امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ اس امر کی مظہر ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) فوجی فیصلہ ساز معاونت اور ہدف بندی کے عمل کو بڑھ چڑھ کر ڈھال رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تنازع کے دوران امریکہ نے اے آئی ٹولز (مصنوعی ذہانت کے ذرائع) استعمال کیے ہیں جو سیٹیلائٹ (مصنوعی سیاروں) کی بڑی تعداد، ڈرونز اور خفیہ معلوماتی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ ٹولز ماوِن سمارٹ سسٹم جیسے ڈیسیژنز سپورٹ سسٹمز (ڈی ایس ایس) کو شامل کرتے دکھائی دیتے ہیں، جوعملیاتی منصوبہ بندی اور ہدف کی شناخت میں استعمال کے لیے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ ڈیٹا کو برتتے ہیں۔
اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ ڈی ایس ایس نے امریکی (آپریشنل) عملیاتی رفتار کو نمایاں طور پر تیز کیا ہے: جنگ کے پہلے چار دنوں میں امریکی فوج نے 2,000 اہداف پر حملہ کیا۔ اس کے مقابلے میں ابتدائی کارروائیوں کے دوران، جیسا کہ اسلامی ریاست کے خلاف مہم کے دوران، اس پیمانے پراہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تقریباً چھ ماہ کی مدت درکار ہوتی۔ یہ فرق عملیاتی رفتار میں 45 گنا کے قابل ذکراضافےکے برابر ہے، جس سے دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے ایسے سسٹمز کی کشش واضح ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس-یوکرین جنگ اور اسرائیل-غزہ تنازعہ سمیت حالیہ تنازعات میں اسی نوع کے اے آئی ٹولز نمایاں نظر آتے ہیں۔
ایسی پیش رفت جنوبی ایشیا میں زیادہ توجہ کی حقدار ہیں۔ بھارت مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران ہدف (کو چُننے) کے فیصلوں کی معاونت یں ہسٹوریکل انٹیلی جنس (پُرانے طریقِ کار پر مبنی خفیہ معلومات کا حصول) کو رئیل ٹائم سرویلینس ڈیٹا کے ساتھ ساتھ برتنے کے لیے اسی طور کے اے آئی ٹولز پہلے ہی استعمال کرچکا ہے۔۔ پاکستان کی فوجی مشقیں بھی اے آئی کے زیرِتحت جنگ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی جانب اشارہ کرتی ہیں، اگرچہ اعلانیہ طور پر کم عملی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ ممکنہ طور پر دونوں ممالک مستقبل میں فوجی آپریشنز میں (اے آئی) مصنوعی ذہانت کو شامل کرتے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ونوں فریقین کو ایسے سسٹمزکے باعث درپیش اہم خطرات سے آگاہ رہنا چاہیئے۔ اوّل، جنوبی ایشیائی سیاق و سباق میں جہاں فوجی انفراسٹرکچر کا دوہرا استعمال یا (اس کی) دوہری صلاحیت ہو سکتی ہے، ہدف کی غلط شناخت ڈیٹا کی ایک سادہ غلطی کو ممکنہ طورپرایک مہلک تنازع کے محرک میں تبدیل کر سکتی ہے۔ دوم، خودکاریت سے متعلقہ تعصب (آٹومیشن بائی ایس)، جس میں عمل کار( آپریٹرز) اے آئی کے نتائج پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتے ہیں اور ذہنی بوجھ کی اُترائی (کوگنیٹیو آف لوڈنگ)، جہاں اے آئی سسٹمز پر مسلسل انحصار انسانی جانچ پڑتال کو کم کر دیتا ہے، تنازعات کے اہم منظرناموں میں سنگین خطرات کا عندیہ دیتے ہیں۔ سوم، اے آئی کی تعبیر پذیری کی مشکل اور شفافیت سے متعلقہ غیر ہم آہنگ ترغیبات اعتماد سازی کے اقدامات کو پیچیدہ بناتی ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان، خصوصاً شدید سیاسی دباؤ اور پریشان کُن معلوماتی ماحول کے پیش نظر، کسی بحران (کی صورت) میں، یہ خدشات کشیدگی کے انضباط کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔دونوں ممالک کو چاہیئے کہ وہ ان خدشات کا انتظام بہتر ڈیٹا گورننس، انسانی پُر احتیاط نگرانی اور دورانِ بحران رابطہ کاری (کرائسس کمیونیکیشن میکانزم) کے ذریعے کریں تاکہ تکنیکی غلطیوں کے باعث تزویراتی بحرانات پیدا ہونے سے بچا جا سکے۔
خودکاریت سے متعلقہ تعصب، ذہنی بوجھ کی اُترائی اور تعبیرپذیری و شفافیت کی مشکلات اے آئی کے زیرِ تحت ہدفی سسٹمز کے باعث درپیش خطرے کو مزید بڑھاتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں اے آئی کے زیرِ تحت ہدف بندی کے خطرات
اے آئی ٹولز پہلے ہی جنوبی ایشیائی سیکیورٹی کے ماحول میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک بھارتی فوجی افسر نے مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران ہدف بندی کے لیے “درستگی کی شرح 94 فیصد” رکھنے والے اے آئی سسٹم کے استعمال کو تسلیم کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ نظام ڈرونز، ریڈارز اور سیٹلائٹ فیڈز کے ذریعے حاصل کردہ رئیل ٹائم ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے قابل ہے جس کا چھببیس سالوں کے (آرکائیول) دستاویزاتی انٹیلی جنس ڈیٹا کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے۔ اس آرکائیول ڈیٹا میں ریڈیو فریکوئنسی اخراج، سینسر سگنیچرز (آثار)، تنصیباتی مقامات اور پاکستانی فوجی یونٹوں کی حرکات کے نمونے شامل تھے۔ مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ تنازع کے بعد، بھارتی فوج نے اگلے سال کے دوران آپریشنز میں ایسے ٹولز کو بہتر طور پرشامل کرنے کے لیے ایک ‘اے آئی روڈ میپ‘ اپنایا، جس سے بھارتی دفاعی منصوبہ بندی میں اے آئی کے زیرِ تحت ڈی ایس ایس کے بڑھتے ہوئے کردار کا اظہارہوا۔
پاکستان بھی فوجی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کے لیے کوشاں نظرآتا ہے۔ پاکستان ایئرفورس نے 2022 میں سینٹر فارآرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ کمپیوٹنگ کا افتتاح کیا اور اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی سائبر کمانڈ نے اے آئی کو اپنے اہم توجہ کے شعبوں میں شامل کیا ہے۔ مزید برآں، سرکاری ابلاغ کے مطابق، فروری 2026 میں پاکستان ایئر فورس کی مشق ‘گولڈ ایگل’ خاص طور پر مصنوعی ذہانت سے متعلق اور نیٹ سینٹرک آپریشنز پر مرکوز تھی۔ یہ (تمام) پیش رفت اس امرکو اجاگر کرتی ہیں کہ پاکستان بھی فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی طرف بڑھ رہا ہے، گو کہ اس کےعملی استعمال کی مخصوص تفصیلات عوامی طور پر کم ہی دستیاب ہیں۔
جنوبی ایشیا میں فوجی سطح پر مصنوعی ذہانت کابڑھتا ہوااستعمال اہم مشکلات پیش کرتا ہے۔ اگرچہ بھارتی سسٹم میں رئیل ٹائم ڈیٹا کے استعمال کو دستاویزاتی انٹیلی جنس کی محدودیت کی اصلاح کرنے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم ہسٹوریکل (پرانے طریقِ کار پر مبنی) ڈیٹا کی بنیاد پرتربیت یافتہ اوررفتار کو ترجیح دینے کے لیے بنائے گئے اے آئی ٹولزعملی طور پر پھر بھی پرانے اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ کم غلطی کی شرح پر بھی، جب ہدف بندی کے دائرہ کار میں لمبے یا شدید تنازع کے دوران اضافہ ہوتا ہے، غلطیوں کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً اگرچہ اسے محض سطحی طور پر لیا جائے، بھارتی ہدفی سسٹم کی بیان کردہ 94 فیصد درستگی کے باوجود تباہ کن غلطیوں کاامکان باقی رہتا ہے۔
خودکاریت سے متعلقہ تعصب، ذہنی بوجھ کی اُترائی (کوگنیٹیو آف لوڈنگ) اور تعبیرپذیری اور شفافیت کی مشکلات اے آئی کے زیرِ تحت ہدفی سسٹمز کے باعث درپیش خطرے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ خودکاریت سے متعلقہ تعصب اس وقت وجود میں آتا ہے جب فوجی فیصلہ ساز اے آئی کے نتائج کو بذات خود درست سمجھتے ہیں، جس کی بدولت ان میں (حد سے) بڑھ کرانحصار پیدا ہوتا ہے۔ تیز رفتار تنازعات کے منظرناموں میں، اس طرح کے تعصب کے امکانات اور بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ، اے ٓائی کے زیرِ تحت (چلنے والے) لیونڈر سسٹم کے شناخت کردہ اہداف کی تصدیق کرنے کے لیے اسرائیلی فوجی اہلکار مبینہ طور پر محض’20 سیکنڈ‘ لیتے ہیں،(یہ عمل) اصل پڑتال کے بجائے محض ’ربڑ اسٹیمپ‘ (کسی پر اندھا دھند اعتماد کرنے والے) کا کردارادا کرتا ہے۔ ذہنی بوجھ کی اُترائی (کوگنیٹیو آف لوڈنگ) اس مشکل کو بڑھاتی ہے: حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی ٹولز کا استعمال انسانی یادداشت اور تنقیدی سوچ کو کمزور کر سکتا ہے۔ فوجی ہدف بندی کے سیاق و سباق میں، یہ مظہر آہستہ آہستہ انسانی پُر احتیاط نگرانی کو کمزور کرسکتا ہے اورغلطی کی شرح میں اضافہ کر سکتا ہے۔ آخر میں، تعبیر پذیری اور شفافیت مصنوعی ذہانت پر مبنی ہدف بندی کے زیادہ ذمہ دار استعمال میں اہم رکاوٹیں ہیں۔ اے آئی سسٹمز ابھی بھی ایک ‘بلیک بکس‘ کی نوعیت کے ہیں، یعنی اس امر کو سمجھنا مشکل ہے کہ کس طرح (مخصوص) ماڈلز مخصوص نتائج تک پہنچتے ہیں۔ مزید برآں، ریاستوں کو خصوصی طور پر انٹیلی جنس اور قومی سلامتی کے اطلاق کے سبب اے آئی ٹولز کے بارے میں راز داری برقرار رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہ محرک بیرونی فنی جانچ اور جواب دہی کو ناممکن بناتا ہے۔

بھارت-پاکستان کشیدگی بڑھنے کے خدشات کا انتظام
ان خدشات کو اگر بھارت اور پاکستان کی تزویراتی رقابت کے تناظر میں دیکھا جائےتویہ کہیں زیادہ خطرناک نظرآتے ہیں، جہاں عملیاتی غلطیاں تیزی سے سیاسی اورفوجی بحرانات کا رُوپ دھار سکتی ہیں۔ اس سیاسی طور پرمتحرک تعلق میں، اے آئی کے ہدف میں ناکامی دو جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان تصادم میں بدل سکتی ہے، جسے بیش فعال میڈیا، قوم پرستانہ جذبات اور داخلی سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیتے ہیں۔
اہم امریہ ہے کہ بھارت اور پاکستان پہلے سے ہی گہرے باہمی عدم اعتماد کے ماحول میں کام کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے زیرِ تحت ہونے والی ہدفی غلطی کی بدولت زیادہ ہلاکتوں کا کوئی واقعہ، جوابی فوجی اشارات، جوابی حملوں اور وسیع تر دباؤ بڑھانے والی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ گو کہ دونوں فریقین کا مقصد بڑے پیمانے پرجنگ کرنا نہ ہو، تاہم ایسی کشیدگی (میں اضافہ) محض اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی قیادت شدید عوامی جانچ پڑتال کےسامنے کمزور دکھائی دینا نہیں چاہے گی۔
دوہری صلاحیت والے سسٹمز کو ہدف بنانے میں خطرے کا بھی بڑا امکان موجود ہے۔ چونکہ راکٹ، آرٹلری اور میزائل سسٹمز کے سگنیچرز (آثار) مماثل ہو سکتے ہیں، ہدفی ابہام کے سبب ڈیٹا کی غلطیاں شناخت کی غلطی سے لے کرکشیدگی تک پہنچنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ بدترین منظر نامےمیں، کسی روایتی فوجی اثاثے کے خلاف اے آئی کے زیرِ تحت ہونے والی ہدفی غلطی کو ایٹمی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے،جو ممکنہ طور پر وجودی بحران کو بھڑکا سکتی ہے۔
دونوں ممالک کو انسانی پُراحتیاط نگرانی، ڈیٹا کے انتظام اور بحران کے انصرامی ضابطۂ کار میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ عملیاتی رفتار کی قیمت تزویراتی عدم استحکام کی صورت میں نہ دینی پڑے۔
مجموعی طور پر یہ خطرات بھارت-پاکستان کے پس منظر میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہدف بندی کے نظام کو منظم کرنے کے لیے ایک زیادہ محتاط ضابطۂ عمل (فریم ورک) مرتب کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سب سے پہلے، دونوں ممالک کو سیاسی رہنماؤں اور فوجی فیصلہ سازوں کو یکساں طورپر مصنوعی ذہانت سے متعلق ہدفی نظاموں کے خدشات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے اقدام اٹھانے ہوں گے: شراکت داروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ باوجود اس کے کہ ایسے سسٹمزعملیاتی رفتار فراہم کر سکتے ہیں، وہ غیر ارادی کشیدگی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ ڈیٹا کا بہتر انتظام کرنا سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے۔ کمزوریاں محض اے آئی کے زیرِ تحت ہدفی نظامات کے ماڈلز میں ہی نہیں بلکہ ڈیٹا کے ان پُٹس (معلومات کے ادخال) میں بھی موجود ہیں۔اے آئی ٹولز کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی، غلط ہدفی ڈیٹا المناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جیسا کہ امریکہ کے میناب اسکول پر حملے سے ظاہر ہوا، جس میں خبروں کے مطابق پرانا ڈیٹا (معلومات) استعمال ہوا تھا اور(جس میں) قریباً 170 شہری مارے گئے۔ غلطیوں کے خدشات کو کم کرنے کے لیے فوجوں کو چاہیئے کہ وہ ریکارڈشدہ ہدفی ڈیٹا کی باقاعدہ جانچ پڑتال، تصحیح اور دوبارہ تصدیق کریں تاکہ اے آئی سٹرائیک سسٹمز میں پرانی غلطیاں رہ نہ جائیں۔
تیسرایہ کہ، انسانی پُراحتیاط نگرانی کو محض علامتی بنانے کے بجائے حقیقی بنایا جانا چاہیئے۔ عمل کاروں (آپریٹرز) کو خصوصاً سویلین، دوہرے استعمال یا دوہری صلاحیت کے ہدف کے لیے کثیرالماخذ تصدیق کو یقینی بنانا چاہیئے۔
چوتھا یہ کہ اگرچہ انٹیلی جنس ڈیٹا اور فوجی سسٹمزکے گرد راز داری کے سبب مکمل شفافیت ممکن نہیں، پھر بھی دونوں ریاستوں کو محدود اعتماد سازی کے اقدامات کرنے چاہئیں ۔ ان اقدامات میں موجودہ فوجی ہاٹ لائنز کے ذریعے فوری وضاحت کے ضابطۂ کار،خصوصی حساس ہدفی زمروں پر باہمی مفاہمت کی ترویج اور جب واقعات نیت کے بارے میں ابہام پیدا کردیں تو ایسے مواقع پر فوری سیاسی سطح کے رابطے کے اصولوں کا قیام شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی تدابیر ا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اپنی حتمی حد وں کا اشارہ دیا جائے، دوہری صلاحیت والے اہداف کی حساسیت کو واضح کیا جائے اور کشیدگی کے فیصلوں پر سیاسی انضباط کو مضبوط کیا جائے۔
گو کہ مستقبل میں اے آئی ٹولز کا استعمال ممکنہ طور پر فوجوں کو زیادہ رفتاراوراعتماد کے ساتھ کارروائی کرنے کی ترغیب دے گا تاہم یہ امتزاج سنگین خطرات پیش کرتا ہے، بالخصوص سیکیورٹی کےایسے کشیدہ ماحول میں جہاں مسلسل غیر یقینی صورتحال، ابہام اور سیاسی دباؤ موجود ہو۔ جنوبی ایشیا میں جیسے جیسے بھارت اور پاکستان فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھائیں گے، تکنیکی ناکامیاں، ناقص ڈیٹا یا (اے آئی پر) حد سے زیادہ انحصار کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ مزاحمتی حرکیات، باہمی شبہات اور فیصلہ سازی کے محدود اوقات کی بدولت تشکیل پا جانے والی سیکیورٹی رقابت کے ساتھ دونوں ممالک کو انسانی پُراحتیاط نگرانی، ڈیٹا کے انتظام اور بحران کے انصرامی ضابطۂ کار میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ عملیاتی رفتار کی قیمت تزویراتی عدم استحکام کی صورت میں نہ دینی پڑے۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: Rajnath Singh via X
Image 2: DGPR Air Force via X