہش کا مظاہرہ کیا تھا۔ 

 نئی دہلی اس بات کا قریب سے مشاہدہ کرے گا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کس طرح ترقی کرتے ہیں، کیونکہ شریف حکومت نے واشنگٹن کے ساتھ “تعمیری اور مثبت انداز میں” کام کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور پاکستان کے اپنے سدا بہار اتحادی چین کا ساتھ دینے کا زیادہ امکان ہے، جس نے شہباز شریف کے انتخاب کا اس وعدے کے ساتھ خیرمقدم کیا کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ “ترجیح ” دے گا۔ اس کے باوجود، واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو از سرِ نو ترتیب دینے کے واسطے موجودہ وقت سے مستفید ہونے کا انتخاب کر سکتا ہے، کیونکہ یوکرین کے بحران نے امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں کچھ تناؤ کا انکشاف کیا ہے، اور امریکہ کے لیئے ایشیا میں مزید شراکت داروں کی تلاش کی فوری ضرورت کو تازہ کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے قریبی تعلقات بلاشبہ نئی دہلی میں کچھ بے چینی کا باعث بنیں گے، جس نے ماضی میں بھی بھارت کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے سے روکا تھا۔ ہندوستان نے مسئلہ کشمیر میں تیسرے فریق کی ثالثی کو مسلسل مسترد کیا ہے جسے وہ خصوصی طور پر دو طرفہ مسئلہ سمجھتا ہے – اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو نئی دہلی میں اچھی طرح سے قبول نہیں کیا گیا۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے ثالث کے کردار اور کانگریس کی خاتون رکن الہان ​​عمر کے متنازعہ کشمیر کے دورے پر سخت ردعمل کے ساتھ بھارت کی بظاہر تسلی، واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان قریبی تعلقات کے حوالے سے بھارت کی مخصوص بے چینی کو ظاہر کرتی ہے، حالانکہ گزشتہ دہائی کے دوران امارات کے ساتھ اس کے اپنے تعلقات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

مستقبل

شاید تعلقات میں بہتری کی سب سے امید افزا علامت لائن آف کنٹرول پر جاری جنگ بندی ہے— جو کہ مارچ ۲۰۲۱ سے برقرار ہے۔ جنگ بندی ہندوستان کے لیے ایک اہم وقت پر ہوئی، جو گلوان میں چین کے ساتھ جھڑپوں کے درمیان دو محاذ پر جنگ سے پریشان تھا۔ . پاکستان نے نوٹ کیا ہے کہ وہ اپنی کمزوری اور سفارتی لیوریج کھونے کے باوجود بھارت کے ساتھ بات چیت سے کبھی نہیں کترایا، کیونکہ بھارت کی طرح پاکستان بھی دو محاذ – مغرب میں غیر مستحکم افغانستان اور اندرونی انتشار – کی صورت حال سے بچنا چاہتا ہے۔ تاہم، ماضی کے جنگ بندی کے معاہدوں کا ناکام ریکارڈ، بدقسمتی سے یہ یاد دہانی ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو متاثر کرنے والے طویل، تاریخی سلامتی کے مسائل کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔

خوش قسمتی سے، بہت سے دوسرے شعبوں میں تعاون کی بے پناہ گنجائش ہے، جن میں سے ایک شعبہ تجارت ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۲۰۱۸ میں محض ۲ بلین ڈالر رہنے کے باوجود بھارت اور پاکستان کی تجارت ۳۷ بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ قومی سطح پر مختلف بااثر لوگوں نے ہندوستان کے ساتھ تجارت بحال کرنے اور  ہندوستانی چینی اور کپاس کی درآمد پر دو سال کی پابندی ختم کرنے کی بات کی ہے جو کہ نئی حکومت کے لیے اس اہم سوال پر توجہ مرکوز کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اہم  قومی سطح کے سیاستدانوں کے بار بار کہنے پر حکومت نے بھی اپنے پڑوسی کے ساتھ تجارتی تعلقات کو دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی ہے۔

یہاں دونوں حکومتوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں اور سلامتی کے مسائل کو تجارت سے نہ جوڑیں، جس سے دونوں ممالک کی کووڈ ۱۹ سے متاثرہ معیشتوں کو مدد ملے گی۔ تناؤ کے باوجود پورے ۲۰۱۹ میں نارووال پاکستان میں  کرتارپور کوریڈور کی تعمیر پر مسلسل پیشرفت ہوئی جو کہ ایک چار کلومیٹر طویل ویزہ فری کوریڈور ہے جو ہندوستانی زائرین کو کرتارپور صاحب گوردوارہ میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ ۲۰۲۱ میں کرتارپور کوریڈور کا دوبارہ افتتاح کووڈ ۱۹ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے تنوع کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی وضاحت صرف سیکورٹی کے زاویے سے نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ہونی چاہیئے۔ اگرچہ موجودہ پاکستانی حکومت کی غیر مستحکم حالت اور ہندوستان میں ہندو قوم پرستی کی مضبوط قوت کے پیش نظر دوطرفہ تعلقات میں بنیادی تبدیلی کا امکان کم ہے اور یہ ایک پیچیدہ سوال ہے، بہتری کے ایزادی اقدامات، چاہے تجارتی یا ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے ہوں، بہت فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Giridhar Appaji Nag via Flickr

Image 2: MEA Photography via Flickr

Share this:  

Related articles

<strong>پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز

اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے…

<strong>پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  </strong> Hindi & Urdu

پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ۲۹ ستمبر کو…

<strong>پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون</strong> Hindi & Urdu

پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون

جنوری ۲۰۲۱ میں پاکستان نے اپنی پہلی قومی سلامتی پالیسی…