جنوبی ایشیا کے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربات کے بعد امریکی ردِ عمل

پاکستان اور بھارت نے مئی ۱۹۹۸ میں جوہری تجربات کیوں کئے اور امریکہ و عالمی برادری کا ردِ عمل کیا تھا؟  ساؤتھ ایشین وائسز  کا یہ مضمون ان تمام سوالات کا احاطہ کرے گا جس میں ماہرین  اور محققین  کا تجزیہ  نیوکلئیر لرننگ  سے ماخذ ہے۔ 

مئی ۱۹۹۸ میں ایسی کیا صورت حال تھی  کہ پاکستان اور بھارت نے جوہری تجربات کئے؟

اٹل بہاری واجپائی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے چند ماہ بعد ہی مئی ۱۱ اور ۱۳ کو بھارت نے راجستھان صحرا میں پانچ جوہری تجربات کئے۔ ۱۷ دن کے غوروخوض کے بعد ۲۸ مئی ۱۹۹۸ کو پاکستان نے بلوچستان میں پانچ جوہری تجربات کئے اور چھٹا  تجربہ دو دن بعد  خاران کے قریب زیر زمین کیا۔ 

بھارت کا ۱۹۹۸ میں جوہری تجربہ داراصل اس وقت کے وزیراعظم واجپائی کے بقول “خطے کی خراب ہوتی سکیورٹی کی صورتحال” ، جوہری چین  اور پاکستان کے “خفیہ جوہری ہتھیاروں”  سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ ۱۹۹۸ کے ان تجربات سے بھارت عالمی طور پر چھٹا اور  پاکستان ساتواں جوہری ملک بن گیا۔بھارت نے اس سے قبل ۱۹۷۴ میں بھی ایک تجربہ کیا تھا جس پر زبردست تنقید ہوئی اور جس کے نتیجے میں نیوکلئر سپلائرز گروپ تشکیل پایا تھا۔

امریکہ نے بھارتی جوہری تجربات کے بعد کیسے پاکستان کو جوہری ڈیوائسز کے تجربے سے روکنے کی کوشش کی تھی؟

یو-ایس سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل انتھونی زینی کے مطابق جب ۱۹۹۸ میں بھارت جوہری تجربات کر چکا تو  میں فوری طور پر پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کےلئے آیا اور امریکی کابینہ کے دیگر اراکین نے  پاکستان پر بھارتی تجربات کے ردِعمل میں جوہری تجربات کرنے سے باز رہنے کا کہا۔ زینی کا کہنا ہے کہ دورہ تقریباً “مشن امپاسیبل”  تھا کیونکہ امریکہ پاکستان کو یہ باور کرانے میں ناکام رہا کہ جوہری ہتھیاروں کا تجربہ پاکستان کے تزویراتی مفاد میں نہیں ہے۔ 

پاکستان نے بھارتی تجربات کے مقابل اپنے جوہری تجربوں سے دو ہفتوں کے اندر اندر ردِ عمل کیوں دیا؟

نیول پوسٹ گریجویٹ سکول کے پروفیسر فیروز خان کہتے ہیں  کہ اگرچہ پاکستان یہ جانتا تھا کہ جوہری تجربات کے بعد اس کو معاشی پابندیوں کا سامنا ہو گا لیکن وزارتِ خارجہ اور فوج  نے بھارتی تجربوں کے بعد یہ بھانپ لیا تھا کہ اب دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے  اور اگر ہم تجربہ نہیں کرتے تو  یہ پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہو گا۔ 

جب پاکستان اور بھارت جوہری تجربات کر چکے تو امریکی ترجیحات کیا تھیں؟

ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ فار پولیٹیکل-ملٹری اینڈ اکنامک افئیرز رابرٹ آین ہارن کے مطابق  امریکہ نے پاکستان اور بھارت سے  امید کی کہ دونوں  “سٹریٹجک ریسٹرینٹ ریجیم”  کا لحاظ کریں گے تاکہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہ ہو جائے اور دنیا کے دیگر خطوں میں  جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششیں کمزور نہ پڑ جائیں۔ اس مقصد کےلئے امریکہ نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ دونوں کمپرہینسو ٹیسٹ بین ٹریٹی (سی-ٹی-بی-ٹی) میں شمولیت اختیار کر لیں  تاکہ  جوہری ہتھیاروں کےلئے لازم فیسائل میٹرئیل (مواد) کی تیاری نہ کی جاسکے ، دُور مار کے بیلسٹک میزائلوں  کی تیاری یا تجربہ نہ کیا جسکے اور فیسائل میٹرئیل اور میزائل ٹیکنالوجی کی فراہمی کے حوالے سے دونوں ملک ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکیں۔ 

اس مقصد کو پورا کرنے کےلئے صدر بل کلنٹن نے سٹروب ٹالبوٹ ـــ جو اسوقت ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ تھے ـــ کو  دونوں ملکوں کے ساتھ تزویراتی بات چیت شروع کرنے کا اہم کام سونپا۔ پاکستان اور بھارت کے بیچ دوطرفہ معاملات کے حوالے سے ۱۶ مہینوں تک بات چیت کے کئی دور منعقد ہوئے۔ 

امریکہ کی پاکستان اور بھارت پر ۱۹۹۸ کے جوہری تجربات کے بعد پابندیاں کیسی تھیں؟

۱۹۷۷ میں پاس کی گئی گلین ترمیم کی بدولت امریکہ پر یہ لازم ہو گیا کہ وہ کسی بھی ایسی ریاست جو جوہری ہتھیار وں کے تجربےکرنے کی کوشش کرے، پر معاشی پابندیاں عائد کرے۔  اس ترمیم کے ذریعے  معاشی پابندیوں کا مطلب  بیرونی و عسکری امداد کی معطلی کے ساتھ ساتھ  عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے  بھی محدود  امداد کی فراہمی   کرنا تھا۔ کلنٹن انتظامیہ نے پاکستان اور بھارت پر جوہری تجربات کے ہفتوں بعد گلین ترمیم نافذ کر دی۔ امریکہ نے پاکستان پر مئی ۱۹۹۸کے جوہری تجربات پر گلین ترمیم نافذ کر دی۔ کینیڈا، جرمنی اور جاپان نے بھی  پاک-بھارت دوطرفہ امداد  معطل کر دی۔ جوہری تجربات کرتے وقت پاکستان پہلے ہی ۱۹۷۶ کی سمنگٹن اور ۱۹۸۵ کی پریسلر ترامیم کی  زد میں تھا۔ پاک-امریکہ تعلقات کی  سکالر رابعہ اختر کے مطابق اکتوبر ۱۹۹۸ تک دونوں ملکوں پر امریکی پابندیاں کمزور پڑ چکی تھیں جب کلنٹن انتظامیہ نے دونوں ملکوں کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے باز رہنے کےلئے ریلیف پیکج کی پیشکش کی ۔ امریکی سینیٹ نے اس پر رائے شماری کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ 

۱۹۹۸ کے بعد امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے ساتھ کیسے روابط رکھے؟

اگرچہ امریکہ نے بھارت پر سی-ٹی-بی-ٹی پر دستخط کرنے  اور تزویراتی تھماؤ کی دیگر پالیسیوں کےلئے دباؤ ڈالا  لیکن بھارت اس دوران امریکہ و عالمی برادری کی توجہ منتشر ہونے اور عالمی تنہائی کے اثرات ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ایک سابقہ بھارتی سفارتکار راکیش سُود ـــ جو  جوہری تجربات کے بعد بھارت امریکہ تزویراتی ڈائیلاگ میں شامل تھے ـــ کے مطابق دو سال کے عرصہ میں بات چیت کے چودہ ادوار کے بعد امریکہ اور بھارت کے بیچ اعتماد پیدا ہوا گیا۔ 

جوہری تجربات کے ۸ مہنیے بعد پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف  نے بھارت زیرِ انتظام کشمیر کے کارگل محاذ پر لشکر کشی کر دی۔ جب مئی ۱۹۹۹ میں اس لشکر کشی کا پتہ چلا تو سی-ٹی-بی-ٹی پر اور کشمیر کے معاملے پر جوہری جنگ چھڑ جانے سے روکنے کی  امریکی کوششوں کو  شدید نقصان پہنچا۔۱۱/۹ کے بعد امریکہ کی  جنوبی ایشیا سے متعلق تزویراتی پالیسی میں  تبدیلی آئی  کیونکہ امریکہ نے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں پاکستان کی مدد چاہی۔ اس کے نتیجے میں ستمبر ۲۰۰۱ کے بعد باقی ماندہ پابندیاں بھی اٹھا لی گئیں۔ 

جنوبی ایشیا میں جوہری معاملات پر ماہرین کی مزید رائے جاننے کےلئے سٹمسن سینٹر کے آن لائن کورس “نیوکلئیر ساؤتھ ایشیا: اے گائیڈ تو انڈیا، پاکستان اینڈ دی بمب”  میں فری داخلہ لیں۔ یہاں کلک کریں.

***

Image: The Official CTBTO Photostream via Flickr

Editor’s Note: To read this article in English, please click here

Posted in , CTBT, Defence, Deterrence, Disarmament, Escalation Control, India, India-Pakistan Relations, Military, Missiles, Nonproliferation, Nuclear, Nuclear Security, Nuclear Weapons, Pakistan, Politics, Security, Uncategorized, United States, US

SAV editorial staff

SAV editorial staff


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *