Ukraine-Nuclear

یوکرین پر روسی حملے کے موقع پر ولادیمیر پوٹن نے مداخلت کرنے والوں کو ”ایسے نتائج“ بھگتنے کی دھمکی دی ”جن کا تاریخ میں کبھی کسی کو سامنا نہیں ہوا ہوگا،“ روسی جوہری ہتھیار کی یاد دہانی پر مبنی یہ وہ چال ہے جس سے دنیا ناآشنا نہیں۔ ماضی مثلاً ۲۰۱۴ میں کرائمیا پر قبضے کے موقع پر کی گئی جوہری بیان بازی کے برعکس اس بار پوٹن نے ان دھمکیوں کے بعد جلد ہی روسی جوہری فورسز کو چوکس ہونے کی ہدایت بھی جاری کی۔ مزید براں روس نے حملے سے قبل بڑی سطح کی تزویراتی جوہری مشقیں بھی کیں جو ۲۰۱۴ میں قبضے کے فوراً بعد مغرب کے ساتھ پیدا ہونے والے تناؤ کے سبب روس نے کی تھیں۔ جوہری طاقت استعمال کرنے کی دھمکی کے علاوہ روس، کسی بھی دوسرے ملک کی سول جوہری تنصیبات پر قبضہ کرنے والا پہلا ملک بھی بن چکا ہے جس کی وجہ سے جوہری حادثات یا تباہی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

حملے کے ایک ماہ بعد، یوکرین میں ثابت قدمی سے جاری مزاحمت اور عالمی مذمت نے روسی فوج میں پائی جانے والی کمزوریوں کو عیاں کیا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ فوری قبضے نیز اہداف کے ٹھیک نشانے اور انسانی جانوں کے کم سے کم نقصان کے حوالے سے ابتدائی مفروضے کس قدر گمراہ کن تھے۔ اس غیر ضروری حد تک طویل کی گئی مہم کا نتیجہ یہ ہے کہ روس مشکلات میں دھنس رہا ہے اور اندھادھند بمباری کے حربے جو اس سے قبل چیچنیا اور شام میں اپنائے گئے تھے ان کے ذریعے تھیٹرز سے لے کر زچہ وارڈز تک شہری اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کے سلسلے کے پیچھے چھپ رہا ہے۔ اس پورے بحران میں جوہری ہتھیاروں کی تلوار مسلسل لٹک رہی ہے جو تجزیہ کاروں اور اسی طرح پالیسی سازوں کو اس جانب غور کرنے پر مجبور کر رہی ہے کہ کون سے اقدامات جنگ کا سبب بنتے ہیں۔ خاص کر ہم اس حوالے سے الجھ رہے ہیں کہ دیوار کے ساتھ لگائے گئے اور کمزور کر دینے والی ایک ظالمانہ جنگ میں الجھے ہوئے پوٹن کیا کر سکتے ہیں۔ ان تمام معاملات نے شخصیات کی اہمیت اور ڈیٹرنس سسٹمز کی نزاکتوں کو نمایاں طور پر سامنے پیش کیا ہے۔

چونکہ بہت سے عوامل سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے، ایسے میں یوکرین کی جنگ کے عالمی سیاست پر دور رس اثرات کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرنا بے سود ہے۔  تاہم اصول اہمیت رکھتے ہیں، اور اشتعال انگیزی (کبھی بھی) تیزی کے ساتھ رونما ہو سکتی ہے۔ جنوبی ایشیاء پر نگاہ رکھنے والوں سے یہ امر اوجھل نہیں رہا کہ جب سب کی نگاہیں روس پر تھیں، تب دنیا میں ایک بحران اس وقت ٹل گیا جب بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود کے اندر ایک براہموس کروز میزائل داغا گیا۔ خاص کر بالاکوٹ بحران کے بعد کے اعلانات کے پیش نظر یہ اندازہ ممکن تھا کہ بین الاقوامی سرحد کے پار داغا گیا میزائل کس قدر اشتعال اور غلط فہمی کا باعث ہو سکتا تھا، ایسے میں یہ امر چونکا دینے والا ہے کہ حادثاتی فائرنگ کا معاملہ مزید کوئی واقعہ رونما ہوئے بغیر حل ہو گیا۔

وہ اصول جس کے تبدیل ہونے کا غالباً سب سے زیادہ امکان ہے وہ بحران کے دنوں میں جوہری بیان بازی ہے۔ پوٹن کے عسکری قوت استعمال کرنے، ۲۰۱۷ میں صدر ٹرمپ کا ”آگ اور غضب،“ شمالی کوریا کی دھمکیوں کے بعد اب جنوبی ایشیا کے رہنما بھی جوہری بیان بازی کی جانب رخ کر رہے ہیں اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے بحران کے عین درمیان یا بحران کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اس بیان بازی کو ہمیں کتنی سنجیدگی سے لینا چاہیئے اس پر تو بڑے پیمانے پر بحث ہوتی ہے لیکن کوئی  قیادت جس قدر آسانی اور تیزی سے جوہری کارڈ کی جانب مڑ سکتی ہے اور پوٹن کے اقدامات اس کو جس حد تک معمول کا حصہ بنا کے پیش کرتے ہیں، پریشانی کی وجہ ہونی چاہیئے۔ جہاں پوٹن کی دھمکیاں ایک پھنسے ہوئے سیاسی رہنما کی دھمکیاں دکھائی دے سکتی ہیں وہیں یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا روس کی جانب سے یا دیگر مشاہدہ کاروں کی جانب سے نیٹو کو روکنے کے ضمن میں اسے کامیابی کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ درحقیقت بھارت کو کسی بھی غیر روایتی حملے کے جواب میں روایتی ردعمل دینے سے باز رکھنے کے لیے پاکستان کی عسکری حکمت عملی، خوف کی فضا قائم رکھنے اور روایتی ردعمل میں جوہری اشتعال انگیزی کے امکان پر ٹکی ہے اور یوں اس نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے لیے مقررہ حد کو کم کر دیا ہے۔

عالمی سطح پر ہتھیاروں کی روک تھام اور جوہری اصولوں کی مضبوطی روس کے حملے سے بہت پہلے سے ہی کمزور پڑ رہی تھیں اور مستقبل قریب میں امریکہ روس ہتھیاروں کی روک تھام کی بات چیت کی دوبارہ بحالی کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ گو کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ طاقت کے استعمال سے لے کے علاقائی سالمیت تک، جوہری اصولوں پر جنگ کے دور رس اثرات کیا ہوں گے تاہم اس بحران نے پالیسی سازوں اور عوام کو بلاشبہ مجبور کر دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے تباہ کن اثرات کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ معمولی نوعیت کے ”ٹیکٹیکل“ ہتھیار کا استعمال، جو روس کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے طور پر پیش کیا گیا تھا، روایتی حملوں سے کہیں زیادہ تباہی لائے گا جس میں ریڈی ایشن اور ریڈیو ایکٹو اخراج کے دور رس اثرات بھی شامل ہیں۔ یہ دیگر معاندانہ تعلقات کے درمیان خطرات میں کمی کے اقدامات میں پائے جانے والے سقم کو دور کرنے میں عجلت لا سکتا ہے خواہ یہ اعتماد سازی کے اقدامات کی نچلی ترین سطح پر ہی کیوں نہ ہو۔

ایک ایسی ممانعت جو عرصے سے مشکلات کا شکار رہی ہو، اس کی خلاف ورزی کا خطرہ غیر متوقع طور پر ایک فیصلہ کن موڑ بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ دیگر نے محسوس کیا ہے، روس کا اپنے جوہری ہتھیاروں پر انحصار حیران کن نہیں ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے روسی سرگرمیوں کا جواب پابندیوں کی شکل میں دینے کے سبب روس عالمی تنہائی اور تباہ ہوتی معیشت سے دوچار ہے جس کی داخلی سطح پر گونج آنے والے کئی برسوں تک سنائی دے گی۔ جہاں دنیا بھر کا ردعمل ملا جلا رہا ہے، وہیں ابھرتے ہوئے جوہری خطرات نے روس کے لیے کسی بھی قسم کی حمایت، حتیٰ کہ اس کے حمایتی تصور کیے جانے والے چین کی جانب سے بھی حمایت، کو بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس قسم کے بیانیے کو سیاسی چال قرار دیتے ہوئے مسترد کرنا آسان ہے۔ تاہم ایسے خطرات کو آج کی دنیا کے طاقتور قوم پرستوں کی معمول کی بڑھک کے طور پر قبول کرنا کسی بھی جوہری ہتھیار کے استعمال سے جڑے تباہ کن اثرات پر جائز بات چیت کا گلا گھونٹ دینے کے مترادف ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image: Celestino Arce/NurPhoto via Getty Images

Posted in:  
Share this:  

Related articles

<strong>تزویراتی خودمختاری : پاکستان بمقابلہ بھارت</strong> Hindi & Urdu

تزویراتی خودمختاری : پاکستان بمقابلہ بھارت

  یوکرین میں روس کی جنگ کے بعد اقوام عالم…

<strong>پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز

اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے…

<strong>پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  </strong> Hindi & Urdu

پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ۲۹ ستمبر کو…