ایران میں حالیہ احتجاجی لہر نے تہران کے حکام میں کُھلبلی مچا دی ہے اور خطے کو درپیش خدشات کے تخمینے کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ ملک گیر احتجاجات ابتدا میں ایران کی کمزور معیشت کے باعث پُھوٹے، جن میں اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی 70 فیصد سے تجاوز کر گئی، اور ایرانی ریال کا زوال ہوا، جو ایک ڈالر کے مقابلے میں 1.4 ملین سے بھی تجاوز کر گیا، جس کے سبب یہ احتجاجات حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگئے۔ ایرانی سیاسی اور سیکیورٹی اکابر نے انضباط دوبارہ قائم کرنے کے لیے طاقت، انٹرنیٹ کی بندشوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو استعمال کیا ہے۔
دریں اثنا ایران کے باہر سرحدپار عدم استحکام پھیلنے کا خطرہ ابھی بھی زیادہ ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن دونوں تہران کے مذہبی حکمرانوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں ایران کے سیاسی اور فوجی اہداف پر فوجی حملے کرنے کی اپنی آمادگی کا عندیہ دیا تھا، گوکہ اب تک اس نے ایران کے خلیجی ہمسایوں اور اسرائیل کی مخالفت کے پیش نظر اس سے گریز کیا ہے۔
ایران کے ہمسایہ کے طور پر پاکستان کو حالات کی پیش رفت پر توجہ سے نظر رکھنی چاہیے اور اس کے پالیسی سازوں کو سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی کے ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے جبکہ بیک وقت بارڈر سیکیورٹی کو بہتربنانا بھی ضروری ہے۔
سیاسی: شیعہ مسلمان اور پاکستان کی داخلی سیاست
ایران کے بعد پاکستان دنیا کی سب سے بڑی شیعہ آبادی رکھتا ہے، جہاں شیعہ مسلمان آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ ہیں اور گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ ملک کے چار صوبوں میں پھیلی ہوئی ہے۔1979 کے ایرانی انقلاب اور ضیا دور میں اسلام کے نفاذ (اسلامائزیشن) نے پاکستانی اور ایرانی شیعہ علماء کے درمیان مدرسوں کے ذریعے گہرے مذہبی روابط قائم کیے۔ 1990 کی دہائی میں اس وقت کی بڑی شیعہ سیاسی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ (ٹی این ایف جے) بھی اپنی شاخ سپاہِ محمد کے ذریعے عسکریت میں شامل ہوئی، اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کی ایک شاخ سنی عسکری گروہ سپاہِ صحابہ پاکستان کے ساتھ بدلے لیے۔ سعودی-ایران کی بڑھتی ہوئی رقابت کے علاقائی پس منظر میں اس فرقہ وارانہ مسابقت نے بھی جنم لیا،جو بعد میں پاکستان میں اپنی پسند کے مذہبی مدارس کی حمایت کے طور پر ظاہر ہوئی۔
گزرتے وقت کے ساتھ حقوق کی بنیاد پر سیاست کرنے والی نئی شیعہ سیاسی جماعتیں اُبھریں۔ مثلاً مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے انتخابی شرکت اور قانونی وکالت کو محور بنایا۔محدود انتخابی رسائی کے باوجود، ایم ڈبلیو ایم اور شیعہ علما کونسل کے پاس جلوس، دھرنوں اور تحفظ کے دعووں جیسی لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے کی مضبوط صلاحیتیں موجود ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم نے پابندی عائدشدہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اتحاد کیا، جس سے اس کی قومی پروفائل میں اضافہ ہوا؛ اکتوبر 2025 میں عمران خان نے پی ٹی آئی کو دایت دی کہ وہ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر کو سینیٹ میں حزبِ اختلاف کے لیڈر کے طور پر سپورٹ کرے، جسے پی ایم ایل این کے زیرِ قیادت حکومت نے چار ماہ سے زائد تاخیر کے بعد تسلیم کر لیا۔
پاکستان کو حالات کی پیش رفت پر توجہ سے نظر رکھنی چاہیے اور اس کے پالیسی سازوں کو سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی کے ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے جبکہ بیک وقت بارڈر سیکیورٹی کو بہتربنانا بھی ضروری ہے۔
اگر ایران میں احتجاجات ملک گیر ہنگاموں میں تبدیل ہو جائیں، جن میں امریکہ بھی مداخلت کرے، تو شیعہ گروہ پاکستان میں اپنی موجودگی کو یکجہتی کے اظہار کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جیسا کہ جنوری 2020 میں امریکہ کے ڈرون حملے میں بغداد، عراق میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے بعد انہوں نے کیا تھا۔ اسی طرح ایرانی مظاہرین کے لیے انسانی ہمدردی کے مظاہرے، ایران میں پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے مطالبے اور پاکستان سے ایرانی مفادات کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرنے کے مطالبے کے لیے آئندہ ہفتوں میں امریکہ مخالف ریلیوں کا انعقاد ہو سکتا ہے؛ فی الواقع 21 جنوری کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنے پہلے جوشیلے خطاب میں سینیٹر ناصر نے ایران پر حملے کے امریکی ارادے کی مذمت کی اور پی ایم ایل-این حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف جارحیت کی مخالفت کے لیے علاقائی اجماع قائم کرنے میں قیادت کرے۔اگر ایران میں بدامنی پھیلتی ہے تو پاکستان میں پالیسی سازوں کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملکی سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے فکر مند شیعہ جماعتوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔
معاشی: تبادلہ تجارت (بارٹر ٹریڈ) اور غذائی تحفظ
معاشی طور پر پاکستان یقیناً ایران میں طویل عرصے تک جاری بے چینی کے اثرات محسوس کرے گا۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود سال 2024–25 میں، باہمی تجارت تقریباً 1.4 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ بلوچستان کی سرحدی منڈیوں کے ذریعے تبادلہ تجارت (بارٹر ٹریڈ) اور غیر رسمی ذرائع ( چینلز) کے توسط سےممکن ہوئی۔ اکتوبر 2025 میں افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے بعد، جس سے پاکستان-افغانستان کے تجارتی حجم میں تقریباً 40٪ کمی آئی اور زمینی راستے بند ہوگئے، ایرانی ایندھن اور اشیائے خوردنی نے ملکی منڈیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے ایندھن، پھل، میوہ جات اور ڈیری کی مصنوعات درآمد کی ہیں، جبکہ پاکستانی چاول نے ایران میں مقبولیت حاصل کی۔
اگر احتجاجات ایران کی برآمدات کی نقل و حمل میں خلل ڈالیں یا سیکیورٹی اہلکار داخلی تحفظ کو سرحد پار تجارت پر ترجیح دیں، تو پاکستان کو مقامی سطح پر خوراک کی قلت اور قیمتوں میں شدید اضافہ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔بلوچستان کے وہ سرحدی اضلاع جو خوراک اور بجلی کی سپلائی کے لیےمکمل طور پر ایران پر انحصار کرتے ہیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہوں گے۔ بلوچستان کی حکومت کو پیراملٹری فرنٹیئر فورس (ایف سی) کے تعاون کے ساتھ ایران کی سرحد سے ملحقہ اضلاع کے لیے کم از کم چار ہفتوں کا ایندھن اور اشیائے ضرورت کا ذخیرہ کرنا چاہیئےتاکہ ممکنہ رکاوٹوں اور طویل خلفشار اور سرحدوں کی اچانک بندش سے متعلق ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کی جا سکے۔

سیکیورٹی: سرحدی سلامتی اور چوکس انسدادِ دہشت گردی
پاکستان کو ایران سےمتصل صوبہ سیستان و بلوچستان میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے انتہائی چوکس رہنا ہوگا کیونکہ اس انتشار میں اس کے اپنے بلوچستان کے علاقے تک پھیلنے کے شدید امکانات موجود ہیں۔سیکورٹی کے نقطہ نظر سے 565 میل طویل سرحد ایک غیر محفوظ “سرمئی زون” ہے جہاں باڑ میں خلل اور دشوار گزار علاقے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور جیش العدل جیسے بلوچ نسلی-قومی باغی گروپوں اور سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو سرحد پار کارروائیاں کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں بلوچ مسلح گروہوں نے بلوچستان اور سندھ میں 225 حملے کیے، جن میں زیادہ تر حملے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے کیے، جو بی ایل اےاور دیگر بلوچ گروہوں کی کامیاب عملی موافقت کی نشاندہی کرتا ہے؛ ایران کی جانب جیش العدل نے دسمبر 2025 میں جنوب مشرقی ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں سرگرم “متعدد بلوچ سیاسی گروہوں” کے انضمام کا اعلان کیا، جو موجودہ خلفشار کے دوران اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش میں اس کی مستعدی اور سیاسی عملیت کو ظاہر کرتا ہے۔جغرافیائی طور پر ایران اور پاکستان کی سیکیورٹی کی کمزوریاں افغانستان کے شمالی سہ سرحدی نقطہ ( ٹرائی پوائنٹ) پر زیادہ بڑھ جاتی ہیں، جوایک ایسا متقاربہ علاقہ ہے جو منشیات اور جنگجوؤں کے لیے تزویراتی عبوری راہداری کے طور پر کام کرتا ہے۔
اس غیر یقینی صورتحال کے مابین سرحد پار موقع پرستانہ نقل و حرکت کے خدشات زیادہ ہیں۔ نتیجتاً کوئی بھی تدبیراتی واقعہ فوری طور پر دو طرفہ سرحدی رابطہ کاری کے نظام کو فعال کرنے کا تقاضا کرتا ہے—جیسا کہ جنوری 2024 میں سرحد پار حملوں کے بعد تربت اور زاہدان میں رابطہ افسران کی تقرری—تاکہ تنازعہ کو تیزی سے ختم اور غیر ارادی بڑھاؤ کو روکا جا سکے۔
بدترین صورت حال: حکومت کا خاتمہ
دو ہفتوں تک جاری احتجاج حالیہ برسوں میں ایرانی حکومت کو درپیش سب سے اہم چیلنج رہا ہے۔ فی الحال ایک پرعزم سیکیورٹی نظام کی حمایت یافتہ ایران کی مذہبی حکومت نے اشرافیہ کے مابین دراڑ کے آثار نہیں دکھائے تاہم اگر احتجاجات دوبارہ شروع ہو جائیں اور لمبے عرصے تک سڑکوں پر رہیں، تو اندرونی خلل ممکن ہے۔
پاکستان کے لیے تہران میں مرکزی مذہبی حکومت کا مکمل انہدام ایک مہلک تزویراتی دھچکہ ثابت ہوگا۔پاکستان کو اپنی جنوب مغربی سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے ایران میں ارتقا پذیر اہم اتحادی جماعتوں کا جائزہ لینا اور متعلقہ حصہ داروں (اسٹیک ہولڈرز )کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہوگا۔اہم امریہ ہے کہ پاکستان کا سکیورٹی نظام آئی آرجی سی اور آرتیش، یعنی باقاعدہ فوج، کے اعلیٰ عہدے داروں کے رجحانات پر نظر رکھے۔ایران کی سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ کے ٹوٹے ہوئے عناصر ایک نئی حکومت کے خلاف مزاحمت کے لیے ایک مخالف اتحاد تشکیل دے سکتے ہیں، جبکہ تربیت یافتہ کارکن غیر محفوظ سرحد عبور کر کے عسکریت پسند سلسلوں میں نئی شراکت داری کے امکانات تلاش کر سکتے ہیں اور افغانستان-پاکستان سرحدی علاقے میں ہتھیاروں تک رسائی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
جبکہ تہران اندرونی اختلافات اور بیرونی دباؤ سے نمٹ رہا ہے، تو اس کے اثرات، جو فرقہ وارانہ اشتعال، مہاجرین کی آمد سے لے کر اہم تجارتی نقل و حمل کے ذرائع کی شکستگی تک ہیں، اسلام آباد کی لچک پذیری کو شدید آزمائش میں ڈالیں گے۔
بلوچستان کے داخلی استحکام کے لیے مذہبی حکومت کا خاتمہ اور آئی آر جی سی کی تحلیل پاکستان-ایران سرحد کے ساتھ ایک خطرناک سیکورٹی خلا پیدا کرے گا۔ایک فعال سرحدی سلامتی کے ہم منصب، یعنی آئی آر جی سی کی غیر موجودگی، جیش العدل جیسے باغی گروہوں کو ریاستی ڈھانچے کا ’بےدردی‘ سے استعمال کرنے اور سرحد کے پاکستانی جانب اپنی عملی سرگرمیوں کو پھیلانے کی اجازت دے گی، جبکہ پاکستان کے بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں پر برتری بھی حاصل کر لے گی۔ یہ درز دار خارجی سرحد بی ایل اے اور دیگر بلوچ گروپوں کو نقل و حمل کے لیے اور حملے کی شروعات کرنے کےعملی دائرۂ کار بڑھانے کے لیے سہولت بھی فراہم کرے گی۔ نتیجتاً جب تک کہ ایرانی جانب نئی سرحدی سیکیورٹی فورسز ذمہ داریاں سنبھال نہیں لیتیں، قلیل مدت میں پاکستان کی فرنٹیئر کور (بلوچستان) کو سرحد کے ساتھ سیکیورٹی کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ پناہ گزینوں کے بہاؤ، حکومت کے حامیوں کے فرار اور ممکنہ غیر قانونی ہتھیاروں کوصوبۂ بلوچستان میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
بصورتِ دیگر داخلی طور پر اس کے نتائج بھی معنی خیز ہوں گے۔دنیا کے شیعہ قوت کے بنیادی مرکز کے زوال سے پاکستان میں داخلی فرقہ وارانہ اختلافات بھڑک سکتے ہیں۔ یہ پاکستانی شیعہ آبادی کے درمیان وجودی خوف و ہراس کو بھڑکا سکتا ہے، دفاعی اقدامات اُٹھانے پر مجبور کر سکتا ہے جبکہ ساتھ ہی سخت گیر شیعہ مخالف گروہوں کو اس خلا کا فائدہ اٹھانے کی ہمت دلا سکتا ہے۔اقتصادی طور پر، غیر رسمی تبادلہ تجارت کی سپلائی لائنز کا خاتمہ، جو سرحدی اضلاع میں روزگار کے اہم ذرائع ہیں، انسانی بحران کو فوری طور پرجنم دے گا جسے اسلام آباد مالی وسائل کی کمی کے باعث برداشت نہیں کر سکتا۔ان دباؤ سے بچنے کے لیے پاکستان کو فوری قدم اُٹھاتے ہوئے ایندھن اور خوراک کے ذخائر (بفر اسٹاک) جمع کرنے چاہیئیں اور خلیجی ریاستوں اور وسطی ایشیائی شراکت داروں کے ذریعے وسائل کو متنوع بنانا چاہیے۔
ماحصل
ایران کے غیر مستحکم ہونے سے پاکستان کے نازک توازن کو فوری خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ تہران اندرونی اختلافات اور بیرونی دباؤ سے نمٹ رہا ہے، تو اس کے اثرات، جو فرقہ وارانہ اشتعال، مہاجرین کی آمد سے لے کر اہم تجارتی نقل و حمل کے ذرائع کی شکستگی تک ہیں، اسلام آباد کی لچک پذیری کو شدید آزمائش میں ڈالیں گے۔ گوکہ قلیل المدتی ترجیح باغیانہ ردعمل کے خلاف سیستان-بلوچستان کی غیر محفوظ سرحد کی حفاظت ہے، تہران میں حکومت کےممکنہ انہدام کا طویل المدتی تزویراتی دھچکہ فوری ہنگامی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔
فی الحال اسلام آباد کا ردعمل ایران کی قیادت اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ محدود سفارتی رابطے تک رہا ہے۔دلچسپ امریہ ہے کہ بظاہر پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کی احتجاجات سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے وائٹ ہاؤس کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم نہیں کیا اور ظاہراً وہ سعودی عرب اور خلیجی شراکت داروں کے واشنگٹن کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں آگے بڑھنے پر مطمئن نظر آتا ہے۔ تاہم پاکستان کے پالیسی سازوں کو غیر فعال مشاہدے کی موجودہ حکمت عملی سے آگے بڑھ کر اہم سپلائی چینز کو فوری طور پرمتنوع بنانا، اندرونی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط کرنا اور سرحدی دفاعات کو مضبوط بنانا چاہیئے تاکہ اپنے ملک کو آنے والے جغرافیائی سیاسی جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: franke2 via Wikimedia Commons