Screenshot 2026-01-16 120744

ستمبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، جو بہتر ہوتے ہوئے امریکہ-پاکستان تعلقات کی اب تک کی سب سے واضح علامت ہے۔ رہنماؤں کی ملاقات کے  سبب مہینوں سے جاری پسِ پردہ مذاکرات اختتام پذیر ہوئے جو ایبی گیٹ بم دھماکے کے ملزمان کو گرفتار کرنےمیں پاکستان کی مدد پر ٹرمپ کی ممنونیت سے شروع  ہوئے، اور دوطرفہ تعلقات میں تقریباً ایک دہائی سے برقرار سردمہری میں بہتری آنے کی علامت بنے۔ پاکستان کے سیکورٹی اور اقتصادی  پریشان کُن حالات کوحالیہ دھچکوں، خصوصاً مئی میں بھارت کے ساتھ اس کی چار روزہ جنگ  نے بلاشبہ اس کی اقتصادی اور سیکورٹی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوششوں کو تیز کرنے میں کردار ادا کیا۔امریکہ کے علاقائی تحفظ سے متعلقہ مستقل خدشات اور پاکستانی تیل و معدنی وسائل میں تازہ دلچسپی کے ساتھ ہی پاکستان کی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ماہرانہ شخصی سفارت کاری، سب نے واشنگٹن کو اسلام آباد کے قریب کیا ہے۔

پہلی نظر میں امریکہ -پاکستان کے تعلقات کی تجدید بظاہر پاکستان میں چین کے اثر و رسوخ کے لیے خطرہ نظر آتی ہے۔ تاہم بیجنگ کا ردعمل نسبتاً دھیما رہا ہے۔ چینی حکام اور ریاستی میڈیا  نے تسلسل پر زور دیتے ہوئے اس امرپر اصرار کیا ہےکہ ‘ہر موسم کی دوستی’ برقرار ہے اور یہ کہ امریکی رابطہ کاری چین کی برتری کو چیلنج نہیں کرتی۔ یہ اعتماد بیجنگ کے اس تخمینےکو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا واشنگٹن کے ساتھ عارضی تدبیراتی  تعلق اسلام آباد کےسب سے مستقل اور اہم شراکت دار کے طور پر چین کے مقام کو نہ تو بدل پائےگا اور نہ ہی کم کرسکے گا۔ حقیقت میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو درپیش مشکلات کے پیش نظر، پاکستان کی نازک معیشت کو مستحکم کرنے میں امریکہ کی مدد کا بیجنگ میں خیر مقدم بھی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی سیکیورٹی کو درپیش جھٹکے اور واشنگٹن کی طرف جھکاؤ

پاکستان کی امریکہ تک حدِ رسائی کو پچھلے سال کے دوران اس کی قومی سلامتی کے منظرنامے کو ہلا دینے والے بحرانات  کےتسلسل سے علیحدہ رکھ کر سمجھنا ممکن نہیں۔

سال کے آغاز میں اسرائیل اور ایران کے درمیان مختصر لیکن غیر مستحکم کرنے والے تصادم  نے وسیع علاقے کو ہلا کر رکھ دیا اور پاکستان کی پہلے ہی سے مخدوش توانائی کی سلامتی کو مزید بگاڑا۔ پاکستان کی اپنے داخلی حفاظتی مسائل بالخصوص بلوچستان میں جارحیت پسندی اور افغانستان سے دہشت گردانہ تشدد کے بڑھتے ہوئے اثرات سےنمٹنے کی کوششوں کو ایسے اندیشوں نے پیچیدہ تر کر دیا ہے۔ پاکستان کے سرحدی صوبوں  نے افغان طالبان کی کابل میں اقتدار میں واپسی کے بعد زیادہ بےباک تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کی (متعدد) لہروں کا سامنا کیا ہے،  جس سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر دباؤ بڑھا اور حکومت پر عوامی اعتماد کمزور ہوا۔

 بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی پاکستان  کی چار روزہ جھڑپ سب سے زیادہ نقصان دہ تھی، جس نے اسلام آباد کی نئی دہلی کی فعال کشیدگیوں (کائنیٹک ایسکیلیشن) کا جواب دینے کی صلاحیت میں کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور غیر ملکی امداد کے ذرائع کو بڑھانے اور متنوع بنانے کی کوششوں میں عجلت پیدا کی۔ تاریخی طور پر جنوبی ایشیا میں بحران کی نگرانی میں واشنگٹن  کے اہم کردار کے پیشِ نظر شاید پاکستان کا ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف رخ کرنا فطری تھا۔مئی کے تنازعے کے فوری سیاق و سباق سے بعید، دہائیوں پر محیط قریبی تعاون برائے انسدادِبغاوت  نے ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کیا، جس کے نتیجے میں ریاستہائے متحدہ امریکہ پاکستان کے لیے ایک قدرتی شراکت دار بن گیا ہے۔سیکورٹی کے منطقی پہلو کے علاوہ، امریکہ کی مالی معاونت، تکنیکی مہارت اور منڈیوں تک بہتر رسائی کو ممکنہ طور پر پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے ایک مفید اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر—جنہیں  پاکستان کا سب سے اعلیٰ صاحبِ قوت مانا جاتا ہے—اس کے بعد سے اکثر  واشنگٹن کے دورے کرتے رہے ہیں۔ جون سے اب تک ان کے تین اہم دوروں  نے امریکہ-پاکستان تعلقات کی فوجی نوعیت اور واشنگٹن کی گفت و شنید میں از سرِ نو دلچسپی کو اجاگر کیا۔ جولائی تک دونوں فریقین نے ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کر لیےجس میں امریکی سرمایہ کاری کے لیے دروازہ کھولنے کی (شق) شامل تھی، جس کا مقصد پاکستان کے غیر ترقی یافتہ آئل فیلڈز اور معدنیات سے فائدہ اٹھانا تھا۔

پاکستان کی جانب بیجنگ کی گھٹتی ہوئی معاشی گرمجوشی

چین پاکستان کے لیے ناگزیر ہے، تاہم ان کے تعلقات میں دراڑیں واضح ہیں۔ گوکہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی  پیک) کاپہلا مرحلہ حوصلہ مند انفرا اسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) کے منصوبے لایا،  پاکستان کے غیر مستحکم سیاسی حالات، بڑھتے ہوئے قرضے اور چینی شہریوں کو درپیش مسلسل سیکیورٹی شکایات جیسے خدشات کے باعث نئی سرمایہ کاری سست ہو جانے سے دوسرا مرحلہ زیادہ محتاط نظر آتا ہے۔

چینی تجزیہ کار ان رکاوٹوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ بلوچستان میں باغیوں کے حملوں  نے توانائی کے منصوبوں کو متاثر کیا ہے اور چینی کارکنوں کو دہشت گردانہ دھماکوں میں ہدف بنایا گیا ہے۔
اندرونِ ملک چین کی سست رفتار ترقی اور جاری مالیاتی تعمیرِ نو  نے ممکنہ طور پر بیجنگ کی بڑی سطح کے بیرونی منصوبوں کی مالی معاونت کے جذبہ کو کمزور کیا ہے، اور اسے اپنے زیادہ نازک خارجی ترقیاتی اور امدادی اقدامات کا جائزہ لینے کا اضافی محرک فراہم کیا ہے۔

اسلام آباد کے لیے چین کی ہچکچاہٹ پریشان کن ہے۔ اس سےایک ہی سرپرست پر زیادہ انحصار کے نقصانات عیاں ہوتے ہیں اور بظاہر اس امر  نے پاکستانی رہنماؤں کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی تجدید اور سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کو بڑھا کر اپنے تحفظ کی پیش بندی کرنے کا اشارہ کیا ہے۔ بیجنگ کے لیے، سی پیک کی تعمیر نو کا مقصد عملی ہے؛ پاکستان میں اپنی ترقیاتی امداد کو درپیش سیاسی اور سیکورٹی خطرات میں کمی لانا ہے۔ چنانچہ پاکستان کے استحکام میں واشنگٹن کے کردار کو—بالخصوص انسداد دہشت گردی اور توانائی کی ترقی کی مد میں—پاکستان میں بیجنگ کے مقام کے لیے خطرے کے بجائے کسی حد تک معاونت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی موقع پرستانہ سفارت کاری

پاکستانی رہنما امید کرتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کے دائرہ کار کو بڑھانے سے وہ ٹرمپ انتظامیہ کی نظرِ عنایت میں رہیں، اقتصادی امداد حاصل کر سکیں، عسکری امداد  کویقینی بناسکیں اور  چین کے ساتھ اپنی بنیادی شراکت داری کی قربانی دیئے بغیر سفارتی لچک پذیری حاصل کرلیں ۔اسلام آباد کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو اس کی تزویراتی سوچ میں کسی بڑی تبدیلی کے بجائے اسے محض ایک حکمتِ عملی پر مبنی ہم آہنگی کے طور پر لینا چاہیئے۔پاکستان اپنی حکمت عملی میں تنوع لا رہا ہے—مختصرالمدت اقتصادی ریلیف حاصل کرنا، عسکری رابطہ کاری کو قابلِ رسائی رکھنا اور چین کو یہ عندیہ دینا کہ اس کے پاس اختیارات باقی ہیں۔

یہ موقع پرستی صدر ٹرمپ کی بھارت کے ساتھ مایوسیوں سے میل کھاتی ہیں جس میں دوطرفہ تجارتی مذاکرات میں تعطل، اسلام آباد کے ساتھ جنگ بندی میں ثالثی کے لیے واشنگٹن کو سراہنے سے نئی دہلی کے انکار اور مغربی پابندیوں کے باوجود بھارت کی روسی تیل کی خریداری کارفرما ہیں۔ امریکا-بھارت تعلقات میں دباؤ کے وقت یہ اختلافات پاکستان کے لیے ایک موقع فراہم کرتے ہیں، جو خود کو ایک رضامند شراکت دارکے طور پر پیش کرتا ہے۔

ممکنہ طور پربیجنگ یہ ان کہا فہم رکھتا ہے کہ پاکستان کو امریکہ اور چین دونوں سے فوائد حاصل کرنے میں دلچسپی ہے۔ پاکستان کی سیکورٹی اور اقتصادی ضروریات وسیع اور کثیرالجہتی ہیں اور امریکہ کی امداد یا نادر ارضی عناصر (ریئر ارتھس) یا توانائی کی سلامتی میں سرمایہ کاری بنیادی طور پر انفرا اسٹرکچر، توانائی اور دفاع کی مد میں چین کے  بنیادی کردار کونقصان نہیں پہنچائے گی۔اب تک امریکی حکومت نے پاکستان کے نادر ارضی عناصر (ریئر ارتھس) کی ترقی کے لیے محض 1.25 ملین امریکی ڈالر کے مالیاتی وعدے کیے ہیں جو کہ سی پیک 2.0 کے تحت چین کی جانب سے وعدہ کیے گئے ابتدائی 8.5 بلین امریکی ڈالر  کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ چنانچہ امریکہ کی حمایت چینی ترقیاتی امداد کی تکمیل کرتی ہے، تقلیل نہیں، اور یہ پاکستان میں چین کے امدادی بوجھ کوکچھ کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

دوسری جانب پچھلے سال اکتوبر میں آنے والی خبروں کے جواب میں کہ پاکستان نادر ارضی عناصر امریکہ بھیج رہا ہے، اسلام آباد نے مستقل طور پر یہ یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ اس کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بیجنگ کے پاکستان میں مفادات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ آئندہ  کے لیے، مسلسل یقین دہانیوں اور چینی مفادات کے لیے واضح حصہ الگ کرنا   (کارو آؤٹس)، بالخصوص حساس شعبوں جیسا کہ اہم معدنیات کی مد میں، ممکنہ طور پر پاکستان کےلیے ضروری ہیں تاکہ وہ اسلام آباد کی واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری سے متعلق بیجنگ کے کسی بھی خدشے کو دور کر سکیں۔

بیجنگ کا ردعمل: معمول کا طریقہ کار

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات تاریخی طور پر غیر مستقل اور موقع پرستانہ رہے ہیں، جیسا کہ افغانستان میں امریکہ کی مداخلت کے دوران ان کے اتار چڑھاؤ سے ظاہر ہوتا ہے۔جب امریکہ کو لاجسٹک امداد یا تعاون برائے انسداد دہشت گردی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ پاکستان کی طرف رجوع کرتا ہے، لیکن جب مفادات گھٹ جاتے ہیں تو تعلقات ختم کر دیتا ہے—یہ ایسا امر ہےجسے چینی سرکاری میڈیا نے اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ چنانچہ موجودہ صورتحال میں بیجنگ کے لیے اس مرتبہ بھی امریکہ سے پائیدار عزم دکھانے کی توقع رکھنا مشکل ہے۔

اس کے برعکس چین طویل المدتی نقطہ نظر اپنانے کے لیے رضا مند رہا ہے۔ بیجنگ اسلام آباد کا سب سے ناگزیرحفاظتی شراکت دار رہا ہے اور چین کی پاکستان میں سی پیک سرمایہ کاری—گوادر پورٹ کی تعمیر سے لے کر توانائی کی شاہراہوں (انرجی کوریڈورز) تک—نفاذ میں درپیش نمایاں مشکلات کے باوجود چند دہائیوں سے جاری ہے۔ اس وابستگی کی گہرائی طویل المدتی باہمی عہد و پیمان کی مظہر ہے، خواہ اسلام آباد اپنے شراکت داروں کو متنوع بنانے کے اقدامات بھی کرے۔

اہم امریہ ہے کہ چین  نے پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کھل کر تنقید کرنے سے گریز کیا ہے بلکہ  اپنے تعلقات سے اپنی وابستگی کا اظہار کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ اعلیٰ سطحی معاملت کو دوگنا کر دیا ہے۔ گزشتہ سال جون میں منیر کے دورۂ واشنگٹن کے بعد، چینی اور پاکستانی حکام  نے وزارتی یا اس سے اعلیٰ سطح پر کم از کم پانچ بار ملاقات کی ہے۔

علاوہ ازیں دفاعی تعاون کو تعلقات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے—جس کا حالیہ اظہار مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران پاکستان کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون اور سازوسامان اور انٹیلی جنس کے تبادلے میں چین  کا اہم کردار ادا کرنے سے ہوا۔مشترکہ پیداواری منصوبے، ہتھیاروں کی برآمدات، اور/یا ہتھیاروں کے لیے تکنیکی معاونت، جو اسلام آباد کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلز، اہم سطحی لڑاکا  آبی جہاز (پرنسپل سرفیس کمبیٹنٹس)، آبدوزیں، اہم جنگی ٹینک، اور لڑاکا طیاروں تک پہنچتی ہے، پاکستان کے چینی عسکری صنعتی صلاحیت پر اعتماد کی علامت دکھائی دیتے ہیں۔ ان گہرے دفاعی تعلقات کو امریکہ آسانی سے بدل نہیں سکتا۔

دریں اثنا بیجنگ جنوبی ایشیا میں اپنے طور پر تدبیراتی سفارتکاری کر رہا ہے۔ گزشتہ سال 29 اگست کو چین نے گفت و شنید کے سلسلے میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا خیرمقدم کیا—یہ کوشش نئی دہلی کے ساتھ تناؤ کم کرنے اور امریکی محصولات کی پالیسی کے سامنے ایک متحدہ محاذ قائم کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ تھی۔بیجنگ کی اقتصادی اور سفارتی اہمیت اسے بیک وقت پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور بھارت کے ساتھ تناؤ کم کرنے کا موقع دیتی ہے اور اس کی جنوبی ایشیا کی لچکدار حکمت عملی کو اجاگر کرتی ہے۔

پُر اعتماد چین

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری حقیقی تاہم محدود ہے۔ اسلام آباد کے لیے یہ عدم تحفظ کا مصلحتی جواب ہے—معاشی تنزلی، بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور بھارت کے دباؤ کے درمیان شراکت داروں کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ تجدید شدہ معاملت انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون سے  لے کر توانائی اور اہم معدنیات کے مواقع حاصل کرنے جیسا منتخب اقتصادی تعاون مفادات کی سودا کاری کی مظہر ہے۔

تاہم، چین کے لیے یہ لمحہ خلل نہیں بلکہ تسلسل کی نمائندگی کرتا ہے۔ بیجنگ کے اسلام آباد کے ساتھ تزویراتی تعلقات اتنے گہرے اور پائیدار ہیں کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ وقتی صلح کے باعث ختم نہیں ہو سکتے۔ اگر امریکہ کا پاکستان کے استحکام کے بوجھ میں حصہ بڑھتا ہے تو چین بھی ایک زیادہ محفوظ پاکستان سے، ایک زیادہ قابل اعتماد اور قابل تزویراتی شراکت دار  کے طور پر فائدہ اٹھاسکتا ہے۔

نتیجتاً بیجنگ اسلام آباد کی سفارتی لچک سے نہ تو پریشان اور نہ ہی خلاف نظر آتا ہے۔ چین جانتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کےتعلقات طویل المدتی تزویراتی ہم آہنگی، ادارہ جاتی روابط اور دفاعی تعاون پر مبنی ہیں۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات عارضی طور پر جغرافیائی سیاسی حالات کو متاثر تو کر سکتے ہیں، تاہم اس سے بنیادی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی: چین کا پاکستان میں کردار مستحکم اور دیرپا ہے۔

This article is a translation. Click here to read the article in English.

***


Image 1: PRC State Council


Image 2: White House

Share this: