,

کیا کرونا وائرس سارک کو فعال بنا سکتا ہے؟

وزیراعظم نریندر مودی نے اس وقت بہت سے لوگوں کو حیران کردیا جب ۱۳ مارچ کو انہوں نے ٹوئٹر پر یہ تجویز دی کہ ”کرونا وائرس سے لڑائی کیلئے ایک مضبوط حکمت عملی ترتیب دینے کیلئے“ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم ( سارک) کے سربراہان بذریعہ ویڈیو کانفرنس ملاقات کریں۔ تاحال سارک ممالک میں ۸۰۰ سے زائد کرونا کے تصدیق شدہ مریض سامنے آچکے ہیں جن میں بھارت کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد ۲۲۳ تک پہنچ چکی ہے۔ کچھ ہی گھنٹوں کے اندر اندر جنوبی ایشیائی ریاستوں کے سربراہان کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آنے لگا۔ یہ ٹوئٹ اگرچہ اہم تھی تاہم وزیراعظم مودی کی جانب سے گزشتہ برس  ٹوئٹر پر سارک کا حوالہ کمیاب رہا ہے۔

۲۰۱۶ کا اڑی حملہ جسے پاکستان سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم نے کیا اور جس کے نتیجے میں بھارت نے اسلام آباد میں ہونے والی ۱۹ویں سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کیا؛ اور جو متعدد ممالک کی جانب سے حملے کے بعد شرکت سے انکار کے سبب منسوخ ہوئی، تب سے بھارت سارک کو ایک فاصلے پر رکھتا ہے۔ اس کے بعد سے بھارت نے اپنی توجہ دیگر بین العلاقائی تعاون کی تنظیموں جیسا کہ بنگلہ دیش بھوٹان بھارت نیپال انیشی ایٹو ( بی بی آئی این) اور خلیج بنگال کی تکنیکی اور اقتصادی تعاون کی تنظیم (بمسٹک) کی جانب کر رکھا ہے۔ مودی کے ۱۳ مارچ کے ٹوئٹ کے بعد اکثریت نے جنوبی ایشیا میں کرونا وائرس سے لڑنے کیلئے حکمت عملی بنانے کیلئے ویڈیو کانفرنس کے منصوبے کا خیرمقدم کیا نیز بعض اسے سارک کی دوبارہ فعالیت کی جانب ایک ممکنہ قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم سارک کی تاریخ بتاتی ہے کہ تنظیم کے دوبارہ بحالی کی جانب عازم سفر ہونے کے زیادہ امکانات نہیں۔ مزید براں ۱۵ مارچ کو ہونے والی یہ ویڈیو کال، پرانے تنازعات بشمول پاک بھارت دو طرفہ مسائل جس نے اس علاقائی تنظیم کی حیثیت کو گزشتہ کئی دہائیوں سے کمزور بنا دیا ہے، ایک بار پھر انہی تنازعات کے دوبارہ زندہ ہونے کی گواہ بنی۔

سارک ڈھانچے کی کمزوریاں اور افادیت برقرار رکھنے میں جدوجہد

یہ  یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سارک حتیٰ کہ اپنے دورعروج میں بھی متعدد وجوہات کی بنا پر اپنی حیثیت کے مطابق کردار کی ادائیگی میں ناکام رہی تھی۔ ساخت سے متعلقہ مسائل، فیصلہ سازی کے عمل میں تمام ممبران کے اتفاق رائے کی شرط اور ریاستوں کے مابین دو طرفہ اختلافات جیسے امور کا سارک دائرہ عمل سے اخراج تنظیم کو ابتدا سے ہی عملی طور پر کمزور کرنے کا باعث بنا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ۱۹۸۵ میں تنظیم کی بنیاد رکھے جانے کے وقت اس کی علامتی حیثیت پر زیادہ توجہ رہی کیونکہ جنوبی ایشیا کسی بھی علاقائی تنظیم سے محروم واحد اہم خطہ تھا جبکہ دیرپا سماجی اقتصادی اور دفاعی تعاون کے لئے بصیرت پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ۔ فی الوقت، سارک کو درپیش سب سے اہم رکاوٹ پاکستان اور بھارت کے مابین نہ ختم ہونے والی دشمنی ہے۔

۲۰۱۴ سے سارک کانفرنس کا انعقاد نہیں ہوسکا ہے، اور اس وقت سے ہونے والی سب سے اہم ملاقات سارک وزرائے خارجہ کے مابین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ( یو این جی اے) کے موقع پر ہونے والی رسمی ملاقات ہے۔ درحقیقت، گزشتہ برس یو این جی اے کے موقع پر وزرائے خارجہ کی غیر رسمی ملاقات سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ سارک کی بقا اور اس کی اہمیت خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر منحصر ہے۔

۲۰۱۶ میں اڑی حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی اعلانیہ  پالیسی کے تحت عملی طور پر سارک کو چھوڑ دیا تھا۔ بعض اہم وجوہات جن میں جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں بڑھتی ہوئی چینی مداخلت کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کا اپنی ”لُک ایسٹ“ پالیسی کو ازسرنوتازہ کرنا شامل ہے، اس کی بنا پر بھارت نے دیگر بین العلاقائی تنظیموں جیسا کہ بی بی آئی این اور بمسٹک کا رخ کر لیا۔ یہ پالیسی موجودہ بھارتی حکومت کی نگرانی میں ”ایکٹ ایسٹ“ پالیسی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اگرچہ سارک اپنے رکن ممالک کے مابین اہم معاملات جیسا کہ رابطے قائم رکھنے پر قابل ذکر تعاون پیدا کرنے میں ناکام رہا تاہم  بی بی آئی این اور بمسٹک کی جانب رخ موڑ لینے سے ٹھوس نتائج سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، بی بی آئی این کے رکن ممالک نے بذریعہ سڑک علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کیلئے ۲۰۱۵ میں موٹروہیکلز ایکٹ پر دستخط کئے تھے اور اس کے تحت بھارت میانمارتھائی لینڈ تین فریقی ہائی وے اب تعمیر کے مراحل میں ہے۔ مزید براں بمسٹک نے دہشت گردی اور بین الریاستی جرائم سے نمٹنے کیلئے بین العلاقائی تعاون کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے ہیں، اس ضمن میں پیش رفت میں بھارت کا کردار اہم تھا۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۷ میں  بھارت نے تمام رکن ممالک کے قومی سیکیورٹی چیفس کی نئی دہلی میں میزبانی کی تھی۔

اس سب کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان دیگر علاقائی تنظیموں کے اپنے مسائل نہیں ہیں۔ مثلاً ۱۹۹۷ میں اپنے قیام کے بعد سے بمسٹک کی محض چار کانفرنس منعقد ہوئی ہیں۔ تاہم زیادہ تر رکاوٹیں جیسا کہ تکنیکی، افسرشاہی، تجارت کے موضوع پر اختلافات یا روابط وغیرہ وہ رکاوٹیں ہیں جو اگرسب کو درپیش نہ بھی رہی ہوں تو بھی زیادہ ترتنظیموں کو آغاز سے ہی درپیش رہی ہیں۔ یہاں سب سے اہم عنصر کوئی سی دو یا دو سے زائد ریاستوں کے مابین دشمنی یا جارحیت کی عدم موجودگی ہے، خاص کر بھارت جو بین العلاقائی انضمام اور تعاون کے فروغ میں کلیدی حیثیت کا مالک ہے۔ اس کی ایک اور وجہ جیسا کہ اوپر بیان کی گئی، چین کی جنوبی ایشیائی افق پر بڑھتی ہوئی موجودگی ہے جس کے سبب آس پاس کے علاقے کے حوالے سے بھارت کی نگاہ میں بی بی آئی این اور بمسٹک اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

کووڈ-۱۹ اور سارک

اگرچہ یہ مہلک وائرس جو اب عالمی وبا بن چکا ہے سارک کے دوبارہ تذکرے کا سبب بنا ہے، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ سارک کو توجہ ملنے کا سبب محض یہی مسئلہ ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ یہ پوری تنظیم میں ازسر نو روح پھونکنے کا ذریعہ نہیں ہوگا۔ کانفرنس کی تجویز پر پاکستان کا سرد ردعمل اور وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی کانفرنس میں شرکت جبکہ دیگر رکن ممالک کی ترجمانی سربراہان ریاست کررہے تھے، یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی چپقلش سارک کو بدستور اس کی غیر اہم حیثیت میں برقرار رکھے گی۔ باوجود اس امر کے کہ کانفرنس کا طے شدہ موضوع کرونا وائرس کیخلاف لڑائی تھا، ویڈیو کانفرنس کے دوران پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا جس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ سارک عمل کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی کی بحث کے ہاتھوں یرغمال بنا رہے گا۔

خطے میں کروناوائرس۔۱۹ کے اثرات پہنچنے کا عمل شروع ہوجانے، خاص کرچھوٹی ریاستوں میں جو کہ سیاحت پر منحصر معیشت کے سبب معاشی دھچکے کے سامنے انتہائی کمزور ہیں، اس کے سبب ۱۵ مارچ کو ہونے والی کانفرنس خالصتاً اسی ضمن میں عملی اقدامات، تجاویز اور وائرس سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کے بارے میں تھی۔ کانفرنس کے دوران وزیراعظم نریندرمودی نے ایک کروڑ ڈالر کی مالیت کا حامل کووڈ-۱۹ ایمرجنسی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا جسے اس بیماری سے لڑنے کیلئے رکن ممالک استعمال کرسکیں گے۔ تنظیم کے اپنے مستقبل کے بارے میں کسی قسم کا تبصرہ یا تجویز نہیں دی گئی۔

سارک کے ماضی کا ریکارڈ اور خطے کی موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مشاہدہ کار اس کانفرنس کو موجودہ حالات کے پیش نظر انسانیت کی خاطر ایک کوشش سے کچھ زیادہ قرار دینے میں محتاط رہیں۔ بھارت جس کی متعدد سارک ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہوئی ہیں، یہ سمجھ سکتا ہے کہ کرونا وائرس کیخلاف لڑائی کو باہمی اشتراک سے زیادہ موثر بنانے کیلئے ممبرممالک کو یکجا کرنے میں قائدانہ کردار نبھانا خود اس کے اپنے قومی دفاعی مفاد میں ہے۔

ایک طرف جہاں سارک میں بھارت کی قیادت کو پاکستان کی جانب سے مسلسل چیلنج کیا جاتا ہے، وہیں تنظیمی ڈھانچے میں موجود سقم کے سبب اہم نتائج کے حصول میں ناکامی نیز جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں سے چین کے بڑھتے روابط کے سبب دیگر علاقائی تنظیموں میں دلچسپی بڑھانے کی ضرورت وہ محرکات ہیں جن کے سبب سارک کی بطور تنظیم بحالی کیلئے توانائی خرچ کرنے میں بھارت کیلئے کوئی کشش باقی نہیں رہی ہے۔ غیر معمولی حالات، جیسا کہ موجودہ وباء کی صورتحال جیسے موقعوں پرتعاون ممکن ہوسکتا ہے تاہم یہ عارضی مفاہمت، تنظیمی ڈھانچے اور پرانی سیاسی کمزوریوں جو سارک کے علاقائی تعاون کیلئے ایک موثر پلیٹ فارم بننے کی راہ میں رکاوٹ ہیں، انہیں دور کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Prime Minister Narendra Modi via Twitter

Image 2: Prime Minister Narendra Modi via Twitter

Posted in , , Afghanistan, Bangladesh, Bhutan, Geopolitics, Governance, Human Security, India, India-Pakistan Relations, Maldives, Nepal, Pakistan, SAARC, Sri Lanka

Mohak Gambhir

Mohak Gambhir

Mohak Gambhir is currently working as a Research Assistant at the Centre for Land Warfare Studies (CLAWS), New Delhi. He holds a Master’s in International and Area Studies from Jamia Millia Islamia and a Bachelor’s in Commerce (H) from the University of Delhi. He has previously worked as an analyst at Pricewaterhouse Coopers India (PwC). His research is focused on China-South Asia Relations, India’s Foreign Policy towards Smaller South-Asian States (SSAs) of Bangladesh, Bhutan, and Nepal, as well as Non-Traditional Security in South Asia.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *