IK-no-confidence-1095×616

 

پاکستان کی حکمران جماعت نے، حزب اختلاف کی عدم اعتماد کے ووٹ کی درخواست کے ردعمل میں ملک کی پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا۔ جس نے گزشتہ چند دنوں کے دوران اس عمل کی آئینی حیثیت کے بارے میں بڑے پیمانے پر مباحثے کو جنم دیا: خان نے غیر مصدقہ غیرملکی سازش کرنے والوں پر اپنی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی مدد کرنے کا الزام دھرا، جلد ہی سپریم کورٹ آف پاکستان بھی معاملے میں شامل ہو گئی۔  اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ پانے کی امید لیے عمران خان نے آنے والے مہینوں میں نئے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی ہلچل اور اس سے جنم لینے والی جغرافیائی سیاسی حرکیات خاص کر حریف طاقتوں امریکہ، روس اور چین سے پاکستان کے تعلقات، ملک کے جمہوری اداروں کے مستقبل پر سوال کھڑا کر دیتے ہیں۔ 

تحریک عدم اعتماد اور اس کے نتائج

خان کی حکومت پچھلے دو برس سے شدید دباؤ میں رہی ہے جو معاملے کو حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کے ووٹ تک لے گیا۔ تحریک عدم اعتماد یہ جانچتی ہے کہ آیا وزیراعظم اپنے ارکان پارلیمنٹ کا اعتماد رکھتے ہیں اور اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے موزوں ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، ملک میں حزب اختلاف کی طاقت ور ترین جماعتوں کا اتحاد ہے جس نے گزشتہ برس کے دوران داخلی و خارجی پالیسی غلطیوں کے علاوہ معاشی بد انتظامی پر خان حکومت کو پوری شدت کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اتحادی جماعتوں کی حکومت سے علیحدگی  کے بعد آخر کار حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے خان کے خلاف مناسب تعداد میں ارکان پارلیمنٹ کو جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ عمران خان کے عدم اعتماد کی تحریک ہار جانے پر پارلیمنٹ جانب نے ایک عبوری  وزیراعظم، شہباز شریف کو منتخب کیا تاکہ  فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کیا جا سکے۔ خان کے پارلیمنٹ میں اکثریت کھو دینے سے موجودہ حکومت کا خاتمہ تو ہو چکا ہے، تاہم پاکستان میں سیاسی عمل کبھی بھی ایک سیدھ میں آگے نہیں بڑھتا ہے۔

 پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے غیر تصدیق شدہ غیرملکی سازش کی بنیاد پر شق ۵ کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر دیا بلکہ وزیراعظم کی درخواست پر اسمبلیوں کو بھی تحلیل کر دیا۔ حزب اختلاف نے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے غیر مصدقہ حکومتی دعووں پر تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کو خلاف آئین اور ریاست کی جمہوری بنیادوں کی توہین قرار دیتے ہوئے اسے بغاوت قرار دیا۔ اسمبلیوں کی تحلیل کے فوری بعد معاملہ سپریم کورٹ کے پاس چلا گیا۔ عمران خان کے اسمبلیوں کی تحلیل اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو رد  کرنے کے قابل اعتراض فعل پر سپریم کورٹ نے سماعت کو چند دن تک ملتوی رکھا جس سے یہ خدشات جنم لینے لگے کہ سماعت میں مزید التواء پاکستان کی آئینی سالمیت اور جمہوری سیاسی عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔ تاہم سیاسی کمزوریوں کے باوجود سپریم کورٹ ثابت قدم رہی۔ عدالت نے خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا اور پارلیمنٹ کے اجلاس کو ۹ اپریل کو دوبارہ منعقد کرنے کا حکم دیا تاکہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالا جا سکے۔ عدلیہ حکومت کے سامنے ڈٹی رہی اور پاکستان کے جمہوری اداروں پر اعتماد کو بحال کیا۔

موجودہ سیاسی ماحول میں عسکری کردار

پاکستان میں سیاسی غیریقینی صورتحال میں فوجی بغاوت کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔ وہ سیاسی بے یقینی جو یہ ظاہر ہونے کے بعد سے پاکستان پر چھا گئی تھی کہ خان پارلیمنٹ میں اکثریت کی حمایت کھو چکے ہیں، اس نے فوجی مداخلت کے خدشات کو بڑھاوا دیا۔ عمران خان کی حکومت جو عام طور پر عسکری سہارے کی حامل کی شہرت رکھتی ہے ایسے ادارے کے ساتھ تعلقات کشیدہ کر بیٹھی ہے جو ملک میں غالباً طاقت ور ترین ہے۔ آئندہ انٹیلی جنس چیف کی تعیناتی پر اختلاف سے لے کے پاکستان کے سرکاری خارجہ پالیسی موقف کو متنازعہ بنانے تک، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ واضح طور پر حکومت پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ میں ان کا بیان جو اسمبلیوں کی تحلیل سے چوبیس گھنٹے سے بھی کم مدت قبل سامنے آیا تھا، اس میں انہوں نے امریکہ کے ہمراہ تعلقات کو برقرار رکھنے اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کی تھی جو کہ خان کی اس تنقید سے یکسر متصادم ہے جو انہوں نے  اپوزیشن پر امریکی سازش کے پھیلائے گئے جال کا حصہ ہونے پر کی  نیز یہ فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد کیے گئے دورہ روس پر مبنی پالیسی کے بھی برعکس ہے۔

اسمبلیوں کی تحلیل، عام انتخابات کے مطالبے اور عبوری حکومت کی عدم حاضری کے باوجود بھی فی الحال فوج پیچھے ہٹ چکی ہے۔ فوجی بغاوت کا کوئی امکان نہیں ہے جس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ فوج کو اقتدار میں آنے کا کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ آیا نومبر میں باجوہ کی مدت میں توسیع کی جاتی ہے۔ تاہم سیاسی غیر یقینی کا جاری رہنا محض فوج کو پتوار سنبھالنے کی ترغیب دلائے گا۔

جغرافیائی خدشات

زیادہ پرانی بات نہیں جب فروری میں خان نے ”کیمپ پالیٹکس” (سیاسی دھڑے بندی) کے دعووں کو مسترد کیا تھا اور امریکہ، چین اور روس سمیت تمام تزویراتی شراکت داروں کے ہمراہ تعاون پر زور دیا تھا۔ تاہم خان کے دورہ روس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترتیب نو کا اشارہ دیا۔ پاک چین تعلقات کو بارہا امریکہ پاکستان تعلقات کے لیے خطرے کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا  ہے تاہم پوٹن-خان مذاکرات تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔  خان کا امریکہ مخالف بیانیہ جس میں گزشتہ چند ہفتوں میں شدت آئی ہے، پاک امریکہ تعلقات کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ جو اس کی جمہوری بنیادوں کی روح ہے، امریکی سربراہی میں ایک مبینہ غیرملکی سازش کی بنا پر اس کو تحلیل کیا جانا، مستقبل میں پاکستان امریکہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کا رخ ہمیشہ کے لیے موڑ سکتا ہے۔ امریکہ نے پاکستانی سیاست میں غیرملکی مداخلت کے دعووں کو پوری شدت سے مسترد کیا ہے۔ تاہم پرفریب ہونے کے باوجود امریکہ مخالف بیانیے نے خان کے حامیوں کو متحرک کیا ہے اور آبادی کا باآسانی متاثر ہونے والا اور انتہائی محب وطن طبقہ جو پہلے بھی خان کو اقتدار میں لایا تھا، اسے توانائی بخشی ہے۔

پاکستان کے ساتھ ہر موسم میں جاری رہنے والی دوستی کے باوجود چین نے  دیگر ممالک کے سیاسی امور میں مداخلت نہ کرنے کے اپنے عزم کو برقرار رکھا ہے اور پاکستانی سیاسی دھڑوں سے آپس میں اتحاد کا مطالبہ کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ پاک چین اقتصادی راہ داری  جس کی بھرپور تشہیر کی گئی تھی پی ایم ایل این کے سابق سربراہ نواز شریف اور شی جن پنگ کا کارنامہ تھا۔ چین حزب اختلاف کے اتحاد کے موجودہ رہنماؤں میں سے ایک شہباز شریف کے ہمراہ بھی مضبوط تعلقات رکھتا ہے، چین کی غیر جانبداری کے باوجود اس امر کا امکان دکھائی نہیں دیتا ہے کہ حکومت میں تبدیلی پاک چین تعلقات پر اثرانداز ہوگی۔

 اس کے برعکس،  روس نے عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے کی کھلے بندوں حمایت کی ہے۔ روسی وزارت برائے خارجہ امور کے ایک ترجمان نے بیان جاری کیا جس میں امریکہ پر پاکستان کے داخلی امور میں “بے شرمی سے مداخلت” کا الزام عائد کیا اور آنے والے انتخابات میں عمران خان کی حمایت کا اعلان کیا۔ یوکرین پر حملے کے پس منظر میں روسی حمایت پاکستان کی جغرافیائی سیاسی ساکھ کے لیے مسائل کا باعث ہو سکتی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عظیم طاقتوں کے مقابلے کے حوالے سے پاکستان کی جدوجہد کا دائرہ کار وسیع ہو چکا ہے اور اس میں امریکہ چین کی جوڑی کے علاوہ روس بھی ایک فریق بن چکا ہے۔

غیر یقینی سیاسی صورتحال کا سلامتی صورتحال پر اثرانداز ہونا لازم ہے۔ گزشتہ ہفتے دہشت گرد گروہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اعلان کیا تھا کہ وہ سیکیورٹی فورسز پر رمضان میں حملے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس تنظیم سے مذاکرات کی کوششیں گزشتہ برس ناکام ہو گئی تھیں اور دہشت گرد حملے اسی شدت سے جاری رہے تھے۔ حکومت کی غیر موجودگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کے خلاف بڑھتا ہوا عدم اعتماد و عدم اطمینان  کے باعث پاکستانی طالبان  اقتدار کے خلا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور انہیں بھرتیوں کا عمل تیز کرنے اور شہری علاقوں میں حملوں میں شدت لانے کا موقع مل سکتا ہے۔ ایک جوہری طور پر مسلح ریاست کی ابتر ہوتی سلامتی صورتحال ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

تحریک عدم اعتماد کا غیر آئینی طریقے سے رد کیا جانا اور اسمبلیوں کی تحلیل کسی طور پر بھی سول بغاوت سے کم نہیں ہے۔ خان کا جمہوری طور پر منتخب شدہ ارکان پارلیمان کے بجائے انتخابی عمل کے ذریعے اکثریت کا ووٹ پانے کا اعتماد یادگاری اور کلی طور پر غیر حقیقی نہیں۔ ملک میں اس بیانیے کو بے حد کامیابی ملی ہے کہ امریکہ پاکستان کا دشمن ہے۔ تاہم چونکہ  سپریم کورٹ اسمبلیاں بحال کر چکی ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) تین مہینے کی مجوزہ مدت میں انتخابات کروانے سے معذوری ظاہر کر چکی ہے ایسے میں اس موسم گرما میں انتخابات منعقد ہونے کا امکان نہیں ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ کیا  پاکستان آنے والی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں خانہ جنگی کی جانب بڑھتا ہے۔ یہ امر تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا کہ کیا یہ سویلین بغاوت آنے والے برسوں میں زیادہ نقصان دہ، زیادہ غیر جمہوری سیاسی ماحول کی صورت میں ڈھل جائے گی۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Bloomberg via Getty Images

Image 2: Asif Hassan/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

یوکرین کا بحران جوہری اصولوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ Hindi & Urdu

یوکرین کا بحران جوہری اصولوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

یوکرین پر روسی حملے کے موقع پر ولادیمیر پوٹن نے…

یوکرین اور جنوبی ایشیا میں غیر وابستگی کی واپسی Hindi & Urdu

یوکرین اور جنوبی ایشیا میں غیر وابستگی کی واپسی

جنوبی ایشیا کی (معاشی حجم کے اعتبار سے) چار سب…

ادھر کنواں ادھر کھائی: روس-یوکرین بحران پر بھارتی موقف Hindi & Urdu

ادھر کنواں ادھر کھائی: روس-یوکرین بحران پر بھارتی موقف

بھارت نے  یوکرین پر روسی حملے کے خلاف اقوام متحدہ…