کیا امریکہ اور پاکستان کو اسلامک سٹیٹ خراسان پروونس کے خلاف اکٹھا ہونا چاہئیے؟

جب جولائی  ۲۰۱۸ میں لاکھوں پاکستانیوں  نے عام انتخابات میں ووٹ ڈالے تو اسی روز ایک خود کش حملہ آور  نے  کوئٹہ کے قریب دھماکے سے ۳۲ افراد کی جان لے لی۔ اسلامک سٹیٹ خراسان پروونس (آئی-ایس-کے-پی)  ـــــجو کہ داعش کی ایک شاخ ہے اور جنوبی ایشیا میں ۲۰۱۵ سے متحرک ہےـــ، نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس سے قبل مستونگ میں آئی-ایس-کے-پی نے  ایک اور خود کش دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں ۱۳۱ افراد شہید ہو گئے اور شہید ہونے والوں میں بلوچستان اسمبلی کا امیدوار سراج رئیسانی بھی شامل تھا۔ ان حملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آئی-ایس-کے-پی سکیورٹی کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے بالخصوص خیبر پختونخواہ ، بلوچستان  اور پاکستان کی افغانستان سے ملحقہ سرحد پر۔ 

افغانستان کے مغربی صوبے ننگر ہار میں مضبوط وجود کی وجہ سے آئی-ایس-کے-پی امریکہ و افغان افواج کےلئے زبردست  سکیورٹی چیلنجز کا باعث ہے۔ امریکہ نے اس خطرے سے نمٹنے کےلئے کئی طرح کے اقدامات کئے اور حتیٰ کہ آئی-ایس-کے-پی پر ‘مدر آف آل بمب’ بھی داغا۔ پاکستان میں حالیہ حملوں کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں  آئی-ایس-کے-پی پاکستان اور امریکہ کےلئے مشترکہ ہدف ہے  جس پر دونوں ملک تعاون کر سکتے ہیں۔ 

امریکہ-پاکستان تعلقات تبدیلی کے زیرِ اثر؟

پاکستان پولیٹیکو کےلئے لکھے گئے ایک مضمون میں جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ سخت حالات کے باوجود دونوں ملک اب بھی اکٹھا کام کرنے کا راستہ ڈھونڈ سکتے ہیں تا کہ دوطرفہ تعلق برقرار رہ سکے۔ مائیکل کا یہ نقطہ نظر ماضی میں دو عوامل کی وجہ سے  وزن رکھتا ہے۔ 

اولاً، غلط فہمی اور سرد مہری کے باوجود  واشنگٹن اور اسلام آباد  نے تلخی کم کرنے کےلئے “تزویراتی عوامل” استعمال کئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی پر ایک مہینے بعد سخت ردِ عمل دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی  نے  اقوامِ متحدہ کے ۷۲ویں اجلاس سے خطاب میں  خطے میں امن کےلئے پاک-امریکہ تعلقات کے اچھے ہونے کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ اسکے کچھ عرصے بعد پاکستانی فوج نے امریکی انٹیلی جنس معلومات پر ایک کینیڈین جوڑے کو پاک-افغان سرحد سے بازیاب کرایا۔ پاکستان کو اس عمل پر سراہا گیا اور دونوں ملکوں نے اعلیٰ سطحی رابطوں پر آمادگی ظاہر کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کی پاکستان کے دہشت گردوں سےمبینہ مراسم کے حوالے سےخدشات کے باوجود ، ٹیکٹیکل سطح کا تعاون بہر حال جاری تھا۔ امریکہ نے بھی پاکستان کا اعتماد حاصل کرنے کےلئے سرحد کے آس پاس ان دہشت گردوں کو ڈرون سے نشانہ بنایا جو پاکستان کےلئے خطرات کا باعث تھے۔ گزشتہ برس امریکہ نے ڈرون حملے میں عمر خراسانی کو مار ڈالا جو پاکستان مخالف جماعت الاحرار کا رہنما تھا۔ مزید برآں پچھلے سال جون میں امریکی و افغانی مشترکہ آپریشن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی-ٹی-پی)  کے رہنما ملا فضل اللہ کو بھی مار دیاگیا۔ 

دوم، دونوں ملکوں کے بیچ عسکری روابط نارمل ہو رہے ہیں، اس مہینے امریکی سینٹرل کمانڈ کے  جنرل جوزف ووٹل  نے کہا کہ وہ اپنے ہم منصب جنرل باجوہ  کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔ جنرل ووٹل کا کہنا تھا کہ وہ افغان معاملے پر پاکستان سے  “ٹیکٹیکل اور تزویراتی تعاون” حاصل کئے ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھی امید ظاہر کی کہ  فوجی روابط مثبت نتائج سامنے لائیں گے۔ ۳۱ جولائی کو پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی نے واشنگٹن میں  امریکی سیکرٹری آف ڈیفنس جیمز میٹس سے ملاقات کی  جس میں دونوں نے خطے کی سکیورٹی صورتحال  پر تبادلہ خیال کیا اور تعلقات کو بحال کرنے کا اعادہ کیا۔ عسکری سطح پر یہ چند واقعات  اہم ہیں  کیونکہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کو چلانے میں فوج کا کلیدی کردار ہے۔۱۱/۹ کے بعد پاکستانی فوج کے ساتھ امریکہ نے قریبی تعاون کیا ہے  اور تب سے امداد کا بڑا حصہ سکیورٹی معاملات سے متعلق ہی دیا گیا ہے۔ 

اسلام آباد اور واشنگٹن کے بیچ تعلقات میں گرمجوشی سے افغانستان میں عید کے موقع پر سیز فائر  ہونے جیسی مثبت تبدیلیاں بھی برپا ہوئی ہیں ۔ اس سال جون میں ۲۰۰۱ کے بعد پہلی دفعہ طالبان اور افغان حکومت نے عید کے موقع پر ۳ دن کےلئے سیز فائر کیاتھا۔ اس سلسلے میں پاکستانی کردار کی توثیق اسلام آباد میں  افغان حکومت کے نمائندے نے کی۔ 

مشترکہ دشمن:

امریکہ اور پاکستان دونوں نے افغانستان اور پاکستان کے اندر آئی-ایس-کے-پی کے خطر سے نبرد آزما ہونے کےلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ پچھلے سال پاکستان نے خیبر-۴ کے نام سے خیبر ضلع میں ایک آپریشن شروع کیا  جسکا مقصد ان عناصر کی بیخ کنی تھی جو  قبائلی علاقوں میں آئی-ایس-کے-پی کو کاروائیوں کےلئے وسائل مہیا کرتے ہیں۔ مہینے پر مشتمل یہ  آپریشن  جو گزشتہ اگست میں منتج ہوا، میں دہشت گردوں سے ۲۵۳ مربع کلومیٹر کا علاقہ واگزار کرا لیا گیا ۔امریکہ نے آئی-ایس-کے-پی  کے ننگر ہار میں پناہ گاہوں پر مدر آف آل بمب کو داغنے کے ساتھ ساتھ  اسکی لیڈر شپ کو بھی بری و فضائی طریقوں سے نشانہ بنایا۔ 

یہ اقدامات دونوں ملکوں کےلیے ایک موقع پیدا کرتے ہیں کہ آئی-ایس-کے-پی کے خطرے اور ارتقاء کو عسکری تعاون سے روکا جا سکے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دونوں اطراف کی افواج اس چیلنج سے نمٹنے کی پہلے سے ہی کوشش میں ہیں۔ جہاں امریکہ آئی-ایس-کے-پی کے خلاف افغانستان میں عسکری اقدامات میں اضافہ لا رہا ہے اور پاکستان اندرونی دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے انٹیلی جنس کی بنیادوں پر آپریشن کر رہا ہے تو آئی-ایس-کے-پی کی افغانستان اور پاکستان میں موجودگی  پر انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر کے دونوں ملک مستفید ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اپنے تئیں  آئی-ایس-کے-پی کے خلاف متواتر ٹارگٹڈ آپریشن کر کے  انکی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں  تباہی مچانے کی صلاحیت کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ 

خلاصہ؛

پاک-امریکہ تعلقات میں سرد مہری نہ تو افغانستان میں امن کےلئے بہتر ہے اور نہ ہی جنوبی ایشیا میں انسدادِ دہشت گردی کےلئے۔ تحفظات کے باوجود دونوں ملکوں نے عسکری و سفارتی سطح پر باہمی  ربط سازی کو ہی ترجیح دی ہے۔ آئی-ایس-کے-پی کے افغانستان میں پھیلنےسے وہاں پر امن لانے کی امریکی کوششوں کو جھٹکا لگا ہے  اور اس سے پاکستان کےلئے بھی سکیورٹی خطرات بڑھے ہیں۔ اسی باہمی خطرے اور چیلنج کے پیشِ نظر اسلام آباد اور واشنگٹن  دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لا کر اس چیلنج سے بنرد آزما ہو سکتے ہیں۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: The U.S. Army via Flickr

Image 2: Noorullah Shirzada via Getty

Posted in , Afghanistan, Border, Cooperation, Defence, Drones, Extremism, Internal Security, Militancy, Military, Pakistan, Peace, Policy, Security, Terrorism, United States, US

Syed Ali Zia Jaffery

Syed Ali Zia Jaffery

Syed Ali Zia Jaffery is a Research Associate at the Center for Security, Strategy and Policy Research, Lahore in Pakistan and an Associate Editor for Pakistan Politico. He frequently writes on defense and strategic affairs of the South Asian region.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *