,

کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

افغانستان میں اگر حالات انتہائی سازگار ہوں تو بھی اگلے پانچ برس اس کیلئے مشکل ہوں گے۔ اگرغنی حکومت اورطالبان کے مابین پر امن طور پر اختیارات کی تقسیم کا مستحکم معاہدہ طے پانے سے سازگار صورتحال پیدا ہوجائے تو بھی افغانستان بہت سی فوری اور طویل المدتی آزمائشوں سے دوچار رہے گا جن کا کوئی واضح حل بھی نہیں۔ کووڈ ۱۹ کے اثرات، نوجوانوں میں بیروزگاری، معاشی بحران، دہشتگردی، باہم دست وگریباں اشرافیہ، وسیع بدعنوانی اور علاقائی دشمنیاں صرف چند ایسے مسائل ہیں جو تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ اس پر سے مستزاد یہ کہ ایسا متوازن سیاسی نتیجہ یقینی ہونے سے کوسوں دور ہے کیونکہ بین الافغان مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنے کا عمل اوراس کا یقینی نفاذ بعض وجوہات کی بناء پر دشوار ہوگا۔ ایسے میں پہلے سے جاری یا بڑھتا ہوا عدم استحکام آنے والے برسوں میں معیشت، سلامتی اور حکومتی انتظامات کے حوالے سے متذکرہ بالا آزمائشوں کو بڑھاوا دے سکتا ہے ۔

امریکی نقطہ نگاہ سے، یہ کیفیت ان نتائج سے یکسر مختلف ہے جو افغانستان میں امریکی مداخلت کے موقع پر تصورکی گئی تھی۔ طالبان کو میدان جنگ میں شکست دینے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طاقتور انتظامی و عسکری اداروں کو تعمیر کرنے کی کوشش اوراس میں ناکامی کے بعد اب واشنگٹن نے اپنے عزائم میں کمی لاتے ہوئے انہیں اپنی اور اپنے افغان شراکت داروں کی صلاحیتوں کے مطابق کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں اب امید ہے کہ افغانستان میں امریکی مفادات پورے ہوتے رہیں گےاور مثبت نتائج کے حصول سے زیادہ منفی اثرات کو پیدا ہونے سے روکنے پر توجہ رہے گی۔ اس کیلئے  ٹرمپ انتظامیہ: 1) افغانستان سے دہشتگردی کے عالمی سطح پر حملوں کے خطرے کو کم کرنا چاہتی ہے؛  2) طے شدہ معاہدے کے ذریعے ایک قابل بھروسہ سیاسی انخلاء کو یقینی بنانا چاہتی ہے؛ اور 3) بڑی طاقتوں کے مابین مقابلے پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے وسائل پر بوجھ کو کم کرنا چاہتی ہے۔

امریکی پالیسی سازوں کیلئے اصل امتحان ان محدود عزائم کو ان ہنگامی حالات کے مقابلے کے قابل بنانا ہوگا جو افغانستان میں آئندہ برسوں میں درپیش ہوسکتے ہیں۔ مستقبل قریب کی صورتحال کے بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلاء تک شورش کم و بیش موجودہ سطح پر برقرار رہے گی نیز افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات میں سست اور محدود پیش رفت ہوسکتی ہے۔ یہاں اگرچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ناکامیوں کی صورت میں امریکہ اپنے نقطہ نگاہ کو کس طرح حالات کے مطابق ڈھالے گا، اور کیا کوئی چیز واشنگٹن کو اپنی موجودہ فوجی انخلاء کی حکمت عملی سے رخ موڑنے پر مجبور کرسکے گی؟ واشنگٹن کا یو ٹرن لیا جانا خارج از امکان ہے، ماسوائے اس کے کہ وسیع پیمانے پر جنگ  چھڑ جائے یا کوئی ایسا عالمی دہشت گرد گروہ رونما ہو جائے جو علاقائی استحکام (بشمول جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ملک پاکستان) کیلئے خطرہ بنے۔ حتیٰ کہ بائیڈن انتظامیہ کے منتخب ہونے کی صورت میں بھی اس نقطہ نظر میں قابل ذکر تبدیلی کا امکان نہیں۔ مستقبل کی آزمائشوں سے نمٹنے اور موزوں نتائج کیلئے عقلمندی اسی میں ہوگی کہ واشنگٹن سفارتی و معاشی ذرائع کی حدود کو ذہن میں رکھتے ہوئے سول و عسکری معاونت کے ساتھ ان پر ہی زیادہ انحصار کرے۔

امریکی مفادات کی تعریف

حالیہ امریکی بیانات اور معاہدے، واشنگٹن کے افغانستان میں بڑھتے مفادات کی ایک جھلک مہیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ ۲۹ فروری کو امریکہ طالبان معاہدے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سرزمین پر دہشتگردی کے خطرات کو کم کرنے اور سیاسی طور پر قابل عمل انخلاء کی حکمت عملی غالب ہے۔ خاص کر امریکہ، بین الافغان مذاکراتی عمل میں ”کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے امریکہ  اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کیخلاف افغانستان کی سرزمین کے استعمال کی روک تھام“ اور ”مستقل و جامع سیز فائر“ کے بارے میں بات چیت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ دہشت گردی کی روک تھام کی ضمانت کے عوض امریکہ اور اس کے بین الاقوامی اتحادی ۳۰ اپریل ۲۰۲۱ تک اپنی تمام عسکری قوتیں ”بشمول تمام غیر سفارتی سویلین عہدیداران، نجی سیکیورٹی ٹھیکیدار، تربیت کار، مشیر اور دیگر معاونتی خدمات فراہم کرنے والے عہدیداران“ مکمل طور پر نکال لیں گے۔ افغانستان کے مستقبل کے منظرنامے کے بارے میں واحد حوالہ  ”بین الافغان بات چیت اور مذاکرات کے مطابق، بعد از تصفیہ وجود میں آنے والی نئی اسلامی حکومت“ کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اس حکومت کے امریکہ کے ساتھ ”مثبت“ تعلقات ہوں گے جو کہ افغانستان میں ”تعمیر نو کیلئے معاشی تعاون کی کوشش کرے گا“ اور ”اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔“

خیال رہے کہ اسی کے ساتھ ساتھ جاری کیا گیا امریکہ افغانستان مشترکہ اعلامیہ مضبوط افغان اداروں کے ساتھ امریکی مفادات کو نتھی کرنے کی کوشش میں مزید آگے بڑھا جو کہ امریکی اہداف کی وسعت کے بارے میں تادیر باقی رہنے والی بحث کا اشارہ دیتا ہے۔ اس اعلامئے میں واشنگٹن ”افغان سیکیورٹی فورسز اور دیگر حکومتی اداروں کو مدد“ فراہم کرنے اور بطور خاص دہشتگردی کی روک تھام  کے لئے ”ملٹری آپریشن کرنے“ پر رضامندی ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح امریکہ ”افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت، انہیں ضروری سازوسامان سے لیس کرنے، مشورہ دینے اور ان کی بحالی کیلئے سالانہ بنیادوں پر فنڈز کے حصول کیلئے“ اور ”تعمیر نو کیلئے معاشی تعاون سمیت مثبت تعلقات جاری رکھنے“ کا وعدہ کرتا ہے۔ متن میں بالخصوص خواتین کا کہیں بھی تذکرہ موجود نہیں اگرچہ اس میں ”جمہوری روایات کے قیام، ملکی یکجہتی کے تحفظ اور اس کی بقا اور معاشرتی و معاشی ترقی نیز  تمام شہریوں کے حقوق“ کے تحفظ کیلئے ضروری افغان اداروں کی تعمیر کی اہمیت کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔

چین اور روس کے ساتھ  طاقت کا مقابلہ امریکی ترجیح بن رہا ہے، ایسے میں ان کے خلاف میدان  سنبھالنا ایک اور اضافی امریکی مفاد ہے۔ ۲۰۱۸ کی نیشنل ڈیفنس سٹریٹیجی  ”لازوال اتحادیوں“ کی مدد کے ذریعے سے ”افغانستان میں حاصل شدہ کامیابیوں کو یکجا کرنے کے ساتھ ساتھ وسائل کو زیادہ مستحکم بنانے کے قابل حکمت عملی کی جانب منتقلی“ ہے۔ اب جبکہ واشنگٹن بعد از ۱۱/۹  دہشتگردی کے خطرات سے توجہ ہٹاتے ہوئے منحرف قوتوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے، ایسے میں افغانستان اولالذکر کے ایک آثار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ وہ وسائل اور تزویراتی توجہ جو فی الوقت افغانستان کیلئے مخصوص ہے، اسے یہاں سے نکال لینے کی صورت میں پینٹاگون اس قابل ہوسکے گا کہ وہ اپنی خدمات کو ان امور کیلئے بہتر طور تفویض کرے جنہیں پالیسی ساز زیادہ بڑے ابھرتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سمجھوتوں میں توازن

آئندہ چند برسوں میں امریکہ ان مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں کے مابین سمجھوتے کی راہ کس طرح نکالے گا؟ اس سلسلے میں متعدد امکانات غور کئے جانے کے قابل ہیں اوران کے بیان کا  مقصد خصوصی پیشگوئیوں سے زیادہ مختلف صورتحال میں درپیش آسکنے والے نکتہ اختلافات کی منظرکشی کرنا ہے۔ کسی بھی مفروضے کی طرح یہ بھی فرضی ہیں اور وہ بھی افغانستان جیسی غیر یقینی صورتحال کے بارے میں، یہی وجہ ہے کہ یہ ان آزمائشوں کے فقط سرسری سے خاکے ہیں جن کا امریکی پالیسی سازوں کو مستقبل میں سامنا ہوسکتا ہے۔

اولاً تو یہ کہ واشنٹگن، امریکہ کے اندر ایک یا متعدد چھوٹے پیمانے پر دہشت گرد حملوں، جن کے سراغ افغانستان سے ملیں، کی صورت میں کیسے ردعمل دے گا؟ ایسے حملے امریکہ و طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کی شرائط سے براہ راست متصادم ہوں گے اور امریکی سرزمین کو محفوظ بنا لینے کے حکومتی دعووں کو یکسر جھٹلا دیں گے۔ اگر ایسے حملے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلاء سے قبل ہوتے ہیں تو ایسے میں یہ عمل عارضی طور پر رک سکتا ہے تاکہ جوابی کارروائی کیلئے تعاون اور معاہدے کی خلاف ورزی کی سنگینی کو ظاہر کیا جاسکے۔ اس کے برعکس اگر حملہ ایسے وقت ہوتا ہے کہ جب امریکی اور اتحادی افواج مکمل طور پر نکل چکی ہوں تو ایسے میں پالیسی سازوں کو زیادہ مشکل فیصلوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ ۲۰۱۴ کا امریکہ افغانستان دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ ۲۰۲۴ اور اس کے بعد تاوقتیکہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق دو سال کے پیشگی نوٹس کے بعد اس معاہدے کو ختم کردے، نافذ ہے۔ افغانستان میں فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی، ۲۰۱۴ میں عراق میں امریکی افواج کی دوبارہ تعیناتی کی مانند بہرحال سیاسی طور پر مہنگا سودا ہوگا جس سے یقینی طور پر واشنگٹن بچنا چاہے گا۔ اگر مستقبل کی افغان حکومت، امریکی سفارتی و نفاذ قانون کی کوششوں سے ہمت پکڑتے ہوئے ان حملوں پر کھلم کھلا تنقید کرنے کے قابل نیز انٹیلی جنس اور ممکنہ فضائی تعاون کے ذریعے ذمہ داران کا پیچھا کرنے کی خواہاں ہوئی تو ایسے میں زمینی افواج کی واپسی سے بچا جا سکے گا۔ اس کی متبادل ایک کیفیت سپیشل آپریشن فورسز کا افغان سیکیورٹی فورسز کے ہمراہ ایک محدود کردار ہوسکتا ہے، جس میں غالباً بین الاقوامی شراکت داروں کا تعاون بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے ردعمل کے بارے میں اس وقت سوچا جاسکتا ہے جب کوئی دہشت گرد گروہ پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم بنانے کیلئے حملوں کا سلسلہ شروع کرے جو کہ علاقائی استحکام کیلئے اور اگر اس کے اثرات کو وسیع تر کیا جائے تو امریکی مفادات کیلئے سنگین خطرہ بن سکتا ہو۔

دوئم یہ کہ افغان منتخب حکومت کے گر جانے اور طالبان کی جانب سے بذریعہ طاقت اقتدار حاصل کرلینے کی کوشش کی صورت میں واشنگٹن کا ردعمل کیا ہوگا؟ پہلی صورتحال کی طرح ایک بار پھر یہاں بھی امریکی ردعمل اس امر پر منحصر ہوگا کہ آیا تمام غیر ملکی افواج کی واپسی مکمل ہوگئی ہے۔ اگر امریکی اور اتحادی فوجیں باقی ہوئیں تو وہ لازماً ملک بچانے اور طالبان کو قابض ہونے سے روکنے کیلئے اپنی کاوشوں میں مزید سختی لے آئیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کی جانب سے غیر ملکی فوجوں کی موجودگی میں ایسی بھرپور جارحیت کا امکان نہیں۔ اتحادی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد امریکی سپاہیوں کی دوبارہ تعیناتی کا تصور مشکل ہے، ماسوائے اس کے کہ امریکی سلامتی سے جڑے وسیع تر مفادات پر اس کا کوئی اثر ہو۔ اگر لڑائی افغانستان تک محدود رہے اور جوہری طاقت پاکستان کے استحکام کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو یا یہ وسیع تر علاقائی تنازعے کیلئے چنگاری نہ بنے تو ایسے میں تنازعے کو حل کرنے کیلئے امریکہ کیلئے بہتر یہ ہوگا کہ وہ دیگر علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے سفارتی و معاشی دباؤ کو استعمال میں لائے۔ یہ لائحہ عمل یقیناً سائیگون اور نجیب اللہ حکومت کی شکست کی یاد دلائے گا، امریکی وقار، زمین پر موجود اس کے شراکت داروں اور ۲۰۰۱ سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ تاہم اس کا متبادل راستہ تنازعہ کو صرف وقتی طور پر روک پائے گا اور مسئلہ کا دائمی حل نکلنے کی کم ہی امید ہو گی۔

سوئم یہ کہ واشنگٹن، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، پیپلز لبریشن آرمی اور نجی سیکیورٹی فورسز کی صورت میں افغانستان میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر کیسے ردعمل دے گا؟ اس ممکنہ صورتحال کا حوالہ ان علاقائی مشاہدہ کاروں کی جانب سے بارہا دیا جاتا رہا ہے جو واشنگٹن کی جانب سے افغانستان سے انخلاء میں جلدی اور بڑی طاقتوں کے مابین مقابلے پر ازسرنو توجہ کا معاملہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ اسی دلیل کے تحت افغانستان کا، چین-امریکہ مسابقت میں بطور تزویراتی میدان جنگ اسی قدر کردار ہوسکتا ہے جس قدر کے یہ دہشتگردوں کے خطرے کا مرکز ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر جنوبی ایشیا میں بعض حلقے واشنگٹن کے مکمل انخلاء کے بارے میں مشکوک ہیں۔ افغانستان کا چین-امریکہ مقابلے میں ایک محاذ بننے کا یقیناً امکان ہے، تاہم یہ امر اس قدر خطرناک ہرگز نہیں کہ امریکہ اپنے فوج کے انخلاء کے منصوبوں پر ازسرنو غور کرے۔ مستقبل میں افغانستان میں چین کی موجودگی کو سیکیورٹی، انفراسٹرکچر اور گورننس سے متعلقہ انہی آزمائشوں کا سامنا ہوگا جو تاحال افغانستان کی اپنی اور امریکی کوششوں میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ درحقیقت افغانستان میں وسیع پیمانے پر ملوث ہونا بیجنگ کیلئے مہنگی مداخلت ثابت ہوسکتا ہے۔ اور تو اور، افغانستان میں چینی اور امریکی مفادات اس حد تک ایک دوسرے سے متصل ہیں کہ دونوں ہی افغان استحکام کے حق میں ہیں تاکہ سرحد پار دہشت گرد حملوں کو روکا جاسکے۔ اگرچہ امریکہ کو سفارتی و معاشی راستوں کے ذریعے افغانستان میں مصروف عمل رہنا چاہیئے، تاہم افواج کی موجودگی بڑی طاقتوں کے مقابلے کے لئے بلاجواز ہوگی۔

ناگہانی حالات کیلئے انتظامات

مستقبل کی صورتحال کس طرح آشکار ہوتی ہے اور امریکہ اس میں ردعمل دینے کے کس قدر قابل اور خواہاں ہوتا ہے، اس کا تعین کئی قسم کے متغیرات پرہوسکتا ہے۔ ان میں اولین کووڈ ۱۹ کے اثرات ہیں جو کہ مبینہ طور پر ۶۰ سے ۹۰ فیصد افغان سیکیورٹی فورسز نیز طالبان جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو متاثر کرچکا ہے۔ یہ امریکہ میں داخلی سطح پر بھاری اخراجات کا سبب بھی بنا ہے۔ اس صورتحال کے باعث، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے امریکی سپاہ کی منصوبے کے برخلاف جلد واپسی یا افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی معاشی اعانت کیلئے ماضی میں طےشدہ رقم کو مزید کم کرنے جیسے امکانات سمیت کئی قسم کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ امریکی افواج کی واپسی کو تیز بناتے ہوئے نومبر میں انتخابات سے قبل واپسی پر غور کرسکتے ہیں۔ ایک اور متغیر ان اطلاعات کے بعد داخلی سیاسی منظرنامہ ہے۔ اگرچہ ۴۵۰۰ سپاہیوں کو افغانستان میں چھوڑنے کا منصوبہ ایک متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے تاہم مکمل اور اچانک انخلاء کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا اور یہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال اور بین الافغان مذاکرات کی مستقبل میں پیش رفت کو یکسر الٹ سکتا ہے۔  وہ سفارتی، ترقیاتی اور معاشی روابط جن پرامریکہ طالبان مذاکرات میں رضامندی ظاہر کی گئی تھی ان کیلئے بھی لامحالہ افغانستان میں سویلین سیکیورٹی ٹھیکیداروں کی موجودگی کی ضرورت باقی رہے گی۔ اگر صورتحال اس حد تک بگڑ جاتی ہے کہ ایسے روابط انتہائی پرخطر یا سیاسی طور پر انکا جواز ختم ہوجائے تو ایسے میں امریکی مداخلت انتہائی محدود رہ جائے گی۔

ان وجوہات و دیگر کی بنا پر امریکی پالیسی سازوں کیلئے پائیدار بین الافغان سیاسی تصفیئے کی خاطر تحمل سے کام کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ پیچیدہ ناگہانیوں کی صورتحال میں یہی تصفیہ بہترین دفاع کرسکے گا اور غالباً اس کا نتیجہ ہی ملک میں اور علاقے میں امریکی مفادات کا دفاع کرسکتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں موجود حکام کیلئے عقلمندی اسی میں ہوگی کہ وہ بعد از انخلاء کے ماحول میں پیدا ہونے والی ممکنہ آزمائشوں کے انبار سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی پر کام کریں۔ سفارتی اور معاشی ہتھیار ہی مستقبل کی جانب سفر کرتے ہوئے امریکہ کے سب سے موثر اور مستقبل کے امریکی مفادات کے عین مطابق ہتھیار ہوں گے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: U.S. Department of State via Flickr

Image 2: U.S. Department of State via Flickr

Posted in , , Afghanistan, China, COVID-19, Future of Afghanistan, Governance, Internal Security, Pakistan, Taliban, United States

Elizabeth Threlkeld

Elizabeth Threlkeld is a Fellow and Deputy Director of the South Asia Program at the Stimson Center. Before joining Stimson, she served as a Foreign Service Officer with the U.S. Department of State in Islamabad and Peshawar, Pakistan, and Monterrey, Mexico. Threlkeld previously worked in the Kurdish region of northern Iraq, where she managed development interventions on gender-based violence and ethno-sectarian reconciliation. She has additional work and educational experience in China, Taiwan, and Turkey, and began her career with the Asia-Pacific Security Program at the Center for a New American Security.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *