,

جنوبی ایشیاء میں نیوکلیئر تنصیبات پر عدم حملوں کے معاہدے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا

تعارف

یکم جنوری ۲۰۱۷ کو ہندوستانی اور پاکستانی سفارتکاروں نے اپنے اپنے ممالک میں واقع جوہری تنصیبات کی سرکاری فہرستوں کا تبادلہ کیا۔ اس وقت کی خبروں کے مطابق، ۱۹۸۸ میں باہمی اعتماد میں اضافے کے معاہدے کے تحت، فہرستوں کا یہ۲۶ واں سالانہ تبادلہ تھا جس میں ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ چونکہ یہ تبادلہ، امن اورکشیدگی، دونوں بحرانوں کے دوران بغیر کسی مداخلت کے  جاری رہا، اس بنا پہ یہ جنوبی ایشیاء کے ریکارڈ میں سب سے پائیدار جوہری اعتماد سازی کے اقدام (سی بی ایم) کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ اسی کے ساتھ ہی، اس تبادلے کی پابندی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دور حاضر میں اس معاہدے کے خطے میں امن و سلامتی کے لئے عملی وقعت بہت کم ہے۔

جب عدم حملے معاہدے (Non-Attack Agreement)   کی ابتدائی بات چیت ہوئی تھی، تو دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر نسبتاً چھوٹے اور خفیہ تھے، اور جوہری تنصیبات پر اچانک حملے کا خدشہ (کم سے کم پاکستان میں) کئی سالوں سے عموماً موجود تھا ۔ تاہم اس معاہدہ كی بدولت جوہری  تنصیبات پر اچانک یا کسی تنازعہ کے دوران سوچے سمجھے حملے کے خدشات کو ختم کرنے میں مدد ملی، کہا جاسکتا ہے اس طرح کے حملوں کے نیتجےمیں ہونے والے ممکنہ انسانی اور ماحولیاتی نقصان کے نتائج کو روکنے میں بھی مدد ملی۔

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاہدہ محض علامتی ثابت ہوا ہے اور اعتماد میں ا ضافے کیلئے اس کی صلاحیت محدود رہی ہے۔ مثال کے طور پر اس معلومات کی  تصدیق کیلئے کوئی دفعات کبھی بھی موجود نہیں تھیں۔ ۱۹۹۸ سے پہلے کے عرصے کے دوران، جس میں کسی بھی ریاست نے کھل کر اپنی جوہری حیثیت کا اعلان نہیں کیا تھا، بڑے پیمانے پر یہ خیال کیا گیا تھا کہ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے اعلامیہ  میں ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اداروں کو شامل نہیں کیا ہے۔ آج اب بھی یقینی طور پر جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے اور کارروائیوں سے وابستہ سائٹس، اور شاید دوسری سہولیات بھی دونوں اطراف کے کسی اعلامیہ كا حصہ نہیں ہوتیں۔ ماضی میں اس معاہدے سے حاصل ہونے والا استحکام طویل عرصے سے بتدریج ختم  ہو گیا ہے۔

اس طویل المدت CBM  کے بھولے ہوئے وعدے کو خطے میں موجودہ اسٹریٹجک حالات کے مطابق زیادہ موزوں بنانے کے کیلئے اس معاہدے کو جدید بنا کر زندہ کیا جاسکتا ہے۔ میں اس معاہدے کو دو طریقوں سے بڑھانے کی تجویز پیش کرتا ہوں جس کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ دونوں ریاستیں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ خطے میں کہیں بھی جوہری تنصیبات سے ہونے والے کسی واقعے جس سے radioactive مواد خارج ہو، کو روکنا دونوں ریاستوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔  اول، عدم حملہ کی دفعہ کو ان دوسرے اہداف تک بڑھایا جانا چاہیئے، جن کی تباہی اسی طرح ماحولیاتی یا انسانیت کی تباہی کا باعث ہوسکتی ہے۔ اپنے منصوبے کو سمجھانے کے لئے مثال کے طور پر میں تجویز کرتا ہوں کہ اس معاہدے میں بڑے ڈیموں کو شامل کیا جاۓ جو پن بجلی پیدا کرنے اور سیلاب کو روکنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ ہرات میں۲۴ جون کو سلما ڈیم پر حملہ، جس کی وجہ طالبان کو قرار دیا گیا ہے، اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ دو م، ریاستی عناصر کے برابر غیر ریاستی عناصر کے نقصان پہنچانے کے امکانات کا اعتراف کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کو اس معاہدے کے تحت دہشت گردی کے خطرات سے متعلق معلومات کو معاہدے کے احاطے میں شامل کرنے کے لئے ایک طریقہ کار وضع کرنا چاہئے۔

عدم حملہ  کے معاہدے کو مستحکم کرنا۔

عدم حملہ معاہدے کی مجوزہ توسیع کے  دلائل پر تفصیلی بحث کرنے سے پہلے میں پہلے یہ بیان کروں گا کہ مذکورہ بالا دو مجوزہ تبدیلیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئیے متن میں کس طرح ترمیم کی جاسکتی ہے۔ بڑے ڈیموں کومعاہدے کے دائرہ کار میں شامل کرنے کے لئے تین اضافی ترمیموں کی ضرورت ہوگی۔ سب سے پہلے، معاہدے کے عنوان میں وسیع تر کوریج کی عکاسی کی ضرورت ہوگی، مثلاً یہ ”جوہری سہولیات (اور کچھ اہم انفراسٹرکچر) کے خلاف حملوں کی ممانعت“ کا معاہدہ بن سکتا ہے۔ دوسرا، معاہدے کے توسیع شدہ دائرہ کار کو ظاہر کرنے کے لئے پیراگراف 1 (i) میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ پیراگراف 1 (i)  کہتا ہے:

ہر فریق دوسرے ملک میں کسی بھی جوہری تنصیب یا عمارت کو تباہ یا نقصان پہنچانے کے مقصد سے براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی اقدام کو شروع کرنے، حوصلہ افزائی کرنے یا اس میں حصہ لینے سے باز رہے گا۔

اس پیراگراف میں ترمیم کرکے “کسی بھی جوہری تنصیب یا  عمارت” کے بعد “اور کچھ اہم انفراسٹرکچر” کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد “اور کچھ اہم انفراسٹرکچر” کو پیراگراف 1 (ii) میں شامل کیا جاسکتا ہے، جس میں تعریفیں موجود ہیں، اور اس میں بڑے ڈیموں کا خصوصی حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے ہر ایک  ڈیم، بیراج، یا پانی کے منصوبے کو شامل کرنا نامعنی نہیں ہو گا، جن میں سے بیشتر اہم انفراسٹرکچر کی تعریف پر پورا نہیں اتر تے۔ بلکہ نقطہ یہ ہے کہ پانی کے قابلِ ذکر ذخائر پر توجہ دی جائے جس میں ناکامی کا نتیجہ ماحولیاتی اور/ یا انسانی تباہی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

یہاں ، بڑے ڈیموں پر بین الاقوامی کمیشن (ICOLD) کی فراہم کردہ تعریف بہتر ہوسکتی ہے: ۱۵ میٹر سے زیادہ اونچائی کا کوئی بھی ڈیم اور۳۰ لاکھ مکعب میٹر سے زیادہ  پانی روکنے کی صلاحیت۔ ICOLD کی رجسٹری کے مطابق، بھارت میں ایسے ۵،۱۰۲ ڈیم ہیں جبکہ پاکستان میں ۱۶۳ ڈیم ہیں۔ سیلاب سے بچاؤ کے لئے حجم کے لحاظ سے پاکستان کے دو ڈیم دنیا کے سب سے بڑے ڈیموں میں سے ہیں . جبکہ پاکستان کے دو اور بھارت  کا ایک ڈیم دنیا میں سب سے اونچے ڈیموں میں شامل ہیں۔ دونوں ریاستوں میں بڑے ڈیموں کی تعداد کے مابین تفاوت کے پیش نظر ، وہ ایک مساوی سب سیٹ کا اعلان کر سکتے ہیں ، مثال کے طور پر ممکنہ نتائج کے لحاظ سے۵۰ یا7۷۵ انتہائی اہم ڈیم۔ چونکہ ڈیموں کی یہ فہرستیں ہر ریاست ICOLD  کو پہلے ہی سے مہیا کرتی ہے، لہذا دو طرفہ طور پر سالانہ فہرستوں کے تبادلے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہونی چاہئے۔

انفارمیشن شیئرنگ کی فراہمی کو نافذ کرنے کے لئے جو دونوں ریاستوں کو جوہری تنصیبات یا بڑے ڈیموں پر حملے کے ممکنہ منفی نتائج سے بچنے میں مدد فراہم کرے گی ، پیراگراف 1 (i) کے آخر میں ایک آسان شق شامل کی جاسکتی ہے  جو کہ درج ذیل ہے: “… ، اور ایسی تنصیبات کو لاحق خطرات سے متعلق دوسرے فریق کو بروقت آگاہ کرے گا۔

مجوزہ تبدیلیاں دونوں ریاستوں کو ایسے اہم انفراسٹرکچرز پر حملوں کی روک تھام، جس سے علاقائی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، میں ایک وسیع تر مشترکہ  مفاد پر بھی توجہ مبذول کریں گی۔ اس طرح کے معاہدے دیگر اہم تنصیبات کو عدم حملہ اور خطرے سے متعلق معلومات کے تبادلے کی یقین دہانیاں شامل کرنے کی مثال بھی بن سکتی ہیں۔

دونوں ممالک میں جوہری تنصیبات نسبتاً اچھی طرح محفوظ ہیں (حالانکہ یہ بھی مسائل یا تشویش  سے خالی نہیں)۔ ڈیم اور دیگر اہم انفراسٹرکچر نسبتاً کم مضبوط حفاظتی حصار میں ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ  ان کو خطرات درپیش ہیں۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۲ کی امریکی محکمہ برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی رپورٹ میں ۲۰۰۴ سے بھارت میں دو ڈیمز پراور پاکستان میں دو ڈیمز پر کامیاب حملوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ ان تمام حملوں میں عسکریت پسند گروپ شامل تھے۔ خوش قسمتی سے ، کسی  بھی حملے میں ڈیموں کی سالمیت کو نقصان نہیں پہنچا۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ڈیم کی تباہی کے نتیجے میں خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ، جن میں ہلاکتیں ، بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان اور دیگر شدید طویل مدتی نتائج شامل ہیں اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کے دیگر شعبوں جیسے توانائی ، نقل و حمل ، اور پانی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ “جنوبی ایشیاء میں اس طرح کے حملوں سے زراعت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور اندرونی طور پر کافی تعداد میں افراد بے گھر ہوسکتے ہیں۔

تقویت شدہ یہ معاہدہ غیر ریاستی  عناصر کی جانب سے اہم انفراسٹرکچرز کیلیۓ بڑھتے ہوئے خطرے کا بھی واضح  اعتراف ہو گا۔ موجودہ معاہدہ غیر ریاستی خطرات کا احاطہ توکرتا ہے مگر صرف اس حد تک جب  وہ بلاواسطہ طور پر کسی ریاست کی طرف سے”حوصلہ افزائی” کے ذریعہ سامنے آئیں۔ تاہم ، یہ ان غیر ریاستی خطرات سے نمٹنے کے لئے نہیں ہے جس کی کسی ریاست کی طرف سے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی یا ہدایت نہیں دی جاتی۔ جوہری تنصیبات کو غیر ریاستی عناصر کی طرف سے درپیش خطرات کے پیش نظر ”جوہری دہشت گردی کے خلاف عالمی اقدام“ (جس میں ہندوستان اور پاکستان دونوں نے حصہ لیا تھا) کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ”نیوکلیئر سیکیورٹی سربراہی اجلاس“ بھی۔ دہشت گرد گروہوں کے ذریعہ دونوں ممالک میں حملوں کی تاریخ کے پیش نظر، جنوبی ایشیاء میں اس طرح کی دھمکیاں بھی خاص طور پرقابلِ تشویش ہیں۔ نئی دہلی اور اسلام آباد کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف ہشت گردوں سے تعلقات کی مد میں اٹھائے گئے سوالات کے باوجود دونوں ممالک کو خطے میں کہیں بھی جوہری تنصیبات اور دیگر متعلقہ اہم انفراسٹرکچر پر دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کی خواہش رکھنی چاہیئے۔

ایک ریاست کا کسی دوسری ریاست میں دہشت گرد حملوں کی روک تھام  اوراس میں سازبازی کے الزام سے بچنے کا سب سے سیدھا راستہ یہ ہے ممکنہ خطرات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ  کیا جاۓ، خاص طور پر اگر حملوں کا آغاز اس کی اپنی سرزمین سے ہونے کا امکان ہو۔ اگرچہ جنوبی ایشیاء میں اس طرح کے تبادلے کا ریکارڈ  داغدار ہے، لیکن اس حوالے سے مثال موجود ہے۔ ۲۰۰۶ میں پاکستان اور ہندوستان کے مابین جامع مذاکرات کے تحت ”انسداد دہشت گردی کے مشترکہ طریقہ کار“ کی ابتدا اس مقصد کے لئے کی گئی تھی، اور میڈیا رپورٹس وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے خطرات کے متعلق انٹیلی جنس کے اشتراک کی نشاندہی کرتی رہتی ہیں جو کہ زیادہ تر شہری اہداف کے خلاف ہوتے ہیں۔

ممکنہ خطرات کومؤثر طور پر کم کرنے کے لۓ لازم ہے کہ حملے کو روکنے کے لۓ وقت پر معلومات پہنچائی جائیں۔ اس  ضمن میں جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ بروقت معلومات کی فراہمی کی ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔ اس کے بجائے حکومتوں کو اس طرح کی معلومات کو پہنچانے کے لئے کوئی اور موزوں ذریعہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی ، مثال کے طور پر قومی سلامتی کے مشیروں کے مابین رابطہ چینل  قائم کرنا۔ یہاں نقطہ یہ ہے کہ اس طرح کی معلومات کو شیئر کرنے کے معمولات کے درمیان توازن تلاش کیا جائے. ساتھ ہی ساتھ ، زیرِ بحث خطرات کی اہمیت کے پس منظر کو بھی برقرار رکھا جائے۔

جدیدت کی راہ میں رکاوٹیں۔

یہاں تجویز کردہ طریقوں سے عدم حملہ معاہدے کی ترتیبِ نو کرنے سے جنوبی ایشیا میں ایک ممکنہ جوہری خطرے کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں یہ دونوں ریاستوں کے درمیان پہلے سے کئے گئے بین الاقوامی جوہری سلامتی کے وعدوں کو بنیاد بنائے گا۔ اس سے یہ سول سوسائٹی کو دیگر قسم کے اہم انفراسٹرکچر کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھنے کو یقین دہانیوں میں شامل کرے گا۔ لیکن اس انداز میں اضافے کو کئی سنگین رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔ یہاں پر میں صرف دو رکاوٹوں پر بات کروں گا، لیکن امکان ہے کہ رکاوٹیں اور بھی ہیں۔

عدم حملوں کے  معاہدے میں جان ڈالنے کے لئےان رکاوٹوں میں سب سے اہم  مسئلہ ”عدم اعتماد“ پر قابو پانا ہے، نہ صرف وسیع تر سیاسی ماحول کے حوالے سے ، بلکہ جس انداز سے آج تک اس معاہدہ پرعمل درآمد کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت تجزیہ کار برادری کے مابین، جو جنوبی ایشیاء کے اسٹریٹجک امور  پر نظر رکھتی ہے مانی جاتی ہے، کہ دونوں ریاستوں کے مابین ہر سال جن جوہری تنصیبی فہرستوں کا تبادلہ ہوتا ہے وہ نامکمل ہوتی ہیں۔ چونکہ یہ فہرستیں خفیہ رکھی جاتی ہیں، اسلیئے یقینی طور پر یہ بتانا قطعی ناممکن ہےکہ اس فہرست میں متفقہ تعریف پر اترنے والی تمام  تنصیبات شامل کی گئی ہیں یا نہیں۔ لیکن ہندوستانی اور پاکستانی تجزیہ کار مستقل طور پر استدلال کرتے ہیں کہ یہ فہرستیں جزوی ہیں، کچھ لوگوں کے مطابق ہر فریق نے ایک یورینیم کی افزودگی کی ایک ایک تنصیب چھوڑ رکھی ہے۔ یہ مسئلہ ۲۰۱۷ میں از سرِ نو اس وقت اٹھا جب پاکستانی اہلکاروں نے الزام لگایا کہ بھارت چالاکیری کے مقام پر خفیہ ایٹمی پلانٹ لگا رہا ہے. لیکن جب تک کہ اس پلانٹ میں ایٹمی مواد حیقیقتاً موجود نہیں ہوتا ، بھارت معاہدے کی تعریف کے مطابق اسے اپنی سالانہ فہرست میں شامل کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔ لیکن یہ واقعہ دونوں فریقوں کے مابین سلامتی مقابلے سے وابستہ ایک اوراہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ایٹمی قوتوں کی بقاء کو بہتر بنانے اور اس  کے ساتھ تسدید کو بڑھانے کے لۓ ہندوستان اور پاکستان نے جوہری  ہتھیاروں کے ذخیرے اور ترسیل کے ذرائع کو بکھیر کر رکھا ہوا ہے۔ بلاشبہ ہر ملک میں انٹیلیجنس ایجنسیاں دوسری طرف کے جوہری آپریشن کو سمجھنے اور اس کی پیش گوئی کرنے کے سلسلے میں مشتبہ جوہری ذخیرے کی نگرانی میں کافی کوششیں  استعمال کرتی ہیں۔ یہ ایسے اشاروں پر نظر رکھتی ہیں جو اسٹریٹجک فورسز کی تیاری یا انتباہ کی سطحوں میں تبدیلی کے متعلق ہوں، اور  ایسی کارروائیوں اور منصوبوں کے بارے میں معلومات بھی دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے، ہر ملک میں جوہری ہتھیاروں کے ادارے بلا شبہ اس قسم کی معلومات کو چھپانے کے لئے کافی کوششیں کرتے ہیں۔

خاص طور پر، جوہری ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو عدم حملہ معاہدے کے تحت واضح طور پر شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ۱۹۸۸ میں جب معاہدے پر بات چیت کی گئی تھی تو غالباً کچھ  ہی ایسی  تنصیبات موجود ہوں گی، لہذا معاہدے کے تعریفی حصے میں ان کو واضح طور پر شامل کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہو گی۔ آج ہر ملک میں ممکنہ طور پر ہتھیاروں کے کئی ڈپو اور اس سے متعلق آپریشنل مقامات موجود ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے لیۓ تابکاری  مادے کو ذخیرہ کرتے ہیں، جو زیادہ تر فوجی اڈوں پر یا اس کے قریب واقع ہیں۔ عدم حملہ معاہدے کے پیراگراف 1 (ii) جو “جوہری تنصیب” کی تعریف کرتا ہے، کا وسیع تر مطالعہ اس تعریف کے تحت ہتھیاروں کی ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو اس معاہدہ میں شامل کرنے پر زور دے گا: ”ایسی تنصیبات  جس میں تازہ یا شعاعی ایٹمی ایندھن یا مواد موجود ہو یا آبکار مادوں کا ذخیرہ کرنے والی  ایسی تنصیبات جن میں ایسا مواد ذخیرہ کیا جاتا ہو” لیکن یہ ناقابل تصور ہے کہ دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے والی تنصیبات جن کوآپریشنل ضرورت کے پیش نظر خفیہ رکھنے کی ضرورت ہے، کے مقام کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے ۔ در حقیقت، اس طرح کی سہولیات کا ہر ملک کےعسکری منصوبہ سازوں کی اعلی ترجیحی اہداف کی فہرست میں شامل ہونے کا امکان ہے۔

نظریاتی طور پر، عدم حملہ معاہدہ ایسے فوائد اس ریاست کے لئے پیدا کرتا ہے جو زیادہ شفافیت اختیار کرتی ہے، صرف اس حد تک کہ بتائی گئی تنصیبات پر حملہ نہیں ہو گا۔ لیکن کوئی بھی ریاست آپریشنل اہمیت کی تنصیبات کے سلسلے میں یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہوتی۔ عملی طور پر اس بات کا بھی زیادہ امکان ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں جوہری ہتھیاروں سے وابستہ تنصیبات کو خاص طور پر نشانہ بنایا جائے گا، چاہے وہ معاہدے کے دائرہ کار میں ہوں یا نہ ہوں۔

اعتماد کے فقدان کے نتیجے میں بننے والی نامکمل فہرستیں معاہدے کی ممکنہ افادیت کو محدود کر دیتی ہیں جس سے جوہری تنصیبات کو لاحق خطرات کو کم کیا جاسکے ، خطرہ کے بارے میں معلومات صرف فہرست میں موجود تنصیبات کے بارے میں ہی شیئر کی جا سکتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کوئی ریاست اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات سے متعلق کسی خطرے کے بارے میں معلومات ہونے کے باوجود اسے دوسری ریاست کے سامنے ظاہر نہ کرے، کیونکہ وه اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اسی طرح خطرے کے بارے میں مبہم اور سطحی معلومات فراہم کرنا جو کسی تنصیب سے مخصوص نہ ہوں اس کی افادیت کو محدود کرتی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں  موجودہ سکیورٹی تعلقات کو دیکھتے ہوئے اس کمی کو دور کرنے کے لئے بہت کم گنجائش ہے۔ شاید مستقبل میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین اتنا ٹھوس اعتماد پیدا ہو جائے کہ وہ جوہری تنصیبات کی مکمل فہرستوں کے تبادلے کریں- مثال کے طور پر، اگر وہ اسلحے پر قابو پانے کے عمل میں رابطے کرتے ہیں۔

 اس معاہدہ کے ماتحت  تنصیبات کوغیر ریاستی عناصر سے لاحق خطرات سے متعلق معلومات کے تبادلہ کوبھی کچھ خاص چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  پہلامسئلہ ذرائع اور طریقه کار کا ہے، جو ہمیشہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں معلومات اکٹھا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں؛ غیر ملکی مخالفین سے شیئر کرنا تو دورکی بات، وہ تو اپنی ریاست کی دیگر ایجنسیوں تک بھی یہ معلومات نہیں پہنچا رہی ہیں۔ اگر اس میں شامل معلومات دوسری ریاست کے اندر کام کرنے والے گروہوں کے متعلق ہوں (یعنی، پاکستان کی طرف سے بھارتی مجاہدین کے بارےمعلومات کا تبادلہ  یا یاہندوستان کی طرف سے پاکستانی طالبان کے بارے میں معلومات)، تولامحالہ ذرائع اور طریقوں سے متعلق سوالات زیربحث آئیں گے۔ ذرائع اور طریقوں کے حوالے سےسرحدوں کو عبور کرنے والے گروہوں کے متعلق معلومات کا تبادلہ زیادہ قابل عمل لگتا ہے۔ عوامی ریکارڈ سے یہ واضح نہیں ہے کہ ماضی کی مثالوں میں ان سوالات کو کس طرح نپٹایا گیا ہے ، لیکن اس طرح کے اشتراک کی حمایت کرنے کے لئے واضح طور پر ایک  پیمانہ موجود ہے۔

