,

جوابی جوہری حملہ: جنوبی ایشیا میں بحری ڈیٹرنس

 جوہری صلاحیت سے لیس آبدوز، جوہری تکڑی کی مضبوط ترین اکائی تصور کی جاتی ہے۔ روایتی آبدوز کی کارکردگی اس کی توانائی کی ضروریات نیز زیر آب محدود وقت گزارنے کی صلاحیت کے سبب محدود ہوجاتی ہے؛ جبکہ جوہری طاقت سے لیس آبدوز زیادہ سخت جان اور بہتر ٹیکٹیکل و تزویراتی صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہیں۔ جوہری طاقت سے چلنے والی اٹیک آبدوز (ایس ایس این) اور بیلسٹک میزائل آبدوز (ایس ایس بی این) دونوں ہی اگرچہ جوہری طاقت سے لیس ہوتی ہیں تاہم محض آخر الذکر ہی آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک (ایس ایل بی ایم) اور کروز میزائل (ایس ایل سی ایم) لے جاسکتی ہے۔ ایس ایس بی این کی اہمیت، جوابی جوہری حملے کیلئے میزائلوں کی بڑی تعداد فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت میں پنہاں ہے۔

ایک جانب پاک بھارت دشمنی، جنوبی ایشیا میں جاری جوہری مقابلے کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری جانب بھارت چین دشمنی اس کی عکاس ہے۔ چین، پاکستان اور بھارت سے بنی یہ مثلث جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو سمندروں تک لے جارہی ہے۔ بھارت، بحر ہند (آئی او آر) میں چین کے مقابلے میں اپنے تزویراتی توازن کے حوالے سے فکرمند ہے تو پاکستان کی رائے میں توازن کی تعریف بھارت کے خلاف اپنی فل سپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی کو برقرار رکھنے میں مضمر ہے۔ ایسے میں بحری ڈیٹرنس کی افادیت پر بڑھتی ہوئی توجہ روایتی سمندری تنازعوں کو بدترین بناتے ہوئے انہیں جوہری نتائج کے حامل بحرانوں میں تبدیل کرسکتی ہے۔

ایس ایس بی این کیلئے بھارتی کوشش

بھارت کے ۱۹۹۹ جوہری ڈاکٹرائن نے جوابی جوہری حملے کی صلاحیت کے حصول کا تصور پیش کیا، جس سےبحری ڈیٹرنس کے حصول کی بھارتی جستجو کو ایک محرک ملا۔ یقینی جوابی کارروائی پر مبنی بھارتی ڈاکٹرائن دراصل دشمن قوتوں کو یہ یقین دہانی کرواتا ہے کہ اس کی جوہری طاقتیں نشانہ بنائے جانے کے باوجود بچ جانے کے قابل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بحری آبدوزیں حملے میں پہل نہ کرنے کی بھارتی پالیسی کا ایک اہم جزو بن چکی ہیں، کیونکہ وہ جوابی جوہری حملہ کرنے کی ضمانت دیتی ہیں۔

 بھارت نے اگرچہ اپنے جوہری آبدوز پروگرام پر ۱۹۷۰ کی دہائی میں کام شروع کیا تھا تاہم ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ویسل (اے ٹی وی) آبدوز کی تیاری کا منصوبہ ۱۹۸۴ میں شروع ہوا۔ اے ٹی وی منصوبے کا مقصد برق رفتار، زیادہ گہرائی میں غوطہ لگانے کے قابل جوہری توانائی سے چلنے والی حملہ آور آبدوز کی تیاری تھا۔ یہ بھارتی جوہری تکڑی کا بنیادی جزو تھا۔ جس کا حصول آخر کار اگست ۲۰۱۶ میں انڈین نیول شپ (آئی این ایس) اریہانت کی تیاری اور پہلی بار لانچنگ کے سات برس بعد بیڑے میں باقاعدہ شمولیت سے ممکن ہوا۔  آئی این ایس اریہانت ۱۲ عدد کے-۱۵ ساگریکا ایس ایل بی ایم کے ہمراہ سفر کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان میزائلوں کی رینج ۷۰۰ کلومیٹر ہے۔ مزید براں اریہانت جیسی آبدوزیں کم از کم ۵۰ دن تک زیرآب رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یوں انہیں ڈھونڈ نکالنے کے امکانات کم اور بچے رہنے کے صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

نومبر ۲۰۱۷ میں بھارت نے اریہانت- کلاس کی چار آبدوزوں میں سے دوسری متعارف کروائی تھی۔ امکان ہے کہ آئی این ایس اریگھات ۲۰۲۰ میں بیڑے میں شامل ہوجائے گی۔ یہ رونمائی خصوصی طور پر چین کے ساتھ ڈوکلم میں ہوئے تنازعے کے محض چند ماہ بعد ہوئی۔ بھارت، دوران بحران احتیاطاً آبدوزیں تعینات کرنے کی خواہش رکھتا تھا، تاہم آئی این ایس اریہانت بحران سے کچھ پہلے پہنچنے والے نقصان کے باعث ان آپریشنز کے دوران غیر حاضر تھی۔ اس صورتحال نے بھارتی بحریہ کو آئی این ایس اریگھات کی تیاری پر اکسایا۔ اس بحران کے نتیجے میں، متعدد بھارتی تزویراتی تجزیہ کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سرحدی تنازعوں کا پرامن حل مشکل تر ہوتا جارہا ہے اور مستقبل میں بھارت چین تعلقات میں تعاون کی کمی ہوگی۔ چین کے حوالے سے اپنے ڈیٹرنس کو برقرار رکھنے کیلئے بھارت نے جوہری آبدوزوں کے حصول کیلئے بھاری پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کردی۔

اری ہانت کلاس کی اگلی آبدوز ایس۔۴ اور ایس۔۴٭  بالترتیب ۲۰۲۰ اور ۲۰۲۲ میں متعارف کروائے جانے کا امکان ہے۔ تاہم بیڑے میں شمولیت اور آپریشن میں حصہ لینے سے قبل انہیں بڑے پیمانے پر عملی جانچ پرکھ سے گزرنا ہوگا۔ یہ زیادہ بڑی اور زیادہ طاقتور ہوں گی۔ مبینہ طور پر یہ طویل فاصلے کے حامل ۸ عدد کے۔۴ شوریا ایس ایل بی ایمز لے جانے کے قابل ہوں گی جو کہ آئی این ایس اریہانت کی میزائل لے جانے کی صلاحیت کے مقابلے میں دوگنا ہے۔

آئی این ایس اریہانت جہاں ۷۰۰ کلو میٹر کی رینج والے ۱۲ ایس ایل بی ایمز لے جاسکتی ہے وہیں آئی این ایس اریگھات ۲۴ عدد کے-۱۵ میزائل لے جاسکتی ہے۔ تاہم چونکہ یہ میزائل اسلام آباد کو نشانہ بنانے یا چین کے مقابلے میں بچ جانے والے ڈیٹرنٹ کے طور پر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں، یہی وجہ ہے کہ بھارت نے سال ۲۰۰۰ کے ابتدا میں طویل فاصلے تک داغے جانے کے قابل کے-۴ کا تجربہ شروع کیا تھا۔ یہ اگرچہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے تاہم مبینہ طور پر کے-۴ کی رینج ۳۵۰۰ کلومیٹر ہے۔ بھارت نے کے-۴ کا تازہ ترین کامیاب تجربہ جنوری ۲۰۲۰ میں کیا تھا تاہم اسے ابھی باقاعدہ فعال نہیں کیا گیا ہے۔ ۲۰۱۵ میں کے-۵ ایس ایل بی ایم پر کام شروع ہوا تھا جس کی رینج ۵۰۰۰ کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ نیز بعض اطلاعات کے مطابق ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) ۸۰۰۰ کلومیٹر رینج کے حامل کے-۶ ایس ایل بی ایم پر بھی کام کررہی ہے۔ امید ہے کہ کے-۶، ایس ایس بی این کے نئے ماڈل ایس-۵ کلاس پر نصب کئے جائیں گے۔ انہیں بھارت ایس-۴٭ کی تکمیل کے بعد بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بھارت کلواری کلاس کے چھ مقامی طور پر تیارکردہ ایس ایس اینز بھی اپنے بیڑے میں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس کیلئے وہ فنڈز کے حصول میں کامیاب ہوچکا ہے۔

آبدوزوں کی جانب دوبارہ توجہ اور ان کی تیاری میں جلدبازی کی وجہ دستیاب آبدوزوں کی فہرست کے حجم میں کمی ہے۔ اس کی ایک اور وجہ بحرہند کی حدود میں چینی آبدوزوں کا بارہا دکھائی دینا بھی قرار دی جاسکتی ہے۔ بحر ہند میں ۲۰۱۷ میں ایس ایس این بھی دیکھی گئی ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ یہ آبدوزیں خلیج عدن میں قذاقوں کیخلاف چینی پٹرولنگ میں ساتھ دے رہی تھیں، تاہم بھارت نے یہ دعویٰ مسترد کردیا تھا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ بحری قذاقوں کی چھوٹی کشتیوں کو پکڑنے کیلئے جوہری آبدوزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکتوبر ۲۰۱۷ کے بعد سے بحر ہند کی حدود میں چینی آبدوزوں کی نقل و حرکت نمایاں کمی آئی ہے تاہم چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے بھارت شبہات کا شکار ہے۔ بھارت کے مطابق، چین کی ”آبدوز سفارت کاری“ خطے میں اسکے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی نمایاں علامت ہے۔ اس سلسلے میں چین نے ۲۰۱۴ میں ایک ایس ایس این سری لنکن بندرگاہ پر تعینات کی تھی جبکہ ۲۰۱۷ میں اس نے بنگلہ دیش کو دو ڈیزل الیکٹرک اٹیک آبدوزیں مہیا کی تھیں۔ تاہم بھارت کیلئے سب سے زیادہ پریشانی کی وجہ چین کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات ہیں۔ مثال کے طور پر بیجنگ نے ۲۰۲۸ تک پاکستان کو آٹھ نئی ڈیزل الیکٹرک اٹیک آبدوزیں دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

 بھارت کیخلاف پاکستانی ردعمل

۱۹۹۸ کے جوہری تجربے اور بحری ڈیٹرنس کے حصول کی بھارتی جستجو عیاں ہونے کے بعد پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی ماحول کو قابو میں رکھنے کیلئے تجاویز دیں تھیں۔ اس کے تحت نئے جوہری ہتھیاروں کے تجربے کو موخر کرنے کی تجویز شامل تھی۔ اس قسم کا لائحہ عمل بھارت کی بحری جوہری صلاحیت ختم کرسکتا تھا اور یوں بھارتی صلاحیتوں کے حوالے سے پاکستانی خدشات میں کمی آسکتی تھی۔ تاہم چونکہ یہ تجاویز ٹھوس شکل اختیار کرنے میں ناکام رہیں اور بھارت نے بحری ڈیٹرنس کے حصول میں پیش رفت کی، لہذا پاکستان نے بھی بحری شعبے میں جوہری ڈیٹرنس کے حصول پر کام شروع کردیا۔ پاکستان نے اکتوبر۲۰۰۰ میں میری ٹائم ٹیکنالوجی کمپلیکس (ایم ٹی سی) اور ۲۰۱۲ میں نیول سٹریٹجک فورسز کمانڈ قائم کیا جنہوں نے درحقیقت پاکستان کی اصل بحری جوہری صلاحیت کو متعارف کروایا۔ ۲۰۱۵ تک ایسے اشارے مل رہے تھے جن سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ پاکستان میری ٹائم جوہری طاقت کے نفاذ کیلئے ابھی منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے۔

۲۰۱۶ میں، پاکستان کی سینٹ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کے منصوبے پر غور کیا جس کے تحت بحر ہند کو ”جوہری طاقت سے پاک خطہ“ قرار دیا جاتا۔ تاہم چونکہ پاکستان مطلوبہ ردعمل حاصل نہیں کرسکا اور پاک بھارت تناؤ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، ایسے میں پاکستان نے جوہری صلاحیت کے حامل بابر تھری ایس ایل سی ایم بنانے پر کام شروع کردیا۔ ۴۵۰ کلومیٹر کی رینج کے حامل اس میزائل کا پہلا تجربہ جنوری ۲۰۱۷ میں کیا گیا۔ بابر تھری کو پاکستان میں فرانسیسی ساختہ آگسٹا ۹۰ بی آبدوزوں پر نصب کئے جانے کا امکان ہے۔ بھارت کے اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے باعث بابر تھری ایک اہم پیش رفت ہے جو پاکستان کی تزویراتی جوہری طاقت کو دوام بخشتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے بابر تھری کے تجربے سے دو ماہ قبل کراچی کے قریب وی ایل ایف ایرے (اینٹینا) نصب کیا تھا جو آبدوز کو زیر آب محفوظ طریقے سے  پیغامات موصول کرنے کے قابل بناتا ہے۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہیں کہ ممکنہ طور پر پاکستان آبدوزوں پر جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کیلئے ضروری لوازمات رکھتا ہے۔ تاہم پاکستان، انجام کار جوہری طاقت کی حامل آبدوز کی صلاحیت کے حصول کی جانب رخ کرسکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نومبر ۲۰۱۸ میں یہ اعلان کیا گیا کہ آئی این ایس اریہانت اپنا پہلا ڈیٹرنس پٹرول کامیابی سے مکمل کرچکی ہے جس کے بعد پاکستان نے خبردار کیا تھا کہ بھارت بحری ڈیٹرنس کی دھمکی کا مقابلہ کرنے میں پاکستانی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی شک و شبہے میں نہ رہے۔

توازن پر اثرات

بحری ڈیٹرنس کی کامیابی کا انحصار خطرات سے پاک جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ ایس ایل بی ایم اور ایس ایل سی ایم لے جانے کی صلاحیت والے ایس ایس بی اینز کی تیاری نے سمندر اور سطح زمین پر دشمن اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ طویل وقت تک زیر آب رہنے کی صلاحیت اور ڈیزل انجن کے مقابلے میں کم آواز پیدا کرنے والے جوہری توانائی سے چلنے والے انجنز کی بدولت، ایس ایس بی اینز کو سمندر کی وسعتوں میں تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ان حقائق کی وجہ سے دشمن کو حملے میں پہل کی ترغیب میں کمی ہوئی ہے اور نتیجتاً ڈیٹرنس مضبوط ہوا ہے۔

جنوبی ایشیا میں بحری جوہری ہتھیاروں کو انکے ہم پلہ بری ہتھیاروں کے مقابلے میں کم توجہ دی گئی، جس کی وجہ یہ مفروضہ ہے کہ بحری جھڑپ آبادی سے بہت فاصلے پر سمندر کے بیچ ہوگی۔ تاہم مستقبل میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والا کوئی بھی تنازعہ جوہری جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے جو کہ محض سمندر تک محدود نہ ہوگی، کیونکہ بحری جہازوں پر کئے گئے حملے کا جواب بری قوتوں پر جوابی حملے کی صورت میں بھی دیا جاسکتا ہے۔ ان آبدوزوں پر نصب یہ ہتھیار دوہرے طریقے سے قابل استعمال، فوری استعمال کیلئے نصب اور بڑی حد تک کمزور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے حامل ہیں۔ ایسے میں اندازے میں غلطی، اشتعال انگیزی اور غلطی سے استعمال کا بڑھتا ہوا امکان صورتحال کو مزید تشویش ناک بناتا ہے۔ بحر ہند میں جوہری آبدوزوں میں اضافہ غیر اختیاری یا حادثاتی جوہری اشتعال انگیزی کا خطرہ بڑھا دے گا، اور یہ بھارت و پاکستان  اور بھارت و چین کے پہلے سے ہی پیچیدہ تعلقات میں مزید عدم توازن لانے کا سبب ہوگا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Indian Navy via Twitter

Image 2: Pakistan Navy via Twitter

Posted in , , China, Deterrence, India, India-Pakistan Relations, Indian Ocean, Indo-Pacific, Maritime, Nuclear, nuclear navy, Nuclear Weapons, Pakistan, Security

Amina Afzal

Amina Afzal

Amina Afzal is a senior non resident fellow and consulting editor at the Strategic Studies Institute Islamabad (SSII). Between 2018 and 2019 she served as the SSII’s Director General. Ms Afzal graduated with an MA in Non Proliferation Studies from the the Middlebury Institute of International Studies at Monterey. She holds an MSc in Defence & Strategic Studies from Quaid-e-Azam University, Islamabad. She contributes regularly to various local and international publications including the Stimson Center’s online publication South Asian Voices, The Diplomat and The Express Tribune.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *