ریکس ٹیلرسن کا دورہِ اسلام آباد: دو نقاط ایک بات

جیسے ہی امریکی وزیرِ خارجہ گزشتہ ہفتے جنوبی ایشیا کے پہلے دورے پر اسلام آباد آئے، پاکستانی پالیسی سازوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ امریکہ پاکستان سے چاہتا کیا ہے؟ صدر ٹرمپ کی حالیہ جنوبی ایشیا پالیسی (جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں) کے نتیجے میں ایک ابہام بھی سامنے آیا ہے ۔ اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا جو افغانستان میں طالبان کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اسکے علاوہ امریکہ نے پاکستان کے ازلی مخالف بھارت کو افغانستان میں مزید کردار ادا کرنے کا  بھی اعادہ کیا ہے۔

اس پالیسی کے سامنے آنے کے بعد سے پاکستان نے بھی اپنے موقف  اور مستقبل کی انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امریکہ سے تعاون کی حدیں واضح کی ہیں ۔اسی لئے ریکس ٹیلرسن کےلئے دورہ اسلام آباد کٹھن مسائل سے بھرپور تھا۔ اعلیٰ سطحی بات چیت اور تعاون کے چند اشاروں کے باوجود پاکستان اور امریکہ افغانستان کی صورتحال کے بارے میں ابہام کا شکار ہیں۔

سیاسی غیر یقینی سفارتی  عدم تعاون  کا سبب؛

ٹیلرسن کے چار گھنٹے کے دورہ اسلام آباد سے یہ لگتا ہے کہ دونوں اطرف بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا چاہتی ہیں۔ ٹیلرسن کے بعد اعلیٰ سطحی وفد نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس سے پہلے پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے  واشنگٹن یاترا کی اور ریکس ٹیلرسن کے علاوہ دیگر اعلیٰ عہدیداران سے بھی ملاقات کی۔ سفارتی  روابط کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے سکیورٹی ذرائع نے بھی ایک دوسرے سے دہشت گردی کے معاملے پر تعاون کیا جس کے نتیجے میں ایک کینیڈین-امریکی فیملی کو حقانی نیٹ ورک سے آذاد کرایا گیا۔

اس حوصلہ افزامنظر کے باوجود دونوں ملکوں کی سیاسی فضاء غیر یقینی ہے جس سے خاطر خواہ تعاون برقرار رکھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ امریکہ کے اعلیٰ ادروں جیسے دفاع اور سٹیٹ کا شعبہ، خفیہ ایجنسیاں اور وائٹ ہاؤس نے امریکی پالیسی کو غیر متوقع بنا دیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کی صدر ٹرمپ کی محض ایک ٹویٹ  ٹیلرسن اور دیگر عہدیداران کی کاوشوں کو ضائع کر سکتی ہے۔بالکل اسی طرح پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بھی پیچیدہ ہے کیونکہ۲۰۱۸ کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور حکومت  سابق وزیرِ اعظم نواز شریف  کی نا اہلی جیسے مسائل سے نمٹنے میں مصروفِ عمل ہے۔ اور اسی تناظر میں پاکستان کی سیاسی اشرافیہ عالمی برادری  کو سننے کی بجائے مقامی لوگوں کو تسلیاں دینے میں مگن ہے۔

اس غیر یقینی منظر نامے میں  پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کےلئے حالیہ مہینوں میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو  رواں رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔پاکستان نے افغانستان میں امن اور استحکام میں دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ امریکہ نے اس کام کےلئے پاکستان کا دوسرے ملکوں سے ساتھ مل کر “افغانستان میں امن اور استحکام کےلئے سہولت کار بننے”  کے اہم کردار پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے دورہ پر اعلیٰ سطحی وفد کے مذاکرات کے بعد امریکہ  بات چیت کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ دونوں ملک ” افغانستان میں امن اور استحکام ،جنوبی ایشیا سے داعش کا  خاتمہ اور خطرے کا باعث بننے والے دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کو مشترکہ مقاصد  سمجھتےہیں”۔  دونوں ملکوں نے مشترکہ پریس ریلیز کی بجائے الگ الگ بیانات جاری کئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوطرفہ بات چیت میں تھوڑی بہت ہی بہتری ہوئی ہے۔ قابل توجہ یہ امر بھی ہے کہ دونوں طرف کے بیانات میں چار ملکی کو آرڈینیشن گروپ کا ذکر بھی نہیں کیا گیا جس کا اجلاس اسی ماہ ہوا تھا۔

دہشت گردی اور چینی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد  بیانیہ؛

اسلام آباد سے افغانستان روانہ ہونے سے پہلے ریکس ٹیلرسن نے پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ “پاکستان کے اندر سے طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ملنے والی مدد پر کاروائی کرے”۔ اسلام آباد کے بعد نئی دہلی میں جا کر ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہ پاکستان کی “سکیورٹی اور استحکام کےلئے خطرہ ہیں”۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنی سر زمین سے دہشت گردوں کے خاتمے کےلئے کاروائیاں کر رہا ہے اس لئے اب ‘ڈو مور’ نہیں سن سکتا۔ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق پاکستانی اور امریکی موقف میں ہٹ دھرمی  کا مطلب عدم اعتماد میں اضافہ کے طور پر ہی لیا جائے گا۔ دونوں اطراف سے یہی توقع کی جا رہی ہے مسائل کے حل کےلئے دوسرا پہل کرے۔

وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے حال ہی میں کہا ہے کہ ٹیلرسن نے اپنے دورہ ِ اسلام آباد کے دوران سیاسی و عسکری قیادت کو ۷۵ دہشت گردوں کی فہرست دی ہے  جبکہ پاکستان نے بھی اسی طرح کی فہرست امریکہ کو دی ہے جس میں افغانستان سے پاکستان پر حملہ کرنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کوئی بھی ملک اس معاملے میں بھی ایکشن لینے میں پہل کرنے کو تیار نہیں۔

پاکستان امریکہ کی افغانستان میں ‘ڈو مور’ منترا سے دگرگوں کیفیت میں رہتا ہےاورامریکہ کی افغانستان میں  موجودگی کی بدولت  پاکستان کو مزید تزویراتی  مسائل دیکھنے پڑ سکتے ہیں جیسا کہ کابل میں پاکستان مخالف حکومت کا قیام، افغانستان میں اضافی بھارتی موجودگی اور سی-پیک منصوبے کو نشانہ بنانے کی کوششیں۔

پاکستانی تزویراتی ماہرین کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے پاک-بھارت دشمنی کی بنیاد پر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی کو ایک خطرناک کھیل قرار دیا ہے۔ تاہم واشنگٹن کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ایسی کوئی بھی حکمتِ عملی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔ افغانستان میں بھارتی موجودگی کے بدلے پاکستانی موقف میں سختی آئے گی چونکہ یہ اس کےقومی سکیورٹی مفادات کے منافی ہے۔ افغان مسئلے میں چار دہائیوں سے براہ راست ملوث ہونے کی وجہ سے پاکستان اپنے بد ترین مخالف کی وہاں سرگرمیوں کو خاموش تماشائی بنے نہیں دیکھ سکے گا۔

افغانستان کے علاوہ امریکی اعلیٰ حکام (بشمول ریکس ٹیلرسن اور وزیر دفاع جیمز میٹس) کی چین کے ون-بیلٹ-ون-روڈ(اوبور) منصوبے کی مخالفت  نے بھی اسلام آباد کےلئے بے چینی کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ پاکستانی و امریکی  پریس بیانات میں سی-پیک یا اوبور سے متعلق براہ راست کوئی بات نہیں ہوئی تاہم پاکستان کی ان منصوبوں میں تزویراتی اہمیت کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران ان امور پر بات ہوئی ہو گی۔

واشنگٹن کےلئے یہ ضروری ہے کہ وہ سی-پیک کو پاکستانی عوام اور ریاستی ضرورت کے طور پر سمجھے چونکہ ایک دہائی سے  سست روی کا شکار معیشت کو سدھارنے کےلئے یہ منصوبہ انتہائی کارگر ہے۔ محض اس لئے کہ امریکہ چین سے تزویراتی دشمنی ہے، کی بنیاد پر اس بڑے منصوبے کی مخالفت پاکستانی پالیسی سازوں اور عوام کی نظروں میں امریکی کردار کو مزید مبہم بنا دے گی۔ اسی تناظر میں امریکہ اگر سی-پیک کی سپورٹ نہیں کر سکتا تو کم سے کم اس کی راہ میں حائل بھی نہیں ہونا چاہئیے۔

ریکس ٹیلرسن کا دورہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن دو طرفہ تعلقات کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتے ہیں۔ تعلقات کا مکمل انہدام  پاکستان کے ذاتی مفادات کو بھی داؤ پر لگا دے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی موقع کی نزاکت اور خطے میں پاکستانی اہمیت دیکھتے ہوئے جنوبی ایشیائی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہئیے ۔ متنازعہ معاملات بالخصوص افغان امور پر وسیع گفتگو  کے بغیر دو طرفہ تعلقات صحیح سمت میں آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: U.S. Department of State via Flickr (cropped)

Image 2: Gage Skidmore via Flickr

Posted in , Afghanistan, Border, China, Foreign Policy, India, Pakistan, Politics, Security, Terrorism, Uncategorized, United States, US

Muhammad Faisal

Muhammad Faisal

Muhammad Faisal is a Research Fellow at the Institute of Strategic Studies in Islamabad, Pakistan. He was formally a Research Fellow at the Center for International Strategic Studies, Islamabad and a Visiting Fellow at the Center for Non-Proliferation Studies in Monterey, California in the spring of 2015. He holds a post-graduate degree in Defense and Strategic Studies from Quaid-i-Azam University, Islamabad. His research interests include India-Pakistan relations and South Asia's security environment.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *