,

کیا بھارت، بڑھتے ہوئے پاک چین گٹھ جوڑ کے مقابلے کیلئے تیار ہے؟

فروری میں، پاکستان کیلئے روانہ ہوئے چینی بحری جہاز سے آٹو کلیو مشین قبضے میں لئے جانے کی خبر کا چرچہ ہوا۔ بھارت کی  ڈیفنس اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او) نے اس امر کی تصدیق کی کہ آٹو کلیو مشین ممکنہ طور پر (سویلین و جوہری) دوہرے استعمال کیلئے تھی اور اس پر صنعتی ڈرائر کا غلط لیبل لگایا گیا تھا۔ آٹوکلیو مشین دباؤ کا حامل ایک چیمبر ہوتا ہے جو سولڈ فیول بیلسٹک میزائل کی وہ اندرونی دبیز چادر  تیار کرتا ہے جس سے میزائل کی لانچ کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو مدد ملتی ہے۔ یہ واقعہ چین اور پاکستان کے مابین بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کے حوالے سے بھارتی خدشات کی ایک بار پھر تائید کرتا ہے۔ اسلام آباد اور بیجنگ کے ساتھ  بالترتیب عداوت کی پرانی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، یہ امر تو واضح ہے کہ پڑوس میں موجود دشمنوں کے مابین بڑھتے روابط بھارتی قومی سلامتی کے منصوبہ سازوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ نئی دہلی کے پڑوسیوں سے جڑے سلامتی کو خطرات کا جواب دینے کے بارے میں سیرحاصل بحث مباحثہ ہوچکا ہے۔ تاہم  پاک- چین مضبوط اتحاد کے تزویراتی مضمرات کو دیکھتے ہوئے اگر بھارت اپنی موجودہ عسکری حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے چین و پاکستان کو دو علیحدہ علیحدہ تزویراتی مخالفین کے بجائے اس اتحاد کو ایک دوہرا محاذ تصور کرے تو اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 چین، پاکستان کا بطور ”سدابہار دوست“

۱۹۷۰ کی دہائی سے ہی پاکستان کے جوہری عزائم کو جوہری اور میزائل سے متعلقہ امور میں چین کی معاونت حاصل رہی ہے۔  بحری، بری اور فضائی جوہری تکڑی تیار کرنے کی اسلام آباد کی صلاحیت میں چین کی جانب سے پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے منصوبوں میں معاونت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بھارتی پالیسی اور منصوبہ سازی کے حلقوں میں یہ رائے تقویت رکھتی ہے کہ چین کی جانب سے مسلسل جاری تعاون کے بغیر پاکستان کو ان جوہری صلاحیتوں کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہوتا جو آج اس کے پاس ہیں۔

بھارت کی قومی سلامتی پالیسی کا مرکزی نکتہ ان دو ممالک کے ساتھ بھارت کے غیر طے شدہ تزویراتی و عکسری مسائل رہے ہیں۔ تاہم اس امر کو مناسب توجہ نہیں ملی ہے کہ جنوبی ایشیا میں تنازعات کے ابھرتے ہوئے امکانات میں یہ بڑھتا ہوا تعلق کس قدر اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ برسہا برس سے بھارت اور چین کے مابین اختلافات کشمیر کے معاملے پر چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت، بحرہند میں چینی بحریہ کی موجودگی میں اضافے اور ڈوکلم جیسے واقعات کا باعث بننے والے سرحدی تنازعات کی وجہ سے شدید تر ہوئے ہیں۔ چین کی بڑھتی ہوئی جارحانہ عسکری صلاحیت اور اسلام آباد کیلئے اس کی حمایت یہ تجویز کرتے ہیں کہ وہ خطے میں بھارت کی تزویراتی حیثیت کو محدود کرنا اور اپنی برتری کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کیلئے جوہری و عسکری معاونت کی بیجنگ کی خواہش دراصل اس منزل کو چھولینے کی چینی خواہش کا نتیجہ ہے۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہونے والے متعدد واقعات نے چین اور پاکستان کے مابین بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کی جانب اشارہ کیا ہے۔۲۰۲۰ کے آغاز پر، دونوں ممالک نے نو روزہ مشترکہ بحری مشقیں منعقد کیں (جسے آپریشن سی گارڈیئنز کا نام دیا گیا) جن میں ”خصوصی فورسز، جنگی جہاز، فضائی ہتھیار، نیز پہلی بار لائیو فائرنگ کی مشقوں میں آبدوزوں“ کا استعمال کیا گیا۔ پاکستان کے  درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین کی کامیابی سے تیاری میں بھی چینی معاونت کلیدی اہمیت کی حامل تھی۔ ڈی آر ڈی او کے تجزیئے کے مطابق، پکڑی گئی آٹوکلیو مشین  متذکرہ شاہین ٹو میزائل کیلئے استعمال کی جاسکتی تھی۔ اس ضمن میں آٹوکلیو کا پکڑا جانا بھارت میں پاک چین تعلقات کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش میں اضافہ کرتا ہے۔  یہ نئی دہلی کے دشمنوں کے مابین خفیہ عسکری روابط (بالخصوص جوہری روابط) میں ممکنہ اضافے کی بھی اہم مثال ہے۔ یہ اس امر کا متقاضی ہے کہ بھارت اپنی عسکری تیاریوں اور قومی سلامتی کے نظریئے میں موجود سنگین کمیوں کی مجموعی طور پر نظر ثانی کرے۔

مزید براں، چین گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایک مضبوط اور وسیع تر عسکری نظام ترتیب دے چکا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے تبت میں فوجی مشقوں کی تعداد میں اضافہ نیز سرحدی تنصیبات کی مجموعی کیفیت میں بہتری بھارت کیلئے خصوصی تشویش کا باعث رہا ہے۔ پاکستان کیلئے چین کی بڑھتی ہوئی حمایت نیز عسکری مہارت و سازوسامان کی فراہمی میں اضافے سے یہ واضح ہے کہ نئی دہلی کو ان دو ممالک کے حوالے سے اپنی سوچ پر دوبارہ سے تزویراتی غور و فکر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ امر مشاہدے میں آیا ہے کہ بھارت ،عسکری سطح پر چین اور پاکستان دونوں جانب سے خطرات کا مقابلے کرنے کیلئے پوری طرح لیس نہیں ہے۔ فی الوقت بھارت، دنیا کا تیسرا بڑا عسکری صارف ہے اور تجزیہ کاروں نے پاکستان اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مقابلے اور تناؤ کو ان بڑھتے ہوئے عسکری اخراجات کیلئے مرکزی محرک قرار دیا ہے۔

 دوہرے محاذ کے حامل اس اتحاد کے بھارت پر اثرات اور اس سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی کے مرحلے میں فوجی شمولیت کی ضرورت پر بھارت میں رائے دہی کا آغاز ہورہا ہے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل نروان نے بھارت کیلئے ”چین اور پاکستان کے دوہرے محاذ پر جنگ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری“ کی اہمیت پر گفتگو کی۔ اس طرح چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل راوت نے تذکرہ کیا کہ بھارتی فوج ،چین اور پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر موجود خطرے سے نمٹنے کیلئے موجودہ کمانڈز کی ترتیب نو کے ذریعے سے نئی تھیٹر کمانڈز کیلئے منصوبہ بندی کررہا ہے۔ تاہم عسکری صلاحیتوں اور سرحدی انفراسٹرکچر کی کیفیت میں عدم توازن  صورتحال کو چین کے حق میں کرتا ہے ، ایسے میں بھارت کو ان خطرات سے نمٹنے کیلئے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت کے پاس اگرچہ عسکری اخراجات کیلئے وسیع بجٹ موجود ہے، تاہم ایک طرف سرحدی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کیلئے مطالبات جاری ہیں تو دوسری جانب تینوں دفاعی شاخوں کی جانب سے زیادہ جدید و حساس ہتھیار اور ڈلیوری سسٹمز کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اگر بھارت ان مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے اور دو طرفہ محاذ سے نمٹنا چاہتا ہے، تو بھارت کے بڑھتے ہوئے عسکری اخراجات کیلئے یہی سودمند ہوگا کہ وہ دونوں پڑوسیوں سے علیحدہ علیحدہ اور مشترکہ طور پر نمٹنے کیلئے عسکری طور پر پہلے سے بہتر تیاری کا عکاس ہو۔

 قومی و بین الاقوامی ردعمل پر کووڈ ۱۹ کے مضمرات

 کووڈ ۱۹ کی وبا نے مقامی و بین الاقوامی حلقوں کی توجہ کا رخ صحت کے بحران سے نمٹنے کی جانب موڑ دیا ہے۔ دنیا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے میں مصروف ہے، ایسے میں عسکری شعبے میں چین پاکستان تعلقات کی جانب محدود توجہ دی جارہی ہے۔

آٹوکلیو واقعے نے بھارت کو ایک موقع فراہم کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سفارتی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کی جانب توجہ مبذول کرواسکے اور چین پاکستان تعلقات پر موثردباؤ ڈال سکے۔ وبا کی وجہ سے چین  کڑی نگاہوں کے پہرے میں ہے، ایسے میں، چینی عسکری سرگرمیوں کی جانب اضافی توجہ کے ذریعے بیجنگ کو پاکستان کیلئے امداد میں اضافے سے روکنا ممکن ہے۔ چین اور پاکستان کے تعلقات کی ماضی اور حال میں مضبوطی اس امر کی مقاضی ہے کہ بھارت قومی و بین الاقوامی سطح پر لاحق چیلنج سے بیک وقت نمٹے تاکہ دونوں کے مابین تعلقات کو مزید گہرا ہونے سے روکا جاسکے۔ فی الوقت، وبا کی وجہ سے عالمی برادری کی توجہ وائرس سے نمٹنے کیلئے اپنے داخلی امور پر ہے لہذا آٹوکلیو واقعے، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور تعاون کے حوالے سے بھارتی خدشات پر عالمی برداری کا مناسب کردار رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔

وبا کے باعث ابھرتے ہوئے معاشی مضمرات بھی موجودہ عالمی نظام میں منظم تبدیلی کا باعث ہوسکتے ہیں جس کے عسکری منصوبہ بندی، ترجیحات اور اخراجات پر اثرات ہوسکتے ہیں۔ تاہم جیسا کہ دنیا کووڈ ۱۹ کے بعد کے عالمی منظرنامے کا تصور کررہی ہے، ایسے میں بھارت کیلئے اس امر کا جائزہ موثر ہوسکتا ہے کہ چین کے حوالے سے بدلتے ہوئے تاثر کو کس طرح استعمال میں لاتے ہوئے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر چین پاکستان گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارتی موقف اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ کووڈ کے بعد کی دنیا نئی دہلی کو ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ آٹوکلیو واقعے کو استعمال میں لاتے ہوئے چین کے تشخص کو تبدیل کرسکے تاکہ پاک چین تعلقات پر مزید دباؤ ڈالا جاسکے۔

بھارت آئندہ کیا کرسکتا ہے؟

 بھارت نے چین اور پاکستان کیخلاف عسکری تیاریوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم قومی سلامتی کے منصوبہ سازوں کو مستقبل کے ممکنہ تنازعات کی صورت میں دو رخے محاذ کے گہرے اثرات کو ذہن نشین رکھنا ہوگا۔  جیسے جیسے بیجنگ اور اسلام آباد میں تعلقات مضبوط ہورہے ہیں، ایسے میں چین کیخلاف بھارت کا ناکافی عسکری توازن پاکستان کے ساتھ تنازعے پر منتج ہوسکتا ہے۔ ۲۰۱۹ میں بھارت کا دفاعی بجٹ۷۱ بلین ڈالر کے لگ بھگ تھا تاہم کووڈ ۱۹ وبا اور اسکے بھارتی معیشت پر اثرات کے  نتیجے میں عسکری اخراجات میں ۴۰ فیصد تک کٹوتی کے امکانات ہیں۔ بھارتی معیشت پر بوجھ کے سبب اس اتحاد کیخلاف پائیدار نقطہ نگاہ کی ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب بھارت مقامی سطح پر تیار شدہ اسلحے  کیلئے کوشاں ہے، عسکری اخراجات کی ترتیب نو موثر ہوسکتی ہے تاکہ ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ چین پاکستان گٹھ جوڑ سے نمٹنے کیلئے عسکری تعیناتیوں پر نئے سرے سے غور و خوض، عسکری شعبوں کے مابین اشتراک اور تنظیم ممکن ہوسکے۔

 پاک چین گٹھ جوڑ کے حوالے سے بھارتی خدشات پر کووڈ ۱۹ کے حالیہ اور مستقبل میں رونما ہونے والے اثرات کا ادراک بھی اہم ہے۔ مزید براں، وبا اور اس کے معاشی مضمرات کے چین اور پاکستان کی داخلی صورتحال نیز ان کے مابین دو طرفہ تعلقات پر اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔ تاہم مستقبل قریب میں چین اور پاکستان کے مابین تعاون کے یکدم ختم ہوجانے کے امکانات نہیں ہیں۔ بھارت کے بہترین مفاد میں یہی ہوگا کہ وہ ان تعلقات میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر نئی دہلی کے خدشات کو نمایاں کرنے کیلئے منصوبہ بندی کرے۔ مزید اہم یہ ہے کہ آٹوکلیو واقعہ  بھارت کے لئے اتحادیوں کے ساتھ سیاسی تبادلوں کے ذریعے ملکی دفاعی مفادات کی ترویج کے ساتھ ساتھ عسکری ترتیب نو اور اس میں بہتری کی ضرورت کیلئے ایک اہم یاد دہانی کے طور پر کردار ادا کرے۔ غیر یقینی کے عالم میں، یہ امر ذہن نشین رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ مضبوط تر پاک چین تعلقات سے جڑے خطرات کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ بھارتی قومی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: International Labour Organization via Flickr

Image 2: Additional Directorate General Public Information-Indian Army via Twitter

Posted in , , China, COVID-19, Defence, Deterrence, Foreign Policy, Geopolitics, India, India-Pakistan Relations, Indian Ocean, Military, Nuclear Security, Pakistan, Security

Pulkit Mohan

Pulkit Mohan

Pulkit is a Junior Fellow with the Nuclear and Space Policy Initiative at the Observer Research Foundation (ORF). Her research focuses on India’s nuclear program and utilization of nuclear energy. She also works on the politics of nuclear nonproliferation and the international regimes involved in maintaining the nuclear world order. Prior to joining ORF, Pulkit was an Editorial Assistant with a leading development journal. She graduated from the London School of Economics with a Masters in International Relations.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *