جوہری جنوبی ایشیا کو جاننے کےلئے چار ستونوں پر مشتمل کورس

جنوبی ایشیا (پاکستان اور بھارت) جوہری صلاحیت کا حامل کیونکر ہوا، اس بات کو سمجھنے کےلئے  سٹمسن سینٹر کا چار حصوں پر مشتمل  آن لائن کورس “نیوکلئیر ساؤتھ ایشیا: اے گائیڈ ٹو انڈیا، پاکستان اینڈ دا بمب”  ایک بہترین  موقع ہے۔ اس کورس کا پہلا اور دوسرا حصہ بھارتی اور پاکستانی سکالرز کے خیالات اور نظریات پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں تزویراتی ماہرین ان دلائل و عقائد کو بیان کرتے ہیں کہ جنکی وجہ سے دونوں ملکوں نے جوہری منصوبے کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں میں کن حالات کو مدِ نظر رکھ کر ترقی و تبدیلی کی جا رہی ہے اور ان کا ترسیلی نظام کیا ہے۔ اگلے حصے میں مغربی سکالرز جیسے ڈاکٹر سکاٹ اور جارج پرکووچ ایک قدم آگے جاتے ہوئے جنوبی ایشیا کے جوہری ہتھیاروں سے لیس ہونے کے پیچھے کارفرما نظریات اور متغیرات کا ذکر کرتے ہیں۔ اور پھر آخر میں مائیکل کریپون اور ڈاکٹر سمیر لالوانی انتہائی اہم یعنی انسانیت کے پہلو کو سامنے رکھتے ہیں اور برصغیر میں جوہری ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو موئثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔

جوہری معاملات میں نظریاتی اور عملیاتی طور پر تربیت یافتہ ہونے کے باعث مجھے اس بات کا یقین ہوا کہ جنوبی ایشیا میں جوہری معاملات سے متعلق رائے دہی ایک عام بات تھی۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کی یہ کورس نہ صرف معلوماتی ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد ہمیں جوہری ہتھیاروں کی حساس نوعیت اور تباہ کن اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔ بنیادی نکتہ جو سبق نمبر۱ .۲ میں مائیکل کریپون نے اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ امریکی دانشوروں برنارڈ بروڈی، تھامس شیلنگ، اور روبرٹ میکنامارا    کا ‘ ڈیٹرنس’ سے متعلق خیال (ماڈل) بلاشبہ قابلِ بحث ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ بعض مواقع پر اصل صورتحال سے  مماثلت نہیں رکھتا۔ کیونکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کشیدہ حالات  کے دوران بظاہر سنجیدہ نظر آنے والے کھلاڑی ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنائیں گے کہ جس سے خطرات کو بڑھنے سے روکا جا سکے گا۔ مثال کے طور پر ۱۹۸۳ میں پیش آنے والے “سٹینی سلیَو پَیٹروو   افئیر” کویاد کر کے  نسلِ انسانی  ہمیشہ پریشان ہو گی۔ چونکہ یہ  پیٹروو کی وجدانی کیفیت یا قدرتی  ردِعمل تھا کہ جس نے اُسے ایک بھیانک فیصلے سے باز رکھا اور دنیا ایک مہلک جوہری تصادم سے بچ گئی۔

میرے خیالات پر سبق نمبر  ۵.۸ مہر ثبت کرتا ہے کیونکہ اس میں مائیکل کریپون  ۱۹۹۹ میں کارگل کشیدگی کے بعدکے ‘سٹیٹس کو’  کی بات کرتے ہیں۔جہاں پاکستان نے کارگل  بحران سے علاقائی سٹیٹس کو کو بدلنے کی کوشش کی وہیں بھارت بھی اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ مزید برآں جب پاکستان نے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کو بھارتی ‘ کولڈ سٹارٹ’   کا توڑ سمجھا تو بھارت کا حالیہ وقتوں میں سرجیکل سٹرائیک (محدود حملے) کے ذریعے پاکستان کوباز رکھنے کا منصوبہ بھی زیادہ سود مند ثابت نہ ہو سکا۔ بتایا گیا کہ سرحد  پار پاکستانی لانچ پیڈز پر محدود حملے  ایک مظبوط  نفسیاتی جواب  ثابت ہوں گے تاہم اس نےمحض برصغیر میں  پہلے سے موجود جنگی امکانات اور وادیِ کشمیر سے سرحد پار مداخلت میں  اضافے کے امکانات کو ہی جنم دیا ہے۔

ایسا طالبعلم جو جوہری جنوبی ایشیا  سے متعلقہ معاملات کو صحیح معنوں میں سمجھنا چاہتا ہے اس کےلئے یہ کورس ایک جامع پیکج ہے۔ تا ہم میں نیل جوئوک کے اس نقطہ نظرسے اتفاق نہیں کرتا کہ چونکہ بھارت کا جوہری پروگرام سویلین کنٹرول میں ہے اس لئے درست ہے جبکہ پاکستانی جوہری پروگرام چونکہ فوج کے زیر سایہ ہے اسلئے غیر یقینی ہے۔ کورس کے آخری تجزیوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ (پاکستان کا) سٹریٹیجک پلانز ڈویژنز     اُن ماہرین پر مشتمل ہے جو جوہری ڈاکٹرائن سے بھی واقف ہیں اور بمب کی سائنس  اور لانچ سسٹم سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ بھارتی جوہری پروگرام اسکے برعکس ہے۔ ایک حالیہ واقعہ  میں بھارتی حاضر سروس وزیر دفاع  نے  بھارت کے جوہری ہتھیاروں کو استعمال میں پہل نہ کرنے پر سوال  اٹھایا۔ بعد میں انکے مستعفی ہو جانے سے بھارتی سویلین قیادت کے جوہری بحث پر اختیار اور سنجیدگی پر سوالیہ نشان ثبت ہو گیا ہے۔ مجھے امید ہے سٹمسن سینٹر ایسے مسائل کو آئندہ کے اسباق میں شامل کرے گا۔

ایڈیٹر نوٹ؛

نیوکلئیر ساؤتھ ایشیا: اے گائیڈ ٹو انڈیا، پاکستان اینڈ دا بمب”  سٹیمسن سینٹر کے جنوبی ایشیا پروگرام  کی طرف سے تیار کردہ آن لائن مفت کورس ہے۔ کورس سٹیمسن سینٹر کےنیوکلئیر آغاز کار کا حصہ ہے جو پاکستان، بھارت اور دیگر خطوں کے ابھرتے ہوئے تزویراتی ذہنوں کو برصغیر میں جوہری ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے مقابلے اور خطرات سے آگاہ کرنے کےلئے ہے۔ اس میں  پاکستان ،بھارت  اور امریکہ کے ۸۰ سے زائد  سکالرز،بشمول سابقہ سینئیر سفارتکاراور فوجی افسران،  کے ویڈیو انٹرویوز  بھی شامل  کئے گئے ہیں۔ اس سیریز میں  ساؤتھ ایشینز وائسز (ایس-اے-وی) کے مضمون نگار محمد دائم فاضل، پراتیک جوشی،ستارہ نور اور مونیش تورنگبام  نے کورس کا جائزہ لیا ہے اور تعلیمی  افادیت  پر روشنی ڈالی ہے۔ مکمل کورس پڑھنے کےلئے یہاں کلک کریں۔ کورس میں داخلہ کےلئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں۔ مزید معلومات اور تفصیلات کےلئے ہمارے  فیس بک، ٹوئیٹر  پیج ‘ نیوکلئیر لرننگ’ اور یو ٹیوب چینل سبسکرائب کریں۔

***

Click here to read this article in English.

Image: Public.Resource.Org via Flickr

Posted in , India, Nuclear, Nuclear Weapons, Pakistan, SOOC Series

Prateek Joshi

Prateek Joshi

Prateek Joshi is pursuing a Master of Arts degree in International Relations from South Asian University (a SAARC nations project), New Delhi. He's also an intern analyst with geo-strategic analysis firm Wikistrat. His research interests include Indian foreign policy, Pakistan's domestic politics, and historical and contemporary issues of Gilgit-Baltistan. His dissertation is a critical cartographic analysis of Gilgit-Baltistan with the mapping of the Siachen Glacier by the British as a case study. He's a professional tabla player, having performed in nationally-televised shows.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *