پاکستان اور بھارت میں جوہری تعلیم کی اہمیت

shaheen-iii-getty-andalou-agency

میڈیا کے ذریعے ایٹمی ہتھیارات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا خاصا مشکل ہے۔ دیگر مسائل عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں، مثلاً پاکستانی خبروں میں انسدادِ دہشت گردی اور بھارتی خبروں مین چین کی تیز رفتار ترقی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ میڈیا کے علاوہ سیکورٹی امور سے متعلقہ اکادمی جریدوں اور جرنلوں میں بھی ایٹمی مسائل پر مختلف عنوانات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مثلاً پچھلے دس برس میں “اسلام آباد سٹریٹیجک سٹڈیز انسٹیٹیوٹ” کے شائع کردہ جرنل “سٹریٹیجک سٹڈیز” میں صرف ۱۴ فیصد مضامین جوہری سلامتی کے عنوان پرلکھے گئے۔ اسی طرح بھارت کی ” انسٹیٹیوٹ فار ڈیفینس سٹڈیز اینڈ انیلسز” کے شائع کردہ جریدے ” سٹریٹیجک انیلسز” میں محض ۷ فیصد مضامین نیوکلئیر سیکورٹی کے متعلق تھے۔ ٹیلی وژن پر بھی جوہری عنوانات کا ذکر شاز و نادر ہی ہوتا ہے۔ ایٹمی ہتھیار دونوں ممالک کے لئے بہت اہم ہیں، مگر میڈیا یا اکادمی جریدے ان کا تذکرہ کسی خاطر خواہ انداز میں نہیں کرتے۔ دوسرے اہم مسائل کو جوہری موضوعات پر ترجیح حاصل ہے، جیسے افغانستان میں جنگ،  میزائلی دفاع، اورمسئلہِ کشمیر۔

تعلیمی اداروں میں بھی ایٹمی ہتھیارات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا دشوار ہے کیونکہ جوہری سلامتی کے بارے میں کلاسیں بہت محدود ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے نوجوان تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ان دونوں ممالک میں اس وقت سٹریٹیجک امور کی تعلیم کے لئے ایک وصیع اور متوازن نصاب کی اشد ضرورت ہے۔

جوہری ہتھیارات کے بارے میں جو کچھ قلیل مواد موجود ہے،اس کی اکثریت قومی حکایات پر مبنی ہے۔ حکومت کا یکطرفہ نکتہِ نظر، جو کہ بیرونی مبصرین کے لئے ناقابلِ یقین ہے،ایک اچھی اور مضبوط تعلیم کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ قومی حکایات ایک ملک کو جوہری طاقت بننے میں ضرور مدد کر سکتے ہیں، مگر جب یہی حکایات حقیقت سے دور ہو جائیں تو یہ اپنے ملک کی عوام کے علاوہ کسی اور کو قائل کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔

جوہری مسائل دن بدن زیادہ کٹھن ہوتے جا رہے ہیں۔ چین، بھارت، اور پاکستان کے بیچ تین طرفہ جوہری مقابلہ جاری ہے۔ سنہ ۱۹۹۸ سے لے کر آج تک بھارت اور پاکستان دونوں نے ہر سال ایک نئے “کروز” یا “بلیسٹک” میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ چین اور بھارت دونوں نے بلیسٹک میزائلوں سے لیس نئی آبدوزوں کو آزمانا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان بھی اپنے جوہری ہتھیارات سمندر کی سمت بڑھا رہا ہے۔

indian-missile-getty

پاکستان نے بھارت کے روایتی جنگ کے ڈاکٹرائن “کولڈ سٹارٹ ” سے بچاؤ کے لئے مختصر رینج کے جوہری میزائل تیار کئے۔ دوسری جانب چین اور بھارت دونوں “میزائل ڈیفینس انٹرسیپٹرز” کا تجربہ کر چکے ہیں۔ چین، بھارت، اور خاص کر پاکستان کے جوہری ہتھیارات کے ذخیرے بڑھ رہے ہیں۔ چین نے تو اب ایک میزائل پر متعدد جوہری “وار ہیڈ” بھی لگانے شروع کر دیے ہیں۔ چین کی دیکھا دیکھی بھارت اور پھر پاکستان بھی ایسے میزائل بنانے کی کوشش کرے گا۔ جوہری ہتھیاروں سے مطعلق اتنا تحرک دنیا میں اور کہیں نہں پایا جاتا۔

ان تینوں ممالک کے جوہری ڈاکٹرائن بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ چین،بھارت، پاکستان سب کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری ڈاکٹرائن محدود “ڈیٹرنس” پر مبنی ہے مگر تینوں ممالک روز بروز اپنی جوہری جنگی صلاحیات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی طرف سے ایک بھی ایٹمی حملہ ہوا تو جواب میں وہ بہت زیادہ وسیع پیمانے پر کاروائی کرے گا، مگر پاکستان اس بات پر کوئی یقین نہیں رکھتا۔ دوسری طرف پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایٹمی حملہ کرنے میں پہل کرے گا، لیکن بھارت کو بھی پاکستان کی اس بات پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ سرحدی تنازعات بدستور جاری ہیں اور مسئلہِ کشمیر ایک مرتبہ پھر زور پکڑ چکا ہے۔ سفارتکاری شکست خوردہ ہے اور جوہری مقابلہ تیز ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں استحکام پیدا کرنا ناممکن ہے۔

بھارت اور پاکستان کے رویوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے دوسری جوہری طاقتوں کے تجربوں سے کوئی سبق نہیں حاصل کیا۔ ایسے ہتھیار ملک کی قوت و سلامتی میں اضافہ نہیں کرتے جنہیں استعمال ہی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور بھارت کے عوام اور سٹریٹیجک اشرافیہ کبھی جوہری حدود کے اندر رہ کر لڑنے اور کبھی جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت کی اکثریت آبادی دہشت گردی کے واقعے کا جواب پاکستان کے خلاف جوہری ہتھیاروں سے دینے کے حق میں ہے، باوجود اس کے کہ بھارت کے پاس یکساں طور پر موثر روایتی حربے موجود ہیں۔

دوسری جانب، “گیلپ” کے ایک نئے سروے کے مطابق پاکستانی قوم کو پختہ یقین ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں فتح پاکستانی فوج کی ہو گی، جیسے کسی طرح جوہری ہتھیار وہ کر دکھا سکتے ہیں جوآج تک روایتی اور “سبکنونشنل” تنازعات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایٹمی ہتھیار بڑے پیمانے کی جنگوں کی روک تھام میں تو کامیاب ثابت ہوئے ہیں، لیکن یہی ہتھیار دوسرے کسی بھی قسم کے خطرناک تنازعہ کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان دو روایتی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ جوہری ہتھیار نہ تو “سبکنونشنل” لڑائی اور اندرونی سیکورٹی خطرات کو روک سکے ہیں، اور نہ ہی یہ مسئلہِ کشمیر کو حل کر سکے ہیں۔

جوہری تعلیم کو فروغ دینے کی کاوش میں “سٹمسن سینڑر،” جہاں ہم کام کرتے ہیں، نے ایک مفت “آن لائن کورس” کا آغاز کیا ہے۔ “نیوکلئیر ساؤتھ ایژیا” کے نام سے یہ کورس طلباء کوناموربیرونِ ملک ماہرین سے سیکھنے، مشکل سوالات پر غور کرنے، اور موجودہ اور آنے والے چیلنجوں پر سوچ بچار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کورس میں پاکستان، بھارت، اور امریکہ کے ۶۰ سے زائد ماہرین کی دانشمندانہ رائے شامل ہے۔

جوہری تعلیم سے لاتعداد فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ طلباء، تجزیہ کار، اور دلچسپی رکھنے والے عوام جوہری معلومات چاہے کہیں سے بھی حاصل کریں، انہیں مشکل مسائل کو مختلف نقاتِ نظر سے دیکھنے کے بعد متوازن تجزیہ کرنا چاہیئے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں تعلیم عام کرنے سے جوہری خطرات کی کمی کے لئے سوچ کے نئے دروازے کھلیں گے اور نتیجتاً اس خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔

یہ مضمون ابتدائی طور پر دی ہیرلڈ میں شائع ہوا

This article first appeared in The Herald. Click here to read it in English.

***

Image 1: Anadolu Agency, Getty

Image 2: Pankaj Nangia-Bloomberg, Getty

 

Posted in , Education, India, India-Pakistan Relations, Nuclear, Nuclear Security, Nuclear Weapons, Pakistan

Michael Krepon

Michael Krepon

Michael Krepon is the Co-Founder of the Stimson Center. He worked previously at the Carnegie Endowment, the State Department, and on Capitol Hill. His areas of expertise are reducing nuclear dangers -- with a regional specialization in South Asia -- and improving national and international security in outer space.

Read more

Sameer Lalwani

Sameer Lalwani

Sameer Lalwani is Deputy Director for Stimson’s South Asia program. From 2014-15, Lalwani was a Stanton Nuclear Security Postdoctoral Fellow at the RAND Corporation. He completed his Ph.D. in political science at MIT and remains a Research Affiliate at MIT’s Center for International Studies. His research interests include grand strategy, counterinsurgency, civil-military relations, ethnic conflict, nuclear security, and the national security politics of South Asia and the Middle East.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *