جنوبی ایشیا میں امن کی سودے بازی: ایک نیا زاویہ

۱۹۴۵ سے ہر سال اگست کا مہینہ دنیا کو  ایک صریح طاقت اور جوہری ہتھیاروں سے نتھی خطرات   کی یاد دلاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ (مہینہ ) ہمیں  عالمی  جوہری نظام  کی صورتحال  بھی  یاد دلاتا ہے۔ جوہری جنوبی ایشیا  پر محقیقین کے کئی تجزیوں میں سے چند ہی ایسے ہوتے ہیں  جو نئی جہت متعارف کراتے ہیں اور جوہری طاقتوں کے رویوں کا بتا پاتے ہیں۔ اسی تناظر میں معید یوسف کی لکھی گئی کتاب“بروکنگ پیس اِن نیوکلئیر انوارئنمنٹ: یوایس کرائسز مینجمنٹ اِن ساؤتھ ایشیا (سٹین فورڈ یونیورسٹی پریس، ۲۰۱۸)  اس موضوع پر ایک نئی  سمت دیتی ہے۔ 

سودے بازی (بروکرڈ بارگیننگ) کا نظریہ؛

معید یوسف  نے اپنی تحریر میں ‘بروکرڈ بارگیننگ ‘ نظریہ پیش کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ یونی پولر (یک جہتی) دنیا میں ایک تیسری پارٹی علاقائی جوہری کشیدگی میں شمولیت اختیار کرتی ہے۔ اس نظرئے کے مطابق سرد جنگ کے بعد  کی یونی پولر (یک جہتی)  دنیا میں علاقائی جوہری بحران سنبھالنے میں  تین کرداروں  کا ملاپ ہے  جن میں دشمن قوتیں اور امریکہ بحثیتِ “طاقت ور ثالث” شامل ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جیسا کہ معید نے خود بھی  کتاب کی تحریر میں  چار  طرح کا لٹریچر بیان کیا ہے جس نے اس نظرئے کو بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔  تاہم یوسف کا تین پارٹی ماڈل اس لٹریچر سے باہر نکل کر ایک نئی جہت دینے کے مترادف ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں جوہری ریاستوں کے رویوں  کو دو طرفہ ڈیٹرنس  کے تناظر  میں بیان کیا گیا ہے۔ 

بروکرڈ بارگیننگ ایسا عمل ہے جس میں دشمن  ایک  متوازی  مجبوری یا ڈیٹرنس  میں ملوث ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ  تیسری پارٹی کو  اس لئے متوجہ کر رہے ہوتے ہیں کہ  یا تو  اپنی پوزیشن کو بہتر کر سکیں ، کچھ حاصل کر سکیں یا پھر   کشیدگی کو کسی طرح کم کر سکیں۔ معید کے مطابق تیسری پارٹی  کےعلاقائی جوہری بحران  کے بڑھنے سے متعلق  خدشات ـــــ اس کی خارجہ پالیسی کے خاص مفادات کے بغیر ہی ــــکشیدگی کم کرنے میں اسکی شمولیت لازم کر دیتے ہیں ۔ تین کرداروں کی طرف سے “تصورات، توقعات، مراعات، حکمت عملیوں اور چوائسز”  کا مرکب  کشیدگی کے نتائج اخذ کرنے کا  پتہ دیتے ہیں۔ بروکرڈ بارگیننگ ریاستی رویے  کے طریقہ کار  کو بیان کرتی ہے  اور پہلے سے موجود جوہری ڈیٹرنس کے برخلاف ایک اور چیلنج کھڑا کر دیتی ہے۔ 

تصوراتی اور  تجرباتی  جانچ پرکھ؛

بروکنگ پیس اِن نیوکلئیر انوارئنمنٹ کتاب عالمی کشیدگی پر موجود لٹریچر کے حوالے سے تصوراتی  اور تجرباتی  جانچ پرکھ  کرتی ہے  اور بالخصوص فیصلہ سازی اور سودے بازی کے عوامل پر بھی خاص توجہ دیتی ہے۔ تصوراتی طور پر اس کتاب میں بیان کیا گیا نظریہ (بروکرڈ بارگیننگ) بظاہر عالمی سطح پر جانے والے دو عناصر (لیول)  ـــــ عالمی سسٹم لیول اور سٹیٹ ایکٹر لیول  ــــ کے بیچ خلاء کو پُر کرتا ہے ۔ علاقائی لیول کی کشیدگی کو  خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے ۔ یونی پولر (یک جہتی) دنیا کے سامنے آنے سے اور امریکہ کا بروکرڈ بارگیننگ میں  تیسری پارٹی یا ثالث اور حتمی  عنصر  ہونے کی وجہ سے  کشیدگی کا سسٹم لیول ازسرِ نو ترتیب  ہوتا ہے۔ تیسری پارٹی  علاقائی جوہری قوتوں کے بیچ کشیدگی ـــــ جو عالمی سسٹم کے استحکام میں چیلنج کا باعث بن سکتی ہے ــــ  کا پہلے سے ادراک کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے  ۔ بروکرڈ بارگیننگ کا یہ “تین تکونی” ماڈل  خارجہ پالیسی  کے کشیدگی کے لیول کو  ــــ جسکا دشمن ریاستوں نے ادراک کر لیا ہوتا ہےــــسسٹم لیول کے ادراک اور علاقائی یا عالمی کشیدگی کے ساتھ تعلق بناتا ہے۔

تجرباتی طور پر معید  کاتجزیہ ایک دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے پاک-بھارت تین  بحرانوں ــــ کارگل جنگ (۱۹۹۹)، ٹوئن پیک بحران (۲۰۰۱) اور ممبئی حملے (۲۰۰۸) ــــ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ بحران سے نمٹنے کے طریقے، آلہ کار اور حکمتِ عملیاں بھی بیان کرتا ہے جو جنوبی ایشیائی جوہری طاقتوں کو میسر ہیں۔ مثال کے طور پر ممبئی حملوں کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے اپنے شہریوں کے لئے سفری ہدایات جاری کرنا ـــــ جن کو ۰۲-۲۰۰۱ کے بحران میں بھی کامیابی سے مگر نادانستہ طور پر جاری کیا گیا تھاــــ ایک دلچسپ امر ہے جس کو کتاب کے دوسرے حصے میں بیان کیا گیا ہے۔ مزید برآں  دو طرفہ مواصلات جیسا کہ ہاٹ لائن،  کاتقریباً منقطع ہو جانا یا ان کے غلط استعمال  کو تیسری پارٹی کی جانب سے درست معلومات میں تبدیل کر کے بروئے کار  لانا سفارت کاری کا ایک اہم  نقطہ ہے  جسے اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ بحرانوں کے دوران رویوں اور  تزویراتی آپشنز کے حوالے سے معید کا کہنا ہے کہ  بھارت کا پاکستان سے متعلق  بحرانوں پر روائتی سخت  نظام کے برخلاف، سرد جنگ کے بعد میں جنوبی ایشیا کی جوہری فضاء میں (اوپر بیان کیا گیا)  تین  سطحی نظام بھارت  کی  امریکہ کے ثالثی کردار سے نا پسندیدگی کو ظاہر نہیں کرتا۔ 

بروکرڈ بارگیننگ کاجنوبی ایشیا سے آگے  استعمال؛

اگرچہ مصنف نے بروکرڈ بارگیننگ کو جنوبی ایشیا کی جوہری فضاء میں سودے بازی کے طور پر پیش کیا ہے لیکن اس کا  دیگر معاملات میں اطلاق بھی قابلِ غور ہے۔ جنوبی ایشیا میں ۲۰۱۶، ۲۰۱۷ اور ۲۰۱۸ میں پاک بھارت سرحدی تنازعات ـــــ جن میں انڈو-پاک-کانفلیکٹ-مانیٹر کے ڈیٹا کے مطابق ۲۰۰۳ کے بعد کشیدگی سب سے زیادہ رہیـــــ میں امریکہ کی طرف سے عدم دلچسپی اور سیاسی گرما گرمی  میں بروکرڈ بارگیننگ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ چین اور بھارت کے معاملے میں ــــ  جہاں جوہری  تزویراتی  کیفیت ، روائتی عسکری  بے جوڑ پن اور امریکہ کا چین کی ایشیا میں طاقت اور اثرورسوخ کنٹرول کرنے  کا  مقصد ہے ــــ  وہاں نہ صرف بحران کو قابو کرنے میں امریکہ کی حدیں واضح ہوتی ہیں بلکہ بروکرڈ بارگیننگ نظریہ بھی سامنے آتا ہے۔ 

بروکرڈ بارگیننگ کےلئے مشکل ترین تجزیاتی چیلنج یہ ہے کہ  اسکا  دیگر دو جہتی (یا تین جہتی) جوہری بحرانوں یا جنوبی ایشیا کے علاوہ اور کسی جگہ کیسے اطلاق کیا جا سکے گا۔ معید اس کےلئے چار  مثالیں پیش کرتے ہیں ـــ مغربی ایشیا ( اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتیں)، مشرقی ایشیا (جزیرہ نما کوریا)، اور جنوبی ایشیا (بھارت اور چین)۔ بھارت اور چین کے علاوہ باقی کی مثالیں ابھی محض ممکنہ جوہری  بحران سے متعلق ہیں۔ جزیرہ نما کوریا میں  دو طرفہ جوہری بحران  کا کم تر امکان ہے چونکہ اس خطے میں چین کے نہ صرف  مفادات ہیں بلکہ تاریخی طور پر چین کا کردار بھی رہا ہے۔ 

جنوبی ایشیا  کو پرکھنے کےلئے ایک نیا زاویہ؛

“بروکنگ پیس اِن نیوکلئیر انوارئنمنٹ” کتاب جوہری سیاست پر نظر رکھنے والے انٹرنیشنل ریلیشنز کے طالبعلموں کےلئے دو جہتی اور کثیر جہتی  جوہری صورتحال کو پرکھنے کےلئے ایک گرانقدر  تجزیاتی  نچوڑ ہے۔ معید یوسف کا سرد جنگ کے بعد  جنوبی ایشیا  میں جوہری صورتحال  سے متعلق محتاط  تجزیہ اور  پاک-بھارت تین بحرانوں پر تحریر  علاقائی اور غیر علاقائی پڑھنے والوں کےلئے  اچھا اضافہ ہے۔

ایڈیٹر نوٹ: چار حصوں پر مشتمل  اس نئی سیریز میں  ساؤتھ ایشین وائسز کے مصنفین تانوی کلکرنی، جوئے مترا، صائمہ سیال اور محمد فیصل  معید یوسف کی کتاب   “بروکنگ پیس اِن نیوکلئیر انوارئنمنٹ: یوایس کرائسز مینجمنٹ اِن ساؤتھ ایشیا”  کا تجزیہ کریں گے۔  یہ کتاب جوہری پاکستان اور بھارت کے بیچ  تنازعات کا احاطہ کرتی ہے اور  جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے تدارک میں تیسری پارٹی کے کردار پر نظر ڈالتی ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Jack Zalium via Flickr

Image 2: Sondeep Shankar via Getty

Posted in , Crisis, Defence, Deterrence, Doctrine, Foreign Policy, India, India-Pakistan Relations, Kashmir, Military, Nuclear, Nuclear Weapons, Pakistan, Peace, Policy, Security, United States, US

Tanvi Kulkarni

Tanvi Kulkarni

Tanvi Kulkarni is a PhD candidate at the Centre for International Politics, Organization and Disarmament, Jawaharlal Nehru University, New Delhi. She specializes in nuclear weapons politics and confidence building measures, particularly in South Asia. Tanvi completed her M.Phil in Diplomacy and Disarmament in August 2014, and for her dissertation, she worked on tracing the evolution of the ideas of Credible Minimum Deterrence and No First Use in India's nuclear doctrine and policy. Tanvi was SAV Visiting Fellow in March 2015. She has previously worked with the Nuclear Security Program at the Institute of Peace and Conflict Studies in New Delhi.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *