کلبھوشن جادھیو معاملہ اپنی نوعیت کا آخری  واقعہ کیوں نہیں ہے؟

کلبھوشن  جادھیو کی بیوی اور ماں کی اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ میں ملاقات اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب سلوک کے بعد معاملہ ابھی تک دھیما پڑتا دکھائی نہیں دیتا  چونکہ بھارتی صحافی پراوین سوامی نے “بھارت کی خفیہ جنگ” کے نام سے ایک سخت گیر تحقیقاتی مضمون لکھا ہے۔ سوامی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جادھیو کو جب آئی-ایس-آئی نے مارچ۲۰۱۶ میں جاسوسی کے الزام میں پکڑا تو اس وقت وہ  ایک متحرک نیول (بحریہ کا) افسر تھا۔

جاسوسی نہ صرف دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ ہے بلکہ دشمن کو اندر سے کمزور کرنے کا بہترین اور پُراثر طریقہ ہے۔ اپنی روائتی دشمنی کے باعث پاکستان اور بھارت اس ہتھیار کو خفیہ مہمات میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے رہتے ہیں۔ تاہم جب بھی اس طرح کا کوئی واقعہ سرزد ہوتا ہے تو دونوں ملکوں کی حکومتوں اور میڈیا کی جانب سے ہنگامہ خیز ردِ عمل سامنے آتا ہے۔ جہاں پاکستانی آئی-ایس-آئی اور بھارتی ‘را’  دونوں متحرک رہیں گی اور دونوں ملکوں میں قومیت پرستی  بھی بڑھ رہی ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ جادھیو  کی طرح کا کوئی اور معاملہ مستقبل میں  دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید بدمزگی پیدا کر سکتا ہے۔ چونکہ اس طرح کے خفیہ مشن دونوں اطراف سے جاری رہنے کے امکانات ہیں  باوجود اسکے کہ ان واقعات سے دونوں جوہری ملکوں کے پہلے سے تلخ حالات مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں ۔اس لئے  مستقبل میں خفیہ منصوبوں  کو سیاسی بھینٹ چڑھنے سے بچانے کےلئے اسلام آباد اور نئی دہلی کو ادارہ جاتی  طریقہ کار بنا لینا چاہیئے۔ اس طرح کا قدم یقیناً پاکستان اور بھارت  اور دونوں اطراف کے لوگوں کے بیچ  خیر سگالی کا باعث بنے گا۔

الزام در الزام کا کھیل:

چونکہ خفیہ منصوبوں کے ساتھ بہت حساسیت وابستہ ہوتی ہے اس لئے بھارتی حکومت  کلبھوشن جادھیو کی بھارتی بحریہ کے ساتھ وابستگی سے انکاری رہے گی۔ دوسری طرف اگر کلبھوشن بھارتی ایجنسیوں سے روابط کے بغیر بھی اپنا کاروبار کر رہا تھا تو بھی پاکستان اُسے دشمن کا ایجنٹ ہی قرار دے گا۔بالکل اسی طرح الزامات کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ تاہم جادھیو  کے معاملے بشمول  آئی-ایس-آئی کو اٰسکا سراغ کیسے ملا، کی تفصیلات میڈیا میں زیادہ خبر سازی کہ وجہ سے سامنے آئیں  جس سے دونوں ملکوں کے عوام  نے ایک دوسرے کے بُرے عزائم  کے بارے میں رائے قائم کی۔ جادھیو کی گرفتاری کے بعد سے دونوں طرف کے میڈیا نے حسبِ معمول حدیں عبور کیں۔  اسی بدولت عوامی غیض وغضب  کو دیکھتے ہوئے اور ان  کی خوشنودی کےلئے سیاسی  جھگڑے بھی کئے گئے۔

حقیقت میں  ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ  اس طرح کے کسی خفیہ منصوبے کا کھوج لگایا گیا ہو۔ اس مہینے کے اوائل میں بھارتی  ائیر فورس نے اپنے گروپ کیپٹن کو پاکستان کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے شبہ میں گرفتار کیا تھا۔۲۰۱۰ میں  اسلام آباد میں تعینات مادھوری گُپتا نامی سفارتکار کو بھی پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاریخ کا سب سے خفیہ  منصوبہ روندرا کوشک  نے ادا کیا جو بھارتی دفاعی  حلقوں میں  ‘بلیک ٹائیگر’ کے نام سے مشہور تھا۔ بحثیت را ایجنٹ روندرا ۱۹۷۵ میں پاکستان پہنچا اور بنی احمد شاکر کے طور پر شناخت بنائی اور پکڑے جانے سے پہلے وہ پاکستان آرمی میں میجر کے عہدے تک جا پہنچا تھا۔ حتیٰ کہ موجودہ بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووَل بھی لاہور میں کئی سال جاسوس کے طور پر گزار چکے ہیں۔

جہاں  بھارت نے خفیہ معلومات کے حصول کےلئے  پاکستان میں کئی آپریشنز کئے وہیں  بھارت اسی طرح کے واقعات کا سامنا ۱۹۴۸ میں آئی-ایس-آئی کے قیام سے لے کر ابتک کرتا رہا ہے۔ سجید منیر نامی پاکستانی شہری ۲۰۰۴ میں  بھارتی آرمی کے بھوپال اڈے پر جاسوسی لے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ ۲۰۱۶ میں بھارتی ایجنسیوں نے نندلال مہاراج کو  پاکستانی ہندو جاسوس (راجستھان کے علاقہ سے) ہونے کے الزام میں گرفتار کیا۔ مہاراج کے پاس سے ایک ڈائری برآمد ہوئی جس میں  سرحد پار سے بھیجی گئی مالی رقوم کی  اور دیگرتفصیلات درج تھیں۔ مزیدبرآں اپریل ۲۰۱۷ میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ  کرنل  محمد حبیب  ظاہر ، جو کلبھوشن کو پکڑنے والی ٹیم کا حصہ تھے،  بھی  نیپالی بارڈر کے قریب لمبینی مقام سے لاپتہ ہو گئے اور ممکنہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔ بھارت کےلئے کرنل حبیب اغوا کار ہے جس نے معصوم کلبھوشن کو پکڑا۔ پاکستان کےلئے کرنل حبیب ایک سابقہ  پیشہ ور ہیں  جنہیں بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے جادھیو معاملے کے انتقام میں پکڑا ہے۔

خفیہ معلومات  کے حصول کی ناگزیریت:

دونوں اطراف سےیہ خفیہ انٹیلی جنس آپریشنز اس بات کے عکاس ہیں کہ جادھیو واقعہ اپنی نوعیت کا نہ تو پہلا اور نہ ہی آخری واقعہ ہو گا۔ جادھیو کی گرفتاری کے باوجود پاکستان اور بھارت کی ایجنسیاں اپنے جاری خفیہ منصوبوں کو  نہیں روکیں گی  اور نہ ہی  نیشنل سکیورٹی مفادات کے حصول کےلئے نئے منصوبے شروع کرنے سے باز آئیں گی۔ سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی-آئی-اے) کے پہلے سویلین ڈائریکٹر ایلن ویلش   نے ایک دفعہ انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کی ضرورت کے بارے میں  لکھا: ” خطرہ یہ ہے کہ ہم  خطروں سے مناسب طریقے سے واقف نہیں ہو ں گے اور پھر ہم  صحیح وقت پر ردِ عمل نہیں دے پائیں گے”۔پاکستان اور بھارت کے بیچ دشمنی   اور کشمیر مسئلے کو دیکھتے ہوئے  دونوں اطراف انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کی مہمات کو  ضروری اور خطرات کو سمجھنے کےلئے  جاری رکھیں گی ۔

خفیہ معلومات  کےحصول کےلئےآپریشنز  کی ناگزیری کوسامنےرکھتےہوئے  را اورآئی-ایس-آئی دونوں  کومستقبل میں ایسےواقعات کوسیاست سےبچانےکےلئےاقدامات کرنےچاہیئں۔ اس مقصدکےلئے پاکستان اوربھارت  ایک جامع پروٹوکول  کی تشکیل پرمتفق ہوسکتےہیں تاکہ ایک دوسرےکےانٹیلیجنس ایجنٹس  کوصحیح طریقےسے  چلایا(ہینڈلکیا) جاسکے۔ مزید برآں ایک مشترکہ کمیٹی کاقیام  جس کا کام خفیہ مشنزسےمتعلقہ معاملات کو  دیکھنا ہو بھی دونوں ملکوں کےلئےمناسب ہوگی۔دونوں اطراف کےسینئرعسکری افسران پرمشتمل  یہ کمیٹی  اس بات کویقینی بناسکے گی کہ خفیہ آپریشنز دونوں ملکوں کےلئے کشیدگی کاباعث نہ بنیں۔ اس دانست میں ایک اورقدم ایک ایم-او-یو (معاہدے) پردستخط  کرکےبھی  کیاجاسکتا ہے جس میں یہ طےہوکہ دونوں ملک خفیہ مشنزاوراس سےمتعلقہ ایجنٹس کی ایسی کاروائیوں جنکا تعلق براہِ راست نیشنل سکیورٹی سے ہوکومخفی رکھیں گے۔ اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ دوسرے ملک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی خفیہ طریقے سے ہو نہ کہ سرِعام بیانات   سے، جیسا جادھیو کے معاملے میں ہوا۔ ان تمام اقدامات سے پاکستان اور بھارت کے بیچ مستقبل کے جاسوسی واقعات کو سیاسی بھینٹ چڑھنے سے بچایا جا سکتا ہے  چونکہ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح (جاسوسی)  کے واقعات آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Dawn News (screen grab)

Image 2: AFP via Getty Images

Posted in , Escalation Control, History, India, India-Pakistan Relations, Internal Security, Media, Negotiations, Pakistan, Peace, Politics

Shazar Shafqat

Shazar Shafqat

Shazar Shafqat is a counterterrorism and security analyst. His research focuses on South Asian security, Middle East politics, counterterrorism strategies, and military-related affairs. His commentary has been featured in such media outlets as The Hill, Middle East Eye, Middle East Monitor, The Diplomat, Asia Times, RealClearDefense, World Policy Journal, and Dawn, among others. He has also appeared on various electronic media platforms to discuss conventional and psychological warfare patterns, dynamics, and trends from across the world.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *