,

پاکستان ۲۰۱۹ میں: سال بھر کا جائزہ

فروری میں بھارت کے ساتھ پیدا ہونے والے پلوامہ/ بالا کوٹ بحران سے لے کے اکتوبر میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ میں داخلے سے بچنے کیلئے سفارتی کوششوں تک،  سال ۲۰۱۹ پاکستان کیلئے واقعات سے بھرپور ثابت ہوا ہے۔ یہ برس داخلی سطح پر سیاسی و معاشی آزمائشوں، مشکلات سے دوچارعلاقائی سلامتی اور عالمی سطح پررونما ہوتی تبدیلیوں سے مامور تھا اور ان تمام تبدیلیوں کا براہ راست ملک پر اثر پڑا۔  بھارت کے ساتھ ایک بار پھر پیدا ہونے والا تناؤ، امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ اور امریکہ طالبان مذاکرات میں مزید نمایاں کردار، ۲۰۱۹ کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ضمن میں ہونے والی پیش رفتوں میں سے چند ایک ہیں۔ داخلی محاذ پر ملک کو ادائیگیوں میں عدم توازن  کا جاری بحران، سیاسی ابتری اور اندرونی سطح پر سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا رہا۔ اگرچہ عمران خان کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خارجہ پالیسی کے ضمن میں درپیش آزمائشوں کی بوچھاڑ۔۔۔ جس میں کمی کا سال نو میں بھی کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا ہے۔۔۔ کے باوجود قدرے بہترکارکردگی کا مظاہرہ کیا، تاہم داخلی سطح پر اپنے وعدوں کو ایفا کرنے میں اس کی ناکامی ۲۰۲۰ میں انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوسکتی ہے۔

بھارت کے ساتھ زوال پذیر تعلقات

۲۰۱۹ بھارت پاکستان دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے ایک مشکل سال تھا۔ ۲۰۱۸ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد، وزیراعظم عمران خان نے سفارتی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھارت کے ساتھ پرامن روابط کی اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم پرامن روابط کی یہ خواہش زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔ فروری ۲۰۱۹ میں عادل احمد ڈار نامی ایک کشمیری نوجوان نے پلوامہ میں بھارتی پیرا ملٹری فورس کے دستے پر خود کش حملہ کیا اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی جماعت جیش محمد نے اس کی ذمہ داری قبول کی، جس کے بعد یہ خطہ ایک کٹھن امتحان سے دوچار ہوا ۔ جواباً بھارت نے پاکستان کی حدود کے اندر فضائی حملے کئے اور تناؤ کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے نتیجے میں ہونے والے جموں اور کشمیر کی سرحد پار فضائی حملوں میں پاکستان نے ایک بھارتی طیارے کو مار گرایا اور پائلٹ کو گرفتار کرلیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے پائلٹ کی واپسی کے بعد اگرچہ کشیدگی میں کمی آئی، تاہم دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کی کیفیت چھائی رہی۔

نریندر مودی کے دوسرے دور حکومت میں بھارت اور پاکستان کے مابین بہتر تعلقات کی امیدیں اس وقت عملی طور پر دم توڑ گئیں جب مودی انتظامیہ نے انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں میں سے ایک کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ۵ اگست کو بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ کو منسوخ کردیا، جس کے نتیجے میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہوگیا۔ پاکستان کا ابتدائی ردعمل اگرچہ عالمی فورمز پر سفارتی تابڑتوڑ حملوں تک محدود رہا تاکہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کو نمایاں کیا جاسکے، تاہم صورتحال بدستور ہے جس میں کشمیری مسلسل کرفیو میں زندگی گزار رہے ہیں اور انٹرنیٹ پر مسلسل پابندی ہے، جس کی وجہ سے کاروبار کے شدید متاثر ہونے کے علاوہ انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش نے جنم لیا ہے۔ جموں اور کشمیر میں جاری مایوسی اور بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر دعوے کے بارے میں بیانات نے دونوں ایٹمی طاقتوں کے مابین ایک اور بحران کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ جیسا کہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں خبردار کیا، ایسا بحران بڑھ کر لامحدود جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

بد ترین دوطرفہ تعلقات  کے باوجود بھارت اور پاکستان کرتارپور راہداری کھولنے کے اپنے وعدے پر قائم رہے۔ راہداری کا باقاعدہ افتتاح نومبر ۲۰۱۹ میں ہوا جس سے بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستان میں سکھ مت کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک  گردوارہ دربار صاحب تک بغیر ویزہ رسائی حاصل ہوئی۔ یہ پیش قدمی دو طرفہ مسائل کے حل کیلئے بھارت کے ساتھ سنجیدہ کوششوں کی خواہش کا مظہر تھی۔ تاہم بطور جذبہ خیر سگالی کا قدم اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے ایک امکان کے طور پر اس کی اہمیت کشمیر پر جاری تنازعے کے باعث ماند پڑ چکی ہے اور بھارت پاکستان ۲۰۲۰ میں بھی  جارحیت جاری رکھنے پر تیار دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کے امریکہ، چین اور دنیا کے ساتھ عمومی تعلقات

۲۰۱۹ میں جہاں بھارت کے ساتھ تعلقات میں خرابی آئی، وہیں پاکستان کا چین کے ساتھ روایتی قریبی تعلق برقرار رہا، امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات میں نمایاں گرمجوشی دیکھنے کو ملی۔ خان کے رواں برس کے اہم ترین دوروں میں سے ایک  انکا جولائی میں امریکہ کا پہلا دورہ تھا ، جس سے امریکہ پاکستان تعلقات کی از سرنو تعمیر کا امکان ظاہر ہوا۔  دورے کے دوران ٹرمپ اور خان کے مابین بے تکلفی، ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ پاکستان زوال پذیر تعلقات میں تبدیلی کا مظہر تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے  پاکستان کی امداد روک دینے اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مزید اقدامات کے مطالبے کے بعد ۲۰۱۸ میں دونوں ممالک کے تعلقات بدترین دور میں داخل ہوگئے تھے۔ اس رشتے میں بہتری کا تعلق دراصل امریکہ طالبان مذاکرات میں پاکستانی تعاون کی امریکی ضرورت سے جوڑا جاسکتا ہے، جو کہ امریکی صدر ٹرمپ کو دوران انتخابی مہم فوجوں کی افغانستان سے واپسی کے  کئے گئے وعدے کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔ افغانستان کے معاملے میں تعاون جہاں امریکہ پاکستان تعلقات میں استحکام لاسکتا ہے، وہیں یہ تعلقات کی مسلسل دو طرفہ ضرورت کی نوعیت کو بھی ظاہرکرتا ہے، اور یہ بھی کہ افغانستان کے تناظر میں ٹرمپ پاکستان کو کس حیثیت میں دیکھتے ہیں۔

 چین اور امریکہ میں بڑھتا ہوا مقابلہ جو امریکہ کو بھارت کے قریب کررہا ہے، ۲۰۲۰ میں امریکہ پاکستان تعلقات کیلئے امتحان بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تاریخی قریبی روابط پر امریکی خدشات امریکی سفیر و نائب وزیر ایلس ویلز کی جانب سے پاکستان چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور ( سی پیک)  کے حوالے سے حالیہ تنقید سے صاف ظاہر تھے۔ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کا بھارت کی جانب بظاہر جھکاؤ پاکستان کی مایوسی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے مابین حالیہ خیر سگالی برقرار رہنے کا بڑا انحصار اس امر پر ہوگا کہ پاکستان علاقائی حرکیات میں خود کو اہم فریق ثابت کرنے میں کس حد تک کامیاب رہتا ہے اور امریکہ چین بڑھتی ہوئی رقابت میں خود کو کیسے متوازن رکھتا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سی پیک منصوبوں میں بظاہر سستی کے باوجود ۲۰۱۹ میں متعدد اہم معاملات پر پاکستان اور چین کے مفادات ملتے جلتے رہے۔ گزشتہ برس منصب سنبھالنے کے بعد خان نے چین کے تین سرکاری دورے کئے ہیں جن میں سے تازہ ترین اکتوبر میں تھا۔ فروری اور مارچ میں پلوامہ بالا کوٹ بحران کے دوران چین نے نمایاں کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل سے کام  لیں۔ تاہم بحران سے نمٹنے میں چین کے کردار پرپائی جانے والی تشویش، مستقبل میں اس کردار کی باریک بینی سے جانچ کا مطالبہ کرتی ہے، خصوصاً کسی اشتعال انگیزی کی صورت میں۔ اگرچہ پلوامہ حملے کے بعد چین، جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی پر ایک دہائی سے جاری اپنی مخالفت سے پیچھے ہٹا، تاہم یہ فہرست میں سے کشمیر کا حوالہ ختم کیئے جانے کے بعد ہوا۔ اس قدم کو اگرچہ بھارت کی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا گیا، تاہم بعد ازاں بھارت کی جانب سے یکطرفہ فیصلے کے نتیجے میں شق ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد کشمیر کی صورتحال کے جائزہ کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خصوصی  مشاورتی اجلاس طلب کرنے میں چین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حال ہی میں چین ایک بار پھر اس موضوع پر اقوام متحدہ کا اجلاس بلانے کیلئے زور ڈالتا رہا ہے۔ سفارتی تعاون کے علاوہ چین پاکستان کا بنیادی دفاعی شراکت دار بھی رہا ہے اور اس نے حال ہی میں پاکستان کے دفاع کیلئے اپنی معاونت کو کئی گنا بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

 پاکستان، امریکہ اور چین سے تعلقات کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں بھی سرگرمیوں میں مصروف رہا، ممکنہ طورپر وہ روایتی ایران- سعودی عرب دو قطبی تعلقات کی روش سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ ۲۰۱۹ کے ابتدائی حصے میں پاکستان جہاں سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ۲۰ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہا، وہیں خان نے سعودی تیل کے کنوؤں پر مبینہ ایرانی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے بیچ ثالث کا کردار ادا کرنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی۔ تاہم حالیہ تبدیلیاں، ماضی کے تصورات کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور پیچیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔ البتہ پاکستان کی جانب سے سعودی تحفظات کے باعث ملائیشیا سمٹ میں شرکت سے عین وقت پر پیچھے ہٹ جانے کے باعث امکان ہے کہ مسلم دنیا سے متعلقہ مسائل اور خلیجی سیاست میں ایک غیر جانب دار ریاست کے طور پر اس کی ساکھ پر دھبہ لگ سکتا ہے۔

”ایف یے ٹی ایف“ کی بلیک لسٹ میں شمولیت کا خطرہ پورے برس کے دوران ایسا چیلنج بنا رہا جس کی بدولت پاکستان کو نہ صرف داخلی سطح پر ادارہ جاتی اصلاحات کرنا پڑیں بلکہ بلیک لسٹ میں شمولیت سے بچاؤ کیلئے عالمی حمایت کو برقرار رکھنے کیلئے مسلسل سفارتی سطح پر بھی کوشش جاری رکھنا پڑی۔  آخر کار متعدد درکار اصلاحات متعارف کروانے اور پاکستانی کوششوں کو نمایاں کرنے کیلئے سفارتی ذرائع بروئے کار لانے کے بعد ”ایف یے ٹی ایف“ اکتوبر کے اجلاس میں پاکستان کیلئے حتمی تاریخ فروری ۲۰۲۰ تک بڑھانے پر رضامند ہوگیا۔ پاکستان، ”ایف یے ٹی ایف“ کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کوششوں میں اگرچہ بعض اتحادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے تاہم یہ معاملہ ۲۰۲۰ میں بھی اس کے سفارتی تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم رہے گا۔

داخلی سطح پر آزمائشیں

داخلی محاذ پر ۲۰۱۹ سیاسی اور معاشی آزمائشوں، گورننس کے مسائل اور پاکستانی سیاسی میدان میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے تنازعات  سے بھرپور تھا۔ اصلاحات اور ترقی کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آنے والی خان کی پی ٹی آئی حکومت ناتجربہ ٹیم، غیر واضح ترجیحات اور توجہ کا مرکز سیاسی حریفوں کی کرپشن کو ثابت کرنے تک محدود ہونے کے سبب متعدد وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہی۔ غیر متحد مگر بپھری ہوئی حزب اختلاف بھی ان کی جماعت کی جانب سے کارکردگی دکھانے کی راہ میں رکاوٹ بنی اور ان کیلئے ایک ایسی راہ متعین کی جو انکے پیش رو حکمرانوں سے مختلف تھی۔

 پاکستان میں معیشت کی نمو، افراط زر کی بلند شرح اورشرح روزگار میں کمی کی وجہ سے متاثر رہی۔ دوست ممالک کی جانب سے بھاری قرضوں اور آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج فراہم کئے جانے کے باوجود پاکستانی معیشت کا منظرنامہ خوفناک دکھائی دیتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے نظریئے کے برخلاف ۲۰۱۹ میں پاکستان کا جی ڈی پی  ۳.۲۹ فیصد تک گر چکا ہے جبکہ اسکے مقابلے میں گزشتہ برس یہ ۵.۵ تھا۔  ورلڈ بینک کے تخمینے کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہتا ہے تو یہ  ۲.۷ فیصد تک گر سکتا ہے۔ حکومت جہاں طویل دورانیئے کی ادارہ جاتی اصلاحات میں زیادہ سرمایہ کاری کا دعویٰ کررہی ہے، وہیں موجودہ معاشی بحران ان داخلی وعدوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ بن رہا ہے جو اس نے عوام سے کئے تھے، جیسا کہ صحت اور تعلیم کی سہولیات تک رسائی میں بہتری اور ”ایک کروڑ نوکریاں اور ۵۰ لاکھ گھر“ کی فراہمی۔ خوفناک معاشی منظرنامے کے باوجود آنے والے برس کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ مثال کے طور پرموڈیز انویسٹر سروس نے پاکستان میں نمو کے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی کریڈٹ ریٹنگ آؤٹ لک کو منفی سے مسحتکم کردیا ہے ۔

داخلی سطح پر ۲۰۱۹ میں پاکستان کی سیاست میں محاذ آرائی میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں، تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے ریلیوں، دھرنوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہروں کے ذریعے سیاسی منظرنامے پر ہلچل مچائے رکھی۔ تاہم  ان مظاہروں کا اثر بہت محدود رہا، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کی حکومت کی حمایت کرتی ہے، اورحزب اختلاف کی جماعتوں میں مفادات کا ٹکراؤ بکثرت موجود ہے، جو کہ انہیں تقسیم اور غیر موثر  بنائے ہوئے ہے۔

نتیجہ

۲۰۱۹ پی ٹی آئی کی قدرے ناتجربے کار حکومت کیلئے مشکل برس تھا۔ بالخصوص خارجہ پالیسی محاذ پرعمران خان کی مقابلتاً مضبوط کارکردگی داخلی امورسے نمٹنے کے طریقے سے یکسر الٹ تھی، جہاں انہیں وعدہ کی گئی اصلاحات لانے میں ناکامی کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ آنے والے برس میں جہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ضمن میں ۲۰۱۹ کے واقعات، جیسا کہ بھارت کے ساتھ جارحیت اور امریکہ کے ساتھ متزلزل تعلقات اہم عنصر کے طورپر دیکھے جائیں گے، وہیں ۲۰۲۰ میں پی ٹی آئی کیلئے اصل  امتحان داخلی محاذ پر اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Government of Pakistan via Twitter

Image 2: Government of Pakistan

Posted in , , China, Economics, FATF, Foreign Policy, India-Pakistan Relations, Kashmir, Pakistan, Year in Review 2019

Sitara Noor

Sitara Noor is a Senior Research Associate at the Centre for Aerospace and Security Studies in Islamabad, Pakistan and South Asian Voices Visiting Fellow 2019-2020. Previously, Sitara was the director of a Lahore-based policy consultancy and before that, a Research Fellow at the Vienna Center for Disarmament and Non Proliferation (VCDNP) in Vienna, Austria. Prior to joining the VCDNP, she worked at the Pakistan Nuclear Regulatory Authority under the Directorate of Nuclear Security and Physical Protection as an International Relations Analyst. She has been a faculty member at the National University of Modern Languages, Islamabad’s Department of International Relations for two years. She was also a visiting faculty at the National University of Science and Technology (NUST), Lahore, the Foreign Services Academy of Pakistan, and the Information Services Academy of Pakistan.

Read more


Continue Reading

کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

افغانستان میں اگر حالات انتہائی سازگار ہوں تو بھی اگلے پانچ برس اس کیلئے مشکل ہوں گے۔ اگرغنی حکومت اورطالبان کے مابین پر امن طور […]

September 5, 2020 - Views 0

Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *