افغان “اینڈ گیم” اور ایرانی اقدامات کا ادراک


صدر ٹرمپ کی جانب سے شام اور مبینہ طور پر، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے حوالے سے بہت سی قیاس آرئیاں کی گئی ہیں۔ ۲۰۱۹ کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے موقع پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ افواج کا انخلاء جاری امن مذاکرات میں پیش رفت پر منحصر ہوگا۔ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں دخیل علاقائی طاقت ایران، افغان طالبان سے معاندانہ تعلقات کو شراکتی تعاون میں تبدیل کرتے ہوئے افغان اینڈ گیم کا ایک اہم کھلاڑی بن چکا ہے۔ تہران کے  ۲۰۱۵ سے طالبان سے جاری روابط میں امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد اضافے اور افغان حکومت میں اپنے مفادات کو مزید ٹھوس بنائے جانے کا امکان ہے۔۔۔ ایک ایسی افغان حکومت جس کے بارے میں ایران کو یقین ہے کہ اس میں طالبان کا کردار معمولی نہیں ہوگا۔ ایران کی خواہش ہے کہ  کابل میں نہ تو امریکہ نواز حکومت ہو اور نہ ہی سعودی عرب اور پاکستان کے زیر اثر سنی انتہا پسند یا طالبان کے زیر انتظام سیاسی نظام ہو۔ 

امریکی اخراج؟

اگر امریکہ شام سے واپسی اختیار کرتا ہے اور بعد ازاں افغانستان  سے یا یہاں محض اپنی موجودگی کم کرتا ہے، تو یہ ممکنہ طور پر ایسے خلا کو جنم دے گا جس میں انتہا پسند گروہوں کی نمو ہوگی۔ افغانستان اور پاکستان کے تجربہ کار جنگجو جو شامی حکومت کے حق میں اور اس کے خلاف لڑائی کرچکے ہیں، پہلے سے ہی مقامی گروہوں جیسا کہ دولت اسلامیہ صوبہ خراسان ( آئی ایس کے پی) میں واپسی کا آغاز کرچکے ہیں۔ آئی ایس کے پی شام اورعراق سے تعلق رکھنے والے سنی دہشت گرد گروہ دولت اسلامیہ (داعش) کی افغانی شاخ ہے اور پاکستان سے متصل افغان سرحد پر یہ موجود ہے۔ ۔شام سے افغانستان لوٹنے والا ایک اور گروہ ایران میں پناہ گزین شیعہ افغان مہاجرین ہیں جنہیں ایران کی جانب سے شام میں اسد حکومت کی طرف سے لڑنے کی خاطر ۸ سے ۱۴ ہزار جنگجوئوں پر مشتمل فاطمی ڈویژن میں بھرتی کیا گیا تھا۔ جیسے ہی اسد حکومت شام میں جاری خانہ جنگی میں برتر پوزیشن میں آئے گی، ایران ممکنہ طور پر ان تجربہ کار شیعہ جنگجوئوں کو واپس افغانستان بھیج دے گا۔ اس بارے میں پہلے ہی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ یہ شیعہ ملیشیا صوبہ واردک میں ہزارہ براردی اور ایران مخالف گروہوں کیخلاف مسلح کاروائیوں میں مصروف ہے۔

ایرانی دخول

امریکہ کے افغانستان سے ممکنہ انخلاء کے پس منظر میں افغانستان میں ایرانی مفادات کو سمجھنا اور یہ کہ  اس نے کیسے  افغانستان کے بارے میں اپنی محتاط پالیسی ترتیب دی ہے ، سمجھنا ضروری ہے۔ تہران کے طالبان سے حالیہ روابط ایران کی کثیر الجہتی پالیسی کا ممکنہ حصہ ہیں جس کا مقصد ایرانی اثر و رسوخ کو بڑھانا، خطے میں امریکی منصوبوں کوروکنا اور اپنے علاقے کو سنی انتہا پسند گروہوں سے بچانا ہے۔ ۲۰۰۳ میں عراق پر امریکی حملے کے بعد ایران کو یہ خوف لاحق تھا کہ اگلی باری ان کی ہے اور وہ مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں ایرانی مفادات کیخلاف امریکی چالوں کو روکنے کیلئے القاعدہ سے منسلک افراد کو استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اس کو یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ افغانستان ، ایران کے مبینہ جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملوں کیلئے بطور فارورڈ بیس استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ خدشات بے جا نہیں کیونکہ امریکہ نے بارہا  ایران کے خلاف عسکری طاقت کے استعمال کے خطرے کا تذکرہ کیا ہے۔ 

 تہران نے لہذا، افغانستان میں اپنے ذاتی مفادات کے فروغ کیلئے “تزویراتی غیرجانبداری” کی حکمت عملی اپنائی ہے۔  اس ( پالیسی ) میں امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت اور طالبان کی بیک وقت مدد کے ساتھ ساتھ  بوقت ضرورت انہیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا شامل ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے، ایران نے طالبان کو بطور دفاعی فصیل استعمال میں لاتے ہوئے سازو سامان اور انٹیلی جنس  کی مدد کی فراہمی کے ذریعے سے افغانستان میں امریکی عسکری آپریشنز کو پیچیدہ بنایا ہے۔ ایران پر طالبان کو مہلک ہتھیار فراہم کرنے کا بھی الزام لگتا رہا ہے۔  ایرانی جوہری معاہدے سے امریکہ کے پیچھے ہٹنے کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے توطالبان کی مدد کرنا امریکی علاقائی مفادات کو سبوتاژ کرنے کا ایک سود مند طریقہ ہے، اور اس حمایت کا خفیہ ہونا  تہران کو سرکاری سطح پر اس کی تردید کا موقع بھی دیتا ہے۔

امداد میں اضافہ تہران کے طالبان پر اثر و رسوخ کو بھی فروغ دیتا ہے جو کہ امریکہ کے افغانستان چھوڑدینے کی صورت میں ایک منطقی حکمت عملی ہے۔ یہ پاکستان اور افغانستان میں اس کے پراکسی جیسا کہ طالبان کے  سعودی چھتری تلے تیزی سے اکھٹا ہونے کے خطرات سے نتھی ہے۔ ( اگرچہ پاکستان نے ایران کے خلاف سعودی قیادت میں کسی بھی اتحاد میں شمولیت کے خلاف کسی حد تک مزاحمت کی ہے، اسلام آباد کا تہران کی نسبت ریاض کی جانب زیادہ جھکائو ہے)۔ مستقبل  کا ایسا افغانستان جہاں کی حکومت  بلا کسی حیل و حجت ریاض اور واشنگٹن کے قابو میں ہو، ایران کے لئے ہیبت ناک پریشانی کا باعث ہے۔ مزید براں علاقے میں ایران کا حریف سعودی عرب، جو کہ امریکی اتحادی ہے ، کا ایران کے خلاف لڑنے والے سنی انتہا پسند گروہوں سے تعلق جڑا ہے۔ ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی جیش العدل ( جے یو اے) شامل ہے۔ جے یو اے نے  ایرانی فوجی قافلے پر ۱۳ فروری کو ایک خودکش حملہ کیا تھا جس میں ۲۷ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ایک ایسے علاقائی پس منظر میں جہاں سنی انتہا پسند گروہوں کو پھیلنے کی آزادی ہے، ایران ممکنہ طور پر  ناصرف پاکستان بلکہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے حملوں کا بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ اس صورتحال سے جان چھڑانے کیلئے، تہران طالبان کو پاکستانی اور خلیجی حمایت کے سائے سے نکالنے کی کوشش میں ہے اور طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کو ایران پر حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت کے عوض مشترکہ دشمنوں کے خلاف مل کے کام کرنے کی ترغیب دینا چاہتا ہے ۔

افغان اینڈ گیم

ایران اپنے قومی سلامتی کے مفادات کے سبب طالبان سے تعلقات کو  قائم رکھنے کیلئے ۲۰۱۵ سے اس تنظیم سے نجی ملاقاتوں اوربات چیت کیلئے متحرک ہے۔ اس نے موجودہ مذاکراتی عمل میں بھی شمولیت کیلئے نئے سرے سے کوشش شروع کی ہے، خاص کرتب سے  جب سے اسے  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے طالبان کو قطر سے دور کرنے کی کوشش کا ادراک ہوا ہے۔ ایرانی ذرائع یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ انہوں نے طالبان سے ملاقات اس لئے کی کیونکہ انہیں خدشات لاحق تھے کہ امریکہ۔ طالبان مذاکرات شائد متحدہ عرب امارات، سعودی عرب یا امریکہ کی جانب سے افراتفری پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔ ۳۰ دسمبر۲۰۱۸ کو طالبان کے ایک وفد نے ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات مبینہ طور پر طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کی حدود طے کرنے کیلئے کی گئی تھی۔

تہران نے طالبان سے ملاقات سے متعلق معلومات کا افغان حکومت سے تبادلہ کیا ہے اور مصر ہے کہ ایران نے مذاکرات کے انعقاد میں افغان حکومت سے تعاون کیا ہے، مگر اس بات چیت کی مکمل تفصیلات کے بارے میں محض قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں جیسے جیسے  طالبان اور امریکہ میں بذریعہ مذاکرت  تصفیہ کیلئے مزید بات چیت ہوتی ہے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ایران افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مشترکہ ڈور کے طور خطے کیلئے کھیل کے اختتامی حصے میں کیسے کھیلتا ہے، خاص کر ایسے میں کہ جب طالبان کی جانب سے  افغانستان کی منتخب حکومت کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز پر اپنے مسلح حملوں کا سلسلہ نہیں روکا ہے اور جاری امن مذاکرات کے باوجود ان حملوں میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ 

ان مذاکرات میں ایران،  امریکی انخلاء کے بعد والے افغانستان کے حوالے سے اپنے ایجنڈے کو ممکنہ طور پر فروغ دے گا۔ یہ افغانستان کو انتشار میں نہیں گرنے دینا چاہتا، کیونکہ اس طرح یہ ہر قسم کے انتہا پسندوں کی افزائش کا مقام بننے کے ساتھ ساتھ ایران کی نو تعمیر شدہ چابہار بندرگاہ کے ذریعے بذریعہ افغانستان بھارت تک ممکنہ ٹرانزٹ روٹ کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔ تاہم یہ کابل میں ایسی مستحکم حکومت بھی نہیں چاہتا جو واشنگٹن پر انتہائی منحصر ہو، اور نہ ہی وہ یہ چاہتا ہے کہ طالبان یا سعودی عرب اور پاکستان کی آشیرباد سے  سنی انتہا پسندوں کی افغانستان پر حکمرانی ہو۔ انجام کار، ایران ایک ایسے منظرنامے کا خواہش مند ہے جس میں افغانستان سے ایران کی جانب سنی انتہاپسندی کا کوئی بہائو نہ ہو اور امریکی افواج مغربی ایشیا میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی صلاحیت کے قابل نہ ہوں۔

اس مقصد کے حصول کیلئے، ایران اور طالبان نمایاں اختلافات کے باوجود بھی،  ایک دوسرے کے ساتھ اس وقت تک کام کرتے رہیں گے جب تک انکے باہمی مفادات انہیں اجازت دیں گے۔ ایران طالبان کو اسلح اور امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا خاص کر ایرانی سرحد سے متصل افغان صوبے جیسا کہ فرح، نمروز اور ہیرات میں، کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پر افغانستان میں ایران کا ثقافتی اورنقل و عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ اثرورسوخ ہے۔ امریکہ کو طالبان کے خلاف،  جو ایک زمانے میں ایران کے دشمن رہے ہیں، دو دہائیوں تک ایک خونی اور مہنگی جنگ میں دھنسائے رکھنا تہران کے مفادات کو بخوبی پورا کر رہا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1:  Adam Jones via Flickr 

Image 2: Anadolu Agency via Getty Images

Posted in , Afghanistan, Border, Defence, Doctrine, Foreign Policy, Geopolitics, Iran, Militancy, Pakistan, Policy, Security, United States

Saurav Sarkar

Saurav Sarkar

Saurav Sarkar is a Research Assistant at the Institute of Chinese Studies (ICS), New Delhi. He holds a Masters degree in International Relations from Amity University Uttar Pradesh, in Noida, India and was awarded the Best Strategic Thinking Achiever’s Award and Silver Medal for his academic performance. He did his BA (Honors) in English from the same university. He is also qualified for Assistant Professor as per University Grants Commission – National Eligibility Test requirements. He research interests include Chinese naval strategies in the Indo-Pacific, counter-terrorism, Afghanistan-Pakistan, and China-Pakistan strategic ties. He had also previously interned at ICS. He has written a research paper on China’s South China Sea strategy and presented a paper on Chinese submarine capabilities on a panel at the 11th All India Conference on China Studies, 2018.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *