Defense
Return to article
ہمہ موسمی سے ہمہ گیری تک: پاک-چین خلائی تعاون اور جنوبی ایشیائی سلامتی
پاک-چین تعلقات، جو’’نہ ٹوٹنے والے اورمضبوط‘‘ ہیں، اب زمین، سمندر اور ہوا کے دوائرِکار سے بڑھ کر خلائی مدار تک پھیلتے نظر آ رہے ہیں، جو اتحادوں کو مضبوط کرنے اور طاقت کے مظاہرے کے لیے ایک اہم میدان بنتا…
From All-Weather to All-Domain: China-Pakistan Space Cooperation and South Asian Security
The “unbreakable and rock-solid” China-Pakistan relationship appears to be extending beyond the land, sea, and air domains into orbital space, an increasingly critical arena for embedding alliances and projecting power. From the launch of Pakistan’s Badar-1 satellite in 1990, space…
مغربی ایشیا میں فضائی جنگ: پاکستان کے لیے اسباق
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملے کا آغاز ایران کے فضائی دفاعی نظامات کو کمزور کرنے، فضائی برتری حاصل کرنے اور ایران کے مختلف مقامات کو جنگی حکمتِ عملی کے تحت نشانہ بنانے کے لیے…
पाकिस्तानी रक्षा उद्योग की नई दिशा का चित्रण
पाकिस्तान का रक्षा उद्योग, जिसने दशकों तक प्रतिबंधों और युद्धकालीन रोक को ध्यान में रखते हुए स्वदेशी रक्षा उत्पादन पर ध्यान केंद्रित किया था, अब एक नए चरण में प्रवेश कर रहा है जो निर्यात की संभावनाओं पर केंद्रित है।…
بھارت کا عسکری تصوّر برائے 2047: ایک دُشوار راستہ
تاریخی طور پر متواتر بحرانات، وسائل کی کمی اور وقتی سوچ کے رجحان نے بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی کو محدود کیا ہے۔ لیکن 10 مارچ 2026 کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس فورسز وژن 2047: اے…
مصنوعی ذہانت، ہدف بندی اور بھارت-پاکستان ماحول میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات
امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ اس امر کی مظہر ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) فوجی فیصلہ ساز معاونت اور ہدف بندی کے عمل کو بڑھ چڑھ کر ڈھال رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تنازع کے دوران امریکہ نے اے آئی ٹولز…