دوسری ریاست کے خلاف حملے کرنے والے پراکسی گروپس کو حاصل ریاستی حمایت سے متعلق اہم معاملات کو بھی  زیر بحث لانا ضروری ہے۔ ایسے گروپوں (خصوصاً لشکر طیبہ اور جیش محمد) کے لئے پاکستان کی حمایت اور اس سے پہلے کے حملوں میں ملوث ہونے کے  حوالے سے تفصیلی معلومات موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں حملے کرنے والے گروہوں، یعنی پاکستانی طالبان اور بلوچ علیحدگی پسندوں  کو دستیاب ہندوستانی تعاون کے بارے میں عوامی سطح پر نسبتاً کم معلومات اور تجزیہ موجود ہے، حالانکہ پاکستانی یقینی طور پر اس ضمن میں ہندوستانی مدد کو حقیقی سمجھتے ہیں۔ اگر کسی ایک ریاست کا اس طرح کے گروہوں کا کنٹرول حاصل ہے ، تو شاید وہ معاہدے کے احاطے میں دوسری ریاست میں موجود تنصیبات پر حملوں کو روک سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان گروپوں پر  یقینی کنٹرول موجود نہیں ہے، تو پھر باہمی معلومات کے تبادلے کا معاملہ کم از کم الزامات کو کم کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس سوال کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ معلومات حاصل کرنے والی پارٹی ان کے ساتھ کیسا سلوک کرے گی۔ مثال کے طور پر، ہندوستانی عہدیدار شاید پاکستان سے حاصل ہونے والی معلومات غالباً اس قیاس پر نظرانداز کریں کہ  یہ قابل اعتبار نہیں یا یہ دَر حقیقت کسی سپانسر کئے حملہ کے الزام سے بچنے کی کوشش کے طور پر پیش کی گئی ہوں۔

شہری تباہی سے گریز

ان رکاوٹوں سے قطع نظر، دونوں ریاستیں بخوبی فیصلہ کرسکتی ہیں کہ عدم حملے کے معاہدے کو جدید بنائے جانے کے ممکنہ فوائد در اصل درپیش خطرات اور چیلنجوں کی  نسبت کہیں زیادہ ہیں۔

آج، ہندوستان اور پاکستان دونوں بین الاقوامی سطح پر ذمہ دارجوہری ہتھیاروں کے حامل ریاست کی حیثیت کے طور پر  پہچانے جانے کی غرض سے اہم سفارتی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ دونوں خصوصی طور پر نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں داخلے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے جوہری سلامتی اجلاس کے عمل میں حصہ لیا۔ اور وہ ایٹمی ری ایکٹروں کے ایسے تعمیراتی منصوبوں میں مصروف ہیں جن میں غیر ملکی سپلائر شامل ہیں۔ اس طرح دونوں ریاستیں نہ صرف اپنی، بلکہ دوسری طرف کی جوہری تنصیبات میں کسی بھی واقع کو روکنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔

جوہری تنصیبات یا ڈیم پر حملے کے ممکنہ ماحولیاتی اور انسانیت سوز نتائج محدود سطح سے لے کر شدید ترین سطح تک ہوسکتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے تابکاری کے اثرات کی موجودہ ماڈلنگ اس طرح کے واقعے کے ممکنہ نقصانات کا کچھ اندازہ مہیا کرتی ہے، اگرچہ یہ ماڈلنگ بالکل مختلف مفروضوں  کے تحت کی گئی ہے۔ لیکن ایٹمی ری ایکٹر میں ہونے والے کسی حادثے کے نتیجے میں تابکاری کے اثرات ماحول میں کافی حد تک نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔  حادثہ کے واقعہ کے مقام اور اس وقت موجودہ ہواؤں کے رخ کی وجہ سے اس طرح کا اخراج دونوں ممالک کے آبادی کے مراکز اور زراعی علاقوں پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں آبادی کی گنجانی اور تابکاری  سے نمٹنے میں انتظامی چیلنج کے پیش نظر ایک بڑی انسانی تباہی کا قوی امکان موجود ہے۔ ایک بڑے ڈیم پر حملے سے بھی سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، تاہم وہ تابکاری کے اثرات کے بغیر ہو گا.

جوہری تنصیبات یا بڑے ڈیم پر حملہ ایک بڑے سیکورٹی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کے عہدیداروں اور سیاست دانوں  میں یہ رجحان ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والے کسی بھی حملے کے لئے دوسری ریاست میں مقیم یا اس کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس لئے یہ پیش گوئی کرنا غلط نہیں ہے کہ کسی پاکستانی ایٹمی مرکز یا دیگر اہم انفراسٹرکچر پرپاکستانی طالبان یا بلوچ عسکریت پسندوں کے حملہ کی صورت میں ایسے گروہوں کو ہندوستانی حمایت حاصل ہونے کا الزام لگایا جائے گا۔  بالکل اسی طرح جیسے کسی ہندوستانی انفراسٹرکچر پر لشکر طیبہ یا جیش محمد سے منسوب حملہ پر پاکستان کومورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ ایسے واقعے کی حقیقی طور میں حمایت یا ہدایت کی گئی تھی یا نہیں، یہ توقع کرنا عین مناسب ہے کہ متاثرہ ریاست یہی نتیجہ اخذ کرے گی، خواہ الزام کو منتقل کرنے کی غرض سے یا تجزیاتی تعصب کی وجہ سے۔

اس کے علاوہ، جیسا کہ جاپان میں فوکوشیما ڈایچی ایٹمی بجلی گھر کے حادثے کے بعد دیکھا گیا تھا ، ہندوستان یا پاکستان دونوں ممالک میں ایٹمی تنصیبات میں پیش آنے والا واقعہ دونوں ریاستوں میں جوہری توانائی کی پیداوار میں خلل ڈال سکتا ہے۔ایٹمی طاقت کو دی جانے والے بین الاقوامی اور ملکی وقار كو دھچکا لگے گا، جس کی وجہ سے غیر ملکی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے اور ان کے مالی اعانت کار  یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ آیا ممکنہ ذمہ داری اور ساکھ کو پہنچنے والا نقصان کا خطرہ مول لینا خطے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے قابل ہے؟ (اس کا اثر خاص طور پر چین پر پڑ سکتا ہے ، کیوں کہ بیجنگ یہ امید لگا رہا ہے کہ پاکستان میں اس کے جوہری ری ایکٹر تعمیراتی منصوبے اس کو ایک بڑی برآمدی منڈی کو فروغ دینے میں مدد فراہم کریں گے۔) اس طرح کے واقعے سے جوہری توانائی کے لئے مقامی سپورٹ کو بھی نقصان پہنچے گا، خاص طور پر مقامی سطح پر اس کا امکان بہت زیادہ ہے۔ جیسے کراچی اور کنڈانکلام میں ری ایکٹر کے منصوبے كو مقامی مخالفت کا سامنا۔ جوہری توانائی کی پیداوار میں کمی یا خاتمہ سے معاشی ترقی اور آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق تخفیف کے منصوبوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، نتیجتاً دونوں ریاستوں کے لئے زیادہ کاربن والے توانائی کے  ذرائع میں مزید سرمایہ کاری کرنا ناگزیر ہوگی، جس کے اثرات فضائی آلودگی پر بھی ہوں گے۔

غالباً دونوں ممالک کے عہدے دار کسی بھی  تنصیب پر جوہری واقعے کے ایسے اور دیگر ممکنہ نتائج کو سمجھتے ہیں جس سے ان کے جوہری سلامتی کے عمل کو تحریک ملنی چاہئے۔ اس معاہدے کو جدید بنانا دونوں ممالک کی طرف سے جوہری سلامتی کو مستحکم کرنے کے لئے دیے گئے بیانات  کی ساکھ میں اضافہ کرے گا۔ مثال کے طور پر، دونوں سربراہان حکومت ۲۰۱۰ ء سے ۲۰۱۶ ء تک دو سالہ منعقد ہونے والے جوہری سلامتی اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ ہر حکومت نے جوہری سلامتی اور اس سے متعلق موضوعات کی تربیت فراہم کرنے کے لئے ایک ”سینٹر آف ایکسیلنیس“ تعمیر کیا۔ اور دونوں ممالک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو متعدد جوہری سلامتی کی تربیت اور جائزہ سرگرمیوں میں شامل کرتے ہیں۔

تاہم، جوہری سلامتی کے طریقوں کو تقویت دینے کے عمل کے دوران ہندوستان اور پاکستان نے باضابطہ باہمی تعاون یا تبادلے سے گریز کیا ہے۔ دونوں ممالک کے عہدیدار اس طرح کے تعاون کی تجاویز کو انتہائی حساس یا سیاسی طور پر نا قابل عمل قرار دیتے ہوئے رد کر دیتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پوائنٹ اسکورنگ  کی غرض سے ”ذمہ دار ایٹمی ریاست“ کے بارے میں سوال کرنے کے لئے دونوں اکثر دوسرے کے جوہری سلامتی کے طریقوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بات قابل فہم اورجائز ہے کہ جنوبی ایشیاء میں دیرینہ سلامتی تناؤ کے پیش نظر ، ہر فریق کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ دوطرفہ جوہری سلامتی کا تعاون نادانستہ طور پر کمزوریوں کو افشا کرسکتا ہے۔ ایسے تعاون کو روکے ہوئے موجود اعتماد کی کمی کے جلد دور کئے جانے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم، جوہری سلامتی کے طریقوں کو  شیئر کرنے کے بجائے خطرات کو کم کرنے پر توجہ دینے کا عمل اس نازک صورت سے بچا سکتا ہے۔

نتیجہ:

جوہری جنگ سے گریز کرنا جوہری ہتھیاروں  سے مسلح ریاستوں کی اولین ذمہ داری ہے، اسکے علاوہ دیگر ایسے ایٹمی واقعات سے بچاؤ کرنا جو جنگ یا انسانی یا ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتے ہوں، بھی شامل ہیں۔ نیوکلیئر ہتھیار اب جنوبی ایشیاء میں اسٹریٹجک منظرنامے کی ایک خصوصی پہچان ہیں اور ایک طویل عرصے تک رہیں گے۔ لہذا اس وقت ہندوستان اور پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قومی طریق کار اور اپنے دوطرفہ تعلقات میں جوہری تنصیبات کے خطرات کو کم کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں۔ یہ تجویزاس ذمہ داری کو پورا کرنے کی سمت ایک مفید قدم ہوگا  جس کے تحت جوہری ہتھیاروں کی آمد سے قبل مذاکرات کے لئے اعتماد سازی کے لئے طے شدہ اقدامات کوجوہری ہتھیاروں کے بعد کے تناظر میں لایا جا سکے۔

اس ذمہ داری میں شہری آبادیوں کے لئے سنگین خطرات کو کم کرنے کا ایک وسیع تر اصول موجود ہے۔ جنوبی ایشیاء میں مشترکہ جغرافیہ کے پیش نظر، یہ محض ایک ”دوسرے سے متعلق“ اصول نہیں ہے، بلکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ سویلین تباہ کاریاں باآسانی سیاسی سرحدیں عبور کرسکتی ہیں۔ معاہدے کے دائرہ کار میں توسیع کرنا جس میں نہ صرف جوہری تنصیبات بلکہ دیگر اقسام کے بنیادی ڈھانچے کا احاطہ  کیا جائے اور اس بنیادی ڈھانچے کے لئے غیر ریاستی خطرات کو بھی تسلیم کرنے سے ہندوستان اور پاکستان کو دوطرفہ طرز عمل کے مفید اصولوں پر کار بند ہوں گے جو خطے کے لئے مجموعی طور پر اچھا ہو گا.

اگرچہ پرامید ہونا کسی پالیسی کی بنیاد نہیں ہوتی، تاہم یہ امید کی جاسکتی ہے کہ عدم حملہ معاہدہ جس کو یہاں جدید بنانے کی تجویز دی گئی ہے، وہ ایسی روایات کی معاونت کرے جو دوسرے میدانوں میں بھی پھیل جائیں۔ احاطہ کی گئی سہولیات کو درپیش خطرات کے بارے میں انٹلیجنس کی  محدود شیئرنگ دہشت گردی کے خلاف مذاکرات کو زیادہ نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔ اس سے اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے بہترین طریقوں پر بھی وسیع تر بحث شروع ہوسکتی ہے، اور شاید ان خطوط پر مزید باہمی تعاون کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ چھوٹے لیکن مفید اقدامات ہوں گے جو تیز تر جوہری مقابلہ کے بجائے کم کشیدگی کی راہ کی طرف راغب کرتے ہیں۔ یقیناً اس طرح کے اقدامات سے ہندوستان پاکستان سیکیورٹی مقابلہ ختم ہونے کا امکان نہیں ہے، یا آئندہ ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کی روک تھام بھی ممکن نہیں ہوگی۔ لیکن اہم انفراسٹرکچر اور وسیع تر معنی میں سول سوسائٹی کو درپیش خطرات کو دورکرنے کے لئے باہمی تعاون کی اہمیت کے پیشِ نظر ان اقدامات کو اپنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: India Water Portal via Flickr

Image 2: U.S. Embassy Pakistan, Tarbela Dam via Flickr

Posted in , , CBMs, Crisis, Deterrence, Escalation Control, India, India-Pakistan Relations, Nuclear, Nuclear Safety, Nuclear Weapons, Pakistan

Toby Dalton

Toby Dalton

Toby Dalton is co-director of the Nuclear Policy Program at the Carnegie Endowment for International Peace. An expert on nonproliferation and nuclear energy, his work addresses regional security challenges and the evolution of the global nuclear order. His research and writing focus in particular on South Asia and East Asia. From 2002 to 2010, he served in a variety of high-level positions at the U.S. Department of Energy, including acting director for the Office of Nuclear Safeguards and Security and senior policy adviser to the Office of Nonproliferation and International Security. He also established and led the department’s office at the U.S. Embassy in Pakistan from 2008-2009.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *