کیا چین پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق دباؤ ڈال رہا ہے؟

China in South Asia

حالیہ دنوں میں افغانستان میں امریکی پالیسی پر نظرِ ثانی کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے پر آڑے ہاتھوں لیا  اور کہا کہ یہ گروہ “ہر روز ہمارے لوگوں (جو افغانستان میں طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں) کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں” ۔ تا ہم تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ اب  جبکہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی خوشگوار ہیں تو کیا اسے امریکہ کی اس بات پر کان دھرنے چاہیئں؟ اسکے باوجود کہ حالیہ امریکی دھمکیوں کے بعد چین نے ہی سب سے پہلے پاکستانی موقف کے پیچھے اپنا وزن ڈالا تاہم  چینی شہر ژیامن میں “برکس”اجلاس ۲۰۱۷ کا اعلامیہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہوا کہ چین نے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں (حقانی نیٹ ورک، جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ) کی موجودگی  کی مذمت کی جبکہ اس سے پہلے چین اقوامِ متحدہ میں بھی  جیشِ محمد کے رہنما مسعود اظہر کیخلاف پیش کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو کرتا رہا ہے۔

چین کی پاکستان کو سفارتی مدد نے پاکستان کو پابندیوں سے استثناٰ دیے رکھا جو اگر لگ جاتیں تو پاکستان کےلئے شدید  سیاسی و معاشی اثرات کا باعث بنتی۔اس دوران بھارت نے چین کے اس رویے  کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ  میں دوہرامعیار قرار دیا۔سوال یہ ہے کہ اب بدل کیا گیا ہے کہ چین بھی پاکستان سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہا ہے؟ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے حق میں بیانات کے باوجود خطے میں بڑھتے ہوئے معاشی مفادات اور بدلتی سکیورٹی صورتحال نے چین کو مجبور کیا ہے کہ وہ اندرونی زائچے میں تبدیلی کرے اور پاکستان میں سکیورٹی  پر بھی گرفت مظبوط کرے۔

چین کے پاکستان اور افغانستان میں مفادات

چین پاکستان میں چینی صدر ژی جن پنگ کے “ون-بیلٹ-ون-روڈ”  منصوبے کے تحت ۶۲ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سی-پیک  کی صورت میں کر رہا ہے۔ ون-بیلٹ-ون-روڈ منصوبہ  چین کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے بیچ تجارت اور نقل و حمل کے ذریعے ملانے کا نام ہے۔ جہاں سی-پیک پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرے گا تو وہیں چین دہشت گردی سے پیدا شدہ خطرات اور سکیورٹی سے متعلق پریشان ہے۔ اسی لیے چین نے منصوبے میں سکیورٹی کا نقطہ بھی سامنے رکھ لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بڑے شہروں کی ۲۴ گھنٹے  نگرانی کی جائے گی اور بڑی سڑکوں اور ہجوم والی جگہوں پر دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کرنے والے آلات نصب کیے جائیں گے۔

مزید برآں چین پاکستان میں کام کرنے والے اپنے باشندوں کے حوالے سے بھی غیر مطمئن ہے۔ اسکے باوجود کیہ پاکستانی فوج کے ۹۰۰۰ جوانوں پر مشتمل سپیشل سکیورٹی ڈویژن اور ۶۰۰۰ پیرا ملٹری فورسز کو سی-پیک پر کام کرنے والوں کی سکیورٹی پر تعینات کیا گیا، جون میں کوئٹہ سے چینی جوڑے کا داعش کے ہاتھوں اغوا اور قتل یہ بتاتا ہے کہ ریاستِ پاکستان چینیوں کی مکمل سکیورٹی سے اب بھی قاصر ہے۔ ۲۰۱۵ میں سی-پیک منصوبہ شروع ہونے کے بعد سے چینیوں کی پاکستان آمد میں تین گناہ اضافہ  کے بعد اب پاکستان میں ۳۰،۰۰۰  چینی مقیم ہیں جبکہ ۷۱۰۰۰ کے قریب چینی سیاحوں نے پاکستان  دورےکےلئےتھوڑی مدت کے ویزے حاصل کئے ۔

چین کے جنوبی ایشیائی مفادات افغانستان میں بھی پنہاں ہیں جہاں اس نے سیاسی، معاشی اور  فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک ٹریلین ڈالر مالیت کےچھپے ہوئے معدنی  ذخائر  پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ چائنہ میٹالرجیکل گروپ اور جیانگ ژی کاپر کارپوریشن  نے افغان صوبے اینک میں   ۲.۹ بلین ڈالر کی بولی جیتی، جو کہ دنیا میں تانبے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے۔ چائنیز نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن بھی افغانی تیل کے ذخائر کو ٹیپ کر رہی ہےاور آمو دریا کے   بیسن سے ۱.۵ ملین بیرل آئل  نکال رہی ہے۔

چائنہ کے افغانستان میں استحکام کےلئےنہ صرف معاشی  مفادات ہیں بلکہ سیاسی و سکیورٹی ایشوز بھی وابستہ ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ چینی صوبہ ژن جیانگ میں موجود  یوگار دہشت گرد افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں جیسا کہ القاعدہ  سے متصل ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (جو یوگار کےلئے شمال مغربی چین میں آزاد علاقے کا مطالبہ کرتی ہے) مسائل پیدا کر سکتے ہیں اس لئے چین اسلام آباد سے پاکستان میں پناہ لینے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

برکس اجلاس کے بعد پاکستان اور چین کا رد عمل؛

ہم قطعی طور پر برکس اجلاس ۲۰۱۷کے اعلامیے کو نظر انداز نہیں کر سکتے وہ بھی  جب ۲۰۱۶میں برکس کے گوا (بھارت) اجلاس میں چین نے پاکستان کو دہشت گرد ی کی حمائت کرنے والا ملک قرار دلوانے کی بھارتی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔۲۰۱۷ کے برکس اجلاس کے بعد چینی حکومت سے الحاق شدہ چائنہ انسٹیٹیوٹ آف کنٹمپریری سٹڈیز کے ڈائریکٹر نے کہا“میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ چین اس بات پر کیسے راضی ہو گیا،اب پاکستان بہت  پریشان ہو گا۔ کیونکہ صدر ٹرمپ کی   اعلانیہ مذمت سے پاکستان پہلے ہی دباؤ میں تھا۔”

اگرچہ چین نے  اپنی پالیسی میں تبدیلی سے انکار کیا ہے اور وزیرِخارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے خلاف”پاکستان نے اپنے تئیں سب کیا ہے، “تاہم یہ بات عیاں ہے کہ ژیامن میں دیا گیا پیغام اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ وزیرِخارجہ خواجہ آصف جنہوں نے برکس اعلامیے اور صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد چین کا دورہ کیا ، نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ “پاکستان کو لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد پر پابندیاں عائد کرنی چاہیئں تاکہ ہم دنیا کو دکھا سکیں کہ ہم نے اپنا گھر درست کر لیا ہے”۔

صدر ٹرمپ کے اس کھلے اقرار کے بعد کہ پاکستان میں پناہ لیے دہشت گرد اٖفغانستان میں بر سرِ پیکار نیٹو کےلئے چیلنج ہے، برکس اعلامیہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین پاکستان کا محض پہلا دفاعی اتحادی ہونے کا نظریہ تبدیل کر کے اسلام آباد کو  صرف من پسنددہشت گردوں کی بجائے سب کے خلاف موثر ایکشن پر قائل کرےگا۔ پاکستان کو  دہشت گردوں کے خلاف بلا تمیز اقدامات کی ترغیب سے چین فائدہ اٹھائے گا وہ بھی چند اغراض و مقاصد کےلئے نہیں بلکہ بد امنی کا واپس آنا چین کو اسکی  سرمایہ کاری  کا فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ جہاں چین جنوبی ایشیا میں امریکہ کے بنائے ہوئے استحکام سے مستفید ہونے کی امید پر ہے وہیں اسکے اپنی کوششیں شائد پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی  ترک کرنے پر قائل کر لیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: The British Foreign and Commonwealth Office via Flickr

Image 2: Umairadeeb via Flickr

 

Posted in , Afghanistan, China, Economy, India, Pakistan, Security, Terrorism

Arushi Kumar

Arushi Kumar

Arushi Kumar is a Research Assistant at Carnegie India in New Delhi. Previously, she was a Research Assistant in the South Asia program at the International Institute for Strategic Studies in London. She holds a bachelor's degree from Sciences Po Paris and spent a year at the Elliot School of International Affairs in Washington D.C. She has a master's degree in History of International Relations from the London School of Economics and Political Science. Her dissertation on US-Pakistan relations between 1979 and 1989 was awarded a distinction.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *