,

جنوبی ایشیا میں جوہری خطرے کی نوعیت کا جائزہ

کسی بھی دوسرے خطے کی طرح، جنوبی ایشیا میں بھی جوہری خطرے کی نوعیت بنیادی طور پر حریفوں کے مابین سیاسی تعلقات کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اس خطرے کے  ضمن میں یہ جوہری حریف تعاون کرسکتے اور کرتے بھی ہیں اور ایک دوسرے سے مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ سادہ ترین الفاظ میں ہم اس مقابلے اور تعاون کی شرح کو دو محوروں (ایکسز) پر ناپ سکتے ہیں۔

ایک محور جوہری ڈیٹرنس کی مضبوطی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو ناپتی ہے۔ وہ ہتھیار جو ڈرانے کے قابل نہیں وہ دشمن کو باز رکھنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ لہذا جوہری ڈیٹرنس کی اصل روح ڈرانا ہے۔ روایتی طور پر ڈیٹرنس کو اس طرح مضبوط کیا جاتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کو استعمال میں لائے جانے کا خطرہ یقینی رہے۔ یہ خطرات جس قدر یقینی ہوتے جاتے ہیں، جوہری خطرے کو ناپنے والی محور بھی اسی قدر افقی سمت میں بڑھ جاتی ہے۔

دوسری محور ان اقدامات کو ناپتی ہے جو اس یقین دہانی کی خاطر اٹھائے جاتے ہیں کہ سربراہان ان مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی جانب راغب نہیں ہیں۔ اس یقین دہانی کے لیے موثر سفارت کاری اور اختلافات کو حل کرنے پر رضامندی یا کم از کم انہیں بڑھنے سے روکے رکھے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے اقدامات جو سفارتی یقینی دہانی کا اشارہ دیں کم از کم کسی حد تک پہلی محور پر جوہری خطرے کے بڑھاوے کو روکے رکھتے ہیں۔

یقین دہانی کے موجب عناصر کی غیر موجودگی میں جوہری ہتھیاروں سے لیس دشمنیاں کسی ضابطے کے تحت نہیں رہتی ہیں۔ مقابلے کے رجحان کی حامل فضا میں ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے والے اقدامات جواباً متوازی اقدامات کا باعث بنتے ہیں۔ نتیجتاً جنم لینے والا مقابلہ حریفوں کو خود کو محفوظ تصور نہیں کرنے دیتا۔ تاہم وہ یا تو کسی مناسب موقع کی تلاش میں یا کسی نقصان سے بچنے کی خاطر مقابلے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔

جوہری طور پرمسلح حریفوں کے مابین مقابلے کی کیفیت کے باعث اشتعال انگیزی کا خطرہ قدرتی ہوتا ہے کیونکہ اگر باز رہنے کی دھمکیاں وسیع تر بدامنی کا پیغام نہ دیں تو ایسے میں وہ حریف کو باز رکھنا چھوڑ دیتی ہیں۔ یوں موثر جوہری ڈیٹرنس نہ صرف یکساں جوابی کارروائی بلکہ اس میں اضافے پر آمادگی پر مبنی  ہوتا ہے۔ چونکہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کا معاملہ بنا سزا کے ختم نہیں ہوسکتا، ایسے میں جوہری حریف کے پاس دو ہی صورتیں ہوتی ہیں کہ آیا وہ اشتعال انگیزی کو محدود رکھے یا پھر اشتعال انگیزی کی صورت میں حریف کے خلاف اس کا پلڑہ بھاری ہو۔ اس صورت میں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ضروری نہیں حریف ہم خیال بھی ہوں۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ محدود اشتعال انگیزی کو منتخب کرنے کی صورت میں بھی اس کے پس پشت زیادہ بڑی تباہی کا خطرہ موجود ہونا چاہیے۔

ان دونوں صورتوں کے شدید نوعیت کے مضمرات ہوتے ہیں، معتبر ڈیٹرنس کی خواہاں ریاستیں جن کی بمشکل پہچان رکھتی ہیں۔ جوہری اشتعال انگیزی کی صورت میں اسے محدود رکھنے میں درپیش مشکلات کے سبب جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کے ساتھ ہی وہ اصول زمین بوس ہوجاتے ہیں جن کی بنیاد پر جوہری ڈیٹرنس کو استوار کیا جاتا ہے۔ 

محدود سطح پر اشتعال انگیزی اور اشتعال انگیزی میں غلبہ وہ فکری تصورات ہیں جو کاغذوں اور جنگی منصوبہ بندی میں تو کام دکھاتے ہیں تاہم جوں ہی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے لیے مقرر حد پار ہوتی ہے اور جوابی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے، یہ بری طرح ناکامی سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کے ساتھ ہی ڈیٹرنس کا خاتمہ ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے بعد محض تباہی کے در وا ہوتے ہیں۔

چونکہ جوہری ہتھیاروں کے ذریعے قائم ڈیٹرنس نوعیت  کے اعتبار سے خطرناک ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حفاظتی انتظامات اور استحکام کیلئے اقدامات کی شکل میں یقین دہانیاں بھی اس کے لوازمات میں ہونے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے کا  ناختم ہونے والے دائرے کا سفر جاری رہتا ہے جس سے میدان جنگ میں ان کے استعمال اور نتیجتاً ناقابل حساب نقصان کے خطرات بڑھتے رہتے ہیں۔

اس ضمن میں یقین دہانی کی ایک شکل یکطرفہ تحمل ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے معاملے میں یہ حکمت عملی کام کرتی ہے تاہم جوہری طور پر مسلح حریفوں کے معاملے میں یکطرفہ تحمل بہت نایاب ہے۔ ایسے میں دیگر اشکال میں یقین دہانی کی ضرورت ہے اور موثرسفارت کاری درکار ہوتی ہے۔

ان امور کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیے ہم اس فرضی جدول کی پہلی محور کا جائزہ لیتے ہیں جو ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے والے اقدام کی نشاندہی کرتی ہے۔ چین، بھارت اور پاکستان عسکری ڈھانچے تعمیر کررہے ہیں۔ اس خطے میں تکون وجود میں آرہی ہے۔ نئی اقسام کے بیلسٹک اور کروز میزائل تیار کیے جارہے ہیں، ان کے تجربات ہو رہے ہیں اور ان کی تنصیب ہورہی ہے۔ بھارت اور پاکستان ایسے سامان کا انبار لگا رہے ہیں جس سے بم تیار کیا جاسکے۔ تین کی تینوں ریاستیں اپنے جوہری ہتھیاروں کی فہرست میں نمایاں اضافہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

 ان تین میں سے دو ریاستیں، چین اور بھارت، نہایت عقلمندی سے کام لیتے ہوئے خلا میں اپنے اثاثوں کی تنصیب کی جانب بڑھ رہی ہیں جسے روایتی جنگوں کے ساتھ ساتھ جوہری جنگ کی صورت میں بھی استعمال میں لایا جاسکے۔ پاکستان، اس مقصد کے لیے مشاہدہ کرنے والے کمرشل سیٹلائٹس اور چین پر انحصار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ میزائلوں کے خلاف دفاعی صلاحیت کے نظام  کو بعض مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس کے باوجود بھی بھارت ان کی تنصیب کررہا ہے جو کہ پاکستان کو بے چین کرنے کیلئے کافی ہے۔ اس ضمن میں چھپ کے وار کرنے کے قابل کروز میزائل اور انتہائی برق رفتاری سے سفر کرنے والے میزائل، میزائلوں سے دفاع کودرپیش چیلنجز میں مزید اضافہ کردیں گے اور کمزوریوں کو مزید بڑھاوا دیں گے۔

اس ضمن میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے تاہم مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس حوالے سے بڑی تعداد میں ثبوت موجود ہیں کہ جنوبی ایشیا میں ڈیٹرسنس کی مضبوطی کے رجحان کی لکیر مسلسل بڑھ رہی ہے۔ باوجود یکہ ان تین میں سے دو ریاستیں، چین اور بھارت، علی الاعلان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کا ڈاکٹرائن بیان کرچکی ہیں تاہم جیسے جیسے ان صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جوہری ڈیٹرنس کے جنگ میں استعمال کا پہلو مزید ابھرتا جاتا ہے۔

آئیں اب دوسرے محور کا رخ کرتے ہیں جو کہ یقین دہانی پر مبنی اقدامات کے بارے میں ہے۔ یقین دہانی پر مبنی سفارت کاری رسمی یا ظاہری، غیر محسوس یا پھر علی الاعلان، جوشیلی یا متوازن طور پر نافذ کی جاسکتی ہے۔ یقین دہانی کے انتہائی رسمی اور جوشیلے عناصر معاہدوں کی صورت میں پنہاں ہوتے ہیں۔

ماسکو اور واشنگٹن نے کسی  حد تک معاہدوں کے ذریعے سے اپنے لیے بہت کچھ حاصل کیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ قبول کیا کہ وہ سرسری طور پر یکساں قابلیت کے حامل ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان یا بھارت اور چین کے مابین دو طرفہ معاہدوں میں اس برابری کا تصور یا انہیں قبول کیا جانا بھی مشکل ہے۔ پاکستان اور بھارت یا چین اور بھارت کے  مابین اعداد و شمار پر مبنی دو طرفہ معاہدے کے لیے نہ صرف سرسری برابری یا قابل قبول درجہ بندی درکار ہوگی بلکہ ایک قابل قبول اور موثر نگرانی کا نظام بھی درکار ہوگا۔ یہ بڑی رکاوٹیں ہیں۔ چین، بھارت اور پاکستان کے مابین سہہ فریقی معاہدے کا بھی کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ تعداد کے اعتبار سے بھارت آگے نکل جائے گا اور کیونکہ سہہ فریقی جوہری مقابلوں میں عدم استحکام کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں دیگر معاہدوں کے ذریعے سہہ فریقی استحکام کے امکانات بھی زیادہ روشن نہیں ہیں۔ بموں کی تیاری کے لیے درکار سامان میں کمی کے لیے معاہدے کے امکانات بھی دم توڑ رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان نے  کمپری ہینسو ٹیسٹ بین ٹریٹی پر دستخط یا اس کی توثیق نہیں کی ہے جبکہ چین نے اس پر دستخط تو کیے ہیں تاہم اس کی توثیق نہیں کی۔ امریکہ توثیق کو متوازن بنانے کے لیے سلسلہ شروع کرسکتا ہے تاہم بائیڈن انتظامیہ کے دور میں کیپیٹل ہل میں موجود پارٹی تقسیم کے سبب یہ جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔

چونکہ روایتی عہد نامے ناکارہ دکھائی دیتے ہیں، تاہم حفاظت اور استحکام  کی شکل میں سفارت کاری کو پھر بھی اعتماد سازی اور جوہری خطروں میں کمی پر مبنی اقدامات کے ذریعے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ یہاں بھی صورتحال پریشان کن ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین یقین دہانی کی ان اشکال کے ضمن میں بامعنی تبادلوں کا ایک دہائی قبل کم و بیش خاتمہ ہوچکا ہے۔  چین اور بھارت کے مابین جوہری امور کے سلسلے میں ان کا کبھی آغاز ہی نہیں ہوا۔

معاملات کو یہ امر مزید ابتر بناتا ہے کہ ان متنازعہ سرحدوں پر بھڑکتی آگ کو کم کرنے کی خاطر سفارت کاری کو استعمال میں لانے کی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے مقابلے میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اورچین اور بھارت کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول دونوں جگہوں پر خطرات مول لیا جانا زیادہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔

سلامتی اور ڈیٹرنس کے بارے میں قومی خیالات پر بات چیت کے لیے ابلاغ کے ذرائع مردہ ہوچکے ہیں اور یہ صرف حکومتی ماہرین کے معاملے میں ہی  نہیں ہوا بلکہ غیررسمی غیر سرکاری بیٹھکوں کی صورت میں بھی ہوا ہے۔ ان امور پر تنگ نظری پر مبنی سوچ ہمیشہ خطرہ رہی ہے اور طاقت کبھی بھی نہیں رہی۔

نئی دہلی اور بیجنگ میں طاقت ور افراد حکمرانی کررہے ہیں۔ یہ اپنی سرحدوں پر تناؤ میں دیرپا کمی لانے کی طاقت رکھتے ہیں تاہم فی الوقت بیجنگ ایسا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ سرحدی جھڑپوں میں خاموشی عارضی ہے اور دونوں جانب انفراسٹرکچر میں بہتری کا معاملہ آگے بڑھتے ہی یہ دوبارہ شروع ہوجائیں گی۔

ادھر پاکستان میں ایک کمزور حکومت ہے جس کی جانب سے کشمیر میں لاک ڈاؤن کاسلسلہ برقرار رہنے تک بھارت کے ہمراہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیئے کوئی اشارہ دیے جانے کا امکان نہیں۔ پاکستان کی جانب سے یہاں انسانی حقوق کی پامالی کی جانب توجہ دلانے کی کوشش، چین کے ہاتھوں یوغور کی عوام کی لکھی گئی قسمت کے معاملے پر اس کی پراسرار خاموشی کے عین متصادم ہے۔

جیسے جیسے پاکستان کے چین اور بھارت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات گہرے ہورہے ہیں، ویسے ویسے ایل او سی کے ساتھ ساتھ لڑائی بھی گھمبیر ہورہی ہے۔ مسلم اکثریتی کشمیر کی طرح یہاں بھی صورتحال فطری طور پر غیر مستحکم ہے اور تنازعوں کے حوالے سے انتہائی حساس بھی۔ نئی دہلی تعلقات کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتا دکھائی نہیں دیتا اور ہر نئے سرحدی تنازعے میں گزشتہ کی نسبت زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے میں کوشاں دکھائی دیتا ہے۔

 جنوبی ایشیا میں خطرے کی تصویر کشی کرنے والی دونوں محور نہایت خطرناک منظر پیش کرتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اور چین اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات انتہائی خراب شکل میں ہیں۔ سفارتی سطح پر یقین دہانی کے لئے نئے اقدامات کے معمولی امکانات ہیں، ایسے میں دوسرے کو باز رکھنے کے لیئے صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطرات میں اضافہ بڑھ رہا ہے۔ بہرصورت دونوں متنازعہ سرحدوں پر نئے تصادم رونما ہوں گے۔ جوہری طور پر مسلح حریفوں کے مابین دو محدود جنگیں پہلے ہی ہوچکی ہیں۔ ان میں سے ۱۹۶۹ میں چین اورسویت یونین کے مابین جبکہ دوسری ۱۹۹۹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان۔ تیسری کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

ماضی کے بحران، سرحدی جھڑپیں اور محدود جنگیں بنیادی طور پر روایتی طاقتوں پر منحصر رہی ہیں اور انہیں تنازعوں کے بڑھتے ہی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ جس وقت یہ بحران جنم لیتے ہیں، تب جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں ڈاکٹرائن اور منصوبے مدد کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، الٹا یہ اتاہ گہرائیوں کا پتہ دیتے ہیں۔

باوجود یہ کہ پاکستان کے عسکری ادارے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کے ڈاکٹرائن سے علی الاعلان وفاداری ظاہر کرتے ہیں تاہم اس حوالے سے اشارے موجود ہیں کہ پاکستان کے عسکری ادارے اس حقیقت کا ادراک کرچکے ہیں۔ اس ایک قیاس کی بنیاد پر بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ چین اور بھارت اگرچہ جوابی استعمال کے لیئے خود کے لیے امکانات میں اضافہ کررہے ہیں تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ استعمال میں پہل کے ڈاکٹرائن کو ناکارہ کے طور پر قبول کرچکے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے مابین اور چین اور بھارت کے مابین حفاظت اور استحکام پر مبنی اقدامات کی غیرموجودگی بجا حقیقت اور انتہائی و فوری اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ جوہری حریف نہ صرف جنوبی ایشیا  بلکہ دیگر خطوں میں بھی جہاں جہاں موجود ہیں، جوہری ہتھیاروں کی ذمہ دارانہ تحویل کے حوالے سے درکار لوازمات کو دیکھنے سے قاصر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے حفاظتی تدابیر اور استحکام کے لیے اقدامات کو نظرانداز کرتے ہوئے، ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے والے اقدامات پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ سفارتی یقین دہانیوں کی عدم موجودگی میں ڈیٹرنس فقط ایک برے انجام کی حامل کہانی کی مانند ہے۔

جوہری ہتھیاروں کی ذمہ دارانہ تحویل کی اصل نشانی  جنگ میں  ان کا استعمال نہ کیا جانا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے تجربوں سے جڑے بدنما داغ ان کے عدم استعمال کی روایت کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہی روایات یقین دہانی کے لیئے دیگر اقدامات کی تشکیل کے لیئے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ایسے وقت میں کہ جب جنوبی ایشیا میں سیاسی تعلقات ناخوشگوار اور سفارت کاری غیر فعال ہے، جنگ کے میدان میں جوہری ہتھیاروں کو استعمال نہ کرنے کی ۷۵ برس قدیم روایت کو جاری رکھنا اور اب دو دہائیوں سے زائد تجربے نہ کرنے کی  روایت، انتہائی مرکزی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Public.Resources.Org via Flickr

Image 2: Anadolu Agency via Getty Images

Posted in , , BMD, China, Deterrence, Fissile Material, India, No First Use, Nuclear Security, Nuclear Weapons, Pakistan

Michael Krepon

Michael Krepon co-founded the Stimson Center in 1989. He served as Stimson’s President and CEO until 2000. He was appointed the University of Virginia’s Diplomat Scholar, where he taught from 2001-2010. He is the author and editor of twenty-two books, most recently Off Ramps from Confrontation in Southern Asia and The Lure and Pitfalls of MIRVs: From the First to the Second Nuclear Age. He worked previously at the Carnegie Endowment, the State Department’s Arms Control and Disarmament Agency during the Carter Administration, and on Capitol Hill. He received the Carnegie Endowment’s award for lifetime achievement in non-governmental work to reduce nuclear dangers in 2015.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *