انسدادی قوت (”کاؤنٹر فورس“) کا جھانسہ اور اس کے خلاف مزاحمت 

کر سٹوفر کلیری اور وپن نارنگ کا “انٹر نیشنل سیکورٹی” میگزین میں چھپنے والا مضمون “بھارت کا انسدادی قوت (”کاؤنٹر فورس“) کے حصول کا لالچ :حکمت عملی کا تذبذب نظریات اور صلاحیتیں” انسدادی قوت کی صلاحیت کی جانب بھارت کی ظاہری سوچ کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔حالیہ اشارے، جن میں سابق قومی سلامتی کے اہلکاروں کے بیانات،تحریر یں اور بدلتی ہوئی جوہری صلاحیتوں کی فہرست شامل ہے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اپنے روایتی مساوی ہدف بندی کے اصول سےہٹ گیا ہے۔ یہ تبدیلی بھارت کے جوہری نظریات کے بنیادی اصول جن میں ”نو فرسٹ یوز“، بڑے پیمانے پر جوابی کاروائی اور قلیل اور معتبر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری شامل ہیں، سے الگ ہونے کا تاثر دیتی ہے۔

مصنفین اس مضمون میں بھارت کے جوہری انسدادی قوت کی طرف رجحان کی بنیادی وجوہات کو بیان کرتے ہوئے اس تبدیلی کے پاکستان اور بھارت کے درمیان مجمورعی استحکام پر ہونے والے اثرات کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ تا ہم کلیری اور نارنگ کے دلائل اس بات کو ثابت نہیں کر پائے کہ انسددی قوت کے حصول کی طرف بھارتی رجحان ایک ارادی فعل ہے جو کہ حکمت عملی میں تبدیلی کی وجہ سے سامنے آیا ہے، نہ کہ ایک ایسا عمل ہے جس میں حکمت عملی محض ٹیکنالوجی کے زیر ِاثر تبدیل ہو رہی ہے۔ 

انسدادی قوت کے محرکات اور اثرات

اس مضمون کے مطابق پاکستان کا بھارت کے خلاف دہشت گرد تنظیموں کا استعمال اور بر تر روایتی بھارتی فوج کے خلاف چھوٹے جوہری ہتھاروں کے استعمال کی دھمکی نے بھارت کی حکمت عملی کو جکڑ لیا ہے۔مصنفین کے مطابق پاکستان کے دور مار ایٹمی ہتھاروں کو غیر مؤثر کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے سے بھارت کسی ممکنہ تنازعہ کے دوران کشیدگی بڑھنے کے عمل کو کنٹرول کرلے گا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کی جانب سے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کو روک سکتا ہے۔اس کے ذریعے بھارت اپنی بر تر روایتی طاقت کے استعمال کی دھمکی سے پاکستان کو غیر رسمی طاقت (دہشتگرد تنظیموں) کے استعمال سے روک سکتا ہے۔

کلیری اور نارنگ کے مطابق پاکستان کے نسبتاََ محدود دور مار ایٹمی ہتھاروں کا ذخیرہ، بھارتی منصوبہ سازوں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کرسکتا ہے کہ وہ اسے غیر موئثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مصنفین واضح طور پر بتاتے ہیں کہ بھارت کا انسدادی قوت (”کاؤنٹر فورس“) ہدف بندی کا رجحان چین کے نہیں بلکہ دراصل پاکستان کے خلاف ہے، کیونکہ چین کے پاس ایٹمی ہتھاروں کا وسیع اور منتشر ذخیرہ موجود ہے۔مصنفین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکمت عملی کی انسدادی قوت کی طرف تبدیلی کا محض اشارہ ہی بھارت اور پاکستان کو ہتھاروں کی دوڑ کے باہمی مقابلے کی طرف دھکیل دے گا اور حملہ میں پہل کرنے سے فوقیت کا حصول تسدیددی استحکام کو ختم کر دے گا۔ 

ساکھ بمقابلہ ا سٹریٹیجک منطق

کلیری اور نارنگ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکمت عملی میں تبدیلی دراصل بھارتی سٹریٹیجک سوچ کے باعث ہے نہ کہ بھارتی سائنسی کمیونٹی کے اقدامات کی وجہ سے ہونے والی تکنیکی ترقی کا نتیجہ۔مصنفین کے مطابق اس کی وجہ بھارت کی کمزور معشیت ہے جس میں دفاعی بجٹ کی سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے لہذا یہ ممکن نہیں کہ بھارتی اہلکار انسدادی قوت کے حصول جیسامہنگا قدم کسی ا سٹریجٹک مقصد کے بغیر منظور کر سکیں۔ اگرچہ یہ ایک مضبوط دلیل ہے، لیکن یہ تاریخی حقائق کے منافی ہے۔اسٹفین کوہن اور سنیل داس گپتا نے ہتھیاروں کو فروغ دینے کی کئی بھارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ (بھارتی) سائنسی ادارے مقامی تکنیکی صلاحیتوں کی ترقی کو خاص اہمیت دیتے ہیں، چاہے وہ عسکری ضرورت کے مطابق ہوں یا نہ ہوں۔اسی حوالے سے تجزیہ کار گوراو کمپانی کا کہنا ہے کہ بھارتی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) اور اس کی میزائل لیبارٹری _ ڈیفینس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ لیبارٹری (ڈی آر ڈی ایل) نے سوویت مائع ایندھن میزائل (ایس۔اے ٹو) کے ڈیزائن پر مبنی زمین سے فضا میں نشانہ لگانے والے میزائل سسٹم کی سیاسی منطوری حاصل کی۔ یہ کام مسلح افواج کے ساتھ کسی بھی رسمی مشورہ یا صارفی تقاضوں کو مد ِ نظر رکھے بغیر عمل میں لایا گیا۔کمپانی نے ”پروجیکٹ ویلینٹ“ کا بھی حوالہ دیا جو کہ بھارتی قیادت کا ایک پر عزم قدم تھا، جس کے تحت انہوں نے۱۹۷۱ ء میں ۸۰۰۰ کلو میٹر کا بین البراعظمی میزائل بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ چونکہ بھارتی قیادت کی اس منصوبہ بندی میں مسلح افواج کا مشورہ شامل نہیں تھالہذا اس کا مقصد درپیش سلامتی ضروریات کو پورا کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی کے میدان میں محض بھارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا تھا۔

علاوہ ازیں، ایٹمی آبدوز بنانے کے حوالے سے بھارتی سوچ کا آغاز ۱۹۶۰  کی دہائی کے آخر میں ہوا۔اس سوچ کو خاص طور پر سے ۱۹۷۱ کی پاک بھارت جنگ کے دوران امریکی “گن بوٹ ڈپلومیسی“ نے خاصا بڑھاوا دیا۔ یہ ایک دلچسپ پہلو ہے کہ بھارت نے اپنی حفاظت کیلئے روایتی آبدوزوں یا اینٹی شپ میزائل جیسے بآسانی دستیاب شدہ سستے متبادل کی بجائے اس وقت کی ایک نامعلوم ٹیکنالوجی کا انتخاب کیا۔

درج بالا مثالوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بھارت تاریخی طور پر پچیدہ اور مہنگی دفاعی تکنیک میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے،جو کہ اس کی تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔خواہ وہ اسٹریٹیجک منطق سے عاری ہی کیوں نہ ہوں۔ 

ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی

مصنفین نے بھارت کی ایٹمی صلاحیت میں ترقی کی نشاندہی کی ہے جس میں بیلسٹک میزائل کی بقا اور درستگی،انٹیلی جنس،نگرانی و تشخیصی پلیٹ فارم کی بہتری اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس جیسی ٹیکنالوجی شامل ہیں جو کہ بھارت کی انسدادی قوت کی حکمت عملی کی طرف رجحان کااشارہ کرتی ہیں۔ بھارت کے بلیسٹک میزائل ارتقاء کے مراحل میں ہیں کیونکہ وہ غیر محفوظ مائعایندھن والے میزائلوں سے اب نسبتاََ محفوظ،ٹھوس ایندھن میزائلوں کی طرف بتدریج منتقل ہو رہے ہیں، جن میں درست نشانہ کیلئے ٹرمینل گائیڈنس سسٹم بھی موجود ہیں۔ بیلسٹک میزائلوں کا یہ ارتقاء ایک عالمی رجحان ہے جس میں کئی ممالک شامل ہیں۔جیسا کہ چین،جو کہ بہترین نشانہ والے لمبے اور درمیانی رینج کے ایٹمی بیلسٹک میزائل تیزی سے تیار کر رہے ہیں۔ 

کلیری اور نارنگ کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنی ”کاؤنٹر ویلیو“ حکمت عملی اور ”نو فرسٹ یوز“ کی ضمانت کے اظہار کیلئے اپنی تکنیکی مہارت اور میزائلوں کی جدت کو جانتے بوجھتے ہوئے محدود کرنا پڑے گا تا ہم اس حوالے سے کوئی ایسی مثال موجود نہیں جہاں کوئی بھی ملک ایسے تکنیکی عمل سے پیچھے ہٹا ہو، جو اس کے میزائلوں کی درستگی میں اضافہ کرے۔

بھارت کی بلیسٹک میزائل ڈیفنس کے حصول کی کوششیں شاید ایک زیادہ مضبوط تکنیکی علامت ہے جو کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف نقصان کو محدود رکھنے کی حکمت عملی کی رجحان کی طرف جھکاؤ کا اشارہ دیتی ہے۔میزائل ڈیفنس کا مقصد خاص طور سے نقصان کو محدود رکھنا ہے۔ کیونکہ وہ آنے والے میزائل حملے کو روکنے کیلئے بنا یا گیا ہے، تاہم کئی مشاہدات کے مطابق بھارت کا بلیسٹک میزائل ڈیفنس پروگرام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔اوراس کو مؤثر طور پر تعینات کرنے کیلئے کم از کم کئی دہائیاں درکار ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستانی اہلکار بھی بھارتی  بلیسٹک میزائل ڈیفنس کے مؤثر ہونے کے دعویٰ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی میزائل حملہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گا۔

پاکستان کے بگڑتے ہوئے اندرونی سیکورٹی حالات کی وجہ سے پاکستانی ایٹمی پروگرام کے تحفط پر بین الاقوامی خدشات کے پیش نظر یہ موقف اختیار کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی بلیسٹک میزائل ڈیفنس پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی چوری کی صورت میں ممکنہ غیر قانونی استعمال کے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔بھارت کے بلیسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کی موجودہ حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ جوابی حملہ کے نتیجے میں ہونے والے کئی میزائلوں کو ایک ساتھ روک سکے۔ بلکہ وہ صرف ایک یا دو میزائلوں کو ہی روک سکتا ہے ۔ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب حملے کی نوعیت غیر قانونی ہو۔ 

انسدادی قوت (”کاؤنٹر فورس“) اور انسدادی قدر (”کاؤنٹر ویلیو“) کے مابین دھندلاتی تفریق

انسدادی قوت اور انسدادی قدر ہتھیاروں کے مابین ایک سخت درجہ بندی کرنا  بھی کسی حد تک ایک گمراہ کن عمل ہے کیونکہ ان کے کردار وقت کے ساتھ آنے والی تکنیکی ترقی کی وجہ سے تبدیل ہو گئے ہیں۔مثال کے طور پر بیلیسٹک میزائل آبدوز  پہلے صرف عام آبادی کو نشانہ بنانے کے قابل سمجھی جاتی تھی۔ اب اندرونی نیو یگیشن، وسط سفر اصلاح پرواز ٹرمینل گائیڈ نس، وغیرہ کی ترقی کے باعث ماضی کی یہ غیرمؤثر آبدوز اب انسدادی قوت رکھتے ہوئے حملہ میں پہل کرنے والے ہتھیار میں تبدیل ہو گئی ہے۔

اس کے برعکس اینٹی سب-میرین جنگ میں  ترقی کے باعث خفیہ بلیسٹک میزائل آبدوز جو کہ ماضی میں جوابی حملہ کرنے کیلئے محفوظ سمجھی جاتی تھی، اب غیرمحفوظ قرار پائی ہے۔یہ قطعی ممکن ہے کہ جب اینٹی سب-میرین جنگی ٹیکنالوجی، جیسا کہ زیر آب ڈرون، پختہ ہو جائیں گے تب تین حصوں پر مبنی ایٹمی طاقت (بری،بحری،فضائی) کا بحری عنصر مزید کمزور ہو جائے گا۔جس کی بنا پر ”ڈیٹرنس” قائم کرنے کی ذمہ داری واپس بری اور فضائی ایٹمی ہتھاروں کو مل جائے گی۔

بیلسٹک میزائل آبدوزوں میں ہونے والی تکنیکی ترقی اور دیگر جوہری صلاحیتوں میں اضافہ _جن کا ذکر کلیری اور نارنگ نے کیا۔واضح طور پرایک درمیانی کیفیت کا اظہار کرتا ہے جو قطعی طور پر نہ تو انسدادی قوت کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی صرف انسدادی قدر کے تحت۔

خلاصہ

بھارت کے سٹرییٹیجک میدان میں رونما ہونے والی اہم تکنیکی تبدیلوں کی شناخت کے باوجود کلیری اور نارنگ اس بات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ یہ تبدیلیاں ایک واضح انسدادی قوت کی حکمت عملی کے تحت آرہی ہیں۔ میزائلوں کی بھرتی ہوئی درستگی اور ”انٹیلیجنس، سرویلنس، اور ریکانیسنس“ (آئی ایس آر) صلاحیتوں میں بہتری کی وجہ سے ”ڈیڑنس“ کو قائم رکھنے والے روایتی طریقے، جیسا کہ  پوشیدگی اور سختی، غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ایسے حالات میں ممالک ہمہ وقت تیار انتباہی سسٹم،جوہری ہتھاروں کی تعداد میں اضافے کے رجحان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی پر پابندی اس دلدل سے نکلنے کا راستہ نہیں ہے کیونکہ اس کو نافذ کرنا اور اس کی توثیق کرنا ایک مشکل عمل ہے۔اس کے لئے ہتھیاروں کی پیداوار پر پابندی لگانا ہو گی کیونکہ انسدادی قوت کی حکمت عملی پر عمل درآمد کیلئے کہیں زیادہ ہتھیار چاہییں ، بنسبت محض ایک جوابی حملے کی حکمت عملی کے۔ ایک انسدادی قوت کی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نہ صرف متعدد نشانوں کیلئے بہت سے ہتھیار چاہییں بلکہ ممکنہ جعلی نشانوں کو مدِ نطر رکھنے کے علاوہ بقایا ردِ عمل کیلئے بھی کچھ طاقت بچا کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔مسلسل تکنیکی ترقی کے باوجود ہتھیاروں کو کنٹرول رکھنے والا معاہدہ جو کہ ہتھاروں اور میزائلوں کی تعداد پر پابندی عائد کرے، وہ جنوبی ائشیاکے مجموعی تسدیدی استحکام کیلئے اعتماد کی فضا قائم کرے گا۔ تکنیکی جوہری انسدادی قوت کے اس دور میں بھارت اور پاکستان کے مابین ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کو بڑھانے کی ضرورت ہو گی۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1:  Public.Resource.Org via Flickr 

Image 2: Pallava Bagla via Getty

Posted in , BMD, Defence, Deterrence, Doctrine, India, Military, Missiles, No First Use, Nuclear, Nuclear Weapons, Pakistan, Policy, SAV Review Series, Security, Strategic Culture

Deep Barman

Deep Barman

Dr. Deep Jyoti Barman received his PhD from the Centre for International Politics, Organization and Disarmament, Jawaharlal Nehru University, New Delhi in 2016. His PhD thesis looked at causes of deterrence and compellence failure in asymmetric power dyads where he tested multiple crises scenarios between India and Pakistan from 1947 to 1999. He is currently working as a Senior Foreign Policy Adviser for the Foreign and Security Policy Team at the British High Commission in New Delhi. He was a former Associate Fellow at the Centre for Air Power Studies (CAPS). In 2013, he attended the Summer Workshop on Analysis of Military Operations and Strategy at Cornell University, Ithaca, New York. His research interests cover issues on international relations theory, nuclear deterrence, military strategy and doctrines and issues relating to India’s foreign and security policies.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *