pakistan_missile_technology_aircraft_weapon_defence_rocket_launch_rocket-513025-2-1095×616

پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربوں کے بعد سے گزشتہ ۲۳ برس کے دوران اپنے جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیے؛ تاہم انہوں تمام عسکری بحران بشمول ۱۹۹۹ کے کارگل تنازعے کے ایک دوسرے کو جوہری حملوں کی متعدد دھمکیاں دی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں جوہری احتراز کی نسبت جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں تحمل زیادہ کمزور ہے کیونکہ احتراز (nuclear taboo) کے ساتھ بھاری قیمت اور نتائج جڑے ہوتے ہیں۔ سیاسی گفت و شنید اور سرحد پر جاری کشیدگی کی عدم موجودگی میں دونوں اطراف کی سیاسی قیادت مستقبل میں تحمل برقرار رکھنے کے ضمن میں ایک مشکل مقام پر کھڑی ہے۔ جنوبی ایشیا میں محدود جوہری استعمال بھاری پیمانے پر نقصان، ہلاکتیں، قحط، تباہی اور معاشی ابتری کا باعث ہوگا اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بیماریاں چھوڑ جائے گا۔ لہذا، جنوبی ایشیا میں جوہری تحمل اور جوہری احتراز دونوں کی نزاکت پر سوال اٹھانا لازم ہے۔

یہ مضمون نینا ٹینن والڈ کے خیال آفریں تحقیقی مقالے کے ردعمل میں جنوبی ایشیا میں جوہری تحمل/احتراز پر چھڑنے والی بحث کا جائزہ لیتا ہے۔ میری دلیل یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری عدم استعمال عسکری یوٹیلیٹی اصول پر مبنی عارضی جوہری تحمل ہے۔ ڈیرل جی پریس، سکاٹ ڈی سیگن اور بنجامن ویلینٹینو ملٹری یوٹیلیٹی اصول کے تصور کو ”نتائج کی منطق“ کے طور پر بیان کرتے ہیں جہاں جوہری عدم استعمال مقاصد کی بنیاد پر اور ہتھیار کی فوری کارکردگی، حکمت عملی یا چال پر منحصر ہوتا ہے۔ میں مزید یہ دلیل دیتی ہوں کہ اگر جوہری تحمل (جو پاکستان اور بھارت میں فی الوقت فیصلہ سازی کی سطح پر ہے) جوہری احتراز (ریاست اور سماج دونوں سطح پر) میں تبدیل ہوسکے تو ایسے میں  بڑی حد تک امکان موجود ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کا عدم استعمال جاری رہے۔  جوہری تحمل کو مضبوط بنانا ممکن ہے اگر قیادت جوہری طاقتوں کے نفاذ کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے، امکانات کو وسعت دے اور خطرات میں کمی اور اقدامات برائے تخفیف ہتھیار کے لیے کوششیں کرے۔ تاہم کمزور جوہری احتراز،  تحمل کو مزید کمزور کردیتا ہے کیونکہ سربراہان جوہری قوم پرستی اور دھمکیوں پر مبنی بیان بازی کے ماحول میں اشتعال انگیزی کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔ اس امر کو دیکھتے ہوئے کہ دونوں ممالک اپنی تزویراتی طاقتوں اور جوابی کارروائی کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں، عسکری بحران کا دوبارہ پیدا ہونا جوہری تحمل کو امتحان میں ڈال دیتا ہے اور جنوبی ایشیا میں احتراز کے فلسفے کو چیلنج کردیتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں جوہری احتراز پر بحث

نینا ٹینن والڈ جو جوہری احتراز پر چوٹی کی ماہر ہیں، اپنی تازہ ترین تحریر ”عدم استعمال کے ۲۳ برس: کیا جوہری احتراز پاکستان اور بھارت کو باز رکھتا ہے؟“ میں سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا جنوبی ایشیا میں جوہری عدم استعمال کا رواج روایتی ”وزن“ رکھتا ہے۔ ٹینن والڈ اس امر کا جائزہ لیتی ہیں کہ کیسے تخفیف اسلحہ کو تقویت بخشنے اور جوہری ہتھیاروں کے خلاف عالمی تحاریک کی حمایت کے ذریعے امریکہ اور سویت یونین کے درمیان جوہری احتراز وجود میں آیا جس نے باہمی ڈیٹرنس کو نافذ کیا۔ جنوبی ایشیا کے بارے میں ان کے نتائج مختلف ہیں کیونکہ جیسا کہ وہ تحریر کرتی ہیں کہ ”دونوں ریاستوں میں دوبارہ انگڑائی لیتے قوم پرست اور مذہبی جذبات تنازعے کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں۔“ ان کے مطابق وقت کے ساتھ احتراز مضبوط ہوتا ہے، لیکن جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں میں  موروثی طور پر قدرے کم طاقتور ہوتا ہے۔“ ٹینن والڈ لکھتی ہیں کہ جنوبی ایشیا میں احتراز کے بارے میں اگرچہ ایک بیانیہ موجود ہے لیکن یہ احتراز بذات خود نازک ہے۔

میں جوہری احتراز کی نزاکت پر ٹینن والڈ کی معلومات جو بھارت اور پاکستان میں افواج کی صلاحیت و ڈاکٹرائن نیز مفکرین اور قیادت کی جانب سے ”احتراز پر بالواسطہ اپیلوں“ کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہیں، ان سے عمومی اتفاق کرتی ہوں۔ تاہم قیادت کے بیانات کو بطور ثبوت دیکھنا قابل بحث ہے کیونکہ اول تو یہ کہ ایسے بیانات ان جوہری دھمکیوں کے مقابلے میں کم ہیں جن کا دونوں فریقوں کے درمیان تبادلہ ہوچکا ہے۔ دوئم، سیاسی بیان بازی کی حقیقت  اسے ”احتراز“ پر بطور دلیل ثابت کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ ایک طرف جہاں بہت سے پاکستانی معلمین اور سیاست دان احتراز کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں، وہیں زیادہ تر علمی بحث دفاعی پیداوار و خریداری نیز جارحانہ جوہری پوسچر اپنانے کی حمایت کرتی ہے۔ مفکرین اور ماہرین قابل بھروسہ ڈیٹرنس کے اشاریوں کا رخ جارحانہ پوسچر کے حق میں کرتے رہتے ہیں جو کہ تحمل/ احتراز کی نفی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ ٹینن والڈ نے حوالہ دیا ہے کہ ظفرجسپال نے لکھا ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ جوہری احتراز پر یقین رکھتی ہے۔“ تاہم وہ یہ بھی تجویز دیتے ہیں کہ ”پاکستان انتہائی اندر گھسنے کی صلاحیت رکھنے والے طیاروں کی مدد سے جوہری حملہ کرسکتا ہے“ یا ”اہداف پر حملہ کے لیے  سپر سانک کروز میزائلوں کو استعمال میں لاسکتا ہے تاکہ دشمن کے ریڈاروں کو چکما دے سکے۔“ احتراز کی حیثیت کی تصدیق اس وقت اور بھی مشکل ہوجاتی ہے جب میجر جنرل آصف غفور ایک طرف یہ کہیں کہ ”کوئی ہوشمند ملک اس کے استعمال کی بات نہیں کرے گا“ اور دوسری طرف یہ بھی کہیں کہ ”اگر بھارت نے ایک سرجیکل اسٹرائیک کی تو پاکستان دس کرے گا۔“ یہ بیان پاکستان کی ”کوئڈ پرو کو پلس“ حکمت عملی کو بیان کرتا ہے اور یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ یہ  کتنا ”پلس“ ہوگا؟ کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ”بھارت کے جتنی طاقت اور اس میں تھوڑا سا اور اضافہ“ جیسا کہ ٹینن والڈ نے نشاندہی کی یا پھر اس کا مطلب مبہم ردعمل ہے جن میں بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کا محدود استعمال کا امکان بھی شامل ہے؟ پاکستان کا جوہری ڈاکٹرائن اور طاقت پر مبنی پوسچر ”جوہری احتراز“ کے تصور کی نفی کرتے ہیں اور جوہری تحمل کو کمزور کرتے ہیں۔ فل اسپیکٹرم ڈاکٹرائن کا مقصد بھارت کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے ابہام، خوف اور خطرے کی فضا میں اضافہ کرنا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے حوالہ دیا ہے کہ میدان جنگ کے لیے جوہری ہتھیار بھارت کو جنگ کے بارے میں دو بار غور کرنے پر مجبور کردیں گے اور ”اگر جنگ کو روکا نہ جاسکا تو پھر بلاشبہ باہمی تباہی پر مبنی ایک جنونی ڈاکٹرائن عمل میں آجائے گا۔“

سوئم، یہ غیرواضح ہے کہ ایسی گفتگو کیسے اور کیونکر ”پاکستان کو محتاط اوراور ذمہ دار ریاست“ کے طور پر پیش کرنے میں مددگار ہوگی، جیسا کہ ٹینن والڈ کے تحقیقی مقالے میں تجویز کیا گیا ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے نہ صرف مغربی مفکرین کی جانب سے ”عمومی“ اور ”ذمہ دارانہ“ جیسے الفاظ کے لیے طے کردہ معیار اور معنی کی مخالفت کی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ”جوہری عدم پھیلاؤ میں جانبدارانہ رویوں“ نے پاکستان کی ”جوہری عدم پھیلاؤ کے قواعد پر عمل درآمد میں نیک نیتی“ کو نظرانداز کیا ہے۔ اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنے جوہری بیانیے کے ذریعے خود کو ”متحمل“ جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کے طور پر پیش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے؟ پاکستان کی ڈیٹرنس کی منطق ”جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کے عزم“ پر مبنی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل قدوائی نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ ”یہ پاکستان کی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کی صلاحیت ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی برادری جنوبی ایشیا میں دوڑی چلی آئی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر آگ بھڑکنے سے روک سکے۔“

جنوبی ایشیا میں اگرچہ جوہری خطرات بھارت اور پاکستان کی جانب سے جوہری تحمل پر عمل درآمد کا سبب ہوسکتے ہیں تاہم اصل آزمائش یہ ہے کہ اگر بھارت، پاکستان کے تحمل کو ”جوہری دھوکہ“ کہنا برقرار رکھتا ہے تو ایسے میں پاکستان ”احتراز“ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے  صحرا یا سمندر میں چھوٹے جوہری دھماکے کے ذریعے بھارت کو آئینہ دکھا سکتا ہے۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ مضمون ”جوہری قواعد؟ پاکستان نے کیوں اپنے جوہری ہتھیار ابھی تک استعمال نہیں کیے“ میں تذکرہ کیا تھا کہ  پاکستان کے لیے اپنے دفاع میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال اخلاقی، منطقی اور قانونی اعتبار سے جائز ہوگا گو کہ یہ جوہری احتراز کی رسم کو توڑ دے گا۔ جوہری ہتھیاروں کا محدود استعمال عزم کو ظاہر کرے گا اور خطے میں جامع ڈیٹرنس کو دوبارہ قائم کرے گا۔ اگر سرحد اور/ یا لائن آف کنٹرول پر بھارت کی خلاف ورزیوں کے سبب بحران میں اضافہ جاری رہتا ہے، تو ایسے میں پاکستان خطے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے والا پہلا ملک بن سکتا ہے۔

پلوامہ – ایک نیا معمول؟

پلوامہ بحران جوہری تحمل، احتراز یا ڈیٹرنس میں استحکام کے ضمن میں زیادہ امید افزاء واقعہ نہیں ہے۔ جوہری ڈیٹرنس کے حامی یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر بحران، اشتعال انگیزی کے رجحانات میں بتدریج شدت لارہا ہے۔ ۲۰۰۲ میں فوجوں کے آمنے سامنے آنے پر دونوں ممالک نے ایل اوسی یا بین الاقوامی سرحد کو پارنہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ۲۰۰۸ میں سیاسی اور سفارتی جھگڑوں نے جامع مذاکرات اور اقدامات برائے بحالی اعتماد کی کوششوں کو ختم کردیا۔ ۲۰۱۶ کے اڑی حملے میں بھارت نے ایل او سی کے دوسری جانب دہشتگردوں کے اڈوں پر مبینہ طور پر سرجیکل حملے کیے۔ ۲۰۱۹ کے پلوامہ بحران میں بھارت کے جنگی طیاروں نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ میں حملے کے لیے ایل اوسی پار کی اور بعد ازاں دعویٰ کیا کہ ”حملوں میں ۳۰۰ دہشتگرد مارے گئے۔“ سیٹلائٹ سے لی گئی ہائی ریزولوشن تصاویر نے دعووں کی تردید کی اور سامنے آیا کہ وہ مدرسہ جسے اپنے ”جنگی طیاروں سے نشانہ بنانے“ کا بھارت نے دعویٰ کیا تھا، وہ ”اب بھی وہیں تھا۔“ وزیراعظم مودی کی جانب سے  بھارتی فضائیہ کا پائلٹ جو بھارتی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان فضائی لڑائی کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا، اسے رہا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کیخلاف روایتی میزائل استعمال کرنے کی دھمکی کے بعد بحران مزید بڑھ گیا۔

پلوامہ اشتعال انگیزی کو جو چیز گزشتہ بحرانوں سے مختلف بناتی ہے وہ پاکستانی فوج کی تیاری اور خود سے روایتی طور پر برتر دشمن کو ردعمل دینے کیلیے اولاالعزمی تھی۔ اس نے بھارت کے ”مارو اور بھاگ جاؤ“ جنگی منصوبے کو چیلنج کیا اور پاک بھارت اشتعال انگیزی کے میدان میں ایک  ”نئے معمول“ کو قائم کیا۔ جنوبی ایشیا کے مستقبل کے بحران مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر زیادہ خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ اول یہ کہ مستقبل کے بحران میں بھارت مگ ۲۱ کو گرائے جانے کا بدلہ لینے کی کوشش کرسکتا ہے تاکہ ”علامتی فتح“ حاصل کرسکے۔ بھارتی تجزیہ کار اور ذرائع ابلاغ عدم اطمینان کا شکار تھے اور انہوں نے ”غیرمبہم فتح“ نہ ہونے کے لیے بھارتی قیادت کو قصوروار ٹھہرایا۔ مستقبل کے بحران میں اگر بھارتی فوج نے ”مدرسے“ کے بجائے پاکستان کے اگلے مورچوں کو نشانہ بنایا تو وہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ سابق بھارتی فضائی چیف بی ایس دھانوا نے بالاکوٹ کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ ”بھارتی فوج کا رویہ بہت جارحانہ تھا۔۔۔ ہم ( پاکستان کی) اگلی برگیڈز کو مٹا دینے کی قوت رکھتے تھے۔“ دوئم، خطرات میں کمی اور جوہری تحمل کو یقینی بنانے کے لیے جنوبی ایشیا میں تیسرے فریق (امریکہ) کی جانب سے ثالثی کی عدم  موجودگی ہے۔  ماضی کے بحرانوں کے برعکس، پلوامہ بحران میں عالمی برادری نے بھارت کی جانب سرحد پار اشتعال انگیزی کی مذمت نہیں کی۔ درحقیقت، امریکہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے ”بھارت کے اپنے دفاع کے حق“ کی حمایت کی تھی۔ سوئم، پاکستان کے امریکہ کے ساتھ  مضبوط تعلقات برقرار رکھنے سے  وابستہ براہ راست مفادات کم ہوچکے ہیں، جو ماضی میں جوہری تحمل کی پالیسی برقرار رکھنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال چکا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کا متوقع مکمل انخلاء اور معاشی و عسکری امداد کی معطلی اپنے پیچھے ایک ایسا سفارتی خلاء چھوڑتی ہیں جو ایک ”غیرجانب دار“ تیسرے فریق کے طور پر ڈیٹرنس کے استحکام کی نگرانی کرسکے۔ بھارت کے ساتھ اختلاف کی بدلتی حرکیات کے سبب چین کی جانب سے اس کردار کو نبھانے کے زیادہ امکانات نہیں ہیں۔

سب سے آخر میں یہ کہ بھارت آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے کی منسوخی کے بعد جموں اور کشمیر کو بطور یونین مرکزی حکومت کے زیرنگرانی لے آیا ہے۔ یہ پالیسی ایل اوسی کے کردار پر سوال کھڑا کرتی ہے۔ ایل او سی پر اگرچہ سیزفائر کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں تاہم قبل اس کے کوئی بڑا تنازعہ بین الاقوامی سرحد تک پھیل جائے، ان میں کمی آجاتی ہے۔ کیا  مذکورہ سیاسی اقدام بھارتی فوج کی ”حملے“ اور نتیجے میں ردعمل کے امکانات کے بارے میں نقطہ نگاہ پر اثرانداز ہوگا؟ نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے تحت اسٹریٹجک فیوچرز گروپ نامی تھنک ٹینک کی تازہ ترین رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ ”بھارت اور پاکستان  ایک ایسی بڑے پیمانے کی جنگ میں الجھ سکتے ہیں جس کی خواہش دونوں میں سے کوئی فریق بھی نہ رکھتا ہو، خاص کر ایسے دہشت گرد حملے کے بعد جسے بھارتی حکومت اہم گردانے۔“ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی پاکستان کے سلامتی کے حوالے سے خدشات کوبھی دوچند کرتی ہے  اور اس نے پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے مابین خطرات پر نقطہ نگاہ میں زیادہ اتفاق پیدا کیا ہے۔ پلوامہ جیسے بحران ان امیدوں کا بھی خاتمہ کرچکے ہیں جن کے تحت سول سوسائٹی کے بعض ارکان امن کی بحالی اور جوہری عدم استعمال کے قواعد کو مضبوطی بخشنے کے لیے منت کیا کرتے تھے۔ لہذا، نینا ٹینن والڈ کا بیان کردہ یہ نکتہ کہ بالاکوٹ بحران نے بھارت کو جوہری احتراز سے مزید دور دھکیل دیا ہے  لیکن پاکستان غالباً اس کے قریب تر آیا ہے جیسا کہ رہنماؤں اور مفکرین کے بیانات نیز بحران کے حوالے سے کیے گئے سروے میں رائے عامہ سے ظاہر ہوتا ہے، حقیقت سے زیادہ پرامید ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس دونوں ریاستیں جوہری احتراز سے دور ہٹ رہی ہیں۔

تاہم مجموعی طور پر میں ٹینن والڈ کے نتیجہ کلام سے بھرپور اتفاق کروں گی کہ جوہری احتراز پاکستان میں اس لیے کمزور ہے کیونکہ راہنما ”جوہری ہتھیاروں کو ہی اپنا حتمی دفاع سمجھتے ہیں۔“ مزید براں ”بحران میں ثالثی  اورتحمل کی حوصلہ افزائی کے ذریعے جنوبی ایشیا میں عدم استعمال کی روایت کو برقرار“ رکھنے میں امریکی کردار آنے والے دنوں میں عملی طور پر شائد دکھائی نہ دے۔ جیسا کہ ٹینن والڈ تجویز کرتی ہیں، پاکستان اور بھارت دونوں کو مذاکرات کو بحال کرنا چاہیے اور ایسے تعلقات کیلیے کام کرنا چاہیے جس میں ہتھیاروں پر قابو ہو جبکہ طاقت کے استعمال کیلئے چوکس پوزیشن جو حفظ ما تقدم کے تحت پیشگی حملے یا کمر توڑ حملوں کا خدشہ پیدا کردے، اس سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔

کیا کیا جاسکتا ہے؟

جنوبی ایشیا میں جوہری احتراز پر بحث، امریکی سرد جنگ میں اشتعال انگیزی کے رجحانات کے جائزے اور ڈیٹرنس کے استحکام کے لیے قیادتوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ذریعے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ نینا ٹینن والڈ کی گزشتہ کتاب ”جوہری احتراز“ بھارت اور پاکستان میں جوہری احتراز کو مضبوط بنانے کے ارتقائی مراحل کے بارے میں مطلع کرسکتی ہے۔ متعدد مضبوط سی بی ایمز اور خطرات میں کمی کے لیے منصوبوں کے ذریعے بھارتی اور پاکستانی پالیسی ساز جوہری تحمل کی پالیسی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ جوہری تحمل کی پالیسی میں بہتری کے لیے چھوٹے اقدامات سے آغاز کے لیے میں مندرجہ اقدامات تجویز کرونگی جو مستقبل میں جوہری احتراز میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ سب سے پہلے سربراہوں کو سیاسی، بیوروکریسی اور معاشرتی سطح پر اعتماد کے قیام کے لیے نمایاں کوششیں کرنا ہوں گی۔ اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے ڈی جی ایم اوز کی سطح پر ہاٹ لائن یا دونوں وزرائے اعظم کے درمیان براہ راست ٹیلی فون پر رابطے سے دونوں فریق فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کووڈ ۱۹ کے عالمی سطح پر درپیش چیلنج کے دوران پاکستان نے بھارت کو جو فی الوقت روزانہ کے حساب سے سب سے زیادہ مریض/اموات کا سامنا کررہا ہے، امدادی کارروائیوں کی پیشکش کی تھی۔ بھارت نے تاحال جواب نہیں دیا ہے اور اگر بھارت اس موقع کو ہاتھ سے جانے دیتا ہے تو ایسے میں جنوبی ایشیا ایک اور ایسے موقع کو کھو دے گا جہاں دونوں ممالک اپنے تعلقات کے نئے باب کا آغاز کرسکتے تھے۔

دوئم، سیاسی قیادت کو انتخابات میں کامیابی یقینی بنانے کے لیے جنگ کے حق میں اور امن مخالف بیان بازی سے فائدہ اٹھانا بند کرنا ہوگا۔ ایک جوہری ماحول میں اپنی قوم پر جنگ مسلط کرنے کے بجائے راہنماؤں کو معاشی ترقی کا وعدہ کرنا چاہیے اور ”آپ کی فلاح میں میری فلاح ہے“ کے اصول پر کام کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے پر معاشی انحصار اور باہمی تجارت تعاون کو فروغ دے گی۔ ۲۰۰۸ کے حملوں کے بعد مقامی سرمایہ کاروں نے دوطرفہ تعلقات کی معطلی کے سبب بھاری نقصان اٹھایا تھا۔ کاروباری افراد اور صنعت کار انتخابی مہمات میں تعاون کرتے ہیں؛ اگر مالی مفادات داؤ پر ہوں گے تو وہ منتخب شدہ رہنماؤں کے جنگ کی حمایت میں بیان بازی کو قابو میں رکھیں گے۔ سوئم،  الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے  قوم پرستی پر مبنی پراپیگنڈا اور جنگ پر اکسانے پر مبنی بحران کی کوریج قوم کے جذبات کو ادھوری معملومات سے بھڑکا رہی ہے۔ قوم پرستی پر مبنی ایسی صحافت خطے میں امن کے امکانات کو منہدم کررہی ہے۔

چہارم یہ کہ دونوں ممالک کو انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مضبوط نظام بنانا چاہیے تاکہ کسی بھی دہشتگردی کی کاروائی کو عسکری بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔ اس برس جنوری میں بھارت اور پاکستان کے انٹیلی جنس حکام مبینہ طور پر دبئی میں ملے تاکہ آنے والے مہینوں میں تعلقات کو معمول پر لایا جاسکے۔ البتہ متشکک افراد آئی ایس آئی اور را کے درمیان ملاقاتوں کے ثمرآور نتائج کے لیے زیادہ پرامید نہیں۔ پنجم، جنوبی ایشیائی معاشرے کی مذہبی و ثقافتی اقدار جوہری احتراز کو فروغ دینے میں معاون ہوسکتی ہیں۔ جنوبی ایشیا اپنے ثقافتی ورثے اور مذہبی اقدار پر فخر کرتا ہے۔ لہذا، عوام کو اپنی قیادت سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر سوال کرنے کی ضرورت ہے جو یقینی تباہی/بربادی لاتے ہیں۔ نینا ٹینن والڈ نے درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ ہے کہ ”شہریوں اور صحافیوں کو احتراز کے بارے میں اپنے قومی رہنماؤں کے سامنے سوال رکھنے کی ضرورت ہے۔“ یہ خطہ صوفی اسلام کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے جہاں عقیدت مند خانقاہوں، ہندوؤں کے مندر، سکھوں کے گوردوارے کا احترام کرتے ہیں اور تباہی سے پاک سمجھتے ہیں۔ ۲۰۱۸ میں دونوں فریقوں نے سکھ یاتریوں کے پاکستان میں ویزے کے بغیر گردوارہ آمد کے لیے ڈیرہ بابا نانک کرتارپور راہداری (جو امن راہداری کے نام سے بھی جانی جاتی ہے)  کھولی تھی۔ ایسے اقدامات  سرحد کے دونوں جانب موجود لوگوں کو آپس میں جوڑنے، امن کے بارے میں نقطہ نگاہ تشکیل دینے، سفری سہولیات فراہم کرنے اور سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے لازمی ہیں۔ اور آخری تجویز یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے محدود استعمال پر جامع تحقیق جو جوہری احتراز کی خلاف ورزی کی معاشرتی، سیاسی اور معاشی قیمت کا تخمینہ لگا سکے، بے حد اہم ہوگی۔ مطالعاتی گروہ نتائج کا تخمینہ لگاسکتے ہیں اور (اس کی روشنی میں) عوام کو جوہری استعمال کے تباہ کن اثرات پر آگہی دینے کے لیے شہری دفاع کی مہمات چلا سکتے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: via PxHere

Image 2: Aamir Quereshi/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

روہنگیا قوم کی ہجرت: جنوبی ایشیا کی حالت زار Hindi & Urdu

روہنگیا قوم کی ہجرت: جنوبی ایشیا کی حالت زار

و ۱۹ویں صدی کے وسط سے میانمار میں بار بار…

دولت اسلامیہ خراسان: ایک مسلسل خطرہ Hindi & Urdu

دولت اسلامیہ خراسان: ایک مسلسل خطرہ

دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ خراسان (آئی ایس کے پی)…

ایس اے وی سوال و جواب: افغانستان، طالبان اور ٹی ٹی پی پر اسماعیل خان کے خیالات Hindi & Urdu