HJK_WwUa8AElZTL

پاکستان نے 30 اپریل کو چین کے رسمی دورے کے دوران ہنگور کلاس کی آٹھ آبدوزوں میں سے پہلی کو (بحری دستے میں) شامل (کمیشن) کیا، جس موقع کو پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے بحریہ (نیوی) کے لیے ‘تاریخی سنگ میل’ قرار دیا۔چین اور پاکستان کے اشتراک سے تیار کردہ اس آبدوز کو (بحریہ کے دستے میں)، نئی دہلی اوراسلام آباد کے مئی 2025 کے بحران کے پہلے برس دن سے کچھ ہی پہلے شامل کیا گیا، ایک مقابلہ جو جوابی میزائل حملوں پر مشتمل تھا اور جس نے جنوبی ایشیا میں تنازعات میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ صلاحیتوں کی بہتری سے بڑھ کر ہنگور آبدوز پاکستانی بحریہ کی جدید کاری اور بیجنگ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے میں ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔ 

پاکستان کا ہنگور آبدوز کا حصول جنوبی ایشیا میں مزاحمت (ڈیٹیرنس) کے حوالے سے تین تبدیلیوں کی علامت ہے: پاک-چین تعاون کی مزید گہرائی، اسلام آباد کا سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبیلیٹی (جوابی حملے کی صلاحیت) کو قوی تر بنانے کے لیے آبدوز کے ذریعے جوہری کروز میزائل کے حملے کا اقدام، اور بحری علاقے میں پاک- بھارت مقابلے میں شدّت۔یہ تمام تبدیلیاں مل کر غیر ارادی تصادم کے خدشےکو بڑھانے، بحری اعتماد سازی کے اقدامات (سی بی ایمز) کی غیر موجودگی میں استحکام بوجۂ بحران کو متاثر کرنے اور زیرِ آب  (فوج/اسلحے) کی تعیناتی کے ارتقاکے ساتھ ساتھ روایتی جوہری ابہام  پیدا کر سکتی ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بھارت اور پاکستان کو سمندر میں کشیدگی پر قابو پانے کے لیے ضابطۂ عمل (فریم ورک)  تیار کرنا ہوگا—یہ مشکل دوطرفہ بات چیت میں خلل کے سبب اور بھی گمبھیر ہوگئی ہے۔ 

پاکستان کا ہنگور کا کمیشن: اب ہی کیوں؟ 

ہنگور آبدوز چین کی ٹائپ 039 اے یوآن کلاس آبدوز کی ڈیزل-الیکٹرک صورت ہے، جس کی 2015 میں تحصیل کا پاکستان نے اعلان کیا تھا۔ آبدوزانجن پر برآمدی لائسنس کی پابندیوں اور آبدوز کے بالکل نئے ڈیزائن کے انضمام میں مشکلات کے باعث کمیشننگ میں تقریباً ایک دہائی کا عرصہ لگا۔ ہنگورجدید سینسرز، ٹورپیڈوز اور اینٹی-شِپ کروز میزائلز کے ساتھ لیس ہے جو سطحی جنگی بحری جہازوں، آبدوزوں اور زمینی وسائل پر حملہ کرنے کے قابل ہے۔یہ آبدوز  ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (اے آئی پی) کی حامل ہے، جس کے سبب یہ لمبے عرصے تک زیرِ آب رہ سکتی ہے جس سے پاکستان کے آبدوز بیڑے کی زیرِ آب موجودگی اور اینٹی ایکسیس/ایریا ڈینائل (اے2/اے ڈی) صلاحیتیں بہتر ہو گئی ہیں۔ پاکستان کے نیوی چیف نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ہنگور آبدوزیں  ’’جارحیت کو روکنے اور بحیرۂ عرب اور وسیع بحرِ ہند کے علاقے میں اہم سی لائنز آف کمیونیکیشن (ایس ایل اوسیز)  [رابطے کے بحری راستوں] کی سلامتی کو یقینی بنانے‘‘  میں کردار ادا کریں گی۔

 روایتی صلاحیتوں سے بڑھ کر،امریکی سائنسدانوں کی فیڈریشن کےحالیہ تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان شاید ڈوئل کیپیبل بابر-3 سی لانچڈ کروز میزائل (ایس ایل سی ایم) کےہنگور آبدوز کے ساتھ انضمام کی کوشش کرسکتا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بابر-3’’ پاکستان کو ایک معتبرسیکنڈ اسٹرائیک (جوابی حملہ) کرنے کی صلاحیت فراہم کر تا ہے‘‘، جس سے ہنگور کو جوہری مشن (پورا کرنے کی اہلیت) ملتی ہے۔ایس ایل سی ایم کے علاوہ، پاکستان سطحی  بحری جہازوں کے لیے بابر کا ایک ویرینٹ  ( متبادل صورت) بھی تیار کر رہا ہے۔ پاکستان کے وسیع (بحری) بیڑے میں فرانسیسی ساخت کی آگوسٹا کلاس آبدوزیں شامل ہیں، جن کا متبادل  ہنگور بنے گا۔ بابر کے ویرینٹس (مختلف صورتوں) کے ساتھ، نئی آبدوز  پاکستان کی حملہ کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھا دے گی اور ایک زیادہ مضبوط اے ٹو/اے ڈی حکمت عملی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرے گی۔ اے آئی پی سے لیس صلاحیت  متواتر موجودگی برقرار  رکھتی ہے جبکہ اینٹی شپ کروز میزائل اور ٹورپیڈوز اسٹینڈ آف (دُور رکھنے کی) صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں اور بھارت کی اینٹی سب میرین وارفیئر کی کوششوں کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

اس توسیع کے باوجود پاکستان کے پاس ابھی اپنی جوہری قوت پر منحصر بیلسٹک میزائل آبدوز (ایس ایس بی این) تیار کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ ایسے منصوبوں کی ترقی اور دیکھ بھال کے لیے مسلسل فنڈنگ درکار ہوتی ہے—یہ سرمایہ کاری اس دفاعی بجٹ کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں جو زمین اور فضائی شعبوں کو ترجیح دیتا ہے۔ بجٹ کی ترجیحات کے علاوہ پاکستان کے پاس ایس ایس بی این ری ایکٹرز بنانے کے لیے مقامی تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی ہے۔ ہنگور جیسی ڈیزل-الیکٹرک حملہ آور آبدوز سستی ہے، کروز میزائل لے جا سکتی ہے اور ایس ایس بی این کے نیوکلیئر ری ایکٹر کی ضرورت سے بچاتی ہے۔ آبدوز پاکستان کو  سی ڈینائل اسٹراٹیجی (مخالف کوسمندری راستہ استعمال کرنے سے روکنے کی حکمت عملی) اپنانے کے قابل بناتی ہے، جس کے سبب یہ ایس ایس بی اینز کے ذریعے کیے جانے والے گہرے سمندر میں عالمی آپریشنز پر توجہ دینے کے بجائے کسی مخصوص علاقے پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔اسلام آباد کی توجہ کا منبع علاقائی  سرحدوں کی حفاظت اور جدید فضائی خطرات کو ناکارہ بنانے کی ضرورت ہے، تاہم اس کا روایتی  بحری بیڑا عمررسیدہ ہو چُکا ہے؛ مثلاً  1970 کی دہائی میں حاصل کردہ  اگوسٹا آبدوزوں کو تبدیل کرنےکی ضرورت ہے۔ اسی لیے پاکستان کے چیف آف نیول اسٹاف نے ہنگور کی کمیشننگ کو ‘بحری  دفاع کو مضبوط بنانے اور ہمارے بحری بیڑےکو جدید ترین  ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل’ قرار دیا۔ 

جدیدیت سے بالاتر،  پاکستانی فوج اپنی بحری قوتِ مزاحمت کو ’’بھارت کی جوہری تکڑی کی برابری اور بحرِ ہند کے خطے میں جوہری (ہتھیاروں کے)  اپنی بحری  قوتِ مزاحمت کوپھیلاؤ‘‘ کے مقابلے کی کوشش کے طور پر پیش کرتی ہے۔ دو مقابل خطرات کے خلاف سیکنڈ اسٹرائیک (جوابی حملے کی) صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اپنی بحری  قوتِ مزاحمت کو بھارت واقعتاً جدید بنا رہا ہے —چین کی بحرِ ہند میں بڑھتی ہوئی بحری موجودگی اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی بحری جنگی صلاحیتیں۔ اپریل 2026 میں، بھارت نے اپنا تیسرا ایس ایس بی این، آئی این ایس آریدهمن کمیشن کیا، جو کے-4 اور کے-15 سب میرین لانچڈ بیلسٹک میزائلز (ایس ایل بی ایم) اُٹھا سکتا ہے۔ 750 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ، کے-15 بھارت کو پاکستان کے خلاف قلیل فاصلے تک حملے کا اختیار فراہم کرتا ہے، جبکہ کے-4 کی 3,500 کلومیٹر کی رینج بھارت کو زیادہ اسٹینڈ آف  کی اہلیت فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کی ہنگور آبدوزوں کی (بحری بیڑے میں) شمولیت  نہ صرف اس کی جدیدیت کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں بحری ہتھیاروں کی  ابھرتی ہوئی دوڑ کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ 

جنوبی ایشیا میں ایک تزویراتی موڑ 

پاکستان کا ہنگور آبدوز کا حصول جنوبی ایشیا میں قوتِ مزاحمت پر اثر انداز ہونے والی تین چیزوں کی علامت ہے۔ اوّل تو یہ معاہدہ چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔ بیجنگ اور اسلام آباد پہلے ہی ایک دوسرے کو ہرموسم کے ساتھی کے طور پر دیکھتے ہیں اور ایک ‘تھریش ہولڈ الائنس‘ [اتحادی حدِ آغاز] قائم رکھتے ہیں جس میں ہتھیاروں کی فروخت، دفاع کی مشترکہ  پیداوار اور اپنی مسلح افواج کی مشترکہ تیاری شامل ہے۔ مئی 2025 کا بحران اس تعلق کی گہرائی کا حالیہ ترین اظہار تھا،جس میں پاکستان نے  چینی جے-10 سی فائٹرز اور پی ایل -15 میزائل استعمال کیے جبکہ  بیجنگ نے  میزائل حملوں کے دوران اسلام آباد کو موقع پر تکنیکی مدد فراہم کی۔ 

چین کی پاکستان میں بحری جدّت میں سرمایہ کاری بیجنگ کے بحرِ ہند میں بڑے مقاصد کو بھی آگے بڑھاتی ہے اور اس کی علاقائی حکمت عملی کی بنیاد کے طور پر کام کرتی ہے۔ چین ان صلاحیتوں کا فائدہ اٹھا کر بحرِ ہند میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے، بھارت کو خطے میں محدود کر سکتا ہے اور بحری موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری پاک- بھارت بحرانات سے نمٹنے کے طریقے میں چین کی جانب سے تبدیلی کا اظہار بھی ہو سکتی ہے۔ گوکہ چین نے روایتی طور پر ثالثی کی پیشکش کا سفارتی موقف اختیار رکھا ہے، تاہم  بیجنگ مستقبل میں نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین بحران کی صورت میں  صرف سفارتکاری تک محدود رہنے کے بجائے عملی مدد فراہم کرنے کا اپنا کردار بڑھا سکتا ہے۔ 

دوسرا، ہنگور کی کمیشننگ پاکستان کی سیکنڈ اسٹرائیک ( جوابی حملے کی) بڑھتی ہوئی صلاحیت کی علامت ہے۔ پاکستان اپنی معتبر سیکنڈ اسٹرائیک  (جوابی حملے کی) صلاحیت کو بڑھاتے ہوئے اور زمینی افواج پر دباؤ کم کرتے ہوئے بنیادی طور پر زمینی مزاحم سے زیادہ متنوع پوزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہ متنوع رویہ نئی دہلی کے خلاف مزاحمت کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، جو اپنی سیکنڈ اسٹرائیک کی صلاحیت کو ایکسپینڈڈ میزائل پے لوڈز سے لیس ایس ایس بی این کے بڑھتے ہوئے بحری بیڑے کے ذریعے جدید بنا رہا ہے۔بھارت 2027 میں چوتھی ایس ایس بی این کو اور 2030 کے عشرے میں دو نیوکلیئر اٹیک سب میرینز (ایس ایس اینز) کو کمیشن کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔دونوں ریاستیں سمندر میں ایک پختہ ہوتی ہوئی جوہری مسابقت کی طرف جا رہی ہیں، جو ایسے جوہری خطرات پیدا کر رہی ہے جن سے نمٹنےکا کسی کو کوئی تجربہ نہیں ہے۔ 

تیسرا، صلاحیتوں کی یہ تبدیلیاں بھارت-پاکستان تنازعے کے دائرہ کار کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگرچہ بھارت اور پاکستان نے بحری میدان میں مقابلہ کیا ہے—جس میں 1971 کی جنگ کے دوران بحری لڑائی بھی شامل تھی— تاہم ان کے بحری مقابلے کا  آبدوزوں سے متعلقہ بڑھتا ہوا پہلو ایسے نئے خطرات سامنے لاتا ہے جن کا سامنا دونوں جانبین نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ جب دونوں ممالک مناسب اعتماد سازی کے اقدامات کے بغیر  اپنی بحری صلاحیتیں بڑھا رہے ہیں، تو ان کے درمیان ممکنہ تصادم کا دائرۂ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ آبدوزوں  کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے، اور بحری کشیدگی کے واضح مرحلہ وار نظام کی کمی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ مئی 2025 کےبحران نے ظاہر کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تصادم کتنی جلدی بڑھ سکتا ہے، یہاں تک کہ زمینی سطح پر بھی، جہاں دونوں ممالک کو عملی تجربہ حاصل ہے۔ بحری میدان میں مقابلہ لے جانےسے تصادم کے عمل میں شدت آتی ہے، اور اس کو جانچنے،تصدیق کرنے یا کم کرنے کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ 

جوہری خطرے کا انتظام کرنا

پاکستان کی بحری قوتِ مزاحمت ایک تزویراتی ماحول میں داخل ہو رہی ہے جہاں جغرافیائی قربت اور بحری اعتماد سازی کے اقدامات کی کمی پہلے ہی فیصلہ سازی کے وقت کو کم کر رہی ہے، جس سے استحکام بوجۂ بحران  کمزور ہو جاتاہے۔ یقینی جوابی کارروائی — فرسٹ اسٹرائیک (پہلے حملے) کو برداشت کرنے کے بعد ناقابل قبول نقصان پہنچانے کی بقائےزندگی کی صلاحیت—اس کا مقصد پیش بندی حملے کی ترغیب کو کم کرکے مزاحمتی محرکات کو مستحکم کرنا ہے۔ لیکن اس  کامُحکمی اثر ریاستوں کے پاس حملے کی تصدیق کرنے اور سوچ سمجھ کر ردعمل دینے کا وقت ہونے پرانحصار کرتا ہے۔ میزائل پرواز کے مختصر  دورانیےاس فیصلہ سازی کی مہلت کو کم کر دیتے ہیں، جس سے پیش بندی حملوں کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ آبدوزیں کمانڈ اورکنٹرول کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں: ساحل پر موجود کمانڈ کے ساتھ محدود تصدیق حملے کی اجازت سے متعلق ابہام  پیدا کرتی ہے، جبکہ فیصلہ کرنے کی مہلت بھی محدود ہوتی ہے۔ 

بھارت، پاکستان اور چین کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں اضافہ اس خطے میں غلط شناخت اور بھیڑ کا خطرہ بڑھاتا ہے، جس سے غیر ارادی تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 2016 میں بھارت کی پاکستان میں ‘سرجیکل اسٹرائیکس’ کے بعد پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اسے اپنے پانیوں میں داخل ہونے سے روکا، جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔ 2019 میں پلوامہ حملے اور بالاکوٹ میں بھارتی فضائی حملوں کے بعد، پاکستان نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ اس نے ایک بھارتی آبدوز  کا سراغ لگایا، جسے بھارت نے ‘پروپیگنڈا’ قرار دیا۔ بھارت، پاکستان اور چین سب اپنی آبدوزوں کی تنصیبات بڑھا رہے ہیں، جس کے سبب خطے میں بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے۔ بھارت کے لیے، یہ خاص مسئلے کا موجب ہے: 2016 اور 2019 کے واقعات میں سراغ لگانے میں دو طرفہ ابہام تھا، تاہم اب پاکستان چینی ساخت کی آبدوزوں کا استعمال کررہا ہے اور چین بحرِ ہند میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہا ہے، جس کے باعث  ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ 

بالآخر پاکستان کا ہنگورکو بابر ایس ایل سی ایم سےممکنہ طور پر لیس کرنےکے باعث سمندر میں روایتی اور جوہری تنصیبات میں تفریق کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہنگور بابر-۳ کو انہی ٹیوبز سے لانچ کرتا ہے جو عام میزائلز کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جس کے باعث دورانِ  پرواز اسےپہچانا نہیں جا سکتا۔ اسلام آباد نے بحری ایٹمی تعیناتی کے حوالے سے اپنی پوزیشن اعلانیہ طور پر واضح نہیں کی ہے۔ یہ  امر نئی دہلی کے ردعمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے، کیونکہ (نئی دہلی) کی پالیسی پہلے حملے کے بعد شدید جوابی کارروائی کی ہے، جس کے سبب محض ایک ہی غیر واضح حملہ تصادم  کےخطرات لاتا ہے۔ 2022 میں غیر مسلح براہموس کروز میزائل کے حادثاتی لانچ نے یہ تفریقی مشکل سامنے لائی: پاکستانی ریڈارز نے بھارتی پروجیکٹائل کا سراغ تو لگا لیا تاہم پاکستانی قیادت یہ معلوم نہ کر پائی کہ آیا یہ پے لوڈ روایتی ہے یا جوہری ۔براہموس کا واقعہ حالتِ امن میں  پیش آیا، جس کے سبب پاکستان پرحرکی ردعمل دینے یا تصادم کی طرف جانے کا دباؤ کم ہوا۔ سمندر میں کسی بحران کی صورت میں حد درجہ کی چوکسی تصدیقی وقت کوکم  کر دے گی، آبدوز کی شناخت ردعمل کو پیچیدہ بنائے گی اور تفریقی مسئلہ جوابی کارروائی  کی حدِ آغاز کی طرف دھکیل دے گا۔ 

 فی الحال بھارت اور پاکستان کے پاس بحری اعتماد سازی کے کوئی  اقدامات نہیں ہیں، جس کے سبب  بحری سرگرمیاں بے ضابطہ ہیں۔ نئی دہلی اور اسلام آباد ایٹمی تنصیبات پر  حملہ نہ کرنے کےمعاہدے(نان اٹیک ایگریمنٹ) اور بیلسٹک میزائل پری لانچ معاہدے کو برقرار رکھتے ہیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی آبدوزوں یا کروز میزائلوں کا احاطہ نہیں کرتا، اور زیادہ تر رابطے کے چینل ابھی بھی تعطل کا شکار ہیں۔ پری لانچ معاہدے کے باوجود، پاکستان نے بھارت پر 2024 میں اگنی-۵ آئی سی بی ایم کے ٹیسٹ لانچ کے بارے میں دیر سے اطلاع دینے کا الزام لگایا جس واقعہ نے موجودہ شفافیت کے نظام میں اعتماد کی کمی ظاہر کی۔ کئی تجاویز بھارت اور پاکستان کو سمندر میں ہونے والے حادثات کے لیے ایک معاہدہ (آئی این سی ایس ای اے) تیار کرنے پر زور دیتی ہیں، جو 1972 کے امریکی-روسی آئی این سی ایس ای اے کی مانندہو، تاکہ ٹکراؤ سے بچا جا سکے اور سالانہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جا سکیں۔ ایسا معاہدہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان بحری اعتماد سازی کے اقدامات قائم کر سکتا ہے، تاہم دونوں نے 2019 کے بعد سے ٹریک ون مذاکرات میں حصہ نہیں لیا۔ مئی 2025 کا بحران دوطرفہ تعلقات میں خلل کی علامت تھا جو ابھی تک حل نہیں ہوا، جس میں اہم معاہدوں اور سمجھوتوں کی معطلی بھی شامل ہے۔ 

ایک مرحلہ وار طرزِ نظر آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ زمانۂ قریب میں ٹریک ٹو مذاکرات روابط استوار کرنے کے مواقع کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ وسیع تر جغرافیائی سیاسی مسائل پر بات چیت کرنے کے لیےمئی 2025 سے بھارت اور پاکستان کے ٹریک ٹو شرکاء کئی بارملاقاتیں کر چکے ہیں اور اس سال کے آخر میں مزید ملاقاتوں کا بھی منصوبہ ہے۔ان ملاقاتوں میں انڈین اوشین ریجن (آئی او آر) میں بحری ترقی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہیے تاکہ ایک آئی این سی ایس ای اےجیسے فریم ورک کے عناصر تیار کیے جا سکیں، جس میں ٹکراؤ سے بچاؤ کے اقدامات اور نیوی سے نیوی رابطے کی لائن شامل ہوں، جو اس وقت نئی دہلی اور اسلام آباد کے پاس نہیں ہے۔ درمیانی مدت میں بھارت اور پاکستان انڈین اوشین نیول سمپوزیم (آئی او این ایس) کے ذریعے بحری سلامتی کے مسائل پر بات چیت کر سکتے ہیں، جو ایک رضاکارانہ کثیر الجہتی تنظیم ہے جو علاقائی بحریہ کے درمیان مکالمے کو فروغ دیتی ہے۔ 
اگرچہ آئی او این ایس ایٹمی مسائل میں شریک نہیں ہوتا، تاہم  یہ کم خدشےوالی بحری گفت و شنید کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ اگر ٹریک ون کی رابطہ کاری دوبارہ شروع ہوتی ہے تو، ٹریک ٹو اور آئی او این ایس کی بنیاد دوطرفہ آئی این سی ایس ای اے کے ضابطۂ عمل (فریم ورک)  کو سہارا دے سکتی ہے۔ 

پاکستان کا ہنگور آبدوز کا حصول بھارت اور پاکستان کے درمیان مستقبل کے تنازعات کے بڑھتے دائرۂ کار کو اجاگر کرتا ہے اور آئی او آر میں بحری بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ضابطۂ عمل  (فریم ورک)  کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب دونوں ریاستیں مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر بحری قوتِ مزاحمت ( ڈٹیرنس) کے حصول  کے لیےکوشاں ہیں، تو اگلا بھارت-پاکستان بحران زیرِ آب بڑھ سکتا ہے اور دوطرفہ تعلقات پربھی اثر انداز ہوسکتا ہے، جن میں گفت و شنیدکے لیے کوئی نظام نہیں ہے۔ (روابط میں) دُوری  کو کم کرنا اور سمندر میں غیر ارادی تصادم کو روکنا جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔ 

***

This article is a translation. Click here to read the article in English.

Image 1: Shehbaz Sharif on X

Image 2: Wikimedia Commons

Share this:  

Related articles

इस्लामाबाद मेमोरेंडम के बिना दुनिया  Hindi & Urdu

इस्लामाबाद मेमोरेंडम के बिना दुनिया 

अमेरिका और ईरान के बीच तनाव चरम पर पहुँच रहा…

औद्योगिक यथार्थवाद: भारत, चीन और आपूर्ति श्रृंखला विच्छेद की सीमाएँ Hindi & Urdu

औद्योगिक यथार्थवाद: भारत, चीन और आपूर्ति श्रृंखला विच्छेद की सीमाएँ

जब भारत के केंद्रीय मंत्रिमंडल ने 10 मार्च, 2026 को…

ہمہ موسمی سے ہمہ گیری تک: پاک-چین خلائی تعاون اور جنوبی ایشیائی سلامتی  Hindi & Urdu

ہمہ موسمی سے ہمہ گیری تک: پاک-چین خلائی تعاون اور جنوبی ایشیائی سلامتی 

پاک-چین تعلقات، جو’’نہ ٹوٹنے والے اورمضبوط‘‘ ہیں، اب زمین، سمندر…