ہندو قوم پرستی کی جانب بھارتی جھکاؤ، پاکستان سے تعلقات کیلئے کیسا شگون ہے؟

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی عام انتخابات میں دوسری مدت کیلئے تاریخی فتح یقینی بنانے کے ایک برس بعد، اب ان کی جماعت کرونا وائرس کی وبا کیخلاف اپنے ردعمل کے سبب ہمیشہ کی طرح مقبول دکھائی دیتی ہے۔ تاہم محض تین ماہ قبل، شمال مشرقی نئی دہلی میں ہندو مسلم فسادات کا باعث بننے والے حکومت مخالف مظاہروں کی وجہ سے بھارت جل اٹھا تھا۔ ۲۵ فروری کو ایک ہنگامے میں ماتھے پر زعفرانی رنگ کی پٹیاں باندھے،  لوہے کے راڈ لہراتے مشتعل ہندو ہجوموں نے مسلمانوں کی دکانوں اور گھروں پر حملے کئے اور مکینوں کو مارا پیٹا۔ تشدد کی اس ابتدائی لہرکے بعد محض تین دن میں ۴۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور ۲۰۰ زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ دہلی پولیس براہ راست وزیرداخلہ امیت شاہ کے ماتحت آتی ہے۔ امیت شاہ ایک عرصہ دراز سے مودی کے دائیں بازو کے طور پر کام کرتے آ رہے ہیں، اور انہوں نے فرقہ وارانہ ہندو قوم پرستی کو کسی بھی دوسرے حکومتی رکن سے زیادہ بھڑکایا ہے۔ تشدد کی یہ لہر بھارت میں مہینوں سے بڑھتے تناؤ میں سب سے پریشان کن پیش رفت تھی۔ ابھی حال ہی میں کرونا کی وبا خطرناک مسلم مخالف جذبات کو بھڑکانے کا ایک اور موجب ثابت ہوئی ہے۔

داخلی سطح پر یہ اختلافات دراصل بھارت میں ہندو خطوط پر قومی شناخت کے ترتیب نو پانے کی علامت ہیں۔ اس طاقتور ہندو قوم پرستی کی لہر نے جہاں بھارت کے اندرکشیدگی کو بھڑکایا ہے وہیں یہ پاک بھارت تعلقات میں مزید تلخی کا باعث بھی ہوسکتی ہے۔ جنوبی ایشیائی مبصرین پاک بھارت تنازعے کی حرکیات میں ایک مخصوص بیانیئے سے بخوبی واقف ہیں: بھارت مخالف عکسری گروہوں کی پرورش کے سبب بھارت پاکستان کیخلاف پہلے سے زیادہ سخت موقف اختیار کرچکا ہے جبکہ کشمیر میں بھارتی انداز حکمرانی کے سبب بھارت کیخلاف پاکستانی موقف میں سختی آچکی ہے۔  اب بی جے پی حکومت کا موجودہ ایجنڈا، قومی شناخت کے بارے میں بنیادی تنازعے میں مزید بگاڑ کے ذریعے اس موجودہ خلیج کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

 بی جے پی حکومت نے ایک سیکولراور مختلف قومیتوں کے رنگوں سے مزین رنگارنگ بھارت کے بارے میں نیا تصور پیش کیا ہے جس کے تحت یہ ہندوؤں کا گھر ہے۔ یہ تصور بھارت کو اس کے پڑوسی ملک کی شناخت کے عین متضاد مقام پر لاکھڑا کرتا ہے۔ پاکستان ۱۹۴۷ میں جنوبی ایشیائی مسلمانوں کی سرزمین کے طور پر وجود میں آیا تھا اور تقسیم کے وقت سے ہی یہ ثقافتی اعتبار سے مسلم ریاست کی جگہ مذہبی طور پر اسلامی ریاست میں بدل گیا۔ ایسی ریاست جس نے ”بھارت مخالفت“ کو قومی یکجہتی کے مرکز طور پر اپنایا ہے۔ ادھر بی جے پی کے حالیہ پالیسی ایجنڈے نے بھارتی شہریت و شناخت حاصل کرنے کے لئے مذہبی پابندیاں عائد کی ہیں جو نتیجتاً بھارتی عوامی حلقوں میں مسلم اور پاکستان مخالف مشترکہ جذبات میں اضافےکا باعث بنی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرتی اس گہری لکیر کے دونوں جانب پائے جانے والے یہ معاندانہ جذبات مستقبل میں دونوں ممالک کے مابین کسی ٹکراؤ پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

قومی سطح پر تعریف نو کا عمل

دوبارہ انتخابات جیتنے کے بعد مودی کی نگرانی میں بھارتی داخلی حلقوں میں ایک سفاکانہ اکثریتی ایجنڈا بے نقاب ہوا ہے۔ ان کا یہ پالیسی ایجنڈا بھارت کو بنیادی طور پر ایک ہندو ریاست میں تبدیل کررہا ہے، یہ نظریہ ہندوتوا کہلاتا ہے جسے دائیں بازو کی جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی حمایت حاصل ہے۔

ہندوتوا کا یہ ایجنڈا بھارت بھر میں رائے عامہ کے دائروں پرغالب آ چکا ہے اور رفتہ رفتہ ایک مکمل پالیسی کی شکل اختیار کررہا ہے۔ ۵ اگست ۲۰۱۹ کو بی جے پی نے اچانک بھارتی آئین کی شق ۳۷۰ کی منسوخی کا اعلان کردیا جو کہ بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت دیتی ہے۔ اس کے بعد کشمیر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا گیا، جس سے متعلقہ پابندیاں آج بھی برقرار ہیں۔ ۳۱ اگست  کو حکومت نے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کا نفاذ کردیا جس کے تحت ریاست کے تمام شہریوں کے لئے اپنی شہریت کا ٹھوس ثبوت فراہم کرنا لازم ہے۔ اس کے بعد سے حکومتی اراکین، بشمول وزیر داخلہ شاہ ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کی تجویز دے چکے ہیں۔ ۹ نومبر کو بھارتی سپریم کورٹ ایودھیہ میں طویل عرصے سے جاری بابری مسجد کے جائے وقوع کے حوالے سے جاری تنازعے میں بھارتی قوم پرستوں کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔ ۱۹۹۲ میں بھارتی ہندو قوم پرستوں کے بلوائیوں نے مسجد ڈھا دی تھی، ان کا دعویٰ تھا کہ یہ مسجد رام کی جائے پیدائش پر قائم کی گئی تھی۔ دسمبر ۲۰۱۹ میں بھارتی پارلیمنٹ نے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) جاری کیا جو مسلم اکثریت والے پڑوسی ممالک میں ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے تمام ہندوؤں، سکھ، بدھ، پارسی، جین اور عیسائی افراد کو فوری طور پر شہریت دیتا ہے۔ سی اے اے کے ردعمل میں بھارت بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جن میں مظاہرین کی دلیل تھی کہ یہ اقدام مسلمانوں کے خلاف صریحاً تعصب پر مبنی اور ملک کے تکثیری تشخص کو یکسر ختم کرتا ہے۔

سی اے اے بھارتی شہریت کے حصول کیلئے مذہبی پیمانہ طے کرنےکے ذریعے بڑے واضح انداز میں بی جے پی کی قومی تصور نو پالیسی کا احاطہ کرتا ہے۔ مبصرین این آر سی کو مسلمانوں کو ان کی شہریت سے محروم کرنے کیلئے تقریباً ایک کھلم کھلا طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں،  سی اے اے کو جب اس سے ملا کے دیکھا جائے تو سی اے اے لاکھوں مسلمانوں کو بے وطن کرسکتا ہے۔

کیا بھارت خود کو پاکستانی تصور کے مطابق ڈھال چکا ہے؟

 شہریت کیلئے مذہبی پابندیوں سے ماوراء بھارت اگرچہ پاکستانی قوم پرستی کو متوازن کرسکتا ہے، تاہم ایک ہندو بھارت، مسلمان پاکستان کو براہ راست مات دیتا ہے۔ جیسا کہ نامور بھارتی صحافی برکھا دت نے کہا ہے کہ درحقیقت ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت  خود کو اس تصور کے مطابق ڈھال چکا ہے جو پاکستان اس کے بارے میں رکھتا ہے۔

یہ تصور، پاکستانی قوم پرستی کے ایک ناگزیر جز ”بھارت مخالفت“ کے ہاتھوں میں کھیل سکتا ہے۔ آشوتوش ورشانے ”آئیڈیا آف پاکستان“ میں دلیل دیتے ہیں کہ ۱۹۴۷ سے ہی ”اسلام اور بھارت مخالف جذبات پاکستانی پالیسی کے دو بنیادی بیانیئے رہے ہیں۔“ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے پاکستان کو جنوبی ایشیائی مسلمانوں کے لئے گھر تصور کیا تھا کیونکہ وہ یہ یقین رکھتے تھے کہ اسلام اور ہندومت دو مذاہب سے بڑھ کے حیثیت رکھتے ہیں اور دو باہم مخالف معاشرے تشکیل دیتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان ایک ہندو اکثریت آزاد ہندوستان میں منصفانہ سلوک کی امید نہیں کرسکتے۔ یہ ”دو قومی نظریہ“ جو کہ پاکستانی قوم و ریاست کی تشکیل کی بنیاد تھا، وقت کے ساتھ ساتھ حتی المقدور آزمایا جا چکا ہے۔ مفکرین دلیل دیتے ہیں کہ ثقافتی شناخت کو بطور مذہبی شناخت تصور کرنے کے عمل جدید برصغیر کی محدود تصویر کشی کرتا ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی سول ریاست کی ناکامی پر پاکستان کو اپنے بنیادی قوم پرست تشخص کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی سپاہ میں ایک بنیاد پرست اسلامی نظریئے کو راسخ کرنا پڑا۔ یہاں بھی بھارت مخالفت قومی ہم آہنگی کا  ایک ذریعہ بنی اور یوں پاک بھارت رقابت ”مارو یا مارے جاؤ“ جیسی نوعیت کا تنازعہ بن گیا۔

سخت گیر پاکستانی قوم پرستی کے سامنے سے دوچار سیکولر بھارت ہمیشہ سے گاندھی اور نہرو کے کثیرالثقافتی، جمہوری آدرش سے ہدایت پاتا رہا جو کہ اسے بین الریاستی تنازعوں کیخلاف کچھ سہارا فراہم کرتے رہے ۔ باوجود اسکے کہ بھارت اور پاکستان چار جنگیں لڑ چکے ہیں، مسلم اکثریت والے پاکستان کے ساتھ امن ہی سیکولر انڈیا کے منصوبے کی معاونت کرتا ہے جبکہ جارحیت اس کا خاتمہ کرتی ہے۔۲۰۱۹ تک کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پاکستان کی نسبت زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو بھارت میں مسلمانوں کی ہندوؤں کے شانہ بشانہ زندگی کے تمام شعبوں میں بطور اداکار، فنکار، موسیقار، کھلاڑی اور کاروباری افراد کے پرامن موجودگی بھی دو قومی نظریئے کی ساکھ کو مجروح کرتی ہے۔

مسلمان مخالفت کا پاکستان مخالفت سے ادغام

مودی اور ان کی بی جے پی حکومت بھارت کو ہندو قوم پرستی کی شاہراہ پر گامزن کرنے ذریعے سے اسے پاکستان کیخلاف تنازعوں  میں ایک اہم دفاعی فصیل سے بتدریج محروم کررہے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اعلانیہ خبردار کرچکے ہیں کہ بھارت کا موجودہ ایجنڈا پاکستان کیلئے خطرناک ہے اور یہ وعدہ کرچکے ہیں کہ اگربھارت نے ”داخلی افراتفری“ اور مودی کی ”فاشسٹ قیادت“ کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل نہ کیا تو اسے ”مناسب جواب“ دیا جائے گا۔ خان نے بھارت کی ”ہندوتوا برتری اور فاشسٹ نظریئے“ کو کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار کشیدگی کیلئے ایک اور وجہ کے طور پر شناخت کیا ہے۔ حالیہ چند ماہ میں اگرچہ پاکستان خود بھی بھارت مخالف جذبات کو ابھارتا رہا ہے، تاہم وہ زیادہ بے باک ہندو قوم پرست پڑوسی کی موجودگی سے جڑے نتائج سے خوفزدہ ہونے میں حق بجانب ہے۔

بھارت میں بی جے پی نواز حلقے اور وزرائے اعلیٰ، حکومتی منصوبے کی مخالفت کرنے والے بھارتی شہریوں اور مفکرین پر ”بھارت مخالف“ ہونے کا الزام دھر چکے ہیں اور بھارتی مسلمانوں سے ”پاکستان جاؤ“ کا مطالبہ کرچکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں بڑے پیمانے پر پھیلے مسلمان مخالف بیانیئے اور تشدد میں پاکستان مخالف جذبات شامل ہوچکے ہیں۔ سی اے اے مخالف پرامن مظاہرے بلآخر قتل عام میں بدل گئے، اور بھارت بھر میں تمام اطراف کو مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی بذات خود بھی بے جے پی کے پاکستان مخالف پیغام میں نسلی قوم پرستی کا رنگ شامل کرنے کے ذریعے اس تقسیم کو ہوا دیتے رہے ہیں۔ 

مودی حکومت نے مضمر انداز سے نسلی فسادات کو ہوا دے کے اور ایک کھلم کھلا ہندو قوم پرست پالیسی کی نگرانی کے ذریعے سے دراصل بھارت کیلئے نفع نقصان کی سوچ پر مبنی (زیرو سم) قوم پرستی کا بیج بو دیا ہے۔ وہ شہری جو حکومت کے حامی نہیں ہیں ”وطن مخالف“ قرار دیئے جاتے ہیں۔ اختلاف رائے رکھنے والے مسلمانوں اور ”قوم مخالفوں“ پر ”پاکستان کا حامی“ ہونے کا الزام دھرا جاتا ہے۔ بی جے پی پر تنقید کرنے والے رپورٹرز کو بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر آن لائن ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ”گجرات فائلز“ میں مودی اور شاہ کی بطور حکمران، مدتوں  کا تجزیہ کرنے والی صحافی رانا ایوب کو کہا گیا کہ وہ ”واپس پاکستان  چلی جائیں۔“ امور گاندھی کے ماہر مفکر رام چندر گوہا کو اس وقت پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا جب وہ گاندھی کا پوسٹر ہاتھوں میں تھامے، این ڈی ٹی وی سے بھارتی آئین کے بارے میں آن ایئر بات چیت میں مصروف تھے۔ مصنف آتش تاثیر کو مودی مخالف مواد شائع کرنے پر مودی کے حامیوں کی جانب سے پاکستانی جاسوس قرار دیا گیا اور بعد ازاں انہیں اپنی بطور تارک وطن بھارتی شہریت کھونا پڑی۔ اسی دوران، وزراء نے سی اے اے کی مخالفت میں مظاہروں کو پاکستانی سازش قرار دیا اور پاکستان کے حق میں اظہار رائے پر ایک شہری کیخلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔

سرکاری سطح پر براہ راست محاذ آرائی پر مبنی اس رویئے کی عدم موجودگی میں بھی محض یہ الزام تراشیاں ہی ”پاکستان مخالف“ نامی اس برانڈ کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں جو ہندو قوم پرستی کی جانب بھارتی رخ کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ چنگھاڑتا ہوا نظریہ دراصل پاکستان کے بھارت مخالف نظریئے کا عین پرتو اوراس امر کی تائید ہے کہ برصغیر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک ساتھ رہنے کیلئے دو علیحدہ علیحدہ ملک درکار ہیں اور یوں دو قومی نظریئے کی توثیق ہے۔  کٹر ہندوتوا کے معیار پر پورا اترنے والوں کیلئے ”قوم مخالف“ کے طور پر نشانہ بنائے جانے والے مسلمان محض اپنے مذہبی عقائد اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے دراصل بھارت کے ”عین مخالف“ یعنی کہ پاکستان کی علامت ہیں۔ اب سی اے اے بھارتی شہریت کے لئے مذہبی شرط رکھ کے اس تقسیم کو مزید تقویت دے رہا ہے۔

حاصل بحث

امکان ہے کہ بڑھتی ہوئی اکثریتی بھارتی قومی شناخت داخلی حدود کے اندر گہری ہونے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک امور میں بھی جھلکے اور بھارت کے بیرون ملک روابط کے اطوار پر اثرانداز ہو۔ مودی کے بھارت میں اعلیٰ ترین سطح پر لئے گئے فیصلے فرد واحد کے طرز فکر کے عکاس اور ترجمان ہیں۔ بھارتی شہروں میں مسلمانوں اور ان کے ہندو پڑوسیوں کے مابین واضح تناؤ نیز مسلم ”باغیوں“ کیخلاف نفرت سے بھرے مشتعل ہجوم کے منظم حملے سرکاری سطح پر ہندو اکثریتی پالیسیوں کے عکاس اور ان کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔

قومی شناخت کے لیے جہد مسلسل کی پہچان رکھنے والے برصغیر میں زیادہ سخت گیر موقف کے حامل اور سیکولرازم سے دور ہوتے بھارت کا سامنا پاکستان کی قومی شناخت سے ہے اور اس امر سے  ہے کہ پاکستان خود کو کس حد تک نظریاتی بنیادوں پر اس بھارت مخالفت کے عین مطابق ڈھالتا ہے۔ بھارتی حکومت نے خاموشی سے مگر بزور طاقت اپنے مسلمان شہریوں کو ”اندرونی دشمن“ کے طور پر شناخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے پاکستان مخالف بیانیئے کو تقویت ملی ہے اور اس سے ہندو مسلم، بھارت پاکستان مصنوعی تقسیم مزید گہری ہوتی ہے۔ ایک طرف قومیت کی تعریف کی یہ لڑائی بھارت میں عام گفتگو کا موضوع بن رہی ہے  تو ساتھ ہی ساتھ دوسری جانب بھارت اور پاکستان کے موقف میں سختی آرہی ہے: مودی جنوری میں مظاہروں کے دوران کے علاوہ بھی بھارت کو پاکستان کے مقابل کھڑا کرچکے ہیں جبکہ عمران خان بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کے جواب میں ”خفیہ آپریشن“ کی دھمکی دے چکے ہیں۔ بی جے پی اپنے داخلی ایجنڈے کو جاری رکھنے کے ساتھ بھارتی ”داخلی امور“ میں مداخلت پر خبردار کرسکتی ہے، ایسے میں امکان یہی ہے کہ برصغیر میں قومی تعمیر کے عمل پر ہندوتوا سے متاثرہ بھارتی قومی شناخت آنے والے کئی برسوں تک اثرانداز ہوگی۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Wikimedia Commons

Image 2: NurPhoto via Getty Images

Posted in , Citizenship Amendment Act, COVID-19, democracy, Elections, Foreign Policy, Governance, Hindutva, India, India-Pakistan Relations, Indian Foreign Policy, Internal Security, leadership, Media, Modi 2.0, Pakistan, Peace, Politics, Religion

Sunaina Danziger

Sunaina Danziger

Sunaina Danziger is a Junior Fellow with the South Asia Program at the Stimson Center. She graduated cum laude in History from Harvard College, with a secondary field in Spanish. Her senior thesis—awarded highest honors, the Philip Washburn Prize for best thesis on a historical subject, and the Thomas T. Hoopes Prize for outstanding undergraduate scholarly work— explored how US Intelligence recruitment of former Nazi scientific, military, and intelligence personnel aided the rhetorical and ideological construction of the “West” between 1945 and 1949. Her research interests center on the interplay of political rhetoric, national discourse, and historical memory in trans-border conflict, and she is generally interested in how competing nationalisms affect regional security issues in South Asia. Previously, she conducted research on U.S. foreign policy and the Syrian Civil War and interned at the House of Commons in London.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *