,

بھارت اور پاکستان کے مابین سکڑتی ہوئی ثقافی ڈپلومیسی

ایک ایسے دور میں جب طاقت محض فوجی عظمت کی بنیاد پر طے نہیں ہوتی، ثقافتی ڈپلومیسی کسی بھی ملک کو اپنے “تعلقات کو مضبوط بنانے، سماجی ثقافتی تعاون کو بڑھانے، قومی مفاد کے فروغ و دیگر کے ضمن میں”  ملکی شناخت، اس کی اقدار، روایات کے موثر استعمال میں مدد دیتی ہے۔  

باوجود اس کے کہ بھارت اور پاکستان مشترکہ تاریخ و ثقافت کے ذریعے ایک دوسرے سے قدرتی طور پر جڑے ہیں، دونوں کے درمیان تناؤ بلند ترین سطح پر ہے۔ فروری ۲۰۱۹ میں، بھارتی زیرانتظام کشمیر میں بھارتی فوجی قافلے پر حملہ ہوا جس کی ذمہ داری پاکستان سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے قبول کی تھی، اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا۔ بھارت کی جانب سے اگست ۲۰۱۹ کے اقدام کے تحت جموں اور کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ کا خاتمہ، جس کے نتیجے میں متنازعہ علاقوں کی نیم خود مختار حیثیت کا خاتمہ ہوا، دونوں ممالک کے مابین امن کی صورتحال کو مزید نقصان پہنچانے کا سبب بنا ہے۔

نا تو بھارت اور نہ ہی پاکستان جوہری جنگ سہہ سکتے ہیں اور تاریخی طور پر دیکھا جائے تو روایتی سپاہ اور طاقت کے استعمال نے محض تعلقات میں طویل عرصے کیلئے خرابی ہی پیدا کی ہے۔ اس کے برعکس دونوں فریق ثقافتی تعاون سے ہونے والے فوائد کے ادراک اور سرحد پار لوگوں کے باہمی روابط اور تعاون کے فروغ سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ عدم اعتماد، جارحیت اور سیاسی تکرار کے گرد گھومتے سیاہ بیانیئے کے سبب دونوں ممالک کیلئے اس مشترکہ ثقافت و تجربات سے ذرخیز تاریخ کو بھلانا آسان ہوجاتا ہے جس سے دونوں جڑے ہوئے ہیں اور جو دونوں کو اعتماد کی بحالی اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم حالیہ تناؤ کے باوجود بھی بھارت اور پاکستان کی قیادت کی جانب سے کرتارپور راہداری کا افتتاح – ۲.۵ میل لمبی وہ پٹی جس کے ذریعے سے بھارتی یاتری پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقام تک آسکتے ہیں – صورتحال میں تبدیلی لانے کی بہترین مثال ہے۔ نہ صرف حکومتیں، بلکہ دونوں ممالک کے شہریوں نے بھی رابطے قائم کرنے کی کوشش کی ہے- گزشتہ ماہ بھارت اورپاکستان کے فنکاروں کے تعاون سے بنی ایک فلم  کی ریلیز سامنے آئی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب قوم پرستی پر مبنی، تقسیم پیدا کرنے والے جذبات سے مامور دور میں کیا ثقافتی ڈپلومیسی زندہ رہ سکتی ہے؟

ثقافتی ڈپلومیسی کب مقبول ہوئی؟

ثقافتی ڈپلومیسی جدید بھارت اور پاکستان کے مشترکہ تاریخی تجربات بشمول نوآبادیاتی دوراور طویل عرصے سے چلے آرہے ثقافتی تعلق کی بنیاد پر قائم کی جاسکتی اور انکو اجاگر کرتے ہوئے زیادہ پرامن بین الریاستی تعلق کو فروغ دے سکتی ہے۔ ریڈکلف کی جلد بازی میں کھینچی گئی لکیر جس نے بھارت کو تقسیم کرتے ہوئے نئی ریاست پاکستان تخلیق کی، برسوں سے ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنے والی قوموں کو من مانی کے ذریعےتقسیم کرنے کا باعث بنی۔ بھارت اور پاکستانی قیادت نے اس کا ادراک کرتے ہوئے ان تاریخی روابط سے سرکاری سطح پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ ۱۹۷۴ میں، ۱۹۷۱ کی جنگ کے محض چند برس بعد ہی، دونوں فریقوں نے مذہبی مقامات کی یاترا کے پروٹوکول پر دستخط کئے تاکہ دونوں ممالک کے رہائشیوں کو دوسرے ملک میں واقع مقامات مقدسہ اور درگاہوں پر حاضری کا موقع مل سکے۔ ۱۹۸۸ میں انہوں نے ثقافتی تعاون معاہدے پر دستخط کئے جس کا مقصد “فن، ثقافت۔۔۔ ابلاغ عامہ اور کھیل کے شعبے میں روابط کو فروغ” دینا تھا، جس کے بعد ۲۰۱۲ میں اسی سلسلے میں ثقافتی تعاون کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

انفرادی سطح پر، کسی سرکاری مداخلت کے بغیر زیادہ پرخلوص روابط دیکھنے کو ملے ہیں۔ دونوں طرف کے شہریوں نے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن سے باہمی تعاون کی حوصلہ افزائی ہو۔ پاکستان کے جنگ گروپ اور بھارت کے ٹائمز آف انڈیا کا مشترکہ اقدام “امن کی آشا” جس میں اردو زبان کے لفظ امن کو ہندی زبان میں امید کیلئے استعمال ہونے والے لفظ آشا سے ملا کے “امن کی امید” بنایا گیا، اس کے تحت معاشی کانفرنس منعقد کرواتا رہا جس میں سرحد پار کے کاروباری برادری کے افراد دوطرفہ تجارت کی خاطر تبادلہ خیال کیلئے مل سکتے تھے، یہ اقدام پاکستان اور بھارت کی کاروباری برادری کو قریب لانے کا ذریعہ بنا۔ “آغاز دوستی” ایک رضاکارانہ طور پر بھارتی “مشن بھارتیم” اور پاکستانی “ہم سب ایک ہیں” کے مشترکہ تعاون سے شروع ہونے والا اقدام ہے جس کے تحت امن کی تعلیم، مباحثے، خطوط اور گریٹنگ کارڈز کے تبادلے اور ”ورچول کیمپینز“ کے ذریعے سے بھارت پاکستان تنازعے پر غالب “دشمن” کے بیانیئے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

بیک وقت ہندی اور اردو زبان سے آشنائی کے سبب فن کے شعبے میں بین الریاستی تعاون کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے، اس تک انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی بہت آسان ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے  دونوں ممالک میں بھاری پیمانے پر ناظرین میئسر آئے ہیں۔ مثال کے طور پر “کوک سٹوڈیو پاکستان” کو بھارت میں اسی پروگرام کی بھارتی شکل کی نسبت زیادہ پذیرائی اور تعریف سننے کو ملی جس کے نتیجے میں بھارتی اور پاکستان گلوکار اور موسیقاروں کے مابین متعدد مشترکہ تعاون پر مبنی پیشکشیں دیکھنے کو ملیں۔ اس قسم کے اشتراک، ایک دوسرے سے منسلک ہونے کی فضا پیدا کرتے ہیں اور ثقافتی ڈپلومیسی کی اصل روح کو بے حد خوبصورتی سے مقید کرتے ہیں۔

فلمی صنعت قربانی کا بکرا: ایک مایوس کن لمحہ

غالباً سینما اور ٹیلی ویژن ہی پاکستان اور بھارت کوملانے والا قدرتی طور پر دستیاب پائیدار ثقافتی پل ثابت ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں پل بھارت کی ممبئی سے تعلق رکھنے والی ہندی زبان کی فلم انڈسٹری ”بالی  ووڈ“ ہے جو دنیا میں سب سے بڑی سمجھی جاتی ہے۔ کسی حد تک مشترکہ تاریخی روابط، اسلامی ثقافتی دنیا سے شناسائی اورپاکستان میں ہندی زبان سے آگہی جس کا پہلے بھی تذکرہ کیا گیا، ان سب کے سبب بالی ووڈ پاکستانی ناظرین میں بے حد مقبول بھی ہے اور پاکستانی فلم انڈسٹری کیلئے بے حد نفع بخش بھی ہے۔  پاکستانی فلم انڈسٹری اپنا کاروبار جاری رکھنے کیلئے بھارتی فلمیں دکھانے پر انحصار کرتی ہے جو کہ بھاری بجٹ، افسانہ نگاری اور مشہور اداکاروں کے باعث بین الاقوامی سینما پر چھائے رہنے  کے قابل ہے۔

بھارت اور پاکستان کے مابین سینما کے ذریعے ثقافتی تبادلے کا سلسلہ غیر مستقل بنیادوں پر ہوتا رہتا ہے، ۲۰۱۰ کی دہائی کے وسط میں ان روابط نے نئی بلندیوں کو چھو لیا تھا۔ سرقہ شدہ اور بذریعہ انٹرنیٹ نشر کئے گئے پاکستانی ٹیلی ویژن شوز، جنہیں بھارت میں سیریل کہا جاتا ہے، ان کی شہرت کو دیکھتے ہوئے نئے بھارتی چینل زندگی نے ۲۰۱۴ میں  پاکستانی سیریل نشر کرنا شروع کئے تھے۔ بھارت میں ان سیریئلز کی مقبولیت سے  بھارتی ناظرین کے ذہنوں میں پاکستان کے تصور کو وسعت دینے اور تنقید کا نشانہ بننے والے انتہا پسندی، اسلاموفوبک اور پاکستان مخالف رٹے رٹائے قومی بیانیئے کی نفی کرنے میں مدد ملی۔ فلمی صنعت کی سطح پراس رجحان نے ان اداکاروں کیلئے مشہور فلمی پروڈکشنز میں مرکزی اور نیم مرکزی کرداروں میں کام کرنے کیلئے راہ ہموار کی۔

 لیکن مثبت روابط اور ثقافتی تبادلے کو حاصل انڈسٹری کی معاونت کا یہ دور کچھ زیادہ مدت تک نہ چل سکا ۔ ستمبر ۲۰۱۶ میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اڑی میں ہونے والے حملے میں ۱۹ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے اس کا الزام پاکستان کے اندر موجود عناصر پر دھرا۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں پاکستان مخالف جذبات کو ہوا ملی۔ اس کے اثرات فلم انڈسٹری پر بھی پڑے، اور ایک دائیں بازو کی قوم پرست ہندو تنظیم مہاراشٹرا نوینرمان سینا ( ایم این ایس) کی جانب سے بھارت میں کام کرنے والے سب سے مقبول پاکستانی اداکار فواد خان کو بھارت نہ چھوڑنے کی صورت میں تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکی ملی۔ ایم این ایس اور دیگر دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے فلم “اے دل ہے مشکل” جس میں فواد خان مہمان اداکار کے روپ میں شامل تھے، اس کی ریلیز پر بھی احتجاج اورہنگاموں کی دھمکی دی گئی۔ بڑھتے ہوئے عوامی جذبات اور سیاسی دباؤ کے سبب فلم کے ڈائریکٹر کو اپنی فلم کی بخیر و عافیت ریلیز کیلئے پاکستانی اداکاروں کے ساتھ کبھی کام نہ کرنے کا اعلانیہ عہد کرنے کے ساتھ ساتھ فلم میں مبینہ ایڈیٹنگ بھی کرنا پڑی۔ اڑی کے بعد پیدا ہونے والی شورش کے اثرات تاحال فلم انڈسٹری پر باقی ہیں اور پاکستانی اداکاروں اور ان کے بھارت میں کام کرنے نیز بھارتی چینلز پر پاکستانی سیریئلز کے نشر کئے جانے پر انڈسٹری اور حکومتی اداروں کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔

یہ صورتحال بھارتی اور پاکستانی حکومتوں کی ماضی کی روایات کا بھی پتہ دیتی ہے جو سیاسی سطح پر ابتری کی صورت میں بالی وڈ کو دباؤ پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ ۱۹۶۵ کی بھارت پاکستان جنگ کے بعد پاکستان نے بھارتی سینما پر پابندی عائد کی جو ۴۰ برس تک جاری رہی۔ اس کے نتیجے میں انڈسٹری زوال کا شکار ہوئی اور پاکستان بھر میں متعدد تھیٹرز بند ہوگئے یا شاپنگ مالز اور شادی ہالوں میں تبدیل ہوگئے۔ حال ہی میں آرٹیکل ۳۷۰ واپس لئے جانے کے بھارتی فیصلے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کے ثقافتی تبادلے بشمول پاکستانی سکرین سے ہر قسم کے بھارتی مواد کے نشر کئے جانے پر مکمل پابندی کا اعلان کیا۔ آل انڈیا سنے ورکرز ایسوسی ایشن نے اس کا فوری ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستانی فنکاروں، سفارت کاروں اور پاکستان اور اس کی عوام سے دو طرفہ تعلقات پر غیر معینہ مدت کیلئے پابندی عائد کی جائے۔ یہ اس رجحان کا ٹھوس ثبوت ہے کہ جس کے تحت پاکستان اور بھارت کے مابین سیاسی تناؤ کا نتیجہ فنکاروں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

 باوجود اس کے کہ یہ ”جیسے کو تیسا“ کی طرز کی پابندیاں محض علامتی ہیں اور ڈیجیٹل دنیا کے سبب آخر کار غیر موثر ثابت ہوتی ہیں، اور بالی وڈ کے حالیہ پاک بھارت تناؤ کے باوجود بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک طاقتور رابطہ پل کے طور پر باقی رہنے کا امکان ہے، بہرحال یہ صورتحال موجودہ سیاسی ماحول میں دونوں ممالک کے مابین ثقافتی تبادلوں کے سکڑتے سمٹتے امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔

کیا موجودہ سیاست ثقافتی ڈپلومیسی پر اثرانداز ہوگی؟

اگرچہ ثقافتی ڈپلومیسی بھارت اور پاکستان کے مابین موجود تناؤ کا کلی حل نہیں، تاہم یہ تعمیری بین الریاستی مذاکرات کیلئے بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔ امن کے دور میں یہ ثقافتی ڈپلومیسی سرحد کے دونوں جانب موجود افراد کو ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ جاننے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اعتماد قائم کرنے کے موقع کی فراہمی کے ذریعے سے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر کردار ادا کرسکتی ہے۔ دوسری جانب تنازعے اور اور شدید تناؤ کے دور میں یہ ابلاغ کیلئے متعدد راہیں کھلی رکھنے کے ذریعے سے خطرات کو کم کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

تاہم،  بھارت اور پاکستان میں جوشیلی قوم پرستی کے جڑ پکڑنے کے ساتھ ساتھ، تنگ نظری پر مبنی حب الوطنی دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی پلوں کو کاٹ ڈالنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ پروپیگنڈا تعاون کی راہ میں نفسیاتی رکاوٹوں کو بڑھا سکتا ہے اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے تناؤ یا بحران صورتحال کو مزید گھمبیر بنا سکتا ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب حکومتیں ایک دوسرے کیخلاف زیادہ جارحانہ صورت اختیار کررہی ہیں، نفرت، روایتی بیانیئے اور تقسیم کرنے والی سیاست کیخلاف مشترکہ لڑائی کیلئے بھارت اور پاکستان کی عوام کو متحرک بنانے کیلئے ثقافتی اشتراک اور عوامی سطح پر روابط از حد ضروری ہیں، لیکن ایسا کرنا مشکل تر ہوسکتا ہے۔ اس قسم کے ماحول میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا ثقافتی ڈپلومیسی بطور مفاہمتی اقدام اپنی افادیت برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Aamir Qureshi via Getty Images

Image 2: Jonathan Torgovnik via Getty Images

Posted in , , Bollywood, Cooperation, Culture, Foreign Policy, History, India, India-Pakistan Relations, Pakistan, Peace, Religion, Security

Rushali Saha

Rushali Saha is currently serving as a research associate at the Centre for Airpower Studies, New Delhi. She holds a masters degree in Politics with International Relations from Jadavpur University. She graduated summa cum laude from the same university with an undergraduate degree in political science from the same university in political science. Her research interests include the evolving geopolitics of South Asia and the Indo-Pacific region with a specific focus on Indo-China relations and Indian foreign policy.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *