بی آرآئی کو متوازن بنانے کا کھیل، جنوبی ایشیا کیسے کھیل رہا ہے؟

 بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ( بی آر آئی) نے چین کے تیزرفتارعروج سے خطے کو درپیش خطرات اور امیدوں کے بارے میں جنوبی ایشیا بھرمیں ایک جوشیلی بحث کیلئے ایندھن فراہم کر دیا ہے۔ وہ ممالک جو روایتی طور پر فقط بھارت کے اثر میں رہتے تھے، انہوں نے اپنی ترقیاتی اہداف کی تکمیل کیلئے بیجنگ کی مالی معاونت کو خوش کن متبادل کے طور پر قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ بھارت کے تمام پڑوسی ماسوائے بھوٹان کے، بی آر آئی پر دستخط کرچکے ہیں۔

تین حصوں پر مشتمل ایس اے وی کی نئی سیریز “چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو: جنوبی ایشیائی چھوٹی ریاستوں کا ردعمل” یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنوبی ایشیائی تجزیہ کاروں کی نئی نسل کس طرح خطے میں موجود چینی ” قرضے کے جال” یا  ” ہاتھی بمقابلہ چینی اژدھا” جیسی سنسنی خیز لڑائیوں کی گہرائی میں اترکے دیکھ رہی ہے۔ عبداللہ الرافع ( بنگلہ دیش)، کمل دیو بھٹاری ( نیپال) اور پریانکا مونی سنگھ ( سری لنکا) اپنے اپنے ملک جنہیں جغرافیائی تزویراتی بساط پرعموماً محض پیادوں کی حیثیت ہوتی ہے، وہاں پر چین کے بی آر آئی منصوبے پر پائی جانے والی رائے کا باریک بین اور قابل قدر جائزہ پیش کرتے ہیں۔ ڈھاکہ، کھٹمنڈو اور کولمبو میں مقامی سطح پر جاری بحث کے بارے میں معلومات کے علاوہ ان تجزیہ کاروں کی یہ پیشکش، ان ممالک کی بیرون ملک بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور مقامی سطح پر امور حکومت کے ضمن میں ترجیحات کے مابین بڑھتے ہوئے تعلق کا بھی جائزہ لیتی ہے۔ اس سلسلے میں تین اہم موضوعات سامنے آتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ کہ جہاں تینوں ممالک نے بی آر آئی کا بطور معاشی منصوبہ اور ترقی کے موقع کے خیر مقدم کیا ہے وہیں یہ ممالک چینی مشرقی وعدوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے لاحق خطرات کو بھی سمجھتے ہیں، لہذا اپنے لئے امکانات میں وسعت چاہتے ہیں۔  چنانچہ رفیع کے مطابق، بنگلہ دیش ایک ” متوازن کردار” پر مبنی کھیل کھیل رہا ہے جہاں وہ بی آر آئی اور فری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک پر یک بیک عمل درآمد کی صورت میں ان سے فیضیاب ہوسکتا ہے۔ بھٹاری چین اور بھارت کے مابین توازن قائم کرنے کی نیپال کی کوششوں کو “نفیس رقص” کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ اور ان کے انڈو پیسیفک شراکت داروں کا حوالہ دیتے ہوئے مونی سنگھ محسوس کرتی ہیں کہ سری لنکا ” دونوں جانب سے” کھیل رہا ہے۔

سرد جنگ کے دوران بھارت کی غیروابستگی کی حکمت عملی کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے یہ ممالک توازن، نقصان کا خطرہ کم کرنے کا ہوشیاری پر مبنی کھیل اور یہاں تک کہ  چین کو اسکے حریفوں کیخلاف کیسے کھڑا کیا جائے، سیکھ رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا محض بے بس مشاہدہ کاراورجغرافیائی تزویراتی کھیل کے میدان ہی نہیں ہیں بلکہ ساز باز کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ ترقیاتی فوائد بٹورنے کیلئے خارجہ پالیسیوں کواس کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ اس غیر وابستگی کے حصول کیلئے جہاں سفارتی لچک اصل کنجی ہے، وہیں تینوں مضامین یہ  بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کم از کم فی الحال چین کے ساتھ مزید مصروف عمل رہنے کا وقت ہے۔

دوئم یہ کہ تمام حصے ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں بی آر آئی  کی ناکامیاں خواہ سری لنکا میں ہوں یا ملائیشیا میں، فیصلہ سازوں نے ان سے سبق سیکھا ہے۔ ناقابل ادائیگی قرض کے قصے، شفافیت کی کمی اور روبہ زوال سماجی و ماحولیاتی اثرات نے پورے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ان منفی مثالوں کے علاوہ بنگلہ دیش کی مثبت مثال زیادہ دلچسپی کا مرکز ہے : ڈھاکہ کیسے ناکامی کے گڑھے میں خود کو گرنے سے بچاتے ہوئے بی آر آئی سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہا؟

رفیع تجویز کرتے ہیں کہ بی آر آئی میں بنگلہ دیش کا ” سلیقہ مندانہ کردار”  اس کی “دانش” اور”عالمی امداد و قرضے اتارنے کے ماہرکھلاڑی”  کے طور پرحاصل شدہ “تجربے” پر مبنی تھا، جس کی وجہ سے وہ اس قابل ہوسکا تھا کہ چینی پیشکشوں کی باریک بینی سے چھان پھٹک اور بعض کو مسترد بھی کرسکے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان چھوٹے ممالک کیلئے تکنیکی صلاحیت اور بی آر آئی منصوبوں کی محتاط جانچ کیلئے “تحفے کی اصل قیمت کا تعین” کرنے والی سمجھ بوجھ  کس قدر ضروری ہے۔  مہارت پر مبنی جائزے اور مذاکراتی صلاحیتوں کے علاوہ بنگلہ دیش کی پائرہ بندرگاہ کا قصہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں کسی ایک ملک کو کلی اختیار نہ دینے اور اختیارات کو پھیلا دینے کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ متعدد ممالک کی شمولیت لاگت اور پیچیدگی میں اضافے کا باعث ہوسکتی ہے لیکن طویل مدت میں یہ بالآخر اہم انفراسٹرکچرز اور تزویراتی اثاثوں کو اپنے قابو میں رکھنے میں فائدہ دے گی۔ یہ مثال خطے کے دیگر ممالک کیلئے اہم سبق رکھتی ہے جو چینی پیشکشوں سے خود کو مغلوب محسوس کرنا شروع ہوئے ہیں اور اپنے ترقیاتی اہداف کو فائدہ پہنچانے کیلئے بہترین کی چھانٹی کرنے سے قاصر ہیں۔ مثال کے طور پر نیپال کے معاملے میں بھٹاری محسوس کرتے ہیں کہ اس نے بی آر آئی کے معاملے میں”چینی امدادی ڈھانچے کے واضح نہ ہونے کے باعث  محتاط رویہ” اپنایا ۔ جنوبی ایشیائی ریاستیں،تمام بی آرآئی منصوبوں کو اندھا دھند قبول کرنے سے درکنار، چین سے معاملات کیلئے بہترین حکمت عملی کے بارے میں علاقائی سطح پر مذاکرات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

تمام حصوں میں موجود پایا گیا تیسرا اور آخری موضوع اس بحث کے بارے میں ہے کہ آیا چین کا بی آر آئی “محض کاروبار” ہے یا جنوبی ایشیائی ریاستوں کیلئے اس کے گہرے تزویراتی، سلامتی اور سیاسی مضمرات ہیں۔ مونی سنگھ کی پیشکش یہ تجویز کرتی ہے کہ معیشت اور سلامتی سے جڑے معاملات علیحدہ رکھے جاسکتے ہیں، جیسا کہ سری لنکا نے “خود مختاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاشی مواقع بٹورتے ہوئے چین کے غیر ضروری فوجی دباؤ کو مسترد کیا”۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ یہ دو رویا حکمت عملی خطے کے دیگر کئی ممالک میں بھی مقبول ہے۔ کھٹمنڈو میں بی آر آئی کا عموماً خالصتاً معاشی منصوبے کے طور پر خیرمقدم کیا جاتا ہے اور انڈوپیسیفک کا معاملہ چین کو محدود کرنے کیلئے بطور فوجی اتحاد دیکھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کے معاملے میں رفیع یہ محسوس کرتے ہیں کہ ڈھاکہ “جغرافیائی سیاسی تناؤ سے خود کو بچاتے ہوئے” بی آر آئی کے ہمراہ مصروف عمل رہے گا۔

اس قسم کی واضح تقسیم پرکشش دکھائی دے سکتی ہے لیکن یہ کسی بھی قسم کے معاشی بندھن کے دور روس تزویراتی نتائج کو دھوکہ دہی کی حد تک نظرانداز کرتی ہے، جیسا کہ جنگ کے بعد امریکی مارشل پلان سے متعلق یورپی سیاسی اورسلامتی کے ضمن میں ترجیحات سے ظاہر ہوا۔ بالکل اسی طرح آج یہ امید کرنا غیر معقول محسوس ہوتا ہے کہ چین کا بی آر آئی اپنے شراکت دار ممالک کی سیاسی اور سلامتی کی صفوں کو ترتیب نہیں دے گا، خواہ یہ ڈھاکہ کے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے ذریعے سے ہو، نیپال کو نیا فائبر آپٹک لنک فراہم کیا جانا ہو یا پھر سری لنکا کی ہمبنٹوٹا بندرگاہ کا قبضہ سنبھالنا ہو۔

یہ تینوں شاندار مضامین، پالیسی امور کے باب میں دو اہم موضوعات پر تدبیر کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک جانب جہاں بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا لامحالہ بی آر آئی کے بارے میں بھارتی، امریکی، یورپی یا جاپانی تحفظات جیسے تحفظات رکھتے ہیں وہیں یہ تحفظات ان ممالک میں زیادہ شدت کے نہیں ہیں۔ یہ تین اور دیگر چھوٹی ریاستیں بی آر آئی منصوبوں کی تکمیل میں التوا یا انکار کیلئے انڈو پیسیفک دباؤ کو ناپسند بھی کرتی ہیں جس کی وجہ سے فاصلوں میں اضافہ بالخصوص بھارت کے ساتھ، لازم ہے۔ اس قسم کی مداخلت کے بجائے، ان چھوٹی ریاستوں کو چین کی بڑھتی ہوئی برتری کو ختم کرنے کیلئے بااعتماد متبادل کی ضرورت ہے۔ امریکہ-بھارت- جاپان سہہ فریقی انفراسٹرکچر ورکنگ گروپ اس سمت میں درست اقدام ہے اور اسے جاری رہنا چاہئے۔

دوسری جانب ٹھوس انفراسٹرکچر کے علاوہ، فنی تربیتی منصوبوں پر کام کیلئے بھی بڑی گنجائش موجود ہے جو کہ جنوبی ایشیائی ریاستوں کی بی آرآئی میں شمولیت کی شرائط بشمول منصوبوں کا جائزہ و نگرانی، معاشی ڈھانچے اور شفافیت کے نفاذ پر بات چیت کیلئے تکنیکی صلاحیتوں میں معاون ہوسکے۔۔ اس کیلئے ضروری ہوگا کہ متعدد حصہ داروں اور مضبوط جمہوری اداروں کو شامل کرتے ہوئے کھلی بحث کی جائے۔ جیسا کہ بھٹاری زور دیتے ہیں کہ نیپال جیسے ممالک کو “تمام بی آر آئی منصوبوں کا مقامی ضروریات اور قومی مفادات کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ لاگت تا منافع تجزیہ کرنا ہوگا”۔  امریکہ، بھارت، جاپان اور اسی جیسی دیگرانڈوپیسیفک طاقتیں تجزیاتی صلاحیتوں کے ضمن میں بنگلہ دیش ، نیپال اور سری لنکا کی معاونت میں اہم کردار اداکرسکتی ہیں تاکہ وہ اپنی خودمختاری کو گروی رکھے بغیر بی آر آئی میں سے بہترین  معاہدہ حاصل کرسکیں۔

ایڈیٹر کا نوٹ: ساؤتھ ایشین وائسز ( ایس اے وی) اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کوشش کرتا ہے کہ اس کے لکھاری بھارت، پاکستان، امریکہ و دیگر میں پالیسی پر ہونے والے مباحثوں پر اثر انداز ہوسکیں۔ اس ضمن میں، ہمارے سلسلے ایکسپرٹس کی رائے کے تحت جنوبی ایشیائی ماہرین، برصغیر پر بامعنی بات چیت میں پیش رفت کو جاری رکھنے کی امید کے ساتھ تجزیہ کاروں کی رائے میں اپنا حصہ بھی ڈالتے ہیں۔  ایکسپرٹس کی رائے کے موجودہ سلسلے میں بروکنگز انڈیا کے ڈاکٹر کانسٹینٹینو زاویر ایس اے وی کی سیریز “چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو: چھوٹی جنوبی ایشیائی ریاستوں کا ردعمل” کا جواب دیتے ہیں۔ سیریزپڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجیئے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: VOA via Wikipedia

Image 2: Paula Bronstein/Stringer via Getty

Posted in , Bangladesh, BRI, BRI in South Asia 2019, China, Economics, Experts ki Rai, Geopolitics, Nepal, Sri Lanka

Constantino Xavier

Constantino Xavier

Dr. Constantino Xavier is a Fellow in Foreign Policy at Brookings India, in New Delhi, where he researches on India’s approach to security, connectivity and democracy across South Asia and the Indian Ocean regions. He is currently writing a book on India’s crisis response in neighboring countries, with case studies on Nepal, Sri Lanka and Myanmar since the 1950s. He holds a Ph.D. in South Asian studies from the Johns Hopkins University, School of Advanced International Studies, and regularly lectures at Indian public training institutions, including the Lal Bahadur Shastri National Academy of Administration, the Foreign Service Institute and the National Defence College.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